ملکہ حسن کہلانے والی اداکارہ صابرہ سلطانہ


”مذکورہ فلم کی عکس بندی کے لئے ہم مردان اور پشاور گئے۔ جب میں مردان پہنچی تو مجھے دیکھتے ہی وہاں لوگوں میں ایک شور مچ گیا کہ عادل کی ملکہ آئی ہے۔ ان ہی دنوں فلم“ عادل ”سنیماؤں میں چلی تھی۔ مجھے وہاں اتنا زیادہ پروٹوکال ملا کہ حیران ہی رہ گئی۔ جہاں میں ٹھہری تھی وہاں مجھے ایک نظر دیکھنے والوں کا رش لگ جاتا۔ عکس بندی کے دوران بھی جم غفیر لگ ہوتا تھا۔ لوگ آٹوگراف لینے کھڑے رہتے تھے۔ مجھے لوگوں نے بتایا کہ دیواروں پر عادل کی ملکہ لکھا ہوا ہے۔ فلم“ عجب خان آفریدی ”عوام نے بہت پسند کی۔ میرے لئے یہ فلم اچھا تجربہ تھا“۔

”پھر پشتو فلموں کے فلمساز مزید فلموں کے لئے آنے لگے اور کہا کہ ہم کسی اور کی آواز میں ڈبنگ کر لیں گے۔ یوں میں نے

”جنگ اوؤ امن“ ( 1974 ) ، ”شڑنگ دا بنگڑو“ ( 2000 ) وغیرہ کیں۔ پھر جب میں ماں کے کردار کرنے لگی تو پشتو کے فلمساز ماں کے کردار کے لئے آنے لگے۔ یوں میں نے پشتو فلموں میں بھی ماں کے کردار کیے۔ جب وہ فلمیں مردان میں ریلیز ہوئیں تو عوام نے کہا کہ عادل کی ملکہ ماں کے کردار میں آئی ہے۔ ہم ماں کے کردار میں بھی دیکھیں گے ”۔

”پھر اپنی شادی کے بعد میں نے دوبارہ جو فلم کی وہ“ ہیرو ”( 1992 ) تھی۔ یہ ٹی وی اداکار افضل خان المعروف جان ریمبو کی بھی پہلی فلم تھی“۔

جان ریمبو میرے ٹیلی وژن کے بیچ فیلو سید شاکر عزیر کے ڈرامہ سیریل ”گیسٹ ہاؤس“ ( 1991 ) سے مشہور ہوا تھا جو پی ٹی وی اسلام آباد سے نشر ہوا تھا۔

صابرہ سلطانہ نے مزید بتایا: ”اس سے پہلے میں نے ایک ٹیلی وژن ڈرامے میں بھی کام کیا۔ نام ٹھیک سے یاد نہیں۔ شاید“ بور کے لڈو ”یا“ میں اور بھائی جان ”تھا۔ اس پر فلم والے ناراض ہوئے کہ آپ تو ہماری آرٹسٹ ہیں۔ پہلے ٹیلی وژن میں کیوں کام کیا؟ میں نے کہا کہ میں ایک آرٹسٹ ہوں۔ پہلے اور بعد کا مسئلہ نہیں۔ پھر انہوں نے مجھے فلم“ ہیرو ”میں کردار دیا۔ یہ فلم ہٹ ثابت ہوئی“۔

”بس مجھے ایسا لگتا تھا جیسے میں نے کوئی خواب دیکھا جو اچانک ٹوٹ گیا۔ پھر وہی کیمرے وہی سب کچھ۔ مجھے بڑا عجیب عجیب لگتا تھا۔ میری آخری فلم شبابؔ صاحب کی“ بے مثال ”( 1975 ) تھی۔ اس کے بعد میری شادی ہو گئی۔ شادی کے بعد اس فلم کی کچھ عکس بندی رہ گئی تھی جو میں نے مکمل کروائی“۔

”گویا پھر 17 سال بعد میری فلم“ ہیرو ”آئی۔ اس کے بعد اسلام آباد میں پرویز ملک صاحب کے بیٹے کی ٹیلی فلم“ مجھے تم نظر سے ”بھی کی۔ پھر ڈرامہ انڈسٹری کراچی منتقل ہو گئی۔ پھر میں ماڈلنگ میں آ گئی۔ گل احمد لان اور دوسرے لان بنانے والوں کے لئے ماڈلنگ شروع کر دی اور ایک بڑے ادارے سے میں منسلک ہو کر ان کے اشتہاروں میں ماڈلنگ کی۔ یہ مجھے اچھا لگا کیوں کہ ایک ہی دن کا کام ہوتا تھا۔ دادی اماں یا نانی اماں کے کردار ہوتے۔ اب ایک خاندان کی عکاسی والے اشتہارات نہیں رہے۔ اب کپڑوں کے اشتہارات میں صرف جوان لڑکیاں ہی ہوتی ہیں۔ چلو کوئی بات نہیں لیکن یہ بہرحال دادیاں اور نانیاں ہمارے معاشرے کا حصہ تو ہیں نا! انہیں بھی تو اشتہارات میں دکھانا چاہیے“۔

”آفاقی صاحب کی فلم“ کنیز ”( 1965 ) میں اپنے کردار کے بارے میں کچھ بتائیے جس نے کراچی میں گولڈن اور لاہور میں سلور جوبلی کی تھی؟“

”اس فلم کا ٹائٹل میرا ہی تھا۔ میں اس زمانے میں جوانی سے بڑھاپے کے کردار کر رہی تھی۔ آفاقیؔ صاحب نے کہا کہ تمہیں اس فلم کا ٹائٹل کرنا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ تو میرے لئے اعزاز ہے۔ اس فلم میں بڑے بڑے آرٹسٹ تھے : صبیحہ خانم، وحید مراد، محمد علی، طالش وغیرہ۔ مجھے بتایا گیا کہ بہت محنت کرنا پڑے گی۔ صبیحہ خانم جو آپ سے عمر میں بڑی ہیں یہ ان کی ماں کا کردار ہے“۔ اس بات پر صابرہ سلطانہ کھلکھلا کر ہنسیں!

”میں نے کہا کہ مجھے بوڑھیوں کے کردار ادا کر نے کی مشق تو ہو گئی ہے۔ کوئی بات نہیں! اس بات پر صبیحہ خانم بھی ہنسیں کہ واہ بھئی واہ! تم تو ہماری بھی اماں بن کر بیٹھ گئیں! میں نے کہا کہ میں کیا کروں۔“ کنیز ”کا ٹائٹل مل رہا ہے۔ فلم انڈسٹری کا اصول ہے کہ اگر کسی آرٹسٹ کا کوئی چھوٹا سا رول ہو لیکن اہمیت کا حامل، تو اسے مہمان اداکار کہا جاتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ جب وہ اخبارات یا اشتہارات میں ایسی فلم کا ذکر کرتے ہیں تو لفظ مہمان لکھنے کا اہتمام نہیں کرتے۔

ماشاء اللہ ہمارے ملک میں کوئی چیز بھی ڈھنگ کی تو ہے نہیں! بہرحال وہ فلم بہت کامیاب رہی۔ علی سفیان آفاقیؔ بہت زبردست رائٹر اور بڑے نفیس انسان تھے۔ اس فلم کے ہدایتکار حسن طارق تھے۔ ان کا بہت بڑا نام تھا۔ اس کردار میں میں نے بوڑھی عورت کی آواز بنانے میں بہت محنت کی۔ میں چاہتی تھی کہ میری آواز میں حقیقت کا رنگ نظر آئے”۔

”آپ اندازہ لگائیں کہ اس عمر میں بھی میری آواز میں وہ بڑھاپے والی آواز کا عنصر نہیں ہے جو میں نے فلم“ کنیز ”میں پیدا کیا تھا۔ اب بھی کبھی کوئی رونگ نمبر آیا اور میں نے کوئی بات کی تو یقین دلانا پڑا کہ میں کوئی نوجوان عورت نہیں۔ یہ تک کہنا پڑتا ہے کہ بھئی خود آ کر دیکھ لو کہ میں کتنی بوڑھی ہوں! کیا کروں۔ ہمارے ہاں بد تمیز قسم کے لوگ ہوتے ہیں کیوں کہ انہیں والدین کی تربیت ملی ہی نہیں۔ جب ہی تو بڑے ہو کر نہ جانے کس کس لائن میں نکل جاتے ہیں“۔

”میں اس موقع پر یہ کہنا چاہوں گی کہ والدین پر یہ بہت بھاری ذمہ داری ہے۔ بیٹا پیدا ہو گیا تو یہ سمجھ لیا گیا کہ بڑا ہو کر ہمارا سہارا بنے گا۔ ساری توجہ اسی بات پر ہوتی ہے۔ تربیت پر کوئی دھیان ہی نہیں! دین کی تعلیم دو، اچھے برے کی تمیز سکھاؤ، شائستگی کا سبق دو۔ یہ کچھ بھی نہیں ہوتا۔ پھر نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔ اس میں 90 فی صد والدین کا قصور ہے۔ سزا انہیں بھی ملنا چاہیے!“۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6 7 8