سیاست میں علما کا بڑھتا ہوا کردار

انگریزوں کی مسلم دشمن پالیسیوں اور انتہاپسند ہندو تنظیموں کی چیرہ دستیوں نے مسلمانوں کے مذہبی جذبات میں غیرمعمولی اشتعال پیدا کر دیا تھا اور علما کا سیاست میں حصہ لینا وقت کی ایک فطری ضرورت بن گیا تھا۔ دراصل اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں بڑی بڑی دینی تحریکیں اٹھتی اور مسلمانوں میں زبردست فکری اور سیاسی بیداری پیدا کرتی رہی تھیں۔ ان میں فرائضی تحریک، ریشمی رومال کی تحریک اور تحریک مجاہدین قابل ذکر ہیں۔ انہوں نے ایک طرف

Read more

ایک صدی گزر جانے کے بعد !

میں اپنی نئی نسل کو آئین کی اہمیت اور اس کی تاریخ سے آگاہی فراہم کرنے کے لیے کئی ماہ سے ایک سلسلۂ مضامین اردو کے سب سے بڑے اخبار میں لکھ رہا ہوں۔ یہ سلسلۂ مضامین 1919 ء تک پہنچ گیا ہے جب ہندوستان کے مسلمان اپنی تمام تر صلاحیتیں اور توانائیاں تحریک خلافت میں صرف کر رہے تھے۔ مسلمانوں کا امڈتا ہوا سمندر دیکھ کر ہندو قائدین بھی تحریک خلافت میں شامل ہو گئے اور سول نافرمانی کی

Read more

آئینی اختیارات کی دوسری قسط

  یہ تاریخ کی عجب ستم ظریفی تھی کہ 1919 ء میں ایک طرف ہندوستان میں ہنگاموں کا لامتناہی سلسلہ جاری تھا، تو دوسری طرف لندن میں وزیر ہند مسٹر مانٹیگو اپنا وعدہ پورا کرنے کے لیے نئی آئینی اصلاحات کا مسودہ پارلیمنٹ میں پیش کر رہے تھے۔ مختلف مراحل سے گزرتی ہوئیں یہ آئینی تجاویز دسمبر کے آخر تک ایکٹ بن گئیں جس کے تحت 1920 ء میں مرکزی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ایسے سیاسی ماحول میں ہوئے

Read more

ہنٹر کمیشن کے روبرو ہوش اڑا دینے والی شہادتیں

انسانی ہلاکتوں کی تحقیقات کے لیے حکومت برطانیہ نے لارڈ ہنٹر کی زیرصدارت ایک تحقیقاتی کمیشن قائم کیا۔ اس کے سامنے شہادتوں پر جرح کے ذریعے بڑے ہی دلخراش اور دردناک حقائق منظرعام پر آئے۔ ( 1 ) پولیس کوتوالوں کی ہر جگہ یہ پوری کوشش رہی کہ حالات کی سنگینی بیان کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ مبالغہ آرائی سے کام لیا جائے تاکہ پولیس کو زیادہ سے زیادہ ہنگامی اختیارات حاصل ہو جائیں اور وہ فوج کی سنگینوں کے

Read more

قانون کی دھجیاں اڑانے والا برطانوی مارشل لا

پہلی جنگ عظیم کے خاتمے پر ہندوستان میں ایسے لرزہ خیز واقعات رونما ہوئے جن سے انسانی تاریخ کانپ اٹھی تھی۔ رولٹ ایکٹ کی تلوار شہریوں کے سر پر لٹکا دی گئی تھی اور جلیانوالہ باغ میں جو خون کی ہولی کھیلی گئی، اس سے انسانیت لرز اٹھی تھی۔ اسی کے ساتھ پنجاب کے مختلف شہروں میں مارشل لا نافذ کر دیا گیا تھا جس کا آنکھوں دیکھا حال جناب میر نور احمد نے اپنی تصنیف ’مارشل لا سے مارشل

Read more

برطانیہ کے انسانیت سوز مظالم

پہلی جنگ عظیم کے دوران وزیر ہند مسٹر مانٹیگو نے 20 ؍اگست 1917 ء کو ایک تاریخی اعلان کیا کہ برطانوی پالیسی کی ترجیح بتدریج ایسی خودمختار حکومت قائم کرنا ہے جو مکمل طور پر ہندوستان کے نمائندوں کے سامنے جواب دہ ہو گی۔ یہ یقین بھی دلایا کہ ذمے دار حکومت کی پہلی قسط کے طور پر ایک نیا آئین جنگ کے اختتام کے فوراً بعد نافذ کیا جائے گا اور اس مقصد کے لیے وزیر ہند عنقریب ہندوستان

Read more

متفقہ دستور کی گولڈن جوبلی مبارک

”میں نے آئین بنتے دیکھا“ کا سلسلہ اس خیال سے شروع کیا تھا کہ اپنی نئی نسل کو یہ احساس دلا سکوں کہ ایک زمانے میں برصغیر کے طول و عرض میں آداب جہانبانی کے آشنا مسلمانوں کی ایک عظیم الشان سلطنت قائم تھی جس کے ساتھ تجارت کرنے کے لیے یورپی طاقتوں کے اندر ایک دوڑ لگی ہوئی تھی، جو معاشی، صنعتی اور تہذیبی اعتبار سے بڑی ترقی یافتہ تھی۔ اسے اٹھارہویں صدی کے اوائل میں زوال آنے لگا

Read more

پہلی آئینی اصلاحات کے بعد اہم واقعات

خوش قسمتی سے پاکستان کے معروف قانون دان جناب حامد خاں نے آئین سازی اور سیاسی تبدیلیوں کی مختلف منزلوں کا احاطہ اپنی شہرہ آفاق تصنیف Constitutional & Political History of Pakistan میں کمال عمدگی سے کیا ہے، مگر اردو دان طبقے ان سے کم ہی استفادہ کر پاتے ہیں، لہٰذا ہم ان کی اور دیگر مصنفین کی بلند پایہ تحقیق سے اپنے قارئین کو عام فہم زبان میں زیادہ سے زیادہ فیض یاب کرنے کی کوشش کریں گے۔ 1909

Read more

سنہ 1909ء کی آئینی اصلاحات

سرسید احمد خاں بڑی استقامت اور مثبت دلائل سے ”جداگانہ طرز انتخاب“ کا مطالبہ دہراتے رہے۔ واقعات ثابت کر رہے تھے کہ مخلوط انتخابات میں مسلمانوں کا قومی وجود یکسر ختم ہو جائے گا۔ ان کا انتقال 1898 ء میں ہوا، لیکن ان سے متاثر مسلم زعما اسلامیان ہند کے اس مطالبے کے حق میں سیاسی فضا ہموار کرتے رہے۔ سید امیر علی ( 1928 ء۔ 1849 ء) جو دو معرکۃ الآرا کتابوں کے مصنف تھے اور ہائی کورٹ کے

Read more

سرسید احمد خاں کی دوررس آئینی جدوجہد

کانگریس برطانوی حکومت سے پرزور مطالبہ کر رہی تھی کہ برطانیہ کے جمہوری نظام اور مرکز میں اعلیٰ سرکاری ملازمتوں کے لیے مقابلے کے امتحانات کا فریم ورک نافذ کر دیا جائے۔ یہ دونوں صورتیں ہندو راج قائم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی تھیں۔ مسلم قیادت کو برطانوی راج کے آغاز ہی میں یہ احساس ہو گیا تھا کہ مغربی جمہوریت ہندوستان میں مسلمانوں کے لیے سم قاتل کی حیثیت رکھتی ہے جہاں ہندوؤں کی بھاری اکثریت ہے۔

Read more

برصغیر کے مسلمانوں پر قیامت کے ماہ و سال

محی الدین اورنگزیب عالمگیر کی 1707 ء میں وفات کے بعد مغلیہ سلطنت کا شیرازہ بکھرتا گیا۔ اودھ، روہیل کھنڈ، دکن اور میسور میں نیم خودمختار ریاستیں قائم ہو گئیں۔ انہیں ایک دوسرے سے لڑانے کا سلسلہ غیرملکی تجارتی کمپنیوں نے بڑی عیاری سے تیز کر دیا۔ انگریزوں کی بڑھتی ہوئی طاقت کے آگے ریاست میسور کے حکمران، حیدر علی اور ٹیپو سلطان بند باندھنے کی زبردست کوششیں کرتے رہے جنہیں درپردہ فرانس کی حمایت حاصل تھی۔ فرانس سے خطرہ

Read more

حکمرانی سے محکومی کی طرف سفر

تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ مسلمانوں کی آمد سے پہلے ہندوستان جغرافیائی، سماجی اور سیاسی اعتبار سے بری طرح تقسیم اور نہایت پس ماندہ تھا۔ اُس کی ہزاروں سالہ تاریخ میں صرف چندر گپت موریا اور اَشوک دو اَیسے حکمران گزرے ہیں جن کے زیرِانتظام پورا ہندوستان رہا، مگر یہ عہد فقط نوے برسوں پر محیط تھا۔ باہر سے آریہ آئے جنہوں نے قدیم ہندوستانی باشندوں کو جانوروں کی طرح جنوب کی طرف دھکیل دیا اور پورے معاشرے کو ذات

