مذہب، سائنس اور انسانی نفسیات


عارف عبدالمتین (کرسیوں پر) دائیں سے دوسرے

پہلی روایت مذہبی روایت ہے جس کا تعلق ایران کے فلاسفر زرتشت سے ہے جو کہ ایک خدا میں مانتے تھے۔ یہ روایت مڈل ایسٹ میں بہت مقبول ہوئی۔ میں یہودیت، عیسائیت اور اسلام کی توحید کی روایت کو زرتشت کی روایت کے ساتھ ملا کر دیکھتا ہوں۔ اس روایت میں کہا گیا کہ ایک خدا ہے، آسمانی کتابیں ہیں، خدا نے نیکی اور بدی کا راستہ دکھایا ہے۔ چنانچہ انسانوں کو چاہیے کہ الہامی کتابوں کی پیروی کریں۔ یہ نیکی کا راستہ ہے نیک لوگ جنت میں جائیں گے اور جو یہ راستہ نہیں اپنائیں گے وہ گناہ گار ہوں گے اور جہنم کی آگ میں جلیں گے۔ مذہبی روایت میں ایک خدا اور منظم مذہب کا تصور موجود ہے۔

دوسری روایت روحانی روایت ہے جسے میں بدھا اور ہندوستان سے جوڑتا ہوں۔ اس روایت میں منظم مذہب کا تصور نہیں ہے۔ اس روایت میں روایتی مذہب کے مولوی یا پادری یا پنڈت کی ضرورت نہیں بلکہ انسان خود سچ سے یا خدا سے یا کسی پراسرار ہستی سے مراقبہ کر کے رشتہ جوڑتا ہے۔ روحانی روایت کے بعض پیروکار مادی دنیا سے دور ہو کر رہبانیت کی زندگی اختیار کر لیتے ہیں اور کسی جنگل یا غار یا مزار میں پناہ ڈھونڈ لیتے ہیں۔

تیسری روایت فلسفے اور سائنس کی روایت ہے جسے میں یونان کے خطے سے جوڑتا ہوں۔ سقراط، بقراط، افلاطون اور ارسطو نے منطق، عقل، سائنس، فلسفہ اور قوانین فطرت کو جاننے کی روایت ڈالی۔

چوتھی روایت انسان دوستی کی روایت ہے جسے میں چین کے خطے سے جوڑتا ہوں۔ فلسفی کنفیوشس اور شاعر لاؤزو نے انسان دوستی کی روایت کی بنیاد ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ بہتر انسان بننے کے لیے ہمیں کسی مذہبی یا روحانی روایت کی ضرورت نہیں۔ ہم ایک بہتر انسان، اپنے ضمیر، اپنے شعور اور اپنی عقل کی روشنی میں بن سکتے ہیں۔

سہیل تاج صاحب۔ میرا پچھلے پچاس برسوں کا نظریاتی سفر
مذہبی روایت سے روحانی روایت،
روحانی روایت سے سائنسی روایت

اور سائنسی روایت سے انسان دوستی کی روایت تک کا سفر ہے۔ میں انسان دوستی کی روایت کو بھی دو حصوں میں بانٹتا ہوں۔ کنفیوشس کی چینی روایت کو میں کلاسیکی ہیومنزم کا نام دیتا ہوں اور پچھلی دو صدیوں کی انسان دوستی کی روایت کو ماڈرن ہیومنزم کہتا ہوں جس میں جمہوریت، سوشل ازم، سیکولرازم اور انسانی حقوق کی دیگر روایتیں بھی شامل ہو گئی ہیں۔

سہیل تاج صاحب۔ میرا انسان دوستی کا فلسفہ میرے کئی دہریے، فری تھنکر، اگناسٹک، کمیونسٹ اور انارکسٹ دوستوں سے بھی مختلف ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ آپ انسان دوست اسی وقت ہو سکتے ہیں جب آپ ایک دہریہ ہوں۔ میرا اس پر یقین نہیں ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایک مذہبی انسان بھی انسان دوست ہو سکتا ہے۔ ایک روحانی انسان بھی انسان دوست ہو سکتا ہے اور ایک سیکولر انسان بھی۔ اگرچہ میں ایک سیکولر ہیومنسٹ ہوں۔ لیکن میں مارٹن لوتھر کنگ کو مذہبی انسان دوست اور کرشنا مورتی کو ایک روحانی انسان دوست سمجھتا ہوں ہوں۔

میں جلال الدین رومی۔ کبیر داس۔ والٹ وٹمین اور بلھے شاہ جیسے روحانی اور صوفی شعرا کا بھی احترام کرتا ہوں۔ انہوں نے ظلم کے خلاف اور انسانی حقوق کی حق میں آواز بلند کی۔ میں ان کی بہت عزت کرتا ہوں۔ میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ اس وجہ سے میرے چند دہریہ دوست مجھ سے کچھ نا خوش رہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ آپ تصوف کے بارے میں اپنے دل میں ایک نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ یہ لوگ میری تصوف سے قربت پر کچھ نالاں بھی ہوتے ہیں لیکن میں نے کبھی اس بات کا برا نہیں مانا۔

سہیل تاج : ( مسکراتے ہوئے ) یعنی دونوں اطراف کے لوگ آپ سے خوش نہیں ہیں۔
ڈاکٹر خالد سہیل : مجھے کسی کا شعر یاد آ رہا ہے کہ
زاہد تنگ نظر نے مجھے کافر جانا
اور کافر یہ سمجھتا ہے کہ مسلماں ہوں میں

میں مکالمے پر یقین رکھتا ہوں مختلف مکاتب فکر کے دوستوں کے ساتھ مکالمہ جاری رکھنا ہم سب کے لیے ایک عمدہ بات ہے۔

