کرشن چندر کا لازوال افسانہ: ان داتا


Hindus burning their starved dead at the Calcutta Myrone Memorial. (Photo by William Vandivert/The LIFE Picture Collection/Getty Images)

”اب یہ تو مجھے ٹھیک طرح سے معلوم نہیں۔“ وہ بولا، ”اتنا ضرور جانتا ہوں کہ جب کبھی ملک پر کوئی آفت آتی ہے۔ ریزولیوشن ضرور پاس کیا جاتا ہے۔ سنا ہے ریزولیوشن پاس کر دینے سے سب کام خود بخود ٹھیک ہو جاتا ہے۔ میرا خیال ہے۔ بس ابھی ٹیلی فون کر کے شہر کے کسی رہنما سے دباغ فن کے بارے میں پوچھتا ہوں۔“

”رہنے بھی دو ڈارلنگ!“ سنیہ نے مسکرا کر کہا۔
”دیکھو، جوڑے میں پھول ٹھیک سجا ہے؟“
اس نے نیلراج کی نازک ڈنڈی کو جوڑے کے اندر تھوڑا سا دبا دیا۔
”بے حد پیارا پھول ہے، نیلا جیسے کرشن کا جسم، جیسے ناگ کا پھن۔ جیسے زہر کا رنگ!“
پھر سوچ کر بولا، ”نہیں کچھ بھی ہو۔ ریزولیوشن ضرور پاس ہونا چاہیے۔ میں ابھی ٹیلی فون کرتا ہوں۔“

سنیہ نے اسے اپنے ہاتھ کی ایک ہلکی سی جنبش سے روک لیا۔ گداز انگلیوں کا لمس ایک ریشمی رو کی طرح اس کے جسم کی رگوں اور عروق میں پھیلتا گیا۔ رواں دواں۔ رواں دواں۔ اس لہر نے اسے بالکل بے بس کر دیا اور وہ ساحل کی طرح بے حس و حرکت ہو گیا۔

”آخری رمبا کتنا اچھا تھا!“ سنیہ نے اسے یاد دلاتے ہوئے کہا۔

اور اس کے ذہن میں پھر چیونٹیاں سی رینگنے لگیں۔ بنگالی فاقہ مستوں کی قطار میں اندر گھستی چلی آ رہی تھیں۔ وہ انھیں باہر نکالنے کی کوشش میں کامیاب ہوا۔ بولا، ”میں کہتا ہوں سنیہ، ریزولیشن پاس کرنے کے بعد ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ میرے خیال میں اس کے بعد ہمیں قحط زدہ علاقے کا دورہ کرنا چاہیے کیوں؟“

”بہت دماغی محنت سے کام لے رہے ہو اس وقت۔“ سنیہ نے قدرے تشویشناک لہجہ میں کہا۔

”بیمار ہو جاؤ گے! جانے دو۔ وہ بے چارے تو مر رہے ہیں۔ انھیں آرام سے مرنے دو تم کیوں مفت میں پریشان ہوتے ہو؟“

”قحط زدہ علاقے کا دورہ کروں گا۔ یہ ٹھیک ہے۔ سنیہ، تم بھی ساتھ چلو گی نا؟“
”کہاں؟“
”بنگال کے دیہات میں۔“
”ضرور۔ مگر وہاں کس ہوٹل میں ٹھہریں گے؟“

ہوٹل کا ذکر سن کر اس نے اپنی تجویز کو وہیں اپنے ذہن میں قتل کر ڈالا اور قبر کھود کر وہیں اندر دفنا دیا۔ خدا جانے اس کا ذہن اس قسم کی کتنی ناپختہ تمناؤں اور آرزؤں کا قبرستان بن چکا ہے۔

وہ بچے کی طرح روٹھا ہوا تھا، اپنی زندگی سے بیزار۔ سنیہ نے کہا، ”میں تمہیں بتاؤں۔ ایک شاندار ناچ پارٹی ہو جائے۔ گرانڈ میں۔ دو روپیہ فی ٹکٹ اور شراب کے پیسے الگ رہے اور جو رقم اس طرح اکٹھی ہو جائے وہ بنگال ریلیف فنڈ میں۔“

”ارے رررے۔“ اس نے کرسی سے اچھل کر سنیہ کو اپنے گلے لگایا۔ ”اے جان تمنا، تمہاری روح کتنی حسین ہے۔“
”جب ہی تم نے کل رات آخری رمبا کے بعد مجھ سے شادی کی درخواست کی تھی۔“ سنیہ نے ہنس کر کہا۔
”اور تم نے کیا جواب دیا تھا؟“ اس نے پوچھا۔
”میں نے انکار کر دیا تھا۔“ سنیہ نے شرماتے ہوئے کہا۔
”بہت اچھا کیا۔“ وہ بولا، ”میں اس وقت شراب کے نشے میں تھا۔“