Read more

متفقہ دستور کی حکایتِ بےکراں

بھٹو صاحب نے اقتدار سنبھالتے ہی دستورسازی کا عمل اور ساتھ ہی ساتھ اپنی عوامی طاقت کی ہیبت بٹھانا شروع کر دی تھی۔ اُنہوں نے قومی اسمبلی سے مارشل لا میں توسیع کی منظوری لے لی اور اُس کے بل بوتے پر قومی اسمبلی سے ایک عارضی دستور کی منظوری حاصل کر لی جو جمہوری تھا نہ پارلیمانی اور نہ وفاقی۔ حکومت اور اَپوزیشن کے درمیان ایک سمجھوتے کے نتیجے میں نئے آئین کے بنیادی اصول طے کرنے کے لیے

Read more

دستور سازی پر اثرانداز ہونے والا خوں آشام واقعہ

1956 ء کے دستور میں صوبائی خودمختاری کا دائرہ اس قدر وسیع تھا کہ ریلوے کا نظام بھی صوبوں کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ صدر اسکندر مرزا، جس نے دستور کے تحفظ کا حلف اٹھایا تھا، وہ پارلیمانی نظام کے سخت خلاف تھا۔ اس نے ڈھائی سال میں چار وزرائے اعظم تبدیل کیے اور اکتوبر 1958 ء میں کمانڈر ان چیف کی ملی بھگت سے ملک میں مارشل لا نافذ کر دیا۔ چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر جنرل ایوب خاں

Read more

آخر بھید پا لیا

میں اپنے ایک نظریاتی دوست انور بیگ کی دعوت پر پہلی بار امریکہ گیا تھا۔ وہ ان دنوں امریکہ میں ’پاکستان اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن‘ کے صدر تھے۔ میں بھٹو صاحب کی دو سالہ قید سے رہا ہوا، تو انہوں نے نیویارک سے بہت لمبا فون کیا۔ آمریت کے خلاف بھرپور مزاحمت پر خراج تحسین پیش کیا اور امریکہ آنے کی دعوت دی کہ یہاں آپ کے قدردان بڑی تعداد میں ہیں۔ اس وقت جنرل ضیاء الحق کا مارشل لا نافذ

Read more

میری زندگی میں دستوری تصورات کا گہرا عمل دخل

1956 ء کے آئین کے خالق وزیراعظم چودھری محمد علی چند ماہ بعد ہی مستعفی ہو گئے۔ مسلم لیگ نے ان سے پارلیمانی حمایت واپس لے لی تھی جس کے صدر عبدالرب نشتر تھے۔ یہ پہلا موقع تھا جب سیاسی اور حکومتی عہدے الگ الگ کیے گئے تھے اور اس کا کریڈٹ بھی چودھری محمد علی ہی کو جاتا تھا۔ اس علیحدگی کا فوری نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ جناب عبدالرب نشتر اپنی ہی جماعت کے وزیراعظم کو ہدف تنقید

Read more

نعرۂ تکبیر کی گونج میں پہلے دستور کی منظوری

دستور ساز اسمبلی نے ستمبر 1954 ء کے اجلاس میں بنیادی اصولوں کی کمیٹی کی رپورٹ منظور کر لی اور وزیراعظم بوگرہ نے توقع ظاہر کی کہ دستور 25 دسمبر کو نافذ ہو جائے گا جو قائداعظم کا یوم پیدائش ہے۔ اس کے ساتھ غیرمعمولی عجلت میں 1935 ء کے ایکٹ میں ترمیم کر کے اعلیٰ عدالتوں کو رٹ جاری کرنے کے اختیارات تفویض کر دیے گئے۔ اس ایکٹ میں یہ ترمیم بھی کی گئی کہ گورنر جنرل کابینہ کے

Read more

’مہاجر کیمپ‘ میں دستوری مسائل سے آگہی

بڑے بھائی کے نام باقاعدگی سے ماہنامہ ’ترجمان القرآن‘ آ رہا تھا جس کا ایک اچھا ذخیرہ گھر کے اندر موجود تھا جو اب مہاجر کیمپ میں تبدیل ہو چکا تھا۔ اس ماہنامے میں ان دنوں مولانا مودودی سورۂ یوسف کی ایک انتہائی اچھوتے انداز میں قسط وار تفسیر لکھ رہے اور بڑے اہم آئینی اور سیاسی نکات اٹھا رہے تھے۔ ان میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کے ہمہ گیر تصور، اسلامی نظام میں اقتدار کی حدود و قیود، شہریوں

Read more

میں نے آئین بنتے دیکھا

وہ شخص جس نے صحافت کا پیشہ بڑی تاخیر سے یعنی نومبر 1960 ء میں اختیار کیا ہو، جو کسی سیاسی جماعت سے عملی طور پر وابستہ نہ رہا ہو، اور کسی یونیورسٹی سے قانون کا ڈگری ہولڈر بھی نہ ہو، اس کا یہ لکھنا کہ ”میں نے آئین بنتے دیکھا“ بظاہر عجیب سا لگتا ہے۔ پھر یہ کہ قیام پاکستان کے وقت میں بمشکل سولہ سترہ سال کا تھا۔ اس عمر میں عام طور پر سیاست اور آئین کے

Read more

ڈسکہ سے اقوامِ متحدہ تک

گزشتہ سال پاکستان کے لیے مجموعی طور پر سوہان روح ثابت ہوا۔ اس میں سیاسی، معاشی، تہذیبی اور اخلاقی زوال میں خطرناک حدوں کو چھونے لگا تھا جس نے ریاست کے استحکام پر بھی شدید منفی اثرات مرتب کیے۔ آرمی چیف جنرل (ر) باجوہ کو یہ اعلان کرنا پڑا کہ عسکری قیادت نے مکمل طور پر غیر جانب دار رہنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور اس فیصلے میں وہ اعلیٰ افسر بھی شامل ہیں جو آئندہ پندرہ بیس برس تک

Read more

مرشد باکمال تھا، کیا تھا!

سید ابوالاعلیٰ مودودی کی زندگی کا سب سے اعلیٰ نصب العین انسانوں کے اندر قرآن حکیم کا فہم بیدار کرنا اور اسلام کو ایک تحریک کی حیثیت سے پیش کرنا تھا۔ ان سے اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب کی تشریح و تفسیر تیس برسوں میں تکمیل پذیر ہوئی جو اہل ایمان کے لیے بہت خوشی کا مقام تھا، چنانچہ اہل نظر کی طرف سے اصرار کیا جانے لگا کہ ”تکمیل تفہیم القرآن“ کی تقریب منعقد کی جائے۔ مولانا ایسی تقریبات

Read more

اللّٰہ تعالیٰ کے بےحساب انعامات

سارے جہانوں کے خالق اور مالک نے اپنے بندے سید ابوالاعلیٰ مودودی کو نیک فطرت، ذہن رسا، قلم کی بے مثال طاقت، استدلال کی لاجواب قوت، اپنی آخری کتاب اور اپنے دین حق کی قابل رشک تفہیم اور کلمۃ الحق بلند کرنے اور اس کی خاطر سر دھڑ کی بازی لگانے کا عزم اور صلاحیتیں عطا کیں۔ وہ اورنگزیب عالمگیر کے آباد کیے ہوئے شہر اورنگ آباد میں 1903 ء میں پیدا ہوئے۔ اپنے والد سے زیر دستوں کے ساتھ

Read more

مسلم عالمی تنظیموں میں مولانا کا کردار

گزشتہ کالم کے آخری حصے میں مسلمانوں کی عالمی تنظیموں موتمر عالم اسلامی، رابطۂ عالم اسلامی اور او۔ آئی۔ سی کا ذکر آیا تھا۔ موتمر عالم اسلامی کی ابتدا 1926 ء میں اس طرح ہوئی کہ مکہ مکرمہ کے فرمانروا شاہ عبدالعزیز، جنہوں نے آگے چل کر 1931 ء میں مملکت سعودی عرب کی بنیاد رکھی، انہوں نے 1926 ء میں مسلمانوں کو درپیش مسائل پر غور و خوض کے لیے مکہ مکرمہ میں پورے عالم اسلام سے دو درجن

Read more

یادوں کا نگر

جناب حسن البنا نے قائداعظم کے خط کے جواب میں جو عہد آفریں تحریر ارسال کی، اس کا خلاصہ یہ تھا کہ ”ہمارے بھائی مصطفیٰ مومن کے ذریعے آپ کا پرخلوص پیغام موصول ہوا جس کے لیے میں آپ کا انتہائی شکرگزار ہوں۔ جہاں تک ایشیائی کانفرنس کا تعلق ہے، تو اس بارے میں یہ عرض کر سکتا ہوں کہ ہم اس کانفرنس کے مقاصد اور اہداف کے بارے میں بے خبر نہیں۔ ہم نے اس موقع کو بعض وجوہ

Read more

تاریخ کے سنہری اوراق

میں نے گزشتہ کالم میں ذکر کیا تھا کہ لندن سے آتے ہوئے قائداعظم قاہرہ میں ٹھہرے اور مفتیٔ فلسطین محمد امین الحسینی سے ملے تھے۔ قارئین کی طرف سے پیغام آئے کہ قیام قاہرہ کی مزید تفصیلات فراہم کی جائیں۔ کتب و رسائل کھنگالنے سے مجھے عالمی ترجمان القرآن کے مدیر سلیم منصور خالد کا نہایت عمدہ مضمون مل گیا۔ اس کے مطابق 16 دسمبر 1946 ء کو قائداعظم قاہرہ پہنچے اور وہاں چار دن قیام کیا۔ مصر پورے

Read more

اسلامی تحریکوں سے مضبوط رابطے

برصغیر میں مسلمان بڑی تعداد میں ہیں۔ اس عظیم حقیقت کے اہم پہلو حکیم الامت محمد اقبال نے خطبہ الہ آباد میں بیان کیے تھے اور امت مسلمہ کا ایک وسیع تصور پیش کیا تھا۔ پاکستان کی سرحد ایران سے ملتی تھی اور اس نے پاکستان کو سب سے پہلے تسلیم کیا تھا۔ سعودی عرب سے ہندوستان کے نوابوں کے دیرینہ مراسم چلے آ رہے تھے کہ اس سرزمین پر حرمین شریفین واقع ہیں۔ قیام پاکستان کے چند برس بعد جب گورنر جنرل ملک غلام محمد سعودی عرب کے دورے پر گئے، تو وہاں کے حکمرانوں نے پاکستان ہاؤس کے لیے مسجد نبوی کے قریب جگہ دی۔

مولانا ظفر احمد انصاری جو آل انڈیا مسلم لیگ میں جائنٹ سیکرٹری تھے، ان کے مفتیٔ اعظم فلسطین جناب امین الحسینی سے اچھے روابط قائم تھے۔ اسی کی بنا پر جب قائداعظم لندن کے سفر کے درمیان قاہرہ رکے اور مفتیٔ اعظم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو انہوں نے ان کا زبردست خیرمقدم کیا اور قائداعظم نے انہیں پاکستان کی جدوجہد کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔

Read more

ہولناک تناؤ میں کمال فراخ دلی کا مظاہرہ

ایوب خاں تو مارچ 1969 ء میں اقتدار سے دستبردار ہو گئے، مگر اپنی کم نگاہی اور اقتدار کی لامحدود ہوس کے ہاتھوں قوم کو دوگنا عذاب میں جھونک گئے۔ ان کی خواہش یہ رہی کہ ملک میں کوئی طاقت ور قومی جماعت نہ ہو اور کسی قدآور سیاسی شخصیت کو عوام کے اندر مقبول نہ ہونے دیا جائے۔ شکست و ریخت میں علاقائی جماعتیں عوام کے اندر اپنا اثر و رسوخ پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔ مغربی پاکستان

Read more

سیاسی دشمنی سے نمٹنے کی اعلیٰ تدابیر

ہماری زیادہ تر سیاسی زندگی محاذ آرائی سے عبارت رہی، تاہم بالغ نظر اور معاملہ فہم راہنما بگڑے ہوئے حالات میں بات چیت اور مفاہمت کے دریچے کھولتے رہے ہیں۔ ان میں سید ابوالاعلیٰ مودودی کا مقام اس لیے ممتاز دکھائی دیتا ہے کہ انہوں نے سیاسی اختلاف کے نہایت عمدہ آداب اختیار کیے، اپنے بدترین مخالفوں سے بھی ایک آبرو مندانہ طرز عمل اپنایا اور وسیع تر ملکی مفاد کی خاطر ان سے تعاون کرنے میں کوئی جھجک محسوس

Read more

سیاسی مذاکرات کا یادگار سفر

قیام پاکستان کے بعد حالات کچھ ایسا رخ اختیار کرتے جا رہے تھے جس میں مختلف الخیال شخصیتوں اور تنظیموں کے مابین مفاہمت کو فروغ دینا ضروری ہو گیا تھا۔ یہ کام سید ابوالاعلیٰ مودودی نہایت موثر انداز میں سرانجام دے سکتے تھے، کیونکہ وہ اردو دان، انگریزی دان اور عربی دان طبقوں تک اپنی بات پہنچانے کی صلاحیت کا ایک مدت سے مظاہرہ کرتے آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں جو استدلال کی قوت عطا کی تھی اور اذہان

Read more

مشاورت اور اجتماعی تعاون کی شاندار روایات

جماعت اسلامی کو سیاست میں حصہ لینے سے قابل ذکر انتخابی کامیابیاں تو حاصل نہیں ہوئیں، لیکن اس کے سیاسی وزن میں    معتد بہ اضافہ ہوا اور اس کی اعتدال پسندی اور قانون کے ساتھ وابستگی نے مکالمے اور مفاہمت کی ثقافت کو فروغ دیا۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی نے جماعت اسلامی کی غرض و غایت کے بارے میں فرمایا ”خدا کی قسم ہے، اور میں قسم بہت کم کھاتا ہوں کہ جماعت نے جو مسلک اختیار کیا ہے، وہ کسی

Read more

اچھی قیادت کے دمکتے ہوئے اوصاف

سید ابوالاعلیٰ مودودی دارالاسلام پٹھان کوٹ سے 30 ؍اگست 1947 ء کو لاہور پہنچے اور 32 برس کے لگ بھگ 5 ذیلدار پارک اچھرہ میں قیام پذیر رہے۔ پاکستان آنے سے پہلے وہ ایک بے بدل مفکر، مفسر قرآن اور ادیب کی حیثیت سے پورے ہندوستان میں اپنا سکہ جما چکے تھے۔ انہوں نے اسلامی انقلاب بپا کرنے کے لیے جماعت اسلامی بھی قائم کر لی تھی۔ انہوں نے اپنی زندگی کا اچھا خاصا حصہ دہلی میں گزارا تھا اور

Read more

حقیقت کشا تحریری شہادت

سید ابوالاعلیٰ مودودی کی پکار پر لاہور میں پورے ہندوستان سے 56 ؍افراد جمع ہوئے جنہوں نے 1941 ء میں جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی۔ آگے چل کر معاشرے کی آلائشوں سے محفوظ رہنے کے لیے پٹھان کوٹ کے ایک دور دراز علاقے میں ایک بستی آباد کی گئی جس کا نام دارالاسلام رکھا گیا۔ یہاں مولانا سے پہلے ”شاہراۂ مکہ“ کے مصنف علامہ محمد اسد اپنی عرب نژاد بیگم منیرہ بنت حسین اور نوعمر بیٹے بلال کے ہمراہ تشریف

Read more

بدگمانیوں سے علیحدگی

عربی کے ریسرچ اسکالر جناب نعمان بدر فلاحی نے علی گڑھ میں پروفیسر سیّد محمد سلیم کے زمانۂ طالبِ علمی کا تفصیل سے ذکر کیا جنہوں نے اپنے تاثرات قلم بند کیے ہیں۔ مَیں نے ایم اے عربی میں داخلہ لیا۔ اُسی سال قمر الدین خاں نے بھی وہاں داخلہ لیا۔ دو سال تک ہم ساتھ رہے، مگر وہ بعض وجوہ کی بنا پر چھوڑ کر ڈی اے وی کالج لاہور چلے گئے۔ وہاں داخلہ لیا، لیکن تکمیل نہ کر

Read more

مسلم علی گڑھ یونیورسٹی میں عظیم انقلاب

گزشتہ دو کالموں میں راقم نے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی تصنیف ”مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش“ کی دوسری جلد سے وہ مضامین اخذ کیے تھے جن میں گاندھی جی اور پنڈت جواہر لال نہرو کے اسلام دشمن خیالات پر کڑی گرفت کی گئی تھی۔ اسی دوران راقم کی نظر ترجمان القرآن کے تازہ شمارے پر پڑی جس میں علی گڑھ یونیورسٹی سے عربی کے ریسرچ اسکالر جناب نعمان بدر فلاحی کا طویل مضمون ”علی گڑھ تحریک اور سید ابوالاعلیٰ

Read more

مہاتما گاندھی کے بدیسی نظریات

پنڈت جواہر لال نہرو جن دنوں مسلمانوں سے عوامی رابطے کی مہم کے نام پہ شدھی تحریک چلا رہے تھے، مونا سید ابوالاعلیٰ مودودی اپنے ماہنامے ’ترجمان القرآن‘ میں ان پر سخت گرفت کر رہے تھے جس کے باعث مسلمانوں میں رابطے کی تحریک ایک حد سے آگے نہ بڑھ سکی۔ اسی زمانے میں مہاتما گاندھی خالص ہندو تصورات کے مبلغ بن کے آئے تھے۔ ان کا سارا زور عدم تشدد یعنی اہمسا پر تھا اور انہوں نے مزاحمت کا ایک نیا طریقہ رائج کیا تھا کہ وہ احتجاج کے طور پر مرن برت رکھتے، پورے ملک میں ایک سنسنی پھیل جاتی اور پھر فیس سیونگ کی کوئی سبیل نکل آتی۔

Read more

پنڈت نہرو کے ہمالیہ جیسے مغالطے

سید ابوالاعلیٰ مودودی نے پنڈت نہرو کے فرقہ وارانہ مسئلے کو بین الاقوامی مسئلہ قرار دیا اور ان کی کوتاہ نظری پر کڑی تنقید کی۔ پنڈت نہرو نے اپنی کتاب میں یہ بھی لکھا تھا کہ انگریز اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے ہندوؤں اور مسلمانوں کو لڑاتے اور مذہب کارڈ کھیلتے رہے، چنانچہ وہ مذہب پر ان الفاظ میں غصہ اتارتے ہیں کہ جس چیز کو مذہب یا منظم مذہب کہتے ہیں، اسے ہندوستان میں اور دوسری جگہ

Read more

متحدہ قومیت کے خلاف مضبوط مورچہ

سرسید احمد خاں کی وفات کے بعد سید امیر علی ان کے مشن کو آگے لے کر چلے۔ وہ ہائی کورٹ میں محرر تھے اور اس منصب سے ریٹائرمنٹ کے بعد سیاست میں فعال ہو گئے۔ وہ ایک ماہر مؤرخ بھی تھے اور چوٹی کے دانش ور بھی۔ ان کی تصنیف Spirit of Islam (روح اسلام) اہم حلقوں میں بڑے اشتیاق سے پڑھی جاتی تھی جو فکر تازہ کو پروان چڑھاتی تھی۔ انہوں نے سنٹرل نیشنل محمڈن ایسوسی ایشن کی