طاہر بلوچ کے سوال: پہلا سوال۔ معاشی نا انصافی کی وجہ سے لوگ پریشانی کا شکار ہو رہے ہیں او ر یہ پریشانیاں دیگر بیماریوں کا پیش خیمہ بھی بن رہی ہیں۔ ذہنی صحت کو بحال کرنے کے لیے آپ کیا کہیں گے؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ جنریشن گیپ کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے۔ ؟ والدین اور اولاد کے مابین اختلافات کو کیسے دور کیا جا سکتا ہے؟

ڈاکٹر خالد سہیل: آپ کے دونوں سوال بہت اہم ہیں ’زندگی کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور حقائق کی غمازی کر رہے ہیں۔ سہیل تاج صاحب نے اپنے تعارف میں گرین زون فلاسفی کا ذکر کیا تھا۔ میرا موقف یہ ہے کہ تعلیم لوگوں کی سوچ کو بدلنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہ تعلیم صرف سکول کی روایتی تعلیم نہیں ہے، اس سے میری مراد آگہی اور تربیت بھی ہے۔ زندگی کے بارے میں جاننا کہ حقیقی زندگی کے مسائل کیا ہیں؟ ہم اس کو کیسے سمجھ سکتے ہیں؟

نفسیات کی جو روایت ہمارے پاس ہے جس میں بہت سی کتابیں لکھی گئیں مگر وہ بہت ہی مشکل اور گنجلک زبان میں ہیں۔ ان میں ایسی اصطلاحیں استعمال کی گئیں جنہیں ایک عام آدمی نہیں سمجھتا۔ ہم نے جو گرین زون فلاسفی کا آغاز کیا ہے، اس کے فروغ کے لیے پہلے انگریزی میں کتابیں لکھیں۔ جب میں نے ”ہم سب“ پر لکھنا شروع کیا اور مجھے لوگوں کے نفسیاتی مسائل کے بارے میں جو خطوط آتے تھے، ان کے جواب میں، انہیں انگریزی کی کتاب بھجوائی جاتی تھی تو وہ کہتے تھے کہ ہم انگریزی نہیں پڑھ سکتے۔ ہمیں اردو میں کتاب مہیا کی جائے۔ اب چھ مہینے پہلے، ثمر اشتیاق جو کہ کینیڈا میں مقیم ہیں، وہ سپیشل ایجوکیشن ٹیچر اور کیس مینیجر ہیں۔ انہوں نے گرین زون کتاب کا اردو میں ترجمہ کیا ہے۔ اب ہم اس کا پشتو، سندھی، بلوچی، پنجابی اور سرائیکی وغیرہ میں بھی ترجمہ کروا رہے ہیں۔

ہم نے زوم ٹیکنالوجی اور کورونا کی وبا سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک ماہانہ سیمینار سیریز کا اہتمام کیا ہے۔ ہر مہینے کے آخری ہفتے کو میں ایک لیکچر دوں گا۔ یہ جو بلوچ صاحب کا سوال ہے اس کو ہم ایڈریس کریں گے مگر آہستہ آہستہ۔ تیس جنوری کو گرین زون کے صحتمند تعلقات بنانے کے بارے میں لیکچر ہے، فروری میں گرین زون خاندانوں کے بارے میں ہے، پھر سکولوں کے بارے میں، پھر کام کرنے والی جگہ کے ماحول کے بارے میں، پھر سماج کے بارے میں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر نیک نیتی سے کوئی اپنی زندگی بہتر کرنا چاہتا ہے تو اگر ہم اسے وہ تعلیم اور آگہی دیں تو وہ ایک صحتمند ’خوشحال اور پرسکون گرین زون زندگی بنا سکتا ہے۔

یہ ضروری ہے کہ لوگ اپنی ذہنی صحت اور مسائل کے بارے میں جانیں، مسائل کو سمجھیں اور پھر حقیقت پسندانہ طور پر رفتہ رفتہ ان کو بہتر کریں۔

دوسرا سوال جو خاندانی مسائل کے بارے میں ہے وہ بھی نفسیات کے موضوع کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ میں آج کل ”ہم سب“ پر ایک سیریز لکھ رہا ہوں جس کا عنوان ہے۔ انسانی نفسیات کے راز۔ اس سیریز میں میں بیسویں صدی کے ہر معزز اور معتبر اور محترم فلسفی، ماہر نفسیات اور سائیکوتھراپسٹ کی خدمات کے بارے میں ایک ایک مضمون لکھ رہا ہوں اور وہ بھی عام فہم زبان میں۔ بلوچ صاحب کے سوال سے متعلقہ میں نے ایک مضمون لکھا تھا جو ماہر نفسیات MURRAY BOWEN کے خاندانی مسائل کے نظریات کے بارے میں تھا۔

میں مرے بوون سے اتنا متاثر ہوا تھا کہ ورجینیا میں ان سے ملنے بھی گیا تھا۔ وہ شفیق بزرگ تھے۔ اس وقت ان کی عمر تقریباً اسی سال تھی۔ وہ چند سال بعد فوت ہو گئے لیکن ان کی خاندانی نظام کی تھیوری زندہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ صرف ایک فرد ذہنی طور پر بیمار نہیں ہوتا۔ پورا خاندان اس میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ میں نے بھی اپنے والد کی بیماری سے سیکھا کہ اس بیماری نے سارے خاندان کو متاثر کیا۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ خاندان ایک اکائی ہے۔ ہم اپنے مریضوں کو یہ مشورہ دیتے ہیں کہ گرین زون میٹنگ ہفتے میں ایک بار ہونی چاہیے۔ اس میں سب ایک میز کے گرد بیٹھیں اور مسائل پر تبادلہ خیال کریں اور ایک دوسرے کا خیال رکھیں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6 7

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail