قبرستانوں کی آمدنی میں اضافہ

یہ کوئی پینتالیس برس پہلے کا ذکر ہے کہ نیوز ایجنسی پی پی آئی کے مالک جناب معظم علی پاکستان سے لندن منتقل ہوئے اور ایک دینی مزاج کے سعودی شہزادے کے ساتھ مل کر اسلامی بینک قائم کرنے پر کام کر رہے تھے۔ میں جب کبھی لندن جاتا، تو ان سے ضرور ملتا کہ ہمارے خیالات ایک دوسرے سے ملتے تھے۔ میں ان سے پوچھتا رہتا کہ انگلستان کا بینکنگ سسٹم کیسا ہے اور شرح سود کتنی ہے۔ انہوں نے ایک روز انکشاف کیا کہ جب سے برطانوی بینکوں کے ہائی ایس کو اسلامی بینک کے قیام کی بھنک پڑی ہے، انہوں نے شرح سود میں حیرت انگیز طور پر کمی کر دی ہے اور بعض بینک اب صرف ایک فی صد شرح سود پر قرض دے رہے ہیں۔

Read more

ایک خونخوار لفظ

میرے عزیز دوست جاوید نواز مسقط میں رہتے ہیں جو ان دنوں لاہور آئے ہوئے ہیں۔ عید کے پانچ روز بعد ملنے آئے، تو بڑے افسردہ دکھائی دیے۔ کہنے لگے آپ نے گزشتہ برس درد میں ڈوبا ہوا جو فکر انگیز کالم لکھا تھا، وہ لے کر آیا ہوں۔ خدارا! اسے دوبارہ چھپوا دیجیے کہ ہم اس وقت دوہرے کرب سے گزر رہے ہیں۔ اسرائیل نے ارض فلسطین کے کوہ و دمن خون سے رنگ دیے ہیں۔ ہمارے وزیراعظم، قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف، اخبارات اور ٹی وی چینلز سوچے سمجھے بغیر اسے ’اسرائیلی بربریت‘ کا نام دیے جا رہے ہیں۔

Read more

عظمت بندگی سے مشک بار عید

رمضان کی رحمتیں سمیٹ لینے کی خوشی میں پورا پاکستان اپنے رب کے حضور شکرانے کے طور پر عید کی خوشیاں منا رہا ہے، مگر کورونا کی وبا نے ایک سخت آزمائش پیدا کر رکھی ہے۔ نماز عید کے اجتماعات محدود ہو جانے کے علاوہ ہم اپنے اپنے گھروں میں قید ہو کے رہ گئے ہیں۔ ان تمام رکاوٹوں کے باوجود ایک دوسرے کو تحائف بھیجے جا رہے ہیں، ٹیلی فون پر مبارک باد کی صدائیں گونج رہی ہیں اور

Read more

شکر کی لازوال دولت سے مالامال ہو جائیے

آج رحمتوں سے مہکتا جمعۃ الوداع ہے۔ کورونا کی وجہ سے مساجد میں اجتماعات محدود ہوں گے، مگر گھروں کے اندر کروڑوں سجدے جبین ہائے نیاز میں تڑپ رہے ہوں گے اور بخشش کے طلب گار بندے اپنے خالق حقیقی کے حضور گڑگڑا کر اپنے وطن کی سلامتی، اہل وطن کی تندرستی اور اپنی مغفرت کی دعائیں مانگ رہے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ تم جس قدر زیادہ شکر ادا کرو گے، میں اس سے کہیں زیادہ نعمتوں میں اضافہ کرتا جاؤں گا۔ اس قدر عالی شان اعلان کے باوجود ہم بحیثیت قوم ناشکرے واقع ہوئے ہیں۔

Read more

فلاح و سلامتی کے ابدی سرچشمے

روزے تو پرانی امتوں پر بھی فرض تھے، مگر سرور کونین حضرت محمدﷺ کی امت کے لیے ماہ رمضان ہمہ پہلو تربیت کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسلام کے نظام زندگی میں اس امر کا خاص اہتمام کیا گیا ہے کہ اللہ پر ایمان لانے والے پورا مہینہ ایک ایسے نظم و ضبط کے ساتھ بسر کریں کہ ان میں صبر کی صفت اس معیار کی پیدا ہو جائے کہ وہ جائز خواہشات پر معین وقت تک قابو پا سکیں۔ انسانوں کے دکھوں کا احساس کر سکیں اور انفاق کے لیے سال بھر تیار رہیں۔

Read more

ہدایت اور شفایابی کا مبارک مہینہ

سورۂ البقرہ میں ارشاد ربانی ہے رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مبنی ہے جو راہ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق واضح کر دینے والی ہیں۔ آگے چل کر سورۃ القدر میں ارشاد ہوا ہے کہ ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں نازل کیا جو ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے۔ اس رات حضرت جبرائیلؑ اور فرشتے اپنے رب کے اذن سے ہر حکم لے کر آتے ہیں۔ وہ رات طلوع فجر تک سراسر سلامتی ہے۔