Read more

سرسیّد احمد خاں کے قومی احسانات

سیّد حسن ریاض کی نظر میں ”مسلمانوں میں اُس وقت صرف ایک سرسیّد احمد خاں تھے جو ہندوؤں اور اَنگریزوں کی چالوں کو سمجھ رہے تھے جبکہ پوری قوم انگریزی زبان سے بےبہرہ تھی۔ مسلمان انگریز اور ہندوؤں سے متنفر، عظمتِ رفتہ کے لیے سوگوار، نان شبینہ کے لیے محتاج، قرضوں میں دبے ہوئے تھے۔ سرسیّد احمد خاں میونسپل اور ڈسٹرکٹ کونسلوں میں مخلوط انتخابات کے نتائج دیکھ چکے تھے جن میں مسلم عمائدین عموماً ناکام ہوئے تھے۔ جب کانگریس

Read more

انگریزوں کی گود میں انڈین کانگریس کی پیدائش

وی پی مینن جو قائداعظم کو نئی نسل کا ہیرو قرار دے رہے تھے، دراصل اس کے پیچھے منفی رجحانات کارفرما تھے۔ ایک طرف کانگریس کے نفس ناطقہ اور دوسری طرف وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے سب سے زیادہ قابل اعتماد آئینی مشیر تھے۔ ان کی آزادی سے مراد یہ تھی کہ پورے ہندوستان کو ہندوؤں کے حوالے کر دیا جائے اور مسلمانوں کے ہاتھ پیر باندھ کر ان کی غلامی میں دے دیے جائیں۔ سرسید احمد خاں نے کانگریس

Read more

برصغیر کے مسلمانوں کی عزیمت کو تاریخ کا سلام

’منشور‘ کے ایڈیٹر جناب سید حسن ریاض نے درست لکھا ہے کہ پاکستان کا قیام روکنے میں ناکام ہو جانے کے بعد ہمارا دشمن چین سے نہیں بیٹھا، بلکہ اس نے بدگمانیوں کا ایک طوفان اٹھا دیا جس کے منفی اثرات آج بھی محسوس ہوتے ہیں۔ تاریخ میں بارہا ایسا ہوا ہے کہ بدگمانیوں نے فتوحات کو شکستوں میں تبدیل کر دیا۔ جناب سید حسن ریاض نے ناقابل تردید دلائل اور شواہد سے یہ ثابت کیا ہے کہ اس پروپیگنڈے

Read more

ڈائمنڈ جوبلی پر ایک انقلاب آفریں پروگرام

دو روز بعد ہم اپنی آزادی کی ڈائمنڈ جوبلی منا رہے اور خدائے رحمٰن و رحیم کا ہر لحظہ شکر بجا لا رہے ہوں گے کہ اُس نے برِصغیر کے مسلمانوں کو آزادی کی بیش بہا دولت سے نوازا اَور یہ نعمت بفضلہ پچھتر برسوں سے ہمیں اپنی تمام تر فیاضیوں کے ساتھ فیض یاب کیے چلی آ رہی ہے۔ غالباً اسلام کا مزاج ہی کچھ ایسا ہے کہ اُسے ہر عہد میں کربلا سے گزرنا پڑا ہے اور ہر

Read more

طلوع پاکستان پر دشمن کی یلغار

پاکستان کی جدوجہد کے بارے میں بڑی قابل قدر کتابیں منظرعام پر آ چکی ہیں، مگر ان میں ”پاکستان ناگزیر تھا“ غیرمعمولی اہمیت کی حامل ہے۔ اس کے مصنف سید حسن ریاض ہیں جن کی ادارت میں مسلم لیگ کا ترجمان ”منشور“ 1938 سے ستمبر 1947 تک شائع ہوتا رہا۔ وہ قائداعظم کے رفقا میں سے تھے اور ’منشور‘ کے مدیر کی حیثیت سے ممتاز مسلم لیگی راہنماؤں کے بڑے قریب رہے۔ مزید براں یو پی مسلم لیگ پارلیمنٹری بورڈ،

Read more

دکن میں خودمختار مسلم ریاست کا قیام

  اورنگ زیب عالمگیر کی بے مثال خوبیوں اور صلاحیتوں کی بدولت ایک وسیع و عریض مسلم سلطنت ہند کا عظیم الشان کارخانہ نصف صدی تک چلتا رہا، مگر اس کی آنکھ بند ہوتے ہی تیموری شہزادوں کے درمیان خانہ جنگیوں کا ایک لا متناہی سلسلہ شروع ہو گیا جو 1857 کی جنگ آزادی پر منتج ہوا۔ مؤرخین مغلیہ سلطنت کے ہولناک زوال کی تصویر کشی کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ عالمگیر نے جو مشین بنائی تھی اور جن کل

Read more

اسلام کی شان و شوکت کا آخری تاجدار

حضرت شاہ ولی اللہؒ محدث دہلوی اورنگزیب عالمگیر کی وفات سے چار سال پہلے پیدا ہوئے جو برصغیر میں اسلام کی قوت اور عظمت کی آخری نشانی تھے۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی نے ان کی عظیم الشان قائدانہ کردار کا اپنی تصنیف ”دکن کی سیاسی تاریخ“ میں بڑے ایمان افروز پیرائے میں بیان کیا ہے کہ سترہویں صدی عیسوی کا زمانہ ہندوستان میں ایک ایسا زمانہ تھا جس میں اس ملک کے باشندے نصف النہار پر پہنچ کر زوال کی طرف

Read more

انسانی تہذیب کی نشوونما میں مسلمانوں کا حصہ

حضرت شاہ ولی اللہؒ محدث دہلوی اسلام کو ایک عالمی تحریک کے طور پر پیش کر رہے تھے۔ اس لیے یورپ کی متعدد غیر مسلم قوتیں برصغیر میں اپنا اثر و رسوخ پیدا کرنے کے لیے مستعد ہو گئی تھیں۔ اس میں پہل پرتگیزیوں نے کی کہ وہ سازشوں اور ریشہ دوانیوں کے ذریعے عرب حکمرانوں کو ہسپانیہ سے نکالنے میں کامیاب ہو گئے تھے جہاں انہوں نے سات سو سال حکومت کی تھی۔ شاہ پرتگال نے ایک تجارتی کمپنی

Read more

ملی بقا کا انقلاب آفریں دستور العمل

حضرت شاہ ولی اللہؒ کی فکری فراست کی بدولت مرہٹوں کا زور ٹوٹ گیا تھا۔ وہ اپنے عہد کے بہت بڑے منصوبہ ساز (strategist) تھے۔ انہوں نے احمد شاہ ابدالی سے بروقت امداد طلب کر کے شمالی ہندوستان کے مسلمانوں کو مکمل تباہی سے بچا لیا تھا اور اسی دوران مسلمانوں کی زبوں حالی کے حقیقی اسباب و علل بھی دریافت کر لیے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں سوچنے سمجھنے اور موثر حکمت عملی اختیار کرنے کی بے پناہ صلاحیتیں

Read more

برصغیر کے مسلمانوں کے مٹ جانے کا مہیب خطرہ

حضرت مجدد الف ثانیؒ کی اصلاحی کاوشوں سے اسلام اس کڑے وقت سے باہر نکل آیا تھا جو سولہویں صدی کے آخری عشروں میں اس پر آن پڑا تھا، لیکن مغلیہ حکمرانوں پر زوال آنے سے ملت اسلامیہ مقام فنا سے دوچار ہونے لگی تھی۔ پاکستان کے مایہ ناز مؤرخ ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی نے اپنی تصنیف ”برعظیم پاک و ہند کی ملت اسلامیہ“ میں ان حالات کا قدرے تفصیل سے احاطہ کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ اٹھارہویں صدی

Read more

اسلام کے تحفظ کا عظیم الشان کارنامہ

دربار اکبری میں جب اسلام کی ناقدری کے خطرات منڈلانے لگے، تو اللہ تعالیٰ نے عروس البلاد سرہند میں شیخ احمدؒ کو مبعوث فرمایا۔ انہوں نے اپنے وقت کے علما اور فقہا کے دامن تربیت میں تفسیر، حدیث، فقہ اور عربی پر دسترس حاصل کی۔ خصوصیت کے ساتھ انہیں سب سے زیادہ فیض حضرت باقی باللہؒ سے پہنچا جو اپنے وقت کے ایک صالح بزرگ تھے۔ خود شیخ ؒکی ذاتی صلاحیتوں کا حال یہ تھا کہ جب حضرت موصوف کے

Read more

شدت احساس کی ٹیسیں

جناب الطاف حسین حالیؔ نے تقریباً 65 ؍اشعار پر مبنی اپنی گزارشات ’عرض حال‘ کے عنوان سے پیش کیں جن کے شعر تاثیر میں ڈوبے ہوئے اور سسکیوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ چند حاضر خدمت ہیں۔ ؎ اے خاصۂ خاصان رسل وقت دعا ہے امت پہ تری آ کے عجب وقت پڑا ہے جو دین بڑی شان سے نکلا تھا وطن سے پردیس میں وہ آج غریب الغربا ہے جس دین کے مدعو تھے کبھی سیرز و کسریٰ خود آج

