مالک اشتر کی جنوں پاشی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فیسبک کی جگمگاتی دنیا میں جو سنجیدہ نوجوان حلقۂ احباب میں شامل ہوئے یا جنہوں سے اپنی منفرد تحریروں سے متاثر کیا انہیں میں ایک نام مالک اشتر کا بھی ہے۔ پیشے سے ایک پروفیشنل صحافی ہیں اور حالات حاضرہ، مسلمانوں کے مذہبی، سماجی اور اقتصادی مسائل پر ان کا رخش قلم ایک رفتار سے رواں دواں رہتا ہے۔ میری اگرچہ ان سے بالمشافہ ملاقات نہیں ہوئی مگر سوشل میڈیا کے ذریعے جو کچھ میں نے جانا ہے اس حوالے سے کہہ سکتا ہوں کہ وہ ایک بردبار اور سنجیدہ شخصیت ہیں۔

مالک اشتر کا نام نوجوان صحافیوں میں نمایاں ہے۔ انھوں نے اپنے اسلوب اور بے ساختہ انداز کے سبب صحافت کے میدان میں اعتبار حاصل کیا ہے اور اپنی منفرد شناخت قائم کی ہے۔ اس بات کی تائید ان کی کتاب ”جنو ں میں کیا کیا کچھ“ ہے جو اس وقت میرے زیر مطالعہ ہے۔ یہ ان کے مضامین کا دوسرا مجموعہ ہے۔ اس سے پہلے ایک کتاب ”مسلمان : حالات، وجوہات اور سوالات“ کے نام سے گزشتہ برس منظر عام پر آ چکی ہے جس کو علمی شخصیات کے درمیان کافی پذیرائی حاصل ہو چکی ہے۔ ہرچند کہ انھوں نے کتاب کا نام ”جنوں میں کیا کیا کچھ“ رکھا ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ مضامین محض جنون کی پیداوار ہی نہیں بلکہ جنون کے ساتھ ساتھ پوری خرد مندی اور ہوشمندی کے ساتھ لکھے گئے ہیں۔

اس کتاب کو انھوں نے تیرہ مختلف مرکزی عنوانات میں منقسم کیا ہے جن میں مضامین کی تعداد تقریباً بیالیس ہے جو مختلف موضوعات پر لکھے گئے ہیں۔ اس کتاب کی ابتدا معروف ادیب و صحافی اور معروف ادبی رسالے ”آج کل“ کے سابق مدیر خورشید اکرم صاحب کے پر حوصلہ مضمون سے ہوتی ہے جس میں وہ مالک اشتر کی کالم نگاری اور دیگر صلاحیتوں سے روشناس کراتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ”مالک اشتر نے جدید اور آگاہ ذہنوں میں اٹھنے والے سوالات کی روشنی میں ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل کو سمجھنے اور ان کا معروضی تجزیہ کرنے کی سنجیدہ کوشش کی ہے۔

ان کے یہاں فخر سے کہو ہم۔ والا جوش مسلمانی نہیں ہے بلکہ اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنے کی خوئے ایمانی ہے۔ ان کا ذہن تعصبات سے پاک ہے انہوں نے اپنی ساری معروضات دلائل و استناد کے ساتھ رکھنے کی کوشش کی اور بات نہایت ادب، انکسار اور منطق کے ساتھ کہنے کی کوشش کی ہے۔ یہ مضامین ڈائس پر کھڑے کسی پیشوا کی تقریر نہیں ہیں۔ یہ اس شخص کی باتیں ہیں جو اپنے اجتماعی ضمیر سے مخاطب ہے۔ ظاہر ہے کہ اس صورت میں اگر وہ اپنی عظمتوں کو یاد کرے گا تو ان اسباب پر بھی غور کرے گا جو اس کے زوال و انحطاط کا باعث ہیں۔ چنانچہ ان کے بیشتر مضامین پڑھنے والوں کو غور و فکر کی طرف مائل کرتے ہیں“ ۔

خورشید اکرم صاحب کی اس تعارفی تحریر کی روشنی میں ہم ان کے کالموں کو پڑھتے ہیں تو یہ تمام خوبیاں تو یقین کرنا پڑتا ہے کہ یہ تمام خوبیاں ان میں بدرجہ اتم موجو د ہیں۔ کتاب کا مقدمہ خود مصنف کے والد مولانا حیدر عباس نقوی کا لکھا ہوا ہے۔ کسی باپ کا اپنے بیٹے کی کتاب پر لکھے مقدمے کو پڑھ کر مجھے یاد آیا کہ کسی عالم نے کہا ہے۔ احترام ایک دیوار ہے جو محترم اور احترام کرنے والے کے درمیان کھڑی ہوجاتی ہے۔ جو قرب پیدا ہونے نہیں دیتی۔ جو خوف پیدا کرتی ہے۔ خوف مثبت نہیں، منفی جذبہ ہے اور احترام کا جذبہ باہمی محبت کے امکانات کو کم کر دیتا ہے۔ مثلاً باپ بیٹے کا رشتہ لیجیے۔ بیٹے پر لازم ہوتا ہے کہ وہ باپ کا احترام کرے۔ اسی وجہ سے باپ اور بیٹا کبھی ایک دوسرے کے قریب نہیں آسکتے۔

