میں آدمی ہوں میرا اعتبار مت کرنا

ہر طرف گھٹن ہے۔ ایسی حبس کہ سانس لینا دشوار ہو گیا ہے۔ پرندے تک چپ سادھے ہوئے ہیں۔ کس پر اعتبار کریں، کس سے منصفی چاہیں، کن کو اپنا راہبر مانیں۔ نہ چاہتے ہوئے بھی دوغلے پن، منافقت، دروغ گوئی کو اختیار کرنا پڑتا ہے۔ سچ ہمارے گلے میں پھانس بن کر اٹک جاتا ہے۔ حق گو آدمی اس عہد کا بڑا فسادی ہے۔ لکھنو کی زوال پذیر کھوکھلی تہذیب کا مطالعہ کرتے ہوئے لگتا ہے آج بھی ہم اسی تہذیب میں سانس لے رہے ہیں۔ سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی کی جادو نگری نے دلوں کے راز فاش کر دیے ہیں۔ ہر کردار مشکوک لگتا ہے۔ استاد کی باتیں، شیخ کی پارسائی، جج کی منصفی، ڈاکٹر کی مسیحائی، بیوروکریٹ کا دھیمہ لہجہ، سیاستدان کی تقریریں مشکوک ہیں۔ رشتوں کا تقدس پامال ہو چکا ہے۔ ہر شخص کو دولت اور عہدے سے تولا جا رہا ہے۔ صاحب نہج البلاغہ نے اسی زمانے کے بارے میں تو کہا تھا:

Read more

سوناربنگلہ کا 50 واں یوم آزادی

بنگلہ دیش نے مارچ 2021ء میں اپنی آزادی کی پچاسویں گولڈن جوبلی اور بنگا بدھو (بنگالیوں کا سب بڑا دوست) شیخ مجیب الرحمان کی صد سالہ سالگرہ کا جشن منایا ہے۔ دس دن سے زیادہ جاری رہنے والی آزادی کی تقریبات میں جنوبی ایشیا کے کئی ممالک کے سربراہان نے الگ الگ شرکت کی۔ 26 مارچ کے دن کو یوم آزادی کے طور پر منایا گیا۔ 26 مارچ وہ دن ہے جس دن پاکستانی افواج نے بغاوت کو کچلنے کے

Read more

نسلوں نے سزا پائی: سقوط ڈھاکہ کی حسرت ناک داستان

مشرقی پاکستان کی علیحدگی ایک ایسا زخم تھا جسے پچاس سال گزرنے کے بعد بھی بھلایا نہ جا سکا۔ دنیا میں آزادی کی تحریکیں بھی چلتی ہیں۔ ملکوں کی سرحدیں بھی بدل جاتی ہیں لیکن بنگلہ دیش کی علیحدگی ہماری عزت نفس، وقار اور دو قومی نظریہ؛ جس پر ہمیں بڑا ناز تھا سب کچھ اپنے ساتھ بہا کر لے گئی۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد اقوام عالم میں ہمارا قومی تشخص مجروح ہوا۔ اس اچانک صدمہ سے قوم کا ہر

Read more

ہاشم شیر خان:سرائیکی وسیب کا نامور محقق،مؤرخ اور اقبال شناس

جس تصنیف نے انہیں شہرت دوام بخشی ہے وہ ان کی بہت ہی معروف کتاب ”علامہ اقبال اور ڈیرہ غازی خان“ ہے۔ اس کتاب میں ہاشم شیر کا فن اپنے عروج پر ہے۔ اس کا تحقیقی معیار بہت اعلیٰ ہے۔ اسلوب بھی کمال ہے۔ اس میں تیز رو دریا کی سی روانی ہے۔ ایسا شاید علامہ اقبال سے عقیدت کی وجہ سے ہے کیونکہ ہاشم شیر ماہر اقبال ہونے کے ساتھ عاشق اقبال بھی ہے۔ یہ کتاب 2001ء میں بیکن بکس ملتان سے شائع ہوئی، اس میں علامہ اقبال کے ان تمام خطوط کو حواشی کے ساتھ یکجا کر دیا گیا ہے جو ڈیرہ غازی خان کے اہل علم کے نام موجود ہیں۔

Read more