Read more

دلِ مضطر کی صدا

بیسویں صدی کے آغاز میں سید ابوالاعلیٰ مودودی غیرمعمولی تاریخی اہمیت کے شہر اورنگ آباد میں پیدا ہوئے۔ اس عہد میں تقریباً ہر پڑھے لکھے مسلم گھرانے میں ’مسدس حالیؔ‘ بڑے ذوق شوق سے پڑھی جاتی جو چار سو سے زائد بند پر مشتمل ہے۔ اس میں بارہ صدیوں پر محیط اسلامی تاریخ کے مدوجزر نظیر اکبر آبادی کے ہلکے پھلکے انداز میں بیان کیے گئے ہیں۔ شعر اس قدر سہل، رواں دواں اور روزمرہ میں ڈھلے ہوئے کہ خود

Read more

لالے کی حنا بندی

1857 کی جنگ آزادی میں انگریزوں نے مسلمانوں سے اقتدار چھین لینے کے بعد ان کے اذہان و قلوب کو بھی مسخر کرنے کی سرگرمیاں شروع کر دی تھیں۔ عیسائی مشنریوں نے برصغیر پر دھاوا بول دیا تھا جو اسکولوں اور اسپتالوں کا ایک جال بچھا رہی تھیں۔ مغربی مصنفین من گھڑت واقعات کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی سرتوڑ کوشش کر رہے تھے کہ اسلام تلوار کے زور پر پھیلا ہے اور اس نے انسانی تہذیب اور فکر انسانی

Read more

بلند نصب العین کی بےمثل طاقت

جناب نسیم حجازی کا قد جس قدر طویل تھا، اُسی قدر اُن کے عزائم جلیل تھے۔ اُنہوں نے استقامت اور خودداری کا سبق مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کے عظیم کردار اَور حُسنِ بیاں کا ہنر اُن کی تحریروں سے سیکھا۔ اُن سے قلبی تعلق کا یہ عالم تھا کہ وہ جب ایبٹ آباد سے لاہور آنے کا پروگرام بناتے، تو اپنے نوجوان عزیز، جاوید نواز کو پیغام بھیجتے کہ میرے دس پندرہ دوستوں سے ملاقات کا انتظام کیا جائے۔ اُن

Read more

حکایت خود نگراں

حکیم الامت محمد اقبالؔ مختلف تصورات اور نظریات سے گزر کر اس حقیقت کے رازدان بن چکے تھے کہ اسلام ایک عالمگیر قوت ہے جس کا احیا ازبس ضروری ہے۔ انہوں نے ’نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر‘ کی زمزمہ سنجی سے امت مسلمہ کا تصور بہت وسیع اور گہرا کیا۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی انہی کے نظر افروز فلسفے اور حضرت محمد ﷺ سے وفا کے سرمدی نغمے جو زیادہ تر انگریزی اور شاعرانہ زبان میں تھے، انہیں

Read more

حدیث ہم سفراں

تاریخ کا یہ عجب حسن اتفاق ہے کہ 1903 میں اورنگ آباد کے سید گھرانے میں ایک بچہ پیدا ہوا جس کا نام ابوالاعلیٰ مودودی رکھا گیا۔ اس نے آگے چل کر خیالات و افکار کی دنیا میں حیرت انگیز انقلاب پیدا کیا۔ اس ولادت سے تین سال قبل یورپ کے ملک آسٹریا میں ایک یہودی عالم اور بیرسٹر کے ہاں ایک بچے لیوپولڈ وائس (Leopold Weiss) نے جنم لیا۔ جوانی میں اس نے قرآن حکیم کے شعوری مطالعے سے

Read more

بیداری بھی، سرشاری بھی

پاکستان پر اس وقت بڑی افتاد آن پڑی تھی جب اکتوبر 1958 میں ایوبی مارشل لا نافذ ہوا اور 1956 کا دستور منسوخ کر دیا گیا جو دونوں بازوؤں کی سیاسی قیادتوں نے ایک عمرانی معاہدے کے طور پر منظور کیا تھا۔ صدر ایوب خاں نے جسٹس شہاب الدین کی سربراہی میں ایک آئینی کمیشن قائم کیا جس کی طرف سے آئین سازی کے لیے تجاویز طلب کی گئیں۔ چالیس سوالات پر مشتمل اس دستاویز کا جواب دینے کے لیے

Read more

دل و نگاہ کی بیداری

”میں نے مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کا نام پہلی بار تقسیم برصغیر سے پہلے اگست 1941 میں سنا تھا۔ ڈاکٹر علامہ آئی آئی قاضی (مرحوم) جو بعد میں سندھ یونیورسٹی کے پہلے وائس چانسلر بنے، میرے ’روحانی باپ‘ تھے اور انہوں نے ہی سب سے پہلے مجھے مولانا کے نام سے متعارف کرایا تھا۔ مجھے آج بھی وہ منظر اچھی طرح یاد ہے کہ ان کے ہاتھ میں اردو کا ایک پمفلٹ تھا جس کا نام تھا ’مسلمان اور موجودہ سیاسی

Read more

قلم کی حیرت انگیز تاثیر

پاکستان آنے کے بعد مجھے جون 1948 میں سرکاری ملازمت ساڑھے سولہ سال کی عمر میں مل گئی۔ غیرمسلموں کے چلے جانے کے بعد محکمۂ انہار میں سگنیلرز کی بہت کمی پیدا ہو گئی تھی اور میں نے برادر مکرم جناب گل حسن سے ٹیلی گرافی کا ہنر سیکھ لیا تھا۔ میری تعیناتی سپرنٹنڈنٹ انجینئر اپر چناب سرکل کے دفتر میں ہوئی جو گنگا رام بلڈنگ مال روڈ پر واقع تھا۔ ان دنوں سید ابوالاعلیٰ مودودی درس قرآن ٹیمپل روڈ

Read more

مردان کار کا عجوبہ

شاعر مشرق نے بیسویں صدی کے وسط میں مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا ؎ سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا قائداعظم ان تینوں صفات کا حسین مرقع تھے اور جہاد زندگانی میں یہی ان کی شمشیریں تھیں۔ وہ جب اس نتیجے تک پہنچ گئے کہ انڈین کانگرس کی تمام جدوجہد ہندوستان میں ہندو راج قائم کرنے کے لیے ہے، تو انہوں نے مسلمانوں کے لیے

Read more

دام ہم رنگ زمیں سے نجات

میں نے پچھلے کالم میں لکھا تھا کہ سید ابوالاعلیٰ مودودی نے تشکیل پاکستان سے قبل مسلمانان ہند کو متحدہ قومیت کے جال سے محفوظ رکھنے کے لیے دلائل کا ایک حصار کھینچ دیا تھا۔ اس تاریخ ساز عمل کی حیرت انگیز تفصیلات جناب ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی نے اپنی معرکۃ الآرا تصنیف Ulema in politics (علما سیاست میں ) میں بیان کی ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کا شمار ایک بلند پایہ محقق، مورخ، ماہر تعلیم اور تحریک پاکستان کے قابل

Read more

دستور سے وابستہ رہنے کی تحریک

پاکستان کے اولین عہد میں ایسے عظیم الشان کارنامے تاریخ کے صفحات پر ثبت ہوئے جن پر ہماری قوم ہمیشہ فخر کرتی رہے گی۔ ان میں قرارداد مقاصد مرکزی حیثیت رکھتی ہے جو اسلام اور جمہوریت کے جدید تصورات کا نہایت عمدہ امتزاج ہے۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی نے پاکستان بنتے ہی یہ انقلابی نظریہ پیش کیا کہ جس طرح ایک فرد کلمۂ شہادت پڑھ کر مسلمان ہوتا ہے، اسی طرح ایک مسلم ریاست کے لیے بھی اللہ تعالیٰ کی حاکمیت

Read more

ایک مسکراہٹ کی قیمت

وزیراعظم لیاقت علی خاں نوابزادہ ہونے کے باوجود حب الوطنی اور ایثار کیشی کا پیکر تھے۔ وہ کرنال میں بہت بڑی جائیداد چھوڑ کر آئے تھے، مگر انہوں نے کوئی کلیم (claim) داخل نہیں کیا اور یہ پالیسی بیان دیا کہ جب تک ہر حقدار مہاجر کو اس کا کلیم نہیں مل جاتا، میں اپنی زمینوں کے بدلے ریاست پاکستان سے کچھ وصول نہیں کروں گا۔ ان کی درویشی کا راز ان کی شہادت کے بعد کھلا جب ان کی

Read more

نسخہ ہائے سود و زیاں

پاکستان کے ابتدائی سات آٹھ سال اس اعتبار سے نہایت اہم ثابت ہوئے کہ ان میں کارہائے نمایاں بھی سرانجام پائے، اعلیٰ روایات کا چمن بھی کھلا، مگر سیاسی آداب اور جمہوری طور طریق سے انحراف کی مثالیں بھی قائم ہوئیں۔ نوابزادہ لیاقت علی خاں جو قائداعظم کے انتہائی دقیع ساتھیوں میں سے تھے، ان کا تعلق کرنال سے تھا۔ وہ ایک بڑے جاگیردار گھرانے کے چشم و چراغ تھے۔ انہیں تحصیل علم کا بڑا شوق تھا اور انہوں نے

Read more

حکمرانوں کی اداکاریاں

قائد ملت نواب زادہ لیاقت علی خاں کی شہادت کے بعد سول اور ملٹری بیوروکریسی اقتدار پر قابض ہو گئی۔ ملک غلام محمد اور اسکندر مرزا تو طبعاً شاطر اور اقتدار کے بھوکے تھے، البتہ جنرل ایوب خاں بعض خوبیوں کے مالک بھی سمجھے جاتے تھے۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ پاکستان کے حصے میں آنے والی منتشر اور اسلحے سے محروم فوج کی جدید خطوط پر شیرازہ بندی اور امریکہ سے تعلقات استوار کر کے فوجی امداد کا