Read more

رحمٰن کے پسندیدہ بندے

سب سے پہلے میں اپنی قوم کو رحمتوں بھرے مہینے رمضان کی مبارک باد پیش کرتا ہوں جو چاروں طرف سے وباؤں میں گھری ہوئی ہے۔ اس مبارک مہینے میں قرآن حکیم کا نزول شروع ہوا تھا جو رشد و ہدایت کا آخری آسمانی صحیفہ ہے۔ اس کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے اصلی بندوں میں کس طرح کے اوصاف دیکھنا چاہتے ہیں۔ سورۂ فرقان میں ان صفات کی نہایت عمدہ تصویر کشی کی گئی ہے۔

اگر ہمارے ارباب اختیار، ہمارے اہل دانش، ہمارے اہل قلم، ہمارے دینی رہنما، ہمارے اساتذہ اور ہمارے عامۃ الناس سورہ فرقان کی ان آیات کا بار بار مطالعہ کریں اور ان کا عملی نمونہ بن جائیں تو ہمارے حالات میں حیرت انگیز طور پر خوشگوار بہتری آ سکتی ہے اور ہم تضادات کے عذاب سے ہمیشہ کے لیے نجات پا سکتے ہیں۔ یہ جو ہمیں قدم قدم پہ احساس ہو رہا ہے کہ ہماری قومی سلامتی اور ہمارا پورا سیاسی، اقتصادی اور معاشرتی نظام سخت خطرے میں ہے، اس کی جگہ امید اور یقین کے چمن کھل اٹھیں گے۔ ہم سورہ فرقان کی آیات 62 تا 76 کا ترجمہ سید ابوالاعلیٰ مودودی کے ترجمہ قرآن مجید سے پیش کر رہے ہیں:

Read more

سیاسی بے تدبیریوں کے تازیانے

مختلف وجوہ سے بیشتر سیاسی جماعتیں عمران خاں کی حکومت کو عوام کی نمائندہ حکومت کا درجہ دینے کو تیار نہیں اور ”سلیکٹڈ“ کا لفظ ہماری سیاسی لغت میں داخل ہو گیا ہے۔ صاحب اقتدار تحریک انصاف کی انتہائی مایوس کن کارکردگی عوام پر بجلی بن کے گر رہی ہے جو ان کا محدود سا سرمایۂ زیست خاکستر کیے دیتی ہے اور ابتر حکمرانی کا عفریت روح کو فنا کیے دے رہا ہے۔ اس جاں کنی پر جب عوام کے اندر شدید بے چینی پیدا ہوئی، تو وزیراعظم کے ترجمانوں، مشیروں اور وزیروں نے یہ عذر تراشنا شروع کر دیا کہ اپوزیشن حکومت کے منصوبوں میں رخنے ڈال رہی ہے اور اکٹھے ہونے اور تعمیری کردار ادا کرنے کی صلاحیت سے محروم ہے۔

Read more

کورونا سے نجات کی موثر حکمت عملی

ہماری بے خوف اور بے نیاز قوم آج کل مختلف وباؤں کا شکار ہے۔ سیاسی نفرت کے وائرس نے ہمارا شیرازہ منتشر کر دیا ہے اور ہمیں جاں لیوا سیاسی، معاشرتی، اقتصادی اور تہذیبی عوارض لاحق ہیں۔ وہ حکومت جو اپنے شہریوں کے جان، مال اور عزت کی حفاظت کرتی ہے اور عوام پر روزگار اور خوشحالی کے دروازے کھولتی ہے، وہ خود بے یقینی میں مبتلا ہے اور اپنے وزیروں اور مشیروں کو بے آبرو کر کے مکھن سے

Read more

کتنی برساتوں کے بعد !

داخلی معاملات ہوں یا خارجی، وہ حقیقت میں ایسے نہیں ہوتے جیسے نظر آتے ہیں اور سطحی طور پر چیزوں کو دیکھنے والے بالعموم فریب کھا جاتے ہیں۔ یہی لوگ اس امر پر خوشی کے شادیانے بجا رہے ہیں کہ یوم پاکستان پر نریندر مودی نے پاکستانی وزیراعظم کے نام خط میں پاکستانی عوام کو مبارک دینے کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ دونوں پڑوسی ملکوں کے مابین قریبی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے دشمنی ختم کرنے اور اعتماد کی فضا پروان چڑھانے کی ضرورت ہے۔

