کرشن چندر کا لازوال افسانہ: ان داتا
مجھے یہ گلہ نہیں کہ وہ کیوں مر گئی۔ مرنے کو تو وہ اسی وقت مر گئی تھی۔ جس وقت اس نے یہ الفاظ کہے تھے۔ شاید ان الفاظ کے زبان تک آنے سے بہت عرصہ پہلے ہی وہ مرچکی تھی۔ لیکن اب بھی سمجھ میں نہیں آتا۔ مر کر بھی سمجھ میں نہیں آتا۔ غور کرنے پر بھی سمجھ میں نہیں آتا کہ اس کے منھ سے یہ الفاظ نکلے، یہ کیوں کر ہوا؟ کس بھیانک قوت نے اس کی مامتا کو مار دیا تھا۔ اس کی روح کو کچل دیا تھا جیسا کہ میں نے ابھی کہا۔ مجھے اس کے مرجانے کا مطلق افسوس نہیں۔ افسوس تو یہ ہے کہ اس کی مامتا کیوں مر گئی۔ وہ مامتا جسے سب لازوال کہتے ہیں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے۔ میں نے اس وقت اپنی بچی کو چھین کر اپنے سینے سے لپٹا لیا تھا۔
میں نے خشمگیں نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا۔ لیکن وہ اس طرح لاتعلقی کے انداز میں۔ میرے غم و غصہ کو نظر انداز کرتی ہوئی، لنگڑاتی ہوئی، میرے پیچھے پیچھے آ رہی تھی۔ کولہو کے اندھے بیل کی طرح۔ اس کے پریشان بال دھول میں اٹے ہوئے تھے۔ جسم پر دھوتی تار تار ہو چکی تھی۔ دائیں پاؤں کے زخم سے خون رستا تھا۔ اور وہ آنکھیں۔ ہائے وہ جل پری کہاں غائب ہو گئی تھی۔ وہ سمندر میں طلائی مچھلی کی طرح تیرنے والی سبک اندام بنگالی دوشیزہ۔ وہ پھول کا سا حسن جس میں تاج کا مرمر، ایلورا کے مندروں کی رعنائی اور اشوک کے کتبوں کی ابدیت کھلی ہوئی تھی۔ آج کدھر غائب ہو گیا تھا۔ کس لئے یہ حسن یہ مامتا۔ یہ روح اس سڑک پر اک روندی ہوئی لاش کی طرح پڑی تھی۔ اگر یہ سچ ہے کہ عورت ایک اعتقاد ہے۔ ایک معجزہ ہے، زندگی کی سچائی ہے۔ اس کی منزل اس کا مستقبل ہے تو میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ یہ اعتقاد، یہ سچائی۔ یہ معجزہ چاول کے دانے سے اگتا ہے اور اس کے نہ ہونے سے مر جاتا ہے۔
جل پری نے میری گود میں دم توڑ دیا۔ وہ تھکی ماندی، خاک میں اٹی ہوئی اسی سڑک کے کنارے سو گئی۔ میری آغوش میں، دو تین ہچکیاں لیں اور سانس غائب۔ نہ جانے میرے احساسات کیوں مجھے اس لمحہ کی طرف گھسیٹ کر لے گئے۔ جب میں نے پلی بار اس کے ہونٹوں کو چوما تھا اور اس کی مہکی ہوئی سانس نے مجھے سگندھ راج کے پھولوں کی یاد دلا دی تھی۔ اس وقت بھی وہی سگندھ راج کے پھولوں کی مہک تیزی سے میرے نتھنوں میں گھستی چلی آئی۔ اور میری آنکھوں میں آنسو آ گئے اور میں اس کے مردہ لبوں کی طرف تکنے لگا اور میرے آنسو، اس کے لبوں پر اس کی آنکھوں پر اس کے رخساروں پر گرنے لگے۔
وہ میری گود میں مری پڑی تھی۔ جل پری جو انیس سال کی عمر میں مر گئی۔ خاک میں اٹی ہوئی، ننگی بھوکی پیاسی جل پری چڑیل بن کر مر گئی۔