Read more

دانش وری کے انجکشن

پاکستان جس افراتفری اور خانہ جنگی کے خوں رنگ ماحول میں قائم ہوا، اس میں ہر سطح پر اچھی قیادت کا میسر آنا سخت محال تھا۔ کم و بیش وہی چھوٹا سا ٹولہ برسراقتدار آ گیا جو برطانوی راج میں سیاست دان، بیوروکریٹ، وکلا، اساتذہ، انجینئر، ڈاکٹر اور مسلح افواج کے کمیشنڈ افسر فراہم کرتا تھا۔ لارڈ میکالے نے 1935 میں ایک متعین ہدف دیا تھا کہ ہمیں ہندوستان میں ایک ایسا طبقہ پیدا کرنے کی ہر ممکن کوشش کرنی

Read more

ناقابلِ فراموش واقعات

مسلم لیگ نے 46-1945 کے انتخابات میں 95 فی صد سے زائد مسلم نشستیں جیت لیں، تو جاگیردار، الحاد کی طرف مائل سیکولر عناصر، مغربی تہذیب کے دلدادہ اَور علاقائی قوم پرست اُس میں جوق در جوق شامل ہوتے گئے۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی نے مسلم لیگ کی جن تنظیمی اور اَخلاقی کمزوریوں کی جذبۂ خیرخواہی کے تحت نشان دہی کی تھی، وہ قیامِ پاکستان کے ابتدائی برسوں ہی میں نظامِ حکومت پر منفی اثرات ڈالنے لگی تھیں۔ پہلا بڑا حکومتی

Read more

مفاہمانہ طرزِ عمل کی اعلیٰ مثالیں

جماعت اسلامی کے پہلے قیم جناب قمر الدین خاں اور قائداعظم کے مابین 1941 کے آخر میں ملاقات ہوئی جو قومی زندگی میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ وہ 1915 میں بنارس (یو پی) میں پیدا ہوئے اور مسلم علی گڑھ یونیورسٹی سے ایم اے عربی کی ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں پنجاب یونیورسٹی سے اقتصادیات میں ماسٹرز کیا۔ وہ جماعت اسلامی کے تاسیسی اجلاس میں شریک ہوئے اور دارالسلام (پٹھان کوٹ) میں تقریباً دو سال رہے۔ اس دوران

Read more

فتنہ گروں کے نام

ہم جس پاکستان میں آزادی کی زندگی بسر کر رہے ہیں، اس کے حصول کی ضرورت کا پہلا منظم اظہار دسمبر 1906 میں ہوا تھا۔ اسلامیان ہند کے سیاسی مستقبل پر غور و فکر کے لیے نواب آف ڈھاکہ جناب سلیم اللہ خاں نے پورے ملک سے دو ہزار کے لگ بھگ مندوبین مدعو کیے۔ اس تاریخی اجلاس کا افتتاح کرتے ہوئے نواب وقار الملک نے حالات کا گہرائی سے جائزہ لیتے ہوئے یہ فکر انگیز نکتہ اٹھایا کہ ہمیں

Read more

عمرانی معاہدہ تارتار

مارشل لا کے نفاذ کے ایک روز بعد چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر جنرل ایوب خاں نے قوم سے خطاب کیا۔ میں ان دنوں ایم اے پولیٹیکل سائنس کا طالب علم تھا اور مجھے فائنل ائر میں ’جماعت اسلامی کے انتخابی منشور‘ پر مقالہ لکھنا تھا۔ میری رہائش رحمٰن پورہ میں تھی اور میں نے مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کا خطاب اہل محلہ کے ساتھ سنا تھا۔ انہوں نے تفصیل سے بتایا کہ سیاست دانوں نے اپنی بداعمالیوں سے پاکستان کو تباہی

Read more

سیاسی بصیرت کا اعجاز

دوسری دستور ساز اسمبلی میں یوں تو مسلم لیگ ہی سب سے بڑی پارٹی تھی، مگر کچھ ہی عرصے بعد صدر اسکندر مرزا نے گورنمنٹ ہاؤس میں ریپبلکن پارٹی کی داغ بیل ڈال دی تھی۔ مشرقی پاکستان سے جناب حسین شہید سہروردی کی عوامی لیگ، شیر بنگال اے کے فضل الحق کا یونائیٹڈ فرنٹ اور مولانا عبدالحمید بھاشانی کی نیشنل عوامی پارٹی منتخب ہو کر آئی تھیں۔ اسمبلی کے کل ارکان کی تعداد 80 تھی جو مختلف سیاسی جماعتوں میں بٹے

Read more

آئین شکنی کی عبرت ناک سزا

pina.lhr@hotmail.com پاکستان کے ابتدائی سال دو اِعتبار سے یاد رَکھے جاتے ہیں۔ ایک طرف وہ قوم کی غیرمعمولی کامیابیوں کی ایک شاندار دَاستان کے امین ہیں اور دُوسری طرف اُن کے دامن میں ایسے واقعات سمٹے ہوئے ہیں جو آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور جمہوریت کی ارتقا میں سدِراہ بنے رہے۔ کامیابیاں ایسی جن کی جدید تاریخ میں کوئی نظیر نہیں ملتی اور تباہ کاریاں بھی ایسی کہ سر شرم کے مارے اوپر اُٹھتا ہی نہیں۔ ایک دنیا

Read more

رب العزت کی عجب کرم فرمائی

دستور ساز اسمبلی توڑ دینے پر سیاسی اور صحافتی ردعمل بڑا مایوس کن تھا۔ بیشتر سیاسی لیڈر تو منقار زیرلب ہی رہے۔ حسین شہید سہروردی جو ملک سے باہر قیام پذیر تھے، ان کا جناب زیڈ اے سلہری یہ بیان پہلے ہی لے آئے تھے کہ دستور ساز اسمبلی عوام کا اعتماد کھو بیٹھی ہے، اسے فوراً تحلیل کر دیا جائے۔ 24 ؍اکتوبر کی رات ایمرجنسی کا اعلان ہوتے ہی مسلح دستے کراچی میں گشت کرنے لگے اور دستور ساز

Read more

ناجائز اختیارات کا بے رحمانہ استعمال

برائے مہربانی یہ کالم جمعہ کو دوپہر کے بعد اپنی ویب سائٹ پر لگائیں۔ شکریہ گورنر جنرل ملک غلام محمد جس کی ملی بھگت سے لاہور شہر مارشل لا کے شکنجے میں آ چکا تھا اور ختم نبوت کے نام پر لاقانونیت کی طرف مائل جتھے گولیوں کی زد میں آ رہے تھے۔ اس صورت حال کے خلاف امیر جماعت اسلامی جناب سید ابوالاعلیٰ مودودی کے انتہائی سخت بیان کے سوا کوئی ہمہ گیر سیاسی ردعمل دیکھنے میں نہیں آیا

Read more

عدلیہ کی فصیل میں گہرا شگاف

ہمارے گزشتہ کالم کا عنوان ’عجیب و غریب کرامات کا عہد‘ تھا۔ فی الواقع چشم فلک نے ایسی کرامات بہت کم دیکھی ہوں گی۔ انگریز جب 1857 میں ہندوستان کے اقتدار پر قابض ہو گئے، تو انہوں نے ہندو آبادی کے تعاون سے مسلمانوں کو ہر اعتبار سے بے حیثیت اور بے وقار کرنے کی سرتوڑ کوشش کی، مگر قدرت کا کمال دیکھیے کہ اقتدار چھن جانے کے صرف بیس بائیس برسوں بعد ہی جناب محمد علی جناح اور جناب

Read more

پاکستانی عدلیہ کی تاریخ

ہمارے گزشتہ کالم کا عنوان ’عجیب و غریب کرامات کا عہد‘ تھا۔ فی الواقع چشمِ فلک نے ایسی کرامات بہت کم دیکھی ہوں گی۔ انگریز جب 1857 میں ہندوستان کے اقتدار پر قابض ہو گئے، تو اُنہوں نے ہندو آبادی کے تعاون سے مسلمانوں کو ہر اعتبار سے بےحیثیت اور بےوقار کرنے کی سرتوڑ کوشش کی، مگر قدرت کا کمال دیکھیے کہ اقتدار چھن جانے کے صرف بیس بائیس برسوں بعد ہی جناب محمد علی جناح اور جناب محمد اقبال

Read more

عجیب و غریب کرامات کا عہد

غیرسیاسی طاقتوں کی تمام تر کوششوں کے علی الرغم سید ابوالاعلیٰ مودودی کی عمرقید کی سزا چھبیس مہینوں ہی میں ختم ہو گئی۔ اس وقت کے بلند قامت وکیل جناب شیخ منظور قادر نے لاہور ہائی کورٹ میں مقدمہ بڑی مہارت سے لڑا جس کی بدولت ان کا جماعت اسلامی سے تعلق ان کی زندگی میں ایک بڑے انقلاب کا باعث بنا۔ میاں طفیل محمد نے اس عظیم الشان انقلاب کی روداد بیان کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ 1954

Read more

جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا

قادیانیوں کے خلاف تحریک میں شدت پیدا ہو جانے سے فروری 1953 میں امن و امان کی صورت حال قابو سے باہر ہو گئی تھی اور سول حکومت نے ایک موثر حکمت عملی اختیار کرنے کے بجائے لاہور فوج کے سپرد کر دیا تھا۔ اس نازک موقع پر مسئلے کا حل پیش کرنے کے لیے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے ”قادیانی مسئلہ“ شائع کیا، مگر مارشل لا کے تحت ان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا اور جماعت اسلامی

Read more

سیاسی حکومت کا پہلا اقدام خودکشی

برصغیر ہند میں تیزی سے بدلتے ہوئے سیاسی حالات کے باعث قائداعظم کو آل انڈیا مسلم لیگ کے کارکنوں کی سیاسی تربیت کا وقت ہی نہیں ملا تھا۔ انہوں نے 1935 میں اس جماعت کے صدر منتخب ہوتے ہی اسے مسلمانوں کی عوامی جماعت بنانے کے لیے دن رات ایک کر دیا تھا۔ پانچ ہی برس بعد قرارداد لاہور منظور ہو گئی تھی اور سات سال کے اندر ہی پاکستان وجود میں آ گیا تھا۔ اس کے قیام کے ایک

Read more

پہلے دھاندلی زدہ اِنتخابات

پاکستان کے مغربی منطقے میں جاگیرداروں، وڈیروں، سرداروں اور خانوں کا غلبہ تھا۔ یہ تو قائداعظم کی شخصیت کا سحر تھا کہ وہ ان علاقوں میں بھی تحریک پاکستان کے لیے بے پایاں جوش و خروش پیدا کرنے میں کامیاب رہے۔ علی گڑھ یونیورسٹی، اسلامیہ کالج پشاور اور اسلامیہ کالج لاہور کے طلبہ نے پنجاب، سندھ اور سرحد کا ایک ایک قریہ چھان مارا اور زبردست انتخابی مہم چلائی اور مسلم ووٹروں نے قائداعظم کی طرف سے کھڑے کیے گئے

Read more

اسلامی ریاست قائداعظم کے عالی شان تصورات

1949 کی طرح آج بھی کچھ تجزیہ نگار یہ تاثر دیتے رہتے ہیں کہ قائداعظم برصغیر میں ایک مسلم قومی ریاست قائم کرنے کے لیے کوشاں تھے، لیکن نوابزادہ لیاقت علی خاں اور مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے اسلامی ریاست کا نعرہ بلند کر کے بہت بڑا ذہنی خلجان پیدا کر دیا تھا جس کے باعث پاکستان پس ماندگی کا شکار ہوتا گیا۔ تاریخ کا دیانت دارانہ تجزیہ اس الزام تراشی کی مکمل نفی کرتا ہے۔ 1937 کے انتخابات میں

Read more

تعمیر وطن کی قابل فخر جہتیں

یہ عجب حسن اتفاق تھا کہ جس طرح مجھے سید ابوالاعلیٰ مودودی کے پہلے درس قرآن میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی، اسی طرح اسلامی جمعیت طلبہ کے اساسی اجلاس میں بھی شمولیت کا موقع ملا۔ یہ 23 دسمبر 1947 کی ایک انتہائی سرد رات تھی جس میں بلند پایہ صحافی اور جماعت اسلامی کے مرکزی راہنما مولانا نصراللہ خاں عزیز کے صاحبزادے جناب ظفراللہ خاں نے نوجوانوں کو نئی مملکت کے گوناگوں مسائل پر غور و خوض کی دعوت

Read more

ایٹمی پاکستان کا مایہ ناز معمار

پائنا کی تقریب میں ڈاکٹر عبدالقدیر خاں نے واضح اشارہ دَے دیا تھا کہ ہمالیہ جیسی مشکلات کے باوجود پاکستان ایٹمی صلاحیت حاصل کر چکا ہے اور اِس ناممکن کام کی تکمیل میں تمام ریاستی اداروں اور سیاسی حکومتوں نے تعاون کیا۔ سرِعام اِس کھلے بیانِ حقیقت کے باوجود ہم یہ تلخ حقیقت نظرانداز نہیں کر سکتے کہ جب نوازشریف کے دورِ حکومت کے دوران مئی 1998 میں بھارت نے پانچ ایٹمی دھماکے کیے، تو پاکستان کی سیاسی اور عسکری

Read more

ایٹمی پاکستان کا مایہ ناز معمار

حکیم الامت ڈاکٹر محمد اقبال نے مصور پاکستان، حضرت قائداعظم نے دنیا کی سب سے بڑی اسلامی ریاست کے بانی اور قابل فخر سائنس دان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے مملکت خداداد کی ایٹمی طاقت کے معمار کی حیثیت سے تاریخ کے صفحات پر ان منٹ نقوش ثبت کر دیے ہیں جو آنے والی نسلوں کو تازہ بستیاں آباد کرنے کا حوصلہ بخشتے رہیں گے۔ عبدالقدیر خاں وسطی ہندوستان میں مسلم تہذیب اور علوم و فنون کی گہوارہ بھوپال ریاست کے

Read more

تاریخ میں ڈھلتی ہوئی داستان

پاکستان میں جبر کی طاقتیں، جو حضرت قائداعظم کی رحلت اور قائد ملت نوابزادہ لیاقت علی خاں کی شہادت کے بعد اقتدار پر قابض ہو گئی تھیں، انہوں نے اطمینان کا سانس لیا کہ سید ابوالاعلیٰ مودودی راستے سے ہٹ گئے ہیں۔ عمر قید کی سزا کاٹنے کے لیے انہیں دس پندرہ سال جیل میں گزارنا ہوں گے اور ان کی غیرموجودگی میں جماعت اسلامی کا شیرازہ بکھیرنا قدرے سہل ہو جائے گا۔ حکمران طبقہ جو بڑے بڑے زمینداروں، جاگیرداروں

Read more

سید خوش خصال تھا، کیا تھا!

12 مارچ 1949 کو قرارداد مقاصد کی منظوری کے بعد جماعت اسلامی نے آٹھ نکات پر مبنی اسلامی دستور کا ہمہ گیر مطالبہ شروع کر دیا۔ وزیراعظم خواجہ ناظم الدین نے تقریباً انہی نکات پر مشتمل بنیادی اصولوں کی رپورٹ 1952 کے اواخر میں دستور ساز اسمبلی میں پیش کی جس سے امید پیدا ہوئی کہ دستور سازی کا مرحلہ جلد تکمیل پا جائے گا۔ اسی دوران مجلس احرار اور کچھ دوسرے علما نے فوری طور پہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے اور انہیں کلیدی آسامیوں سے ہٹا دینے کا مطالبہ بڑی شدت سے شروع کیا۔

Read more

سید خوش خصال تھا، کیا تھا!

ان کی وفات 22 ستمبر 1979 کو وقوع پذیر ہوئی۔ وہ 76 سال قبل اسی مہینے کی 25 تاریخ کو دنیا میں آئے اور اپنے عظیم الشان لٹریچر، جدید علم الکلام اور پرعزم اور پروقار اسلوب زندگی سے دنیا بھر کے مسلم نوجوانوں میں احیائے دین اور پرامن سیاسی اور جمہوری جدوجہد کی جوت جگا گئے۔ زندگی میں اس کے زیراثر علمائے حق کے پہلو بہ پہلو کالجوں اور یونیورسٹیوں کا تعلیم یافتہ طبقہ ان کی طرف کھنچتا چلا آیا۔ یوں جماعت اسلامی وجود میں آئی جس نے اعلیٰ کردار اور خدمت خلق کی اچھی مثالیں قائم کیں۔ اس تنظیم میں باقاعدگی سے انتخابات ہوتے ہیں جن میں موروثیت کا ذرہ بھر شائبہ نظر نہیں آتا۔ سید مودودی آج بھی پوری اسلامی دنیا میں ایک جلیل القدر مفسر، مورٔخ اور اسلامی انقلاب کے داعی کے طور پر احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں اور ہمیشہ یاد رہیں گے۔

Read more

پیری مریدی کے سیاسی کرشمے

میں نے اپنے پوتے افنان سے کہا کہ کار نکالو، ایک دوست کی طرف عیادت کے لیے جانا ہے۔ اس نے کہا گاڑی کا بیلنس خراب ہے، چلتے چلتے بے قابو ہو سکتی ہے۔ یہ کہہ کر وہ تو چلا گیا، مگر میرے اندر سوالات کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ میں سوچنے لگا کہ ریاست پاکستان جس میں بائیس کروڑ انسان آباد ہیں، اس کی مشینری کا بیلنس تو ایک مدت سے خراب چلا آ رہا ہے اور اب

Read more

دفاع پاکستان کے نئے زاویے

الحمدللہ اس بار پورے ملک میں یوم دفاع غیرمعمولی جوش و خروش سے منایا گیا جو اس حقیقت کا مظہر ہے کہ عام شہری میں آزادی کی قدروقیمت اور ایک ناقابل تسخیر دفاع کی اہمیت کا احساس گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ جی ایچ کیو کے مرغزار میں منعقدہ مرکزی تقریب کے مہمان خصوصی سپریم کمانڈر اور صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی تھے۔ ان کی تقریر میں ایک ادبی شان اور کمال کی بلاغت کارفرما تھی۔ انہوں نے چند لفظوں

Read more

عظیم بلوچ لیڈر اور مضبوط دفاع وطن کی باتیں

جناب عطاء اللہ مینگل اپنے قبیلے کے ایک باشعور اور انتہائی اصول پسند سردار تھے جو پوری زندگی بلوچوں اور پسے ہوئے طبقوں کے حقوق کی خاطر لڑتے رہے۔ انہیں بابائے بلوچستان میر غوث بخش بزنجو سیاست میں لائے تھے۔ وہ پہلی بار مغربی پاکستان کی اسمبلی میں منتخب ہوئے اور ون یونٹ اور سول ملٹری بیوروکریسی کے خلاف ان کی شعلہ بار تقریروں نے بڑی شہرت پائی۔ اس کی بنیاد پر وہ 1970 کے انتخابات میں بلوچستان اسمبلی کے

