ہمارے موصوف سے ملیے


جب بھی اسکوٹر ذرا سا رواں ہوتا تو یہ آئینے کو فوکس کرنا شروع کردیتے۔ تھوڑی ہی دیر میں ہمیں اپنا چوکھٹا صاف نظر آنے لگتا۔ ہم ایک معصوم سی مسکراہٹ لبوں پر لاتے اور سارے رستے تکتے جاتے اور خوش ہوتے جاتے کہ اللہ میاں! کیسے صدقے واری میاں ملے ہیں۔ چلو ویسے اظہار نہیں کرتے تو کیا ہوا، آخر کو ایک تو پروفیسر ہیں، دوسرے بنگالی۔ ’وو کابلری‘ نہیں ہوگی ایسی باتوں کی۔ بعضوں میں ہمت کی بھی کمی ہوتی ہے۔ کیا ہوا جو شوہر ہیں، مگر بعضے یوں ہی شرمیلے ہوتے ہیں، مگر چاہت کا یہ ’اظہار‘ بھی کیا کم ہے کہ راستے بھر صورت آئینے میں دیکھتے جاتے ہیں، گویا ایک پل کو بھی نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دیتے۔ بہت خوش رہے۔ مہینوں اسی خوشی میں گزر گئے۔ ایک دن لاڈ میں آکر ہم نے پوچھ ہی لیا، ”آج ہم کیسے لگ رہے تھے؟ “

نپا تلا جواب ملا، ”جیسی روز لگا کرتی ہو“۔ ”اللہ نہیں آج کا بتائیں ناں آج کیسے لگ رہے تھے۔ “ ہم کو اصرار اس لیے تھا کہ آج ہم نے نئے کپڑے پہنے تھے۔ بہت اہتمام سے تیار ہوئے تھے۔ سارے راستے آئینے میں مسکاتے، ادائیں دکھاتے آئے تھے۔ امید تھی کہ آج ’ٹوٹ‘ کر پیار آیا ہوگا۔

”پھر بھی کیسے لگ رہے تھے۔ اللہ بتائیے ناں۔ “ ہم بری طرح اٹھلائے۔ اچھا خاصا گھٹیا انداز تھا۔
”کیسی لگ رہی ہو؟ ہم۔ ۔ ۔ اب غور سے دیکھنا پڑے گا۔ “ وہ شرارت سے مسکرائے۔
”کیوں کیا سارے راستے ’تاڑتے‘ نہیں آئے۔ ہم نے جلبلا کر کہا۔
”ہیں؟ کس کو۔ ۔ ۔ ؟ “
”ہمیں اور کس کو۔ “
”تمہیں؟ یہ خوش فہمی تمہیں کب سے ہوئی؟ “
”لو خوش فہمی کس بات کی، آپ گھر سے نکلتے ہی مین روڈ پہ آتے ہی ہماری شکل کو ’فوکس‘ نہیں کرتے کیا؟ “

”لاحول ولا قوۃ“ وہ ذرا زور سے ہنسے۔ ۔ ۔ تمہاری صورت۔ ۔ ۔ ارے اسی کو تو ہٹا کر شیشہ ٹھیک کرتا ہوں کہ رستے میں آنے والی گاڑیاں، بسیں، ٹرک صاف نظر آئیں، تاکہ ہم دونوں اللہ کو پیارے نہ ہوجائیں۔ ”

”تو۔ ۔ ۔ تو کیا۔ ۔ ۔ آپ ہمیں نہیں دیکھتے۔ “ ہم بری طرح ہکلائے۔

”تمہیں؟ “ وہ کمینگی سے ہنس پڑے۔ ”گھر کا معاملہ ہے، تمہیں دیکھنے کو گھر کیا کم ہے، جو راستے میں بھی تاڑتا جاؤں اور پھر کوئی کسی اور کی بیوی یا بہن تھوڑی ہو جو چوری چوری دیکھوں گا، بیوی ہو میری۔ “

”تو۔ ۔ ۔ وہ۔ ۔ ۔ شیشے میں تو۔ ۔ ۔ تف ہے ہم پر اور ہماری خوش فہمی پر گھڑوں پانی پڑگیا۔
کئی دفعہ اتنے بھونڈے انداز میں شفقت برتنے پر اتر آتے ہیں کہ باپ کا اور شوہر کا فرق بھول جاتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ دودھ کا گلاس لیے یہ نہیں پاپا کھڑے ہوں۔ پاپا کی عادت تھی کہ ہمیشہ نماز پڑھ کر کھانا کھاتے تھے۔ یہ بھی اسی عمل میں یکتا ہیں۔ وہ سفید کرتا پاجامہ پہنتے تھے۔ انہیں بھی یہ لباس مرغوب ہے۔ وہ بھی بدمزہ کھانا منہ بنائے بغ کھاتے تھے، ان میں بھی یہی وصف ہے۔ ایک دن ہم نے کسی بات پر خوش ہوکر کہا، ”آپ بالکل ہمارے پاپا ہیں۔ “

فوراً کوئلے کی طرح چٹخ گئے۔ تیوری پر بل ڈال کر بولے، ”میں، تمہارا پاپا نہیں، شوہر ہوں۔ “

