بائیں بازو والے

اب اس کی بھلا کیا وضاحت کرنی کہ بائیں بازو والے کن کو کہا جاتا تھا اور غلطی سے اب تک کہا جا رہا ہے۔ لوگ تو بس یہی سمجھتے تھے کہ جو ملک میں انقلاب لانا چاہتا ہے ( جو خونی ہی ہو سکتا تھا) جو خدا کو نہیں مانتا، جو سب عورتوں اور آدمیوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنا چاہتا ہے اور جو جماعت اسلامی اور امریکہ کا کٹر مخالف ہے اسے بائیں بازو کے ماننے والا یا پھر بائیں بازو والا سمجھنا چاہیے۔

جماعت اسلامی کے کٹر مخالف تو بہت تھے لیکن آج کی طرح انقلاب لانے کے داعی نہیں تھے۔ خدا کو نہ ماننے والے آج بھی بہت زیادہ ہیں یہ اور بات ہے کہ نجی محفلوں میں وہ ملحد ہوتے ہیں اور جلوت میں مومن لیکن جن کی ہم بات کر رہے ہیں وہ منافقت سے کام نہیں لیا کرتے تھے۔ جب وہ خدا سے ہی نہیں ڈرتے تھے ( کیونکہ ان کے خیال کے مطابق عدم وجود کا خوف چہ معنی دارد والا معاملہ تھا ) تو وہ لوگوں سے بھلا کیوں ہراساں ہوتے۔

Read more

شیعہ فیکٹ چیکر – کیا حقیقت ہے کیا افسانہ

جیسے ہی ماہ محرم کا آغاز ہوتا ہے، غیر تشیع حلقوں میں شیعہ عقائد کے حوالے سے بحث چھڑ جاتی ہے۔ ویسے تو سال بھر کسی نہ کسی موقع پر یہ نکات اٹھائے ہی جاتے ہیں مگر محرم الحرام کے ابتدائی دس ایام اس نوعیت کی بحث میں خاصی اہمیت رکھتے ہیں۔ اس نقطے کو سمجھنے کے لئے انٹیگریٹو کمپلیکسٹی یا انضمامی پیچیدگی کی اصطلاح کو سمجھنا زیادہ مناسب رہے گا کہ ایسا کیوں ہے۔ اس سے مراد ایسی سوچ اور شخصیت کی تشکیل ہے جو اپنے نظریات، خیالات اور عقائد کو باریک بینی، معقولیت اور دانستگی سے مرتب کرے۔

ایسے انسان خود کو دوسروں کی جگہ اور حالات میں سماں کر سوچتے ہیں۔ اس کے بنیادی تین مراحل ہیں ؛ آئسولیشن یا علیحدگی، ڈفرنسیایشن یا تفریق اور تیسرا سب سے اہم مرحلہ ہے انضمام یا شمولیت کا۔ ایک شخص کے عقائد یا نظریات دوسرے عقائد اور نظریات سے علیحدہ اور جدا ہو کر ہی ترتیب دیے جاتے ہیں۔ دو مختلف نظریات ایک دوسرے سے متفرق ہوتے ہیں اور ایک جگہ دو یا دو سے زیادہ رائے پائی جا سکتی ہیں جو کہ سنگین اور جھوٹ بیک وقت ہو سکتی ہیں۔

Read more

اماں رخصت ہونے کے لیے عاشور گزرنے کی منتظر تھیں

میں نے جب ہوش سنبھالا تو اماں کا چہرہ اس وقت بھی جھریوں سے بھرا ہوا تھا۔ ہم اپنی نانی کو اماں کہتے تھے۔ ان کے زمانے میں ماں کو اماں ہی کہا جاتا تھا۔ پھر امی کہا جانے لگا۔ آج کل بچے ممی اور ماما کہتے ہیں۔ اماں کا نام تحسینہ خاتون تھا۔ چہرے پر جھریاں، دائیں گال پر جلد کے رنگ کا مسّا یا دانہ، سر سفید اور گھر میں بچوں کے سامنے بھی ہر وقت ڈھکا ہوا۔

Read more

کربلا میں شب عاشور اور خضر سے گفتگو

تین سال پہلے آج کے دن میں کربلا میں تھا۔ مغرب سے کچھ پہلے میں نے اپنے بیٹے حسین سے کہا کہ چلو، تمھیں کربلا کی شب عاشور دکھاتا ہوں۔ چودہ صدیاں پہلے اسی مقام پر یہ رات امام حسین کے قافلے پر بھاری تھی۔ اس رات کربلا والے نہیں سوئے۔ کربلا والوں کو ماننے والے آج بھی نہیں سوتے۔ حسین اس وقت بارہ سال تھا۔ میں اس کا ہاتھ تھام کر ہوٹل سے نکلا۔ اگر آپ کبھی کربلا نہیں

Read more