ناول صفر کی توہین، سلسلہ کلامیہ اور الحاد پرستی کے تناظر میں

اشعر نجمی شاعر ہیں۔ ادیب ہیں۔ ادبی جریدہ اثبات کے مدیر ہیں اشعر نجمی کا ناول صفر کی توہین اس وقت زیر بحث ہے۔ ایسے حساس موضوع پر قلم اٹھانا ہمت کا کام ہے اشعر نجمی نے اس ناول کے ذریعے قاری کے ذہن کو جھنجھوڑنے کی جو کوششیں کی ہے قابل ستائش ہیں۔ اس ناول کو سلسلہ کلامیہ اور الحاد پرستی کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ سلسلہ کلامیہ وہ علم ہے جس سے مذہبی عقائد کو عقلی دلیلوں سے

Read more

کماری والا ناول میں ثقافتی سماجی اور ساختی عناصر

علی اکبر ناطق شاعر، افسانہ نگار اور ناول نگار ہیں۔ ان کا پہلا ناول نو لکھی کوٹھی بے حد مقبول ہوا۔ ہر معاشرے کی تہذیب اور ثقافت اس کے ادب سے چھلکتی ہے۔ یہ ہی کلامیہ بعض اوقات قاری پر متاثر کن اثرات چھوڑتا ہے۔ ادب کا معاشرتی اور ثقافتی پس منظر اس ناول کماری والا میں علی اکبر ناطق نے سادہ کلامیہ کے ذریعے بیان کیا ہے۔ اسی کی دہائی کے واقعات جو کہ سیاسی، سماجی، ثقافتی، مذہبی اور

Read more

مشرف عالم ذوقی کا فکشن

مشرف عالم ذوقی ایسے لکھاری تھے جن کے 14 ناول اور افسانوں کے 8 مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔ مشرف عالم ذوقی کا فکشن نئی معاشرتی تبدیلیوں، وقت کے نئے تقاضوں، گرتی ہوئی اخلاقی اقدار، ٹیکنالوجی کی یلغار جیسے مسائل پر اپنا نشتر چلاتا ہے۔ مشرف عالم ذوقی کی دور رس نگاہوں نے اس طوفان کی شدت کو وقت سے پہلے دیکھ لیا تھا جس کا شکار ہمارا معاشرہ ہوتا جا رہا ہے۔ آپ کے ناول اور افسانے معمولی واقعات سے

Read more

میرا جی اور شونیتا کا تصور

وحشت میں انسان کا آخری سہارا مذہب ہوتا ہے اور جس کے پاس یہ سہارا نہ ہو تو اس کی داخلی شخصیت ٹوٹ پھوٹ جاتی ہے۔ میرا جی کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا انہوں نے اپنی وحشت کو خود پر طاری کر لیا اور اسی وحشت نے انہیں ختم کر دیا۔ میرا جی کے ظاہری حلیے کا پراگندہ پن، ان کی عجیب عادتیں، صاف گوئی اور غربت نے انہیں لوگوں کی نظروں میں منفی تاثرات کی حامل ایک مجہول

Read more

موجودہ معاشرتی صورت حال پر ما بعد نوآبادیات کے اثرات

استعماری قوتیں جمہوری قوتوں کو پنپنے نہیں دے سکتی۔ استعماری قوتوں کے جبری استبداد کا طریقہ بہت ہی بھیانک ہے۔ کسی ملک کی ثقافتی، مذہبی اور اخلاقی اقدار کو یہ ایک سازش کے تحت تبدیل کرتی رہتی ہیں۔ تبدیلی کا یہ عمل ذہنی غلامی کی نا ختم ہونے والی شکل میں سامنے آتا ہے ۔ جب بھی نو آبادکار کسی ملک یا زمین کو اپنی کالونی بنانے کی سعی کرتے تھے تو وہاں پہلے سے موجود سارا نظام زندگی بدل

Read more

کس کی مرضی!