ان کے لہجے کی سنگینی سے سہم کر ہم نے کمزور سی آواز میں پوچھا، ”کیوں؟ کیا آپ ہمارے پاپا جیسے نہیں ہوسکتے۔ دونوں ہی تو مرد ہوتے ہیں اور پھر ہماری مراد عادتوں کے ملنے جلنے سے تھی۔ “

”بہرحال باپ، باپ ہوتا ہے شوہر۔ ۔ ۔ شوہر۔ “ وہ مزید تڑخے۔
”فرق بتائیے؟ “

”فرق صاف ظاہر ہے۔ شوہر کی مثال شتر مرغ کی سی ہے، جو طوفان کو دیکھ کر ریت میں منہ چھپا لیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ طوفان ٹل گیا ہے۔ احمق جو ہوتا ہے! بے وقوف یہ نہیں جانتا کہ اس کا اقرار محض اس ’طوفان‘ کو اس کے پلے باندھ چکا ہے۔ ہنہ احمق کہیں کا۔ “ لہجہ انتہائی کونین زدہ تھا۔

”اور باپ؟ “
”باپ الو ہوتا ہے۔ “
”کیا؟ “ ہم بری طرح دھاڑے۔

تھوڑا سا سہم کر پیچھے ہٹے اور میز کی دوسری طرف جاکر بولے، ”بھئی یہاں کا الو نہیں یورپ اور امریکہ کا ’الو‘ جہاں وہ تدبر اور عقل مندی کی نشانی ہے۔ “

”کوئی اور مثال دیں۔ “
”کوئی اور مثال۔ ۔ ۔ ؟ بس یوں سمجھو کہ بنا بنایا پورا پاکستانی گدھا ہوتا ہے۔ “
”یہ کیا بدتمیزی ہے؟ “ ہم بری طرح جھنجھلا گئے۔

”بھئی ٹھیک ہی تو کہہ رہا ہوں۔ تم نے ہی تو اس دن بتایا تھا کہ اردو زبان میں شاعری میں ایک طریقہ تشبیہ دینے کا ہے، وہ جس میں تم نے ایک شعر سنایا تھا، جس میں آنسوؤں کو موتی بتایا تھا۔ اسی طرح میں نے اپنے انتہائی مظلوم کریکٹر کی وجہ سے باپ کو گدھا کہا تو کیا غلط کہا۔ اب دیکھو ناں! باپ ہی وہ گدھا ہوتا ہے، جو زندگی کی گاڑی میں جتا اپنی بیوی اور اپنے ’کردہ‘ گناہوں کے نمونوں کا بوجھ اٹھائے ساری زندگی گدھے کا کارٹون بنا رہتا ہے اور پھر بڑھاپے میں اس کے بچے اسے ’تھان‘ سے باندھ کر بے فکر ہو جاتے ہیں۔

’ہولڈیورٹنگ‘ ہم بری طرح دھاڑے۔ بنگالی ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ آپ ’شک‘ کا فائدہ اٹھائیں۔ اگر آپ کو ہماری گرامر نہیں آتی تو مت کیا کریں استعمال۔ ہنہ! کجا باپ کجا گدھا۔ آخر شوہر کیوں نہیں ہوتا گدھا؟ ”

”اب اتنا گدھا بھی نہیں ہوتا۔ ہاں، گدھے کا پٹھا ضرور ہوتا ہے۔ “
”پٹھا گدھے کا نہیں الو کا ہوتا ہے۔ “
”ایک ہی بات ہے، بلکہ میرے خیال میں تو۔ ۔ ۔ “
اس سے پہلے کہ وہ مزید تشریح کرتے، ہم نے انہیں روک دیا۔
ایک دن ہمارے ہاں کوئی آوارہ گرد بلی اپنے دونومولود بچے چھوڑ گئی۔ انتہائی کریہہ المنظر۔ اتنے کہ محسوس ہوا کہ ’عمل تولید‘ کے بعد ماں نے بھی پلٹ کر دیکھنا گوارا نہ کیا۔ یہ فوراً ان کے باپ بن گئے۔ چھوٹتے ہی گود لے لیا اور اٹھاکر اندر لے آئے۔ پہلے تو ہم سمجھے کہ ان سے بھی چوہوں جیسا سلوک کریں گے۔ چوہا ان کی کمزوری ہے۔ جہاں دیکھا وہیں اس پر چڑھ دوڑے۔ ایسی تاک تاک کر چپل مارتے ہیں کہ آخر میں پرخچے اڑ جاتے ہیں (چپل کے )۔ بہرحال، چوہا چاہے کسی بھی ذات کا ہو۔ جتنا بھی ’اوچھا‘ ہو ان کی زد سے بچ کر نہیں جاسکتا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ لاشعور میں دبی کہیں نفرت کی جڑیں کبھی کبھی اپنے ہاتھ پاؤں پھیلا لیتی ہیں۔ یقیناً ماضی میں کسی چوہے نے انہیں کوئی گزند پہنچائی ہوگی اور انتقاماً یہ ان بلونگڑوں کو پدرانہ محبت سے نوازنے لگے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6 7