اسی طرح ایک دانشور کا قول ہے کہ ”اگر دو افراد پاس پاس بیٹھے ہوں لیکن ایک دوسرے سے کہنے کے لئے ان کے پاس کوئی بات نہ ہو تو جان لیجیے کہ وہ باپ بیٹے ہیں“

اس گفتگو سے میرا مقصد یہ قطعی نہیں ہے کہ ایک باپ اپنے بیٹے کی خوبیوں کا برملا اظہار نہ کرے بلکہ خوشی ہوئی کہ اگر ہماری ٹوٹی پھوٹی صلاحیتوں کو ہمارے بزرگ قابل تعریف و توصیف سمجھیں تو ایک بیٹے کے لیے یہ بڑے فخر کی بات ہے اوراس کا اعتراف مالک اشتر نے خوداپنی ”پہلی بات“ میں کیا ہے کہ مضمون نگاری اور سوچ میں وسعت رکھنے کی تربیت مجھے اپنے والد محترم سے ملی۔

اپنی جامعہ ملیہ کی طالب علمی کے زمانے سے جڑی قیمتی یادوں اور فتوحات کا ذکر انھوں نے ”جامعہ، دلی اور یادوں کی پالکی“ میں جذباتی انداز میں کیا ہے اور ما س کمیونیکیشن کے شعبہ اور اس سے متعلق قیمتی معلومات بھی بہم پہنچائی ہیں۔

کتاب کے ابتدائی مضامین ”وبا کے دنوں میں“ نام کے مرکزی عنوان سے ہیں جوکورونا جیسی مہلک بیماری سے متعلق ہیں جن کے عنوانات اس طرح ہیں۔ ”کورونا انسانوں کو سلام کرتا ہے“ ، کورونا عذاب، آزمائش یا خدائی تنبیہ کیوں نہیں ہے؟ ”،“ کورونا وائرس: ہم اللہ کو کیوں آزمانا چاہتے ہیں ”،“ کیا کورونا وائرس اللہ کا عذاب ہے؟ ”،“ کورونا وائرس: مشہور علماء کے ارشادات ”ہیں بڑے ہی فکر انگیز اور چشم کشا ہیں۔ ان مضامین میں بڑی ہی مدلل گفتگو کی گئی ہے۔“ کورونا عذاب، آزمائش یا خدائی تنبیہ کیوں نہیں ہے؟ میں رقمطراز ہیں کہ

”عذاب کے لیے ضروری ہے کہ کوئی نبی دعوت دے جسے قوم ٹھکرا دے، قوم اس نبی کو للکارے، اس کی تکذیب کرے اور چیلنج کرے کہ اگر تم سچے ہو تو ہم پر خداکا قہر نازل کروا کے دکھاؤ۔ یہاں واقعہ یہ ہے کہ اول تو کسی نئے نبی کی دعوت کی کوئی خبر ہم تک نہیں پہنچی اور اگر مان بھی لیں کہ دنیا کے کسی گوشے میں کسی نے ایسی دعوت دی ہے تو یاد رکھنا ہوگا کہ ختم نبوت کا عقیدہ ہمیں پابند کرتا ہے کہ ہم کسی کا بھی نبی یا رسول ہونے کا دعویٰ مسترد کردیں، اس لیے کہ حضرت مصطفیٰ پر یہ سلسلہ ختم ہو چکا ہے۔ اب چونکہ یہاں عذاب کی بنیادی شرط ہی پوری نہیں ہو رہی اس لیے کورونا کو عذاب قرار دینا بے بنیاد ہے“

اسی طرح ”کورونا وائرس: ہم اللہ کو کیوں آزمانا چاہتے ہیں؟“ میں لکھتے ہیں کہ ”روایات میں آیا ہے کہ ایک بار شیطان نے حضرت عیسٰی علیہ السلام اے کہا کہ ’تمہیں تو اپنے اللہ پر اتنا بھروسا ہے تو پھر تم وہ سامنے جو اونچا پہاڑ ہے اس پر اے چھلانگ کیوں نہیں لگا دیتے؟ اللہ تمہیں بچا لے گا۔‘ حضرت عیسٰی نے شیطان کو جواب دیا کہ ’دور رہو مردود، یہ میرا کام نہیں ہے کہ میں اپنے خدا کو آزماؤں بلکہ یہ اس کا کام ہے کہ وہ اپنے بندوں کو آزمائے۔

