خوب استی و ٹکور استی
ہم لوگ اپنے آپ کو جیمز بانڈ کا ابا جی سمجھنے لگ گئے تھے۔ پانچویں چھٹی جماعت سے ہی عمران سیریز اور جاسوسی کہانیاں پڑھنے کا یہ ہی نتیجہ نکلنا تھا۔ دورہ کابل والا چن جو ہم چڑھا بیٹھے تھے۔ اس میں بھی ان عظیم لکھاریوں کا بھی واضح خفیہ ہاتھ تھا۔
کابل سے واپسی پر مجھے مانیٹر بنا دیا گیا۔ یہ اہم عہدہ مجھے ملنا حیرت انگیز تھا۔ ویسے تو ہمارے پرنسپل سر میسی میری شرافت کے بہت قائل تھے۔ لیکن جب ہم فرار ہو کر کابل گئے تو ہمیں ڈھونڈنے کو سر میسی بہت خوار ہوتے رہے ۔ ہم لوگوں کا منصوبہ بے داغ تھا۔ ہمارے ہم جماعت نے سر میسی کی تفتیش و تشدد کے بعد مسکین شکل بنا کر جھوٹ بولا۔ سر میسی اس کی بتائی ہوئی غلط بتی کے پیچھے لگ گئے۔ پھر ہمیں ڈھونڈنے پاڑہ چنار تک جا پہنچے تھے۔
Read more