پاکستان اور ہندوستان ایک طویل عرصہ تک برصیغر کی شکل میں دنیا کے نقشے پہ یکجا رہے ہیں۔ دونوں ممالک کی خواتین کی ایک بڑی تعداد بے شمار مسائل کا شکار ہے۔ پاکستانی خواتین کو جن مسائل کا سامنا ہے۔ اس میں کم عمری کی شادی، صنفی امتیاز، غذائی قلت، تیزاب گردی، طبی سہولیات کا فقدان، دوران زچگی اموات، گھریلو تشدد، غیرت کے نام پہ قتل، جنسی ہرا سگی، ریپ اور تنگ نظری شامل ہے۔ شخصی آزادی کا تصور ہمارے

Read more

ویمن ڈے

ویمن ڈے مغرب کی اختراع ہے جو آج تر قی پذیر ممالک میں بھیڑ چال کے طور پہ منایا جاتا ہے ۔ وہ مغرب جہاں عورت کو قانون کے نام پہ مردوں کے برابر حقوق دیے گئے اور ہر میدان میں مردوں کے شانہ بہ شانہ جگہ دی گئی وہاں ویمن ڈے کا نعرہ لگا نا اس کو منانا سمجھ میں آتا ہے لیکن پاکستان جیسا ملک جہاں عورت کی حیثیت نچلے طبقے میں جانور کی سی ہے جس کا

Read more

بچوں کا جنسی استحصال

ہر مہذب معاشرہ اپنا وجود انسانوں کی وجہ سے قائم رکھ پاتا ہے۔ انسانوں کے صحت مند رویے معاشرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ ہر معاشرے کا کل اس کے بچے ہیں۔ جن کی حفاظت معاشرے کا فرض ہے۔ جس میں ماں باپ کی ذمہ داری سب سے زیادہ ہے۔ اور کبھی کبھی اس معاملے میں لاپرواہی سنگین نتائج کا باعث بنتی ہے۔

بچپن عمر کا سب سے خوب صورت دور ہوتا ہے۔ اس کو بے فکری سے تعبیر کیاجاتاہے۔ معصومیت بچے کا اصل سر مایہ ہو تی ہے۔ لیکن کبھی کبھی اس کے بر عکس بھی ہو تا ہے بچوں کا جنسی استحصال کر کے ان سے بے فکری اور لاعلمی چھن لی جا تی ہے۔ جب بھی کوئی جنسی درندہ اپنی وقتی تسکین کے لئے کسی بچے کو نشانہ بنا تا ہے تو اس کے بعد کا ٹروما بچے کی ساری زندگی پہ اثر انداز ہو تا ہے۔ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی جنسی زیادتی کے واقعات میں دن بدن اضافہ ہو تا جارہا ہے ہر سال ہزاروں بچے اس ظلم کا شکار ہو تے ہیں۔ اور ساری زندگی اس ناکردہ گناہ کی سزا بھگتتے رہتے ہیں۔

Read more

مادری زبانیں

انسان کی تہذیب و معاشرت اس کی زبان سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ جیسے جیسے انسان تہذیب سے آشنا ہوتا گیا زبانوں کا ارتقاء عمل میں آتا گیا۔ زمانہِ قدیم میں لوگ قبائل کی شکل میں رہتے تھے ان کی زبانیں بھی مخصوص تھیں جن میں وقت کے ساتھ ساتھ اختلاط رونما ہوتا گیا اور نئی زبانیں بنتی گئیں۔ اس کی ایک مثال یہ ہے

Read more

کتب بینی

پاکستان میں کئی اقسام کی کتابیں چھپتی ہیں۔ جن میں سے کچھ تو اس لئے مجبوراً پڑھی جاتی ہیں کہ یہ نصابی کتب ہیں لہذا ان کو پڑھنا مجبوری ہے۔ یہ خریدی جاتی ہیں کیونکہ خریدنا لازمی ہے۔ رٹی جاتی ہیں کیونکہ امتحان پاس کرنا کامیابی ہے۔ دوسری قسم کتابوں کی غیر نصابی کتب پہ مشتمل ہے اس میں دینی کتابیں، حکیمانہ کتابیں اور ادبی کتابیں (شاعری، افسانہ، ناول ) وغیرہ شامل ہیں۔

دینی کتابیں بانٹی جاتی ہیں خریدی جاتی ہیں تحفتاً دی جاتی ہیں۔

Read more