مجھے موت سے کوئی شکوہ نہیں۔ اپنے خدا سے کوئی شکایت نہیں۔ زندگی سے، سڑک پر گزرتے ہوئے اندھے قافلے سے کسی سے کوئی بھی شکایت نہ تھی۔ صرف یہی جی چاہتا تھا کہ وہ اس طرح نہ مر جاتی۔ میں ایک بندے کی طرح نہیں۔ ایک دوست کی طرح اپنے خداؤں سے پوچھنا چاہتا ہوں۔ اس میں کیا برائی تھی۔ اگر وہ زندہ رہتی۔ ایک طبعی عمر بسر کرتی۔ اس کا ایک چھوٹا سا گھر ہوتا۔ اس کے بال بچے ہوتے۔ وہ ان کی پرورش کرتی۔ اسے اپنے خاوند کی محبت میسر ہوتی۔ ایک عام اوسط زندگی کی چھوٹی چھوٹی مسرتیں۔ دنیا کروڑوں ایسے معمولی چھوٹے آدمیوں سے بھری پڑی ہے جو زندگی سے ان چھوٹی چھوٹی مسرتوں کے سوا اور کچھ نہیں چاہتے۔ نہ سلطنت نہ شہرت پھر بھی اسے یہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں حاصل نہ ہوئیں۔ وہ کیوں اس طرح مر گئی اور اگر اسے مرنا ہی تھا۔ تو وہ ساحل سمندر اور ناریل کے جھنڈ کو دیکھ کر ہی مرتی۔ یہ کیسی موت ہے کہ ہر طرف ویرانی ہے اور لاشیں ہیں اور خلا ہے اور آہ و بکا ہے۔ سڑک کی خاک ہے۔ اور چپ چاپ چلتے ہوئے قدموں کی چاپ ہے اور۔ اور دور کہیں کتے رو رہے ہیں۔
میں نے اسے دفن نہیں کیا۔ میں نے اسے جلایا بھی نہیں۔ میں نے اسے وہیں سڑک کے کنارے چھوڑ دیا اور اپنی بچی کو اپنی چھاتی سے چمٹائے آگے بڑھ گیا۔
ابھی کلکتہ دور تھا اور میری بچی بھوکی تھی۔ وہ اب رو بھی نہ سکتی تھی۔ اس کے گلے سے آواز نہ نکلتی تھی۔ وہ بار بار اپنا منھ ایسے کھولتی جیسے مچھلی جل سے باہر نکل کر پانی کے گھونٹ کے لئے اپنے ہونٹ وا کرتی ہے۔
ہائے یہ ننھی سی جل پری اپنے چھوٹے سے کھلونے کو اپنے سینے سے چمٹائے ایک گھلتی ہوئی شمع کی طرح میری آنکھوں کے سامنے ختم ہو رہی تھی۔ بجھ رہی تھی اور چلا جا رہا تھا۔ میرے ارد گرد، آمنے سامنے آگے پیچھے اور لوگ بھی تھے رواں دواں مردوں کا قافلہ ہر ایک کی اپنی دنیا تھی۔ لیکن ہر فرد اعلی موت کی وادی میں گزر رہا تھا اور آنکھوں میں چہروں پر، جسموں پر اسی مہیب کا سایہ منڈلا رہا تھا۔ جو اس وادی کی خالق تھی۔ میں ہاتھ جوڑ کر دعا مانگنے لگا۔
اے خالق ارض و سما اس معصوم بچی کی طرف دیکھ۔ کیا تیرے دربار میں اس کے لئے دودھ کی ایک بوند بھی نہیں۔ ان داتا۔ دیکھ یہ کس طرح بار بار منھ کھولتی ہے۔ بے قرار ہوتی ہے اور تڑپ کر رہ جاتی ہے۔
اے خدا وند لایزال، تو نے خوب صورت موت بنائی ہے لیکن یہ موت تو خوب صورت نہیں۔ یہ موت تو معصوم نہیں۔ یہ موت تو اس ننھی سی جان کے لائق نہیں۔
سن لے اے کائنات کی پر اسرار مخفی قوت عظیم۔ اے خداؤں کے ظالم صدر اعظم۔ تو اس خوب صورت کلی کو ابھی سے کیوں کچل کر رکھ دینا چاہتا ہے۔ اس کی تمناؤں کی دنیاؤں کو دیکھ سمندر میں بلبلوں کی افشاں سبک خرام کشتی، ایک نغمہ اپنے معراج کو پہنچا ہوا ناریل کے جھنڈ میں عورت اور مرد کا پہلا بوسہ کمینے، سفلے، ذلیل!