کار، جیوتی رام، میونی رام، پیونی رام بھوندو مل تمباکو فروش کی دکان پر رکی، سامنے گرانڈ ہوٹل کی عمارت تھی۔ کسی مغلئی مقبرے کی طرح وسیع اور پر شکوہ۔

اس نے کہا، ”تمہارے لئے کون سے سگریٹ لے لوں!“
”روز۔ مجھے اس کی خوشبو پسند ہے۔“ سنیہ نے کہا۔
”امی دو دن کھیتے پائی نی کی چھو کھیتے داؤ۔“

ایک بنگالی لڑکا دھوتی پہنے ہوئے بھیک مانگ رہا تھا۔ اس کے ساتھ ایک چھوٹی سی لڑکی تھی۔ میلی کچیلی، خاک میں اٹی ہوئی، آنکھیں غلیظ اور آدھ مندی۔ سنیہ نے کراہیت سے منھ پھیر لیا۔

”میم صائب ایکٹاپوئے شاداؤ۔“ لڑکا گڑ گڑا رہا تھا۔

”تو میں روز ہی لے آتا ہوں۔“ یہ کہہ کر وہ جیونی رام۔ میونی رام۔ بیونی رام، بھوندو مل تمباکو فروش کی دکان کے اندر غائب ہو گیا۔

سنیہ کار میں بیٹھی لیکن بنگال کی بھوکی مکھیاں اس کے دماغ میں بھن بھناتی رہیں۔ میم صاحب۔ میم صاحب۔ میم صاحب۔ میم صاحب نے دو ایک بار انہیں جھڑک دیا۔ لیکن بھوک جھڑکنے سے کہاں دور ہوتی ہے۔ وہ اور بھی قریب آ جاتی ہے۔ لڑکی نے ڈرتے ڈرتے اپنے ننھے ننھے ہاتھ سنیہ کی ساڑی سے لگا دیے۔ اور اس کا پلو پکڑ کر لجاجت سے کہنے لگی، ”میم صاحب۔ میم صاحب۔ میم صائب بورڈ کھیدے پیچھ۔ کی چھودا۔“

سنیہ اب بالکل زچ ہو گئی تھی۔ اس نے جلدی سے پلو چھڑا لیا۔ اتنے میں وہ آ گیا۔ سنیہ بولی، ”یہ گدا گر کیوں اس قدر پریشان کرتے ہیں۔ کارپوریشن کوئی انتظام نہیں کر سکتی ہے کیا؟ جب سے تم دکان کے اندر داخل ہوئے ہو۔ یہ۔“

اس نے گدا گر لڑکے کو زور سے چپت لگایا اور کار گھبرا کر گرانڈ ہوٹل کے پورچ میں لے آیا۔

بنگالی لڑکی جو ایک جھٹکے کے ساتھ دور جا پڑی تھی۔ وہیں فرش خاک پر کراہنے لگی۔ لڑکے نے چھوٹی بہن کو اٹھانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا:

”تمار کو تھاؤ لاگے نے تو۔“
لڑکی سسکنے لگی۔ ناچ عروج پر تھا۔ سنیہ اور وہ ایک میز کے کنارے بیٹھے ہوئے تھے۔
سنیہ نے پوچھا، ”کتنے روپے اکٹھے ہوئے؟“
”ساڑھے چھ ہزار۔“
”ابھی تو ناچ عروج پر ہے۔ صبح چار بجے تک۔“
”نو ہزار روپیہ ہو جائے گا۔“ وہ بولا۔
”آج تم نے بہت کام کیا ہے!“ سنیہ نے اس کی انگلیوں کو چھو کر کہا۔
”کیا پیو گی؟“
”تم کیا پیو گے؟“
”جن اور سوڈا۔“
سنیہ بولی، ”بیرا۔ صاحب کے لئے ایک لارج جن لاؤ اور سوڈا۔“
”ناچتے ناچتے اور پیتے پیتے پریشان ہو گئی ہوں۔“
”اپنے وطن کی خاطر سب کچھ کرنا پڑتا ہے ڈارلنگ۔“ اس نے سنیہ کو تسلی دیتے ہوئے کہا۔
”اوہ مجھے امپریلزم سے کس قدر نفرت ہے۔“ سنیہ نے پر خلوص لہجہ میں کہا۔
”بیرا، میرے لئے ایک ورجن لاؤ۔“
بیرے نے ”ورجن“ کا جام لاکر سامنے رکھ دیا۔ جن کی سپیدی میں ورموتھ کی لالی اس طرح نظر آتی تھی جیسے سنیہ کے عنبریں چہرے پر اس کے لب لعلیں۔ سنیہ نے جام ہلایا اور کاک ٹیل کا رنگ شفقی ہو گیا۔ سنیہ نے جام اٹھایا اور بجلی کی روشنی نے اس کے جام میں گھل کر یاقوت کی سی چمک پیدا کر دی۔ یاقوت سنیہ کی انگلیوں میں تھرا رہا تھا۔ یاقوت جو خون کی طرح سرخ تھا۔

