تخلیقی ذہن پہ تبلیغی اثرات ۔۔۔۔ جنید جمشید اور دوسرے مشاہیر کا نفسیاتی جائزہ

دسمبر 2016 میں جنید جمشید کا اپنی دوسری بیوی نیہا سمیت جہاز کے حادثے میں جاں بحق ہونا بہت سے لوگوں کے لئے شدید صدمے کا باعث بنا۔ ان میں وہ لوگ بھی شامل تھے جو جنید جمشید کو اس کی جوانی کے دنوں میں اس کے خوبصورت خد و خال اور میوزک گروپ کی وجہ سے چاہتے تھے۔ وہ بھی تھے جن کا تعلق اس مذہبی جماعت سے تھا جس نے اسے ایک ”تبلغی سکالر“ بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ کچھ کا تعلق ائر فورس سے تھا جنہوں نے اس کی میت کو پورے فوجی اعزاز کے ساتھ قومی پرچم میں لپیٹ کر اس کی آخری رسومات ادا کیں۔

جنید جمشید کا سوگ منانے والوں میں اس کی پہلی بیوی عائشہ اور اس کے رشتہ دار بھی شامل تھے۔ اور اس ہجوم میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہوں نے نے آج سے 20 سال پہلے ہی ایک آرٹسٹ جنید جمشید کا سوگ منا لیا تھا جب اس نے اپنے خوبصورت لمبے بال کاٹ کر، لمبی سی داڑھی رکھ کر اور تبلیغی جماعت میں شمولیت اختیار کر کے اپنا حلیہ بدل لیا تھا۔

ایک دوپہر میرے سماجی کارکن دوست منیر سامی کا فون آیا اور انہوں نے پوچھا کہ ڈاکٹر خالد سہیل کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ یہ معروف و مقبول لوگ مذہبی شدت پسند کیوں بن جاتے ہیں؟

Read more

سانحہ ساہیوال میں میڈیا نے مقتول خلیل کے بچوں کا نفسیاتی استحصال کیا

سانحہ ساہیوال کے بعد میڈیا میں بچوں کو لے کر کوریج پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ سانحے کے فوری بعد میڈیا نے مقتول خلیل کے بچوں سے انٹرویو لئے اور پھر یہ سلسلہ چل پڑا یہاں تک کہ اے آر وائی نیوز چینل کے اینکر عارف بھٹی نے اپنے پروگرام میں مقتول خلیل کی ایک بیٹی سے سوالات کئے جن میں یہ سوالات بھی تھے کہ بچی سے پوچھا گیا کہ آپ کے ابو کہاں گئے ہیں، اور بچی کے کہنے پر کہ فوت ہو گئے ہیں اینکر نے پوچھا کہ کیسے فوت ہو گئے ہیں، کل تک تو وہ درست تھے۔

اس پروگرام کے بعد اس پر مقامی میڈیا اور سوشل میڈیا پر بھی بہت تنقید کی گئی۔

معروف اینکر اور تجزیہ نگار ضرار کھوڑو نے ہم سب سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اصولاً تو میں اس بات کے مخالف ہوں کہ جو بچے ابھی اس سانحے سے گزر رہے ہیں ان سے میڈیا ایسے سوالات کرے۔ لیکن اگر شروع میں بچوں کے ایسے کلپ نہ آتے تو شاید یہ کیس ایکسپوز نہ ہوتا۔

Read more