میں آدمی ہوں میرا اعتبار مت کرنا
ہر طرف گھٹن ہے۔ ایسی حبس کہ سانس لینا دشوار ہو گیا ہے۔ پرندے تک چپ سادھے ہوئے ہیں۔ کس پر اعتبار کریں، کس سے منصفی چاہیں، کن کو اپنا راہبر مانیں۔ نہ چاہتے ہوئے بھی دوغلے پن، منافقت، دروغ گوئی کو اختیار کرنا پڑتا ہے۔ سچ ہمارے گلے میں پھانس بن کر اٹک جاتا ہے۔ حق گو آدمی اس عہد کا بڑا فسادی ہے۔ لکھنو کی زوال پذیر کھوکھلی تہذیب کا مطالعہ کرتے ہوئے لگتا ہے آج بھی ہم اسی تہذیب میں سانس لے رہے ہیں۔ سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی کی جادو نگری نے دلوں کے راز فاش کر دیے ہیں۔ ہر کردار مشکوک لگتا ہے۔ استاد کی باتیں، شیخ کی پارسائی، جج کی منصفی، ڈاکٹر کی مسیحائی، بیوروکریٹ کا دھیمہ لہجہ، سیاستدان کی تقریریں مشکوک ہیں۔ رشتوں کا تقدس پامال ہو چکا ہے۔ ہر شخص کو دولت اور عہدے سے تولا جا رہا ہے۔ صاحب نہج البلاغہ نے اسی زمانے کے بارے میں تو کہا تھا:
Read more