ناچ عروج پر تھا اور وہ اور سنیہ ناچ رہے تھے۔ ایک گت، ایک تال ایک لے، سمندر دور، بہت دور۔ کہیں نیچے چلا گیا تھا۔ اور زمین گم ہو گئی تھی۔ اور وہ ہوا میں اڑ رہے تھے۔ اور سنیہ کا چہرہ اس کے کندھے پر تھا اور سنیہ کے بالوں میں بسی ہوئی خوشبو اسے بلا رہی تھی۔ بال بنانے کا انداز کوئی سنیہ سے سیکھے۔ یہ عام ہندوستانی لڑکیاں تو بیچ میں سے یا ایک طرف مانگ نکال لیتی اور تیل چپڑ کر بالوں میں کنگھی کر لیتی ہیں۔ بہت ہوا تو دو چوٹیاں کر ڈالیں اور اپنی دانست میں فیشن کی شہزادی بن بیٹھیں۔ مگر یہ سنیہ ہی جانتی ہے کہ بالوں کی ایک الگ ہستی ہوتی ہے۔ ان کا اپنا حسن ہوتا ہے۔ ان کی مشاطگی عورت کی نسائیت کی معراج ہے۔ جیسے کوئی مصور سادہ تختے پر حسن کی نازک خطوط کھینچتا ہے۔ اسی طرح سنیہ بھی اپنے بال سنوارتی تھی۔ کبھی اس کے بال کنول کے پھول بن جاتے کبھی کانوں پر ناگن کے پھن۔ وہ کبھی چاند کا ہالہ ہو جاتے کبھی ان بالوں میں ہمالیہ کی وادیوں کے سے نشیب و فراز پیدا ہو جاتے۔ سنیہ اپنے بالوں کی آرائش میں ایسے جمالیاتی ذوق اور جودت طبع کا ثبوت دیتی تھی کہ معلوم ہوتا تھا سنیہ کی عقل اس کے دماغ میں نہیں، اس کے بالوں میں ہے۔

ناچ عروج پر تھا اور یہ بال اس کے رخساروں سے مس ہو رہے تھے۔ اس کے رگ و پے میں رقص کی روانی تھی اور نتھنوں میں اس خوشبو کا تعطر اس کا جسم اور سنیہ کا جسم پگھل کر ایک ہو گئے تھے اور ایک شعلے کی طرح ساز کی دھن پر لہرا رہے تھے۔ ایک شعلہ، ایک پھن، ایک زہر۔ ایک لہر۔ لہریں۔ لہریں، ہلکی ہلکی، گرم مدور سی لہریں ساحل کو چومتی ہوئی۔ لوریاں دے کر تھپک تھپک کر سلاتی ہوئی۔ سو جاؤ موت میں زندگی ہے۔ حرکت نہ کرو۔ سکون میں زندگی ہے۔ آزادی نہ طلب کرو۔ غلامی ہی زندگی ہے۔ چاروں طرف ہال میں ایک میٹھا سا زہر بسا ہوا تھا۔ شراب میں، عورت میں، ناچ میں۔ سنیہ کے نیلے سائے میں۔ اس کے پراسرار تبسم میں، اس کے نیم وا لبوں کے اندر کانپتی ہوئی موتیوں کی لڑی میں، زہر۔ زہر اور نیند اور سنیہ کے آہستہ سے کھلتے ہوئے، بند ہوتے ہوئے لب، اور نغمے کا زہر، سو جاؤ۔ سو جاؤ۔ سو جاؤ۔ یکایک ہال میں بجلی بجھ گئی اور وہ سنیہ کے ہونٹوں سے ہونٹ ملائے، اس کے جسم سے جسم لگائے۔ مدھم مدھم دھیمے دھیمے ہولے ناچ کے جھولے میں گہرے، گداز، گرم آغوش میں کھو گیا۔ بہہ گیا۔ سو گیا، مر گیا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6 7 8 9