EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

پشاور: ہائے عروج کا وہ زمانہ۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"abdul-hai-kakar\"

’آپ نے قلعہ بالا حصار کے بارے میں سنا ہوگا۔ یہ جو سامنے والی عمارت ہے، یہ ہے قلعہ بالا حصار، جو چند سو سال پہلے مغلوں کی دورِ حکرانی میں تعمیر ہوا تھا۔ ہاں یہ ہم جہاں سے گذر رہے ہیں یہ پشاور کا پوش علاقہ حیات آباد ہے۔ یہ دیکھیں سینکڑوں سال پرانا قصہ خوانی اور اس سے متصل سب سے بڑا کاروباری مرکز خیبر بازار۔ جس بازار میں اب ہم داخل ہونے والے ہیں یہ شہر کا مقبول ترین بازار صدر ہے۔ یہ دیکھو شہر کا سب سے بڑا ہوٹل پرل کانٹیننٹل۔ ‘

یہ ساری باتیں پانچ سال پہلے کی ہیں جب میں پشاور میں بالکل نیا نیا وارد ہوا تھا اور باہر سے آئے ہوئے اپنے دوستوں کو شہر کی سیر کراتے ہوئے ان مقامات کا کچھ اسی انداز سے تعارف کراتا تھا۔
لیکن اب پانچ سال بیت چکے ہیں۔ پرسوں اپنے بہنوئی کو گاڑی میں بٹھا کر ان سے اِنہی مقامات کا تعارف کچھ یوں کرایا۔ ’یہ دیکھو شہر کا واحد بڑا ہوٹل پرل کانٹیننٹل ہوٹل، یہ وہی جگہ ہے جہاں پر چند مہینے قبل بم دھماکہ ہوا تھا۔ اب یہ ہوٹل بند ہے اور ہوٹل کے ملازمین داخلی گیٹ کے سامنے بیھٹے اپنی نوکریوں کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ‘

’یہ قصہ خوانی بازار ہے۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں پیپل منڈی میں دھماکہ ہوا تھا جس میں ایک سو بیس شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ ‘ گاڑی روک کر میں نے کہا ’یہ خیبر بازار ہے، یہ وہی جگہ ہے جہاں ایک ماہ پہلے بارود سے بھری گاڑی لوکل بس کے ساتھ ٹکرائی تھی۔ پچاس سے زائد شہریوں کو زندگی موت کی گھاٹی میں اتارا گیا تھا۔ ‘

\"pearl-continental-peshawar\"

’ہم ابھی ابھی جس علاقے میں داخل ہوئے ہیں یہ شہر کا پوش مگر سب سے ’غیر محفوظ‘ ایریا حیات آباد ہے۔ اگر آپ کو یاد ہو یہاں سے افغانستان کے نامزد سفیر عبدالخالق فراہی اور ایران کے بزنس اتاشی اغواء ہوئے تھے اور اس قسم کی زیادہ تر وارداتیں یہاں ہی ہوتی ہیں۔ یہی وہ علاقہ ہے جہاں میں دو سال پہلے تک بلا خوف و خطر لانگ ڈرائیو کرنے آتا تھا اور اب اتنا ڈر لگتا ہے کہ بہت عرصے بعد آپ ہی کی وجہ سے آنا پڑا ہے۔ ‘

اپنے بہنوئی کو یہ سب کچھ بتاتے ہوئے مجھے نہ جانے اچانک ایک دھچکا سا لگا۔ اوہو، پانچ سالوں میں اتنی بڑی تبدیلی، اتنی بڑی کہ ’دہشت گردی کی جنگ‘ نے شہر کی تاریخی یادگاروں اور مشہور مقامات سے ان کی پہچان چھین لی ہے اور اب ان کی شناخت بم دھماکوں، خودکش حملوں اور ہلاکتوں کی نسبت سے ہوتی ہے۔ بقول جوش صاحب، ’ہائے وہ عروج کا زمانہ، ہائے زوال کے یہ دن۔ ‘

بشکریہ بی بی سی اردو
2009-11-10

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عبدالحئی کاکڑ

عبدالحئی کاکڑ صحافی ہیں اور مشال ریڈیو کے ساتھ وابستہ ہیں

abdul-hai-kakar has 40 posts and counting.See all posts by abdul-hai-kakar

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے