ملکہ حسن کہلانے والی اداکارہ صابرہ سلطانہ
”رشتے یا نوکری کا جھانسا دے کر قتل جیسے ہولناک واقعات نظر سے گزرتے ہیں تو دل بہت کڑھتا ہے۔ میں پوچھتی ہوں کہ بھئی یہ ’جھانسا‘ کیا ہوتا ہے؟ گھر میں آپ کی بیٹی بہن کوئی ہے اگر رشتے کی بات ہو رہی ہے تو بھئی رشتہ تو بڑوں میں طے ہوتا ہے۔ رشتہ کے جھانسے کا مطلب یہ ہے کہ کوئی لڑکی گھر سے گئی ہے اور کسی لڑکے نے اسے بیوقوف بنایا ہے کہ وہ اس سے شادی کرے گا۔ یہ روش بے حد غلط ہے۔ اس میں سراسر ماں باپ کا قصور ہے۔
پچھلے دنوں ایک خاتون نوکری حاصل کرنے کے لئے اپنی چار سالہ بچی کو لے کر چل پڑیں۔ نتیجہ یہ کہ وہ کہیں سے کہیں ان کو لے گئے۔ یہ سب واقعات اور ان سے پہلے بھی جو ایسا کچھ ہوتا رہا ہے میں اس کو پڑھ کر حیران ہوتی ہوں کہ ہم اس قدر نادان ہیں کہ یہ نہیں سوچتے کہ مومن ایک سوراخ سے ڈسے جانے بعد دوسری مرتبہ نہیں ڈسا جاتا۔ پھر بھی ان کی آنکھیں نہیں کھلتیں”۔
”میرا دل چاہتا ہے کہ میں اپنے انٹرویو میں بھلائی کی باتوں کی تلقین کروں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا بھی حکم ہے کہ لوگوں کو برائی سے روکو اور نیکی کی تلقین کرو۔ ٹی وی ٹاک شوز آتے ہیں اور لوگ باتیں کرتے ہیں۔ اصل فتنے کی جڑ کا کوئی ذکر ہی نہیں کرتا۔ جو چیزیں معصوموں کے ایسے سفاکانہ قتل پر بھڑکا رہی ہیں ان کو ختم کریں۔ زینب کیس میں پھانسی دے دی گئی۔ ایک پھانسی سے کیا فرق پڑتا ہے، تسلسل کے ساتھ جب یہ پھانسیاں ہوں تو ایسے واقعات خود ہی رک جائیں گے“۔
”اب آ جائیں بچے اغوا ہونے کے واقعات پر! میرے برابر ایک فیملی رہتی ہے۔ چھوٹے بچوں کو دکان میں چیزیں لینے بھیج دیا جاتا ہے۔ میں نے خاتون خانہ کو کتنی دفعہ سمجھایا ہے کہ کیا آپ کے گھر کے تمام افراد اتنے سست الوجود ہیں کہ گھر کا سودا بھی نہیں لا سکتے۔ بچوں کو بھیجنے کی کیا تک بنتی ہے جب کہ بچوں کے اغوا ہونے کے اتنے واقعات ہو چکے۔ پھر، اللہ معاف کرے۔ وہ بچے قتل بھی ہو گئے اور اولاد کا زخم ساری زندگی کے لئے باقی رہ گیا۔
ہماری قوم کے زیادہ تر لوگ سوچتے نہیں! بس جو ہو رہا ہے وہ ہو رہا ہے۔ میں تو اپیل کروں گی کہ خدا را بچوں کی اچھی تربیت کریں۔ اچھے برے کی تمیز سکھائیں، دین کی تعلیم دے کر عبادت گزار بنائیں۔ جب برائی کی طرف وہ راغب ہونے لگتا ہے تو اسے خیال آ جاتا ہے کہ نہیں! ابھی تھوڑی دیر میں فلاں نماز کا وقت ہو جائے گا۔ یوں
’جھجھک‘ پیدا ہو جاتی ہے ”۔
”آج کل جن موضوعات پر ٹیلی وژن چینلوں پر ڈرامے آ رہے ہیں آپ ان پر کیا کہیں گی“ ؟
”آپ کو سن کر تعجب ہو گا کہ فلمیں کیا اور ڈرامے کیا میں نے دیکھنا چھوڑ دیا ہے۔ لیکن ہاں! اپنے موبائل میں یو ٹیوب پر ٹی وی ڈراموں پر تبصرے دیکھتی ہوں۔ اس سے مجھے پتا چلتا ہے کہ فلاں ڈرامے میں یہ کہا گیا ہے کہ ایک سسر اپنی بہو پر فدا ہے۔ ایک بہنوئی اپنی سالی پہ فدا ہے۔ یہ موضوع سن کر میں تو ہکا بکا ہی رہ گئی۔ کسی فیملی والا گھر تو یہ ڈرامے دیکھ ہی نہیں سکتا۔ کتنی شرم آئے گی جب ایسے مناظر اور مکالمے اسکرین پر آئیں گے۔ یہ ڈرامے تو بالکل بھی نہیں ہونے چاہئیں۔ ہمارے معاشرے میں اتنے موضوعات ہیں ان پر کوئی توجہ ہی نہیں۔ ارطغرل ڈرامہ آیا اس میں تو ایسی کوئی چیز نہیں۔ آخر وہ کیوں اتنا پسند کیا گیا؟ جو لوگ کہتے ہیں کہ ڈرامے میں ’چٹخارے‘ ہونا ضروری ہیں تو پھر یہ ترکی ڈرامہ تو فیل ہو جانا چاہیے تھا وہ کیوں مقبول ہوا؟ اس دلیل کی طرف تو کوئی آتا نہیں ”۔
”ایک زمانے میں پاکستان ٹیلی وژن سے ایک پروگرام آتا تھا ’دائرے‘ ۔ اس میں کلام پاک کی کوئی آیت لے کر ڈرامہ بناتے تھے“۔
”یہ پاکستان ٹیلی وژن کراچی مرکز سے پروڈیوسر اقبال حیدر کرتے تھے جن کے معاون میرے ٹی وی بیچ فیلو اور جامعہ کراچی کے ساتھی اقبال غلام علی ہوتے تھے۔ غالباً یہ 1980 کی دہائی کے اوائل میں آتا تھا“ میں نے کہا۔
صابرہ سلطانہ نے بات کو جاری رکھا: ”وہ بہترین ڈراموں کا سلسلہ تھا۔ آج کل تو بھارت کی نقل میں لگے ہوئے ہیں۔ کپڑے ویسے ہی پہن رہے ہیں۔ لوگ خواتین کی باتیں کم سنتے ہیں لیکن ان کی شکلیں زیادہ دیکھتے ہیں۔ کیا کریں!“۔
”کیا آپ کو گانے یا موسیقی سیکھنے کا شوق تھا؟“۔
”ہاں گانا سیکھنے کا شوق تھا۔ اس زمانے میں مہدی حسن صاحب کراچی میں ہوتے تھے۔ میرے گلے میں سر تھا۔ میں گا لیتی تھی۔ والد صاحب نے میرے سیکھنے کی خاطر مہدی حسن صاحب سے رابطہ کیا کہ میری بیٹی کو آپ وقت نکال کر تھوڑا بہت گانا سکھا دیں گے؟ انہوں نے حامی بھر لی۔ مہدی حسن آئے اور مجھے سن کر کہنے لگے کہ آپ اداکاری چھوڑیں اور گلوکارہ بنیں۔ یہ بھی کہا کہ میری آواز نرم ہے۔ تھوڑی محنت کریں تو بڑی اچھی گلوکارہ بن سکتی ہیں۔ میں نے اثبات میں سر ہلا دیا حالاں کہ اندر سے میں اداکارہ ہی بننا چاہ رہی تھی۔ وہ گانا سکھاتے رہے اور پھر لاہور چلے گئے۔ یوں یہ سلسلہ ہی ختم ہو گیا“۔
”پھر استاد امراؤ بندو خان صاحب کے پاس جانے کا اتفاق ہوا۔ والد صاحب نے کہا کہ ان کو بھی گانا سنا دو۔ مجھے ہارمونیم بجانا آتا تھا جو میں نے والد صاحب سے سیکھا تھا۔ میں ہارمونیم بجا کر گاتی تھی۔ استاد صاحب نے کہا کہ کچھ سناؤ۔ اس زمانے میں بھارتی فلمی گانا بہت چل رہا تھا : ’چلی چلی رے پتنگ میری چلی رے۔‘ میں نے معصومیت سے وہ گانا شروع کر دیا۔ استاد امراؤ بندو خان ہنسے اور کہا کہ کیا یہ گانا ہے؟ میں نے کہا یہی تو میں گاتی ہوں۔ پھر انہوں نے بتایا کہ آپ نے تو یہاں کلاسیکل سیکھنا ہے۔ میں نے پوچھا کہ وہ کیسا ہوتا ہے؟ پھر انہوں نے بتایا : ’کلین سے سیج سجا موری عالی۔‘ ۔ کچھ ہی دیر بعد میں نے سیکھنا چھوڑ دیا کیوں کہ استاد کے گھر سے ہمارا گھر دور تھا“۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