لیکن نہ دعائیں کام آئیں نہ گالیاں اور میری بچی بھی مر گئی۔ کس طرح تڑپ تڑپ کر اس نے جان دی۔ اس کا کرب اور ایذا وہ میری ان پتھریلی ساکن و جامد، بے نور، بے بصر آنکھوں سے پوچھو۔ وہ دودھ کی ایک بوند کے لئے مر گئی وہ بوند جو نہ آسمان سے برسی نہ زمین نے اگلی، بے حس آسمان، بے حس زمین اور یہ ظالم سڑک۔
مرنے سے کچھ عرصہ پہلے میری بچی نے اپنا پیارا جھنجھنا مجھے دے دیا۔ دیکھو اب بھی میری مٹھی میں دبا پڑا ہے۔ یہ امانت اس نے میرے حوالے کی تھی۔ نہیں، نہیں یہ جھنجھنا اس نے مجھے بخش دیا تھا۔ لاپرواہی کے ساتھ۔ ایک ایسے معصومانہ انداز میں اس نے اسے میرے حوالے کر دیا تھا کہ مجھے یقین ہو گیا کہ اس نے مجھے بخش دیا۔ مجھے معاف کر دیا ہے۔ مجھے اپنے لطف و عنایت سے مالامال کر دیا ہے۔ اس نے وہ جھنجھنا میرے ہاتھ میں دے دیا۔ اور پھر میری گود میں مر گئی۔
یہ ایک لکڑی کا جھنجھنا ہے لیکن میرا اعتقاد ہے کہ اگر وہ کوین پیٹرا ہوتی تو اپنی محبت مجھے بخش دیتی۔ اگر وکٹوریہ ہوتی تو اپنی سلطنت میرے سپرد کر دیتی۔ اگر ممتاز محل ہوتی۔ تو تاج محل میرے حوالے کر دیتی۔
لیکن وہ ایک غریب ننھی لڑکی تھی اور اس کے پاس صرف یہی ایک لکڑی کا چھوٹا سا جھنجھنا تھا جو اس نے اپنے غریب نادار ابا کے حوالے کر دیا۔ تم میں سے کون ایسا جوہری ہے جو اس لکڑی کے جھنجھنے کی قیمت کا اندازہ کر سکے۔ بڑے آدمیوں کی قربانیوں پر، واہ واہ کرنے والو، لے جاؤ اس لکڑی کے جھنجھنے کو، اور انسانیت کے اس معبد میں رکھ دو۔ جو آج سے ہزاروں سال بعد میری روح تمھارے لئے تعمیر کرے گی۔
آخر کلکتہ آ گیا، بھوکی ویران بستی، سنگدل بے رحم شہر۔ کہیں کوئی ٹھکانہ نہیں۔ کہیں روٹی کا لقمہ تک نہیں، سیالدہ اسٹیشن، شیام بازار، بڑا بازار، ہریش روڈ، ڈکریا اسٹریٹ، بود بازار، سونا گاچی، نیو مارکیٹ، بھوانی پور کہیں چاول کا ایک دانہ نہیں۔ کہیں وہ نگاہ نہیں جو انسان کو انسان سمجھتی ہے۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


