ملکہ حسن کہلانے والی اداکارہ صابرہ سلطانہ
”منفی کردار ادا کرنا مجھے پسند نہیں تھا۔ فلم“ بے مثال ”( 1975 ) میں شبابؔ صاحب کہنے لگے کہ کردار منفی تو ہے لیکن آپ اچھی آرٹسٹ ہیں، کر لیں۔ ایک سین میں شبنم کو ایک تھپڑ مارنا تھا۔ ریہرسل کے دوران ہی شبنم نے کہا کہ ’تھپڑ‘ ایسا مارنا کہ اسکرین پر وہ قدرتی لگے۔ کیا کرتی! بے چاری کو زور دار تھپڑ رسید کر دیا۔ شاٹ کے بعد اس سے بہت معذرت بھی کی۔ اب مجھے اطمینان ہوا کہ میں منفی کردار بھی ادا کر سکتی ہوں“۔
ہدایتکاروں سے متعلق ایک سوال کے جواب مین وہ بولیں : ”اقبال کاشمیری کی ڈائریکشن میں بہت پختگی تھی۔ کوئی شاٹ لینا ہو تو وہ خود کر کے دکھاتے کہ اس طرح جانا ہے، اس طرح کھڑا ہونا ہے۔ چہرے پر ایسے تاثرات دینے ہیں، یوں مکالمے بولنا ہیں۔ مکمل کر کے دکھا دیتے تھے۔ آرٹسٹ کو بہت سہولت ہوتی تھی۔ حسن عسکری بہت تفصیل سے بتاتے تھے۔ مکالموں کی ڈبنگ میں بھی بہت سہارا ملتا تھا۔ حسن طارق بھی بہت لائق تھے۔ پوری توجہ سے اداکار کو سمجھاتے تھے“۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا : ”محمد علی صاحب بہت زندہ دل آدمی تھے۔ ہمارا فلم“ عادل ”( 1966 ) سے ساتھ ہوا۔ پھر“ صاعقہ ”( 1968 ) کی۔ فلم“ نورین ”( 1970 ) میں، میں ان کی بڑی بہن بنی تھی۔ انہوں نے ڈائریکٹر لئیق اختر سے کہا کہ میں تو ان سے بڑا ہوں تو کس طرح ان کو آپا یا باجی کہوں؟ تو اس کا حل لفظ ’آپی‘ میں نکالا گیا“۔
انہوں نے دلچسپ بات بتائی: ”مسرورؔ بھائی بہت خوش مزاج واقع ہوئے تھے۔ جب کبھی مسرورؔ انور، وحید مراد، ندیم، شمیم آرا میں اور احمد رشدی ایک ساتھ بیٹھتے تو اس قدر ہنسی مذاق ہوتا کہ کیا بتاؤں۔ وحید مراد میں تو چلبلا پن۔ اس کو چھیڑ اس کو چھیڑ۔ وہ سیٹ پر کیا آتے بس مسکراہٹیں آ جاتیں۔ مجھے دیکھتے تو کہتے کہ یار یہ تو بت کی طرح بیٹھی ہی رہتی ہیں“۔
”الیاس رشیدی صاحب لاہور میں آئے ہوئے تھے جس کا مجھے پتا نہیں تھا۔ وہ میری بیٹی کی شادی میں خود ہی آ گئے۔ میں اتنی حیران ہوئی کہ ہیں! کہنے لگے کہ لاہور آیا ہوا تھا میں نے سنا بیٹی کی شادی ہے تو میں نے کہا کہ ضرور جاؤں گا۔ مجھے بہت خوشی ہوئی۔ پھر میں کراچی گئی تو اقبال بھائی (اقبال راہی) کے ساتھ اسلم میاں کے گھر بھی گئی“۔
”لیکن اسلم بھائی سے مجھے ایک گلہ ہے۔ انہوں نے مجھے ’لائف ٹائم ایچیو منٹ‘ ایوارڈ دیا لیکن نگار ایوارڈ والی ’مورت‘ نہیں دی۔ ہوا یہ کہ وہ ایوارڈ بہت دور کہیں جلو پارک میں منعقد کیا گیا تھا۔ ظاہر ہے اتنی دور میں تو اکیلے نہیں جا سکتی تھی کیوں کہ وہ رات کا فنکشن تھا۔ میں نے فون پر انہیں اطلاع کروا دی کہ میں نہیں آ رہی۔ نغمہ نے مجھے فون کیا کہ تم چل رہی ہو؟ میں نے منع کر دیا تو کہنے لگی بھلا یہ کیا بات ہوئی۔ میرے ساتھ گاڑی میں چلو۔ یوں میں بھی اس کے ساتھ تقریب میں پہنچ گئی۔ وہاں پر کسی نے بھی انہیں اطلاع نہیں دی کہ میں آ گئی ہوں۔
وہ ساری تقریب ختم ہو گئی۔ اس دوران میں نے اتنی کوشش کی لیکن اوپر تک یہ پیغام ہی نہیں پہنچا کہ صابرہ سلطانہ آ گئی ہے۔ پھر میں نے یٰسین گوریجہ صاحب کو فون کیا مجھے پچیس ہزار روپیہ کراچی سے بھیجا گیا کیش تو مل گیا لیکن وہ ’موہنی صورت مورت‘ نہیں ملی۔ یہ ایک نشانی اور ایک یادگار ہے۔ پھر میں نے اقبال بھائی سے کہا۔ لیکن بات وہیں کے وہیں رہی۔ اب تو انتظار کرتے کرتے یہ دن آ گیا ہے۔ مجھے بہت افسوس ہو رہا ہے کہ میرے پاس جو ایوارڈ رکھے ہوئے ہیں ان میں میرا یہ ایوارڈ نہیں ہے!
”نئے اداکاروں کے لئے کوئی پیغام“۔
”نئے لوگوں کو یہ مشورہ ہے کہ جس طرح کا کردار ہو اسی طرح آپ کا حلیہ، میک اپ اور ہیر اسٹائل ہونا چاہیے۔ سین ہے کہ کسی خاتون کے ہاں ولادت ہوئی ہے۔ اسکرین پر اس کے بال بالکل سیٹ نظر آ رہے ہیں، آنکھوں میں لائنر بھی لگا ہوا ہے، ہونٹوں پر لپ اسٹک۔ ایسا کرنے سے کردار کا تاثر جاتا رہتا ہے۔ ہالی ووڈ کی فلموں میں دیکھیں غریب لڑکی کو جب اسکرین پر پیش کیا جائے گا تو کوئی میک اپ نہیں۔ بوسیدہ کپڑے۔ بال اجڑے ہوئے۔ اسی سے کردار میں جان پڑتی ہے“۔
ہمارے ملک کی اس نامور فلم اور ٹیلی وژن فنکارہ کو حکومت پاکستان نے ابھی تک تمغۂ حسن کارکردگی سے نہیں نوازا۔ یہ ہر طرح سے اس تمغے کی نہ صرف اہل بلکہ حق دار ہیں۔ میری الحمرا لاہور، پی این سی اے، کلچر ڈپارٹمنٹ اور وزارت اطلاعات و نشریات کے ارباب اختیار سے درخواست ہے کہ وہ اپنا فرض منصبی سمجھتے ہوئے یہ نیک کام اسی سال کر کے شکریہ کا موقع دیں۔