Read more

اصولوں کے ساتھ جینا کتنا مشکل ہے

ہمارے ملکی حالات میں بڑے بڑے نشیب و فراز آتے رہے ہیں اور آج بھی ہمیں ان کا سامنا ہے۔ کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ جناب عمران خاں کی کاوشوں سے ہمارے معاشی حالات بہتر ہو رہے ہیں، اربوں کا جاری خسارہ ختم ہو گیا ہے اور پاکستان میں زرمبادلہ کے ذخائر بڑھتے جا رہے ہیں۔ یہ خوشخبری بھی سننے میں آ رہی ہے کہ تارکین وطن ہر ماہ دو ارب ڈالر سے زائد ارسال کر رہے ہیں اور ہماری برآمدات میں اضافہ بھی حوصلہ افزا ہے۔ اسی طرح تعمیراتی شعبے میں بھی بہت رونق ہے اور درآمدات پر پابندی لگ جانے سے چینی برآمدات میں کمی واقع ہو رہی ہے جبکہ مقامی صنعتوں کے قیام اور فروغ میں پاکستانی سرمایہ کار بڑی دلچسپی لینے لگے ہیں۔ ہمارے وزیرخزانہ جناب عبدالحفیظ شیخ اور سابق گورنر اسٹیٹ بینک جناب عشرت حسین نے دو روز پہلے ایک پریس کانفرنس میں یہ مژدہ سنایا ہے کہ پاکستان کا اسٹیٹ بینک آئندہ ایک آزاد اور خودمختار ادارے کے طور پر کام کرے گا۔

Read more

اقتدار کی رگوں میں دوڑتی تبدیلی

ہمارے ہاں ادب کی طرح سیاست کو بھی صحیح حیثیت نہیں دی گئی اور بدقسمتی سے سیاست دانوں کو بدترین مخلوق ثابت کرنے کا سلسلہ بہت پہلے شروع ہو گیا تھا۔ حال ہی میں عظیم روسی ادیب چیخوف (Chekhov) کی ایک تحریر میری نظر سے گزری ہے۔ وہ لکھتے ہیں ”ادب پارٹی آفس ہے نہ کھلنڈروں کی تفریح گاہ ہے، نہ تھکے ماندوں کی پناہ گاہ۔ ادب ایک ایسا نگارخانہ ہے جس کی رونق ان تصویروں سے ہے جو انسانی زندگی کے تجربات کا بیان ہوتی ہیں، اس لئے فن کار کی دلچسپیاں جتنی رنگا رنگ اور ہمہ گیر ہوں گی، اتنا ہی اس کا فن جاندار اور متنوع خصوصیات سے تابناک ہوگا“ ۔

Read more

سسٹم سے اٹھتا ہوا دھواں

ہم جو کچھ دیکھ رہے ہیں، زبان پر لا نہیں سکتے، کیونکہ بظاہر آزادی ہے، لیکن چاروں طرف سے مئے حوادث کے قطرے ٹپک رہے ہیں۔ ایک ایسی ہی کیفیت میں شاعرِ مشرق حضرت اقبالؔ نے کہا تھا گفتار کے اسلوب میں قابو نہیں رہتا، جب روح کے اندر متلاطم ہوں خیالات۔ بس ایک تلاطم برپا ہے اور دُوسری طرف محافظ، نیزے لیے کھڑے ہیں جن کی مشاقی پر تاریخ بھی بول اٹھتی ہے’’تم قتل کرو ہو یا کرامات کروہو‘‘۔

Read more

نشیب و فراز کے دو سال

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے دو سال کیا مکمل ہوئے کہ پورے ملک میں ایک ہنگامہ بپا ہے۔ حضرت غالبؔ نے اپنی خداداد قوت تخیلہ سے کام لیتے ہوئے ڈیڑھ صدی پہلے اس کا نقشہ ایک شعر میں کھینچ دیا تھا؎ ؍ایک ہنگامے پہ موقوف ہے گھر کی رونق ؍ نوحۂ غم ہی سہی نغمۂ شادی نہ سہی۔ ہمارے اہل وطن اس اعتبار سے بہت خوش نصیب ہیں کہ ان دنوں بیک وقت دونوں کیفیتیں اپنے عروج پر ہیں۔ میں نے چند روز پہلے چند وفاقی وزیروں کو ٹی وی اسکرین پر پریس کانفرنس کرتے دیکھا۔

Read more

بالک ہٹ کا خوفناک وائرس

تاریخ ایک طرح ماضی کا آئینہ بھی ہے اور مستقبل کا ہالہ بھی۔ دوسری جنگِ عظیم جس میں کروڑوں انسان ہلاک ہوئے اور بسیط منطقے کھنڈر بن گئے تھے، اس کی آگ ہٹلر اور مسولینی نے بھڑکائی تھی۔ انہوں نے جاپان کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا تھا جو غیرمعمولی جنگی مہارت رکھتا تھا۔ یورپ کے یہ دونوں شعلہ باز لیڈر بگڑے ہوئے بچوں کی طرح بہت ضدی اور تنگ داماں تھے اور آمریت کی بدترین مثال۔ ان کے مظالم

Read more

ناقابلِ فراموش سنگدلی

اچھے اور بُرے دن تو انسانوں اور قوموں پر آتے رہتے ہیں مگر سفاکی اور سنگدلی کے بعض واقعات کچھ اس انداز سے وقوع پذیر ہوتے ہیں کہ وہ انسانیت کی پستی کا قابلِ نفریں حوالہ بن جاتے ہیں۔ کربلا میں امام حسینؓ اور اُن کے خاندان پر جو مظالم ڈھائے گئے اُن کا تصور کرتے ہی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ جاتی ہے اور یہ بھی محسوس ہونے لگتا ہے کہ ہمارے اردگرد بھی ایسے کردار موجود ہیں

Read more