Read more

افغان طالبان سے عہد نبھانا سیکھیے

پاکستان کے میڈیا میں اس سال کے اوائل تک افغان طالبان کے بارے میں بہت کم خبریں شائع ہوئیں۔ پہلی بار جون میں ان کا ایک وفد عزیزم اعجاز الحق سے ان کے چچا کی تعزیت کے لیے آیا اور انہیں تفصیل سے بتایا کہ 80 فی صد افغانستان پر ان کا قبضہ ہو چکا ہے۔ اس وفد نے پہلی بار برملا اعتراف کیا کہ ہم نے ماضی سے بہت کچھ سیکھا ہے اور اب ہم طاقت کے بجائے مذاکرات

Read more

افغانستان میں پوری مغربی دنیا کی شکست

گزشتہ چالیس برسوں میں عصر حاضر کی تاریخ نے بڑے بڑے پلٹے کھائے ہیں اور افغانستان جو حکیم الامت ڈاکٹر محمد اقبالؔ کے نزدیک ایشیا کا دل ہے، اس نے تین سپر پاورز کو عبرت ناک شکست سے دوچار کیا ہے۔ سوویت یونین گرم پانیوں تک پہنچنے کی ہوس میں افغانستان میں داخل ہو گئی تھی جس کے بارے میں یہ تاثر عام تھا کہ وہ ایک بار جس علاقے میں گھس جاتی ہے، وہاں سے پیچھے نہیں ہٹتی، بلکہ

Read more

پاکستان۔ خدائی معجزہ

قوم کل اپنا 75واں یوم آزادی کامل شعور کے ساتھ منائے گی کہ آزادی دنیا کی سب سے عظیم نعمت ہے جس کی حفاظت ہم سب پر فرض ہے۔ آج کی نسل اس حقیقت سے واقف ہی نہیں کہ تشکیل پاکستان میں اللہ تعالیٰ کی مشیت نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ ہر شے برصغیر کے مسلمانوں کے خلاف جا رہی تھی۔ تاریخ کا دھارا مخالف سمت میں بہہ رہا تھا اور دنیا کی سب سے بڑی طاقت برطانیہ کسی

Read more

آزاد کشمیر کے انتخابات سے پھوٹنے والے شگوفے

کشمیر کا مسئلہ حل ہونے کے بجائے مزید الجھتا جا رہا ہے۔ دو سال پہلے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے آئینی سرجیکل اسٹرائیک سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے اسے انڈین یونین میں ضم کر لیا تھا۔ اس غیرآئینی اقدام نے مقبوضہ کشمیر کو ایک بڑی جیل میں تبدیل کر دیا ہے جس میں بھارتی فوج چن چن کر آزادی کی جنگ لڑنے والے نوجوانوں کی آنکھیں اندھی کر رہی ہے۔ انسانی بنیادی حقوق کی پامالی روزمرہ کا معمول بن گئی ہے۔ ان لرزہ خیز مظالم کے خلاف بین الاقوامی سطح پہ آوازیں اٹھنے لگی ہیں جن سے بھارت کا امیج بڑی تیزی سے گہنا رہا ہے۔

Read more

دکھوں کا مداوا

ہم پر عجب وقت آن پڑا ہے کہ قوم سے زیادہ اس کی قیادت انتشار اور بے سمتی کا نہایت شرمناک نمونہ پیش کر رہی ہے اور عظیم لوگ ہمارے درمیان سے اٹھتے جا رہے ہیں۔ غالبؔ نے اپنے بھتیجے زین عارف کے انتقال پر مرثیہ لکھا تھا جس کا ایک شعر یوں ہے ؎ جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ملیں گے، کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور۔ ہمارے دوست شعیب بن عزیز کے دل پر

Read more

بات چیت کے ذریعے سمجھوتے کی فطری شرائط

افغانستان میں تقریباً نصف صدی سے خون بہ رہا ہے جس کا آغاز 1975 ء سے سوویت یونین کی سیاسی مداخلت سے ہوا۔ اس نے ظاہر شاہ کا تختہ سردار داؤد کے ذریعے الٹا جو پختون نیشنلسٹ اور اشتراکی نظریات سے متاثر تھا۔ اسے جلد ہی احساس ہو گیا تھا کہ افغان معاشرہ بنیادی طور پر مذہبی معاشرہ ہے جس میں اشتراکی نظام کے خلاف ایک گونہ مزاحمت پائی جاتی ہے، چنانچہ اس نے سوویت یونین کی جبریت سے باہر

Read more

افغانستان کی تازہ ترین صورت حال

امریکہ بیس برس تک افغانستان میں قتل و غارت کا بازار گرم کرنے کے بعد گیارہ ستمبر تک اپنی تمام فوجیں افغانستان سے نکالنے کا اعلان کر چکا ہے جس سے بڑے بڑے دارالحکومتوں میں کھلبلی سی مچ گئی اور اس خدشے کا اظہار کیا جانے لگا ہے کہ افغان حکومت اب چند ہفتوں کی مہمان ہے اور انخلا سے پہلے اگر شراکت داروں میں اقتدار میں شرکت کا کوئی معاہدہ طے نہ پایا، تو بدترین خانہ جنگی شروع ہو

Read more

دکھ بھرے انکشافات

بجٹ سیشن میں روح کو جھلسا دینے والا پہلا انکشاف یہ ہوا کہ ہمارے عوامی نمائندے ایوان کے اندر شرافت کا لباس بھی تار تار کر سکتے ہیں، اسمبلی میں جمہوریت کا جنازہ نکالنے کے لیے چارپائی بھی لائی جا سکتی ہے اور بجٹ پیش کرنے سے روکنے کے لیے اسمبلی کے دروازوں پر تالے بھی ڈالے جا سکتے ہیں۔ جب عوام کے نمائندے آپس میں گتھم گتھا ہو رہے تھے، تو انٹرنیشنل میڈیا میں خبر شائع ہوئی کہ امریکہ اپنا بحری بیڑا گوادر بندرگاہ کے مدمقابل لے آیا ہے۔

Read more

یونیورسٹیوں میں چشم کشا تجربات

میرا 28 مئی کی اشاعت میں کالم شائع ہوا جس کا عنوان تھا ’قبرستانوں کی آمدنی میں اضافہ‘ ۔ اس پر دوستوں، قدر شناسوں اور بڑی بڑی شخصیتوں کے فون آئے جن میں پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد بھی شامل تھے۔ ان سے تبادلۂ خیال ہوا، تو کہنے لگے کہ حکومت کی یہ خواہش یقیناً قابل قدر ہے کہ وہ مڈل کلاس کو قرضے فراہم کر کے ان کی زندگی میں بہتری لانا چاہتی ہے، مگر اسے قرضے 6 فی صد شرح سود پر دینے کے بجائے ان تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہیے جو میں وائس چانسلر کی حیثیت سے مختلف یونیورسٹیوں میں کر چکا ہوں اور ان کے نہایت اچھے نتائج برآمد ہوئے ہیں۔

Read more

دہکتی سیاسی کثافتیں

مَیں وفاقی بجٹ کی اچھائیوں اور کمزوریوں کا جائزہ لینے کے لیے ذہن بنا رہا تھا کہ قومی اسمبلی میں ہونے والے شرمناک واقعات نے ذہنی سانچہ یکسر بدل ڈالا۔ مَیں سوچنے لگا کہ جب پاکستان کے سب سے معتبر اور بااختیار اِدارے کے ارکان جو عوام کے ووٹوں سے یہاں پہنچتے ہیں، اُن کے اخلاق اور سوچ کا معیار اِس قدر پست ہو گیا ہے، تو وہ خاک قانون سازی کریں گے۔ مَیں جو انتہائی مایوس کن حالات میں

Read more

فردوس عاشق کی الحمدللہ اور اعظم سواتی کا قضائے الہٰی پر ایمان

حضرتِ غالبؔ تو شعری ترنگ میں کہہ گئے کہ مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں، مگر ہمیں جن حادثات کا سامنا ہے، وہ وَقت گزرنے کے ساتھ ساتھ محشربداماں بنتے جا رہے ہیں۔ گزشتہ پیر کی رات آخری پہر سندھ میں ریتی ریلوے اسٹیشن پر دو ٹرینیں ٹکرا گئیں جس سے قیامتِ صغریٰ ٹوٹ پڑی۔ بچوں، عورتوں اور مردوں کی چیخ و پکار آسماں تک جا پہنچی۔ رات کے اندھیرے میں امدادی کارروائیاں تاخیر سے شروع ہوئیں،

Read more

ریاست آزاد میڈیا سے تقویت حاصل کرے

وہ پچھلے زمانے تو اب خواب و خیال ہوئے جب قدآور قومی اور صحافتی شخصیتیں اور اخبارات و جرائد کے تجربے کار ایڈیٹر اپنے حکمرانوں کو بے خطر غلطیوں پر ٹوکتے بھی تھے اور ملکی حالات میں بہتری کے کارآمد مشورے بھی دیتے تھے۔ روزنامہ زمیندار، نوائے وقت، جنگ، احسان، ڈان اور آزاد نے شمال مغربی اور شمال مشرقی ہندوستان کے مسلمانوں میں مسلم قومیت کا جذبہ ابھارنے کے لیے سخت جدوجہد کی تھی، مگر قیام پاکستان کے ابتدائی برسوں

Read more