،‘ جاوید احمد غامدی کا خیال ہے کہ جو لوگ کورونا وائرس کے خطرے کے باوجود نماز کے اجتماعات پر مصر ہیں وہ دراصل اللہ کو آزمانا چاہتے ہیں۔ یقیناً توکل بہت ضروری امر ہے مگر یاد رکھنا چاہیے کہ توکل کی منزل تب آتی ہے جب ضروری اسباب اختیار کرلیے گئے ہوں۔ پیغمبر اسلام کی پوری زندگی میں کوئی ایک موقع بھی ایسانہیں ملتا جب کسی بحران سے نمٹنے کے لئے تدابیر کے بجائے صرف توکل کر کے بیٹھا گیا ہو۔ جب دشمنوں کی ایک بڑی تعداد مدینہ پر چڑھائی کررہی تھی تو پیغمبر اسلام کے حکم پر شہر کے چاروں طرف خندق کھو دی گئی۔ بس اسی عمل کو تدبیر کہا جاتا ہے۔ بس یوں سمجھ لیجیے کہ انسانی جانوں کو بھی دشمن وائرس سے خطرہ آن پڑا ہے لہذا اب آپ بتائیے سنت کیا کہتی ہے؟ کوئی تدبیر کیے بغیر توکل کیا جائے یا پھر طبی احتیاط کی شکل میں انسانوں کے چاروں طرف حفاظتی خندق کھود لی جائے۔

اسی ضمن میں اپنے کالم ”کورونا وائرس: مشہور مسلمان علما کے ارشادات“ میں لکھتے ہیں کہ ”ایک اور مصیبت اس بات نے کھڑی کردی کہ ہم مذہب اور سائنس کو ایک دوسرے کی ضد کے طور پر دیکھنے کے عادی ہو گئے ہیں۔ میں مالک اشتر کی اس بات سے اتفاق رکھتا ہوں یقیناً ایک بڑا طبقہ مذہب اور سائنس کو ایک دوسرے کی ضد سمجھتے ہیں جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔“ مذہب سائنس کی ضد نہیں ہے جیسے دعا دواکی ضد نہیں ہے دونوں ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں۔ اور اگر مذہب سے مراد اسلام ہے تو یقیناً سائنس کی ضد نہیں بلکہ اسلام سائنس اور ٹیکنالوجی کو جلا بخشنے والا اور انسانی ذہنوں کو نئی نئی جہات سے روشناس کرانے والا مذہب ہے۔

”بندہ خدا بننا چاہتا ہے“ بھی اہم کالم ہے۔ اس میں لکھتے ہیں کہ اداکار عرفان خان کینسر کے مرض سے لڑتے ہوئے جان سے گزرے تو بہت سے لوگ ترازو لے کر ایمان تولنے بیٹھ گئے۔ خدا کا اختیار استعمال کرنے بیٹھے ان بندوں میں سے کسی نے عرفان خان کے کسی بیان کو معیار بنایا، کسی نے دیگر کفریہ حرکت دلا کر ہاتھ کے ہاتھ فیصلہ سنا دیا کہ اب یہ کس انجام سے دو چار ہوگا۔ دوسروں کے اعمال کو تولنے اور جنت و جہنم کی وعیدیں سنانے والے انسان دراصل اپنے دل میں گھر کر چکی اس خواہش کو ظاہر کر رہے ہیں کہ وہ جزا اور سزا کے فیصلے کرنا چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ میدان حشر میں ترازو ان کے ہاتھوں میں ہو۔ مذہبی ہونا کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن مذہب کا ایسا غلو خود اپنے لیے ہلاکت کا باعث ہو سکتا ہے جب بندہ مذہب کے نام پر مذہبی اصولوں سے انحراف کرتے ہوئے بندہ ہونے کی اپنی حیثیت بھول بیٹھے اور خدا کے اختیارات پانے کا طلبگار ہو جائے۔ ”

خودکشی سے متعلق ایک مضمون ”کوئی اپنی جان کیوں لیتا ہے“ بھی پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے جس میں انھوں نے دنیا میں خودکشی کے بڑھتے رجحانات پر گفتگو کی ہے اور خودکشی سے ہونے والی اموات کے اعداد و شمار کو پیش کیا ہے۔ مضمون کے آخر میں لکھتے ہیں کہ ”زندگی کے بارے میں اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ یہ اپنے کسی بھی روپ میں آسان تو بالکل نہیں ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ یہ بے حد قیمتی بھی ہے۔ مایوس ہونا انسان کی طبیعت میں شامل ہے لیکن انہیں مایوسیوں سے باہر آ کر زندگی کے چیلنجز کو اپنے آ پ پر حاوی نہ ہونے دینا ہی اصل امتحان ہے۔“

