بائیں بازو والے
اب اس کی بھلا کیا وضاحت کرنی کہ بائیں بازو والے کن کو کہا جاتا تھا اور غلطی سے اب تک کہا جا رہا ہے۔ لوگ تو بس یہی سمجھتے تھے کہ جو ملک میں انقلاب لانا چاہتا ہے ( جو خونی ہی ہو سکتا تھا) جو خدا کو نہیں مانتا، جو سب عورتوں اور آدمیوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنا چاہتا ہے اور جو جماعت اسلامی اور امریکہ کا کٹر مخالف ہے اسے بائیں بازو کے ماننے والا یا پھر بائیں بازو والا سمجھنا چاہیے۔
جماعت اسلامی کے کٹر مخالف تو بہت تھے لیکن آج کی طرح انقلاب لانے کے داعی نہیں تھے۔ خدا کو نہ ماننے والے آج بھی بہت زیادہ ہیں یہ اور بات ہے کہ نجی محفلوں میں وہ ملحد ہوتے ہیں اور جلوت میں مومن لیکن جن کی ہم بات کر رہے ہیں وہ منافقت سے کام نہیں لیا کرتے تھے۔ جب وہ خدا سے ہی نہیں ڈرتے تھے ( کیونکہ ان کے خیال کے مطابق عدم وجود کا خوف چہ معنی دارد والا معاملہ تھا ) تو وہ لوگوں سے بھلا کیوں ہراساں ہوتے۔
Read more


