کرشن چندر کا لازوال افسانہ: ان داتا
اس نے جلدی میں اخبار کا ورق الٹا اور توس پر مربہ لگا کر کھانے لگا۔ توس نرم گرم اور کر کرا تھا اور مربے کی مٹھاس اور اس کی ہلکی سی ترشی نے اس کے ذائقہ کو اور بھی نکھار دیا تھا۔ جیسے غازے کا غبار عورت کے حسن کو نکھار دیتا ہے۔ یکایک اسے سنیہ کا خیال آیا۔ سنیہ ابھی تک نہ آئی تھی۔ گو اس نے وعدہ کیا تھا کہ وہ صبح کے ناشتہ پر اس کے ساتھ موجود ہو گی۔ سو رہی ہو گی بیچاری اب کیا وقت ہو گا۔ اس نے اپنی سونے کی گھڑی سے پوچھا جو اس کی گوری کلائی میں جس پر سیاہ بالوں کی ایک ہلکی سی ریشمیں لائن تھی۔ ایک سیاہ ریشمی فیتے سے بندھی تھی۔ گھڑی، قمیض کے بٹن اور ٹائی کا پن، یہی تین زیور مرد پہن سکتا ہے اور عورتوں کو دیکھیے کہ جسم کو زیور سے ڈھک لیتی۔ کان کے لئے زیور، پاؤں کے لئے زیور، کمر کے لئے زیور، ناک کے لئے زیور، سر کے لئے زیور، گلے کے لئے زیور باہوں کے لئے زیور اور مرد بے چارے کے لئے صرف تین زیور بلکہ دو ہی سمجھئے کیوں کہ ٹائی کا پن اب فیشن سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔ نہ جانے مردوں کو زیادہ زیور پہننے سے کیوں منع کیا گیا ہے۔ یہی سوچتے سوچتے وہ دلیا کھانے لگا۔ دلیے سے الائچی کی مہک اٹھ رہی تھی۔ اس کے نتھنے، اس کے پاکیزہ تعطر سے مصفٰی ہو گئے اور یکایک اس کے نتھنوں میں گزشتہ رات کے عطر کی خوشبو تازہ ہو گئی۔ وہ عطر جو سنیہ نے اپنی ساڑھی، اپنے بالوں میں لگا رکھا تھا۔ گزشتہ رات کا دلفریب رقص اس کی آنکھوں کے آگے گھومتا گیا۔ گرانڈ ہوٹل میں ناچ ہمیشہ اچھا ہوتا ہے۔ اس کا اور سنیہ کا جوڑا کتنا اچھا ہے۔ سارے ہال کی نگاہیں ان پر جمی ہوئی تھیں۔
دونوں کانوں میں گول گول طلائی آویزے پہنے ہوئے تھی۔ جو اس کی لوووں کو چھپا رہے تھے۔ ہونٹوں پر جوانی کا تبسم اور میکس فیکٹر کی لالی کا معجزہ اور سینے کے سمن زاروں پر موتیوں کی مالا چمکتی، دمکتی، لچکتی ناگن کی طرح سو بل کھاتی ہوئی۔ رمبا ناچ کوئی سنیہ سے سیکھے، اس کے جسم کی روانی اور ریشمی بنارسی ساڑی کا پر شور بہاؤ جیسے سمندر کی لہریں چاندنی رات میں ساحل سے اٹکھیلیاں کر رہی ہوں۔ لہر آگے آتی ہے۔ ساحل کو چھو کر واپس چلی جاتی ہے۔ مدھم سی سرسراہٹ پیدا ہوتی ہے اور چلی جاتی ہے۔ شور مدھم ہو جاتا ہے۔ شور قریب آ جاتا ہے۔ آہستہ آہستہ لہر چاندنی میں نہائے ہوئے ساحل کو چوم رہی ہے۔
سنیہ کے لب نیم وا تھے۔ جن میں دانتوں کی لڑی سپید موتیوں کی مالا کی طرح لرزتی نظر آتی تھی۔ یکایک وہاں کی بجلی بجھ گئی اور وہ سنیہ سے ہونٹ سے ہونٹ ملائے، جسم سے جسم لگائے آنکھیں بند کیے رقص کے تال پر ناچتے رہے۔ ان سروں کی مدھم سی روانی، وہ رسیلا میٹھا تموج رواں دواں، رواں دواں موت کی سی پاکیزگی۔ نیند اور خمار اور نشہ جیسے جسم نہ ہو، جیسے زندگی نہ ہو، جیسے تو نہ ہو، جیسے میں نہ ہوں، صرف ایک بوسہ ہو۔ صرف ایک گیت ہو۔ اک لہر ہو۔ رواں دواں، رواں دواں۔ اس نے سیب کے قتلے کیے اور کانٹے سے اٹھا کر کھانے لگا۔ پیالی میں چائے انڈیلتے ہوئے اس نے سوچا سنیہ کا جسم کتنا خوب صورت ہے۔ اس کی روح کتنی حسین ہے۔ اس کا دماغ کس قدر کھوکھلا ہے۔ اسے پر مغز عورتیں بالکل پسند نہ تھیں۔
جب دیکھو اشتراکیت، سامراجیت اور مارکسیت پر بحث کر رہی ہیں۔ آزادی تعلیم نسواں، نوکری، یہ نئی عورت، عورت نہیں فلسفے کی کتاب ہے۔ بھئی ایسی عورت سے ملنے یا شادی کرنے کی بجائے تو یہی بہتر ہے کہ آدمی ارسطو پڑھا کرے۔ اس نے بیقرار ہو کر ایک بار پھر گھڑی پر نگاہ ڈالی۔ سنیہ ابھی تک نہ آتی تھی۔ چرچل اور اسٹالن اور روز ویلٹ طہران میں دنیا کا نقشہ بدل رہے تھے اور بنگال میں لاکھوں آدمی بھوک سے مر رہے تھے۔ دنیا کو اطلانتک چارٹر دیا جا رہا تھا اور بنگال میں چاول کا ایک دانہ بھی نہ تھا۔ اسے ہندوستان کی غربت پر اتنا ترس آیا کہ اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ ہم غریب ہیں بے بس ہیں نادار ہیں۔ مجبور ہیں۔ ہمارے گھر کا وہی حال ہے جو میر کے گھر کا حال تھا۔ جس کا ذکر انھوں نے چوتھی جماعت میں پڑھا تھا اور جو ہر وقت فریاد کرتا رہتا تھا۔ جس کی دیواریں سیلی سیلی اور گری ہوئی تھیں اور جس کی چھت ہمیشہ ٹپک ٹپک کر روتی رہتی تھی۔ اس نے سوچا ہندوستان بھی ہمیشہ روتا رہتا ہے۔ کبھی روٹی نہیں ملتی، کبھی کپڑا نہیں ملتا۔ کبھی بارش نہیں ہوتی۔ کبھی وبا پھیل جاتی ہے۔ اب بنگال کے بیٹوں کو دیکھو، ہڈیوں کے ڈھانچے آنکھوں میں ابدی افسردگی، لبوں پر بھکاری کی صدا، روٹی، چاول کا ایک دانہ۔ یکایک چائے کا گھونٹ اسے اپنے حلق میں تلخ محسوس ہوا اور اس نے سوچا کہ وہ ضرور اپنے ہم وطنوں کی مدد کرے گا۔ وہ چندہ اکٹھا کرے گا۔ سارے ہندوستان کا دورہ کرے گا۔ اور چیخ چیخ کر اس کے ضمیر کو بیدار کرے گا۔ دورہ، جلسے، والنٹیر، چندہ، اناج اور زندگی کی ایک لہر ملک میں اس سرے سے دوسرے سرے تک پھیل جائے گی۔ برقی روکی طرح۔ یکایک اس نے اپنا نام جلی سرخیوں میں دیکھا۔ ملک کا ہر اخبار اس کی خدمات کو سراہ رہا تھا اور خود، اس اخبار میں جسے وہ اب پڑھ رہا تھا۔ اسے اپنی تصویر جھانکتی نظر آئی۔ کھدر کا لباس اور جواہر لال جیکٹ اور ہاں ویسی ہی خوب صورت مسکراہٹ۔ ہاں بس یہ ٹھیک ہے۔ اس نے بیرے کو آواز دی اسے ایک اور آملیٹ لانے کو کہا۔
آج سے وہ اپنی زندگی بدل ڈالے گا۔ اپنی حیات کا ہر لمحہ ان بھوکے ننگے، پیاسے، مرتے ہوئے ہم وطنوں کی خدمت میں صرف کر دے گا۔ وہ اپنی جان بھی ان کے لئے قربان کر دیگا۔ یکایک اس نے اپنے آپ کو پھانسی کی کوٹھری میں بند دیکھا، وہ پھانسی کے تختے کی طرف لے جایا جا رہا تھا۔ اس کے گلے میں پھانسی کا پھندا تھا۔ جلاد نے چہرے پر غلاف اڑھا دیا اور اس نے اس کھردرے موٹے غلاف کے اندر سے چلا کر کہا، ”میں مر رہا ہوں۔ اپنے بھوکے پیاسے ننگے وطن کے لئے، یہ سوچ کر اس کی آنکھوں میں آنسو پھر بھر آئے اور دو ایک گرم گرم نمکین بوندیں چائے کی پیالی میں بھی گر پڑیں اور اس نے رومال سے اپنے آنسو پونچھ ڈالے۔ یکایک ایک کا رپورچ میں رکی اور موٹر کا پٹ کھول کر سنیہ مسکراتی ہوئی سیڑھیوں پر چڑھتی ہوئی دروازہ کھول کر اندر آتی ہوئی اسے ہیلو کہتی ہوئی۔ اس نے گلے میں بانہیں ڈال کر اس کے رخسار کو پھول کی طرح اپنے عطر بیز ہونٹوں سے چومتی ہوئی نظر آئی، بجلی، گرمی، روشنی، مسرت سب کچھ ایک تبسم میں تھا اور پھر زہر، سنیہ کی آنکھوں میں زہر تھا۔ اس کی زلفوں میں زہر تھا۔ اس کی مدھم ہلکی سانس کی ہر جنبش میں زہر تھا۔ وہ اجنتا کی تصویر تھی، جس کے خد و خال تصور نے زہر سے ابھارے تھے۔
اس نے پوچھا، ”ناشتہ کرو گی؟“
”نہیں میں ناشتہ کر کے آئی ہوں،“ پھر سنیہ نے اس کی پلکوں میں آنسو چھلکتے دیکھ بولی، ”تم آج اداس کیوں ہو؟“
وہ بولا، ”کچھ نہیں۔ یونہی بنگال کے فاقہ کشوں کا حال پڑھ رہا تھا۔ سنیہ، ہمیں بنگال کے لئے کچھ کرنا چاہیے۔“
”Door Darlings“ سنیہ نے آہ بھر کر اور جیبی آئینے کی مدد سے اپنے ہونٹوں کی سرخی ٹھیک کرتے ہوئے کہا، ”ہم لوگ ان کے لئے کیا کر سکتے ہیں۔ ماسوا اس کے کہ ان کی روحوں کے لئے پرماتما سے شانتی مانگیں۔“
”کانونٹ کی تعلیم ہے نا آخر؟“ اس نے اپنے خوب صورت سپید دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے کہا۔
وہ سوچ کر بولا، ”ہمیں ایک ریزولیوشن بھی پاس کرنا چاہیے۔“
”وہ کیا ہوتا ہے؟“
سنیہ نے نہایت معصومانہ انداز میں پوچھا اور اپنی ساڑھی کا پلو درست کرنے لگی۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