خود کشی کے تعلق سے مجھے تعجب ہوتا ہے کہ یہ لوگ کیسے اتنا بڑا فیصلہ لے لیتے ہیں۔ کیا یہ لوگ سورہ بقرہ کی آیت ان اللہ مع الصابرین کی نفی نہیں کرتے؟ مشکلات سب کے ساتھ ہیں پریشانیاں سب کے ساتھ ہیں۔ یہاں مجھے سشانت سنگھ کا وہ ڈائلاگ بھی یاد آ رہا ہے جو اس نے خودکشی سے پہلے اپنی آخری فلم میں بولا تھا کہ

”اکثر ہم ہار جیت اور کامیابی اور ناکامی کے بیچ اس طرح پھنس جاتے ہیں کہ بھول جاتے ہیں کہ زندگی میں سب سے زیادہ ضروری چیز ہوتی ہے“ زندگی۔ ”افسوس اس نے خود اس پر عمل نہیں کیا۔

جو لوگ ڈپریشن میں چلے جاتے ہیں ان کو سائیکو تھیرپی کے ذریعے باہر نکالا جاسکتا ہے اور اس میں ڈاکٹر کے ساتھ ساتھ اس کے آس پاس کے لوگوں کا بھی اہم رول ہوتا ہے۔ معاشرے میں ہر انسان اپنا مثبت کردار ادا کرے تو بھی اس طرح کے معاملات کو کم کیا جا سکتا ہے۔ زندگی اللہ تعالی کی امانت ہے۔ خودکشی کرنے والا چلا جاتا ہے لیکن اپنے پیچھے ہزار قسم کی کہانیاں چھوڑ جاتا ہے اور اس کا اثر اس کی پوری نسل پر پڑتا ہے۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ خودکشی اور مایوسی جیسے موضوعات پر کھل کر بات کی جائے اور اس بارے میں آگاہی پھیلائی جائے۔

ایک اہم مضمون ”طوائفوں سے میری وہ ایک ملاقات“ کے عنوان سے ہے جس میں انھوں نے طوائفوں کا انٹرویو لیتے ہوئے ان کی زندگی کا قریب سے جائزہ لیا ہے اور معاشرے کی اس تلخ حقیقت کو بڑے بے ساختہ انداز میں بیان کیا ہے۔

مجموعی طور پر انھوں نے آج کے جلتے ہوئے مسائل اور عصری حسیت سے وابستہ مضامین کو سمیٹا ہے۔ یہ علمی مضامین جن کا تعلق مذہبیات سے بھی ہے اور سماجی اور اقتصادی مسائل سے بھی ہمیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔ ان کی کم و بیش 791 صفحات پر مشتمل اس کتاب میں خواتین کے جنسی ہراسانی کے مسائل پر بھی اور طلاق اور اس سے متعلق نان و نفقہ پر مدلل گفتگو کی ہے۔ ارطغرل غازی اور خلافت عثمانیہ کا تذکرہ بھی ہے اور شخصیات کا ماتم بھی ہے۔ جیسے عرفان خان، رشی کپور، آصف فرخی، گلزار دہلوی، پروفیسر عبید صدیقی اور عاصمہ جہانگیروغیرہ۔

ٓٓاس کے علاوہ ”ہماری نمائندگی کون کر سکتا ہے“ ، عزاداری شیعوں کی ہو کر کیوں رہ گئی ہے ”اور“ عبادت گزار مشرق فحش مغرب سے کیا سیکھے ”ایسے مضامین ہیں جو ہمیں خوداحتسابی کی دعوت دیتے ہیں۔

بہرحال میں علم اللہ صاحب کی اس بات سے متفق ہوں جو انھوں نے کتاب کی پشت پر لکھی ہے کہ ”میں یہ دعویٰ تونہیں کروں گا کہ اس کتاب سے کوئی انقلاب آ جائے گا اور ایک بڑا علمی اضافہ ہوگا لیکن حقیقت میں جس سادگی اور دمندی بھرے انداز میں انھوں نے بات رکھنے کی کوشش کی ہے اس کا اثر ضرور ہوگا“ ۔

میرا ماننا بھی یہی ہے کہ یہ کتاب ہماری معلومات میں اگرچہ بہت زیادہ اضافہ نہیں کرتی ہے مگر ہمیں اپنا محاسبہ کرنے اور سوچنے پر ضرور مجبور کرتی ہے۔ کتاب کا ہر مضمون اپنے موضوع، طرز نگارش اور اسلوب کے اعتبار سے دلچسپ ہے۔ کتاب کی طباعت نہایت دلکش اور دیدہ زیب ہے جسے دیکھ کر طبیعت مسرور ہوئی۔ کتاب حاصل کرنے کے لیے مالک اشتر سے ذاتی طور پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ ان کا رابطہ نمبر 9891729185 ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •