مذہب، سائنس اور انسانی نفسیات


Bertrand Russell

ماہرین نے ہمیں بتایا ہے کہ دائیں دماغ کا ایک حصہ ہے جسے ہم ٹمپورل لوب TEMORAL LOBE کہتے ہیں۔ جس کا تعلق روحانیت اور تخلیقی صلاحیتوں سے ہے۔ کینیڈا میں ایک نیورالوجسٹ ہیں، یہاں پر نارتھ میں رہتے ہیں۔ انہوں نے ایک تجربہ گاہ بنائی ہے۔ انہوں نے ایک ہیلمٹ بنائی ہے۔ وہ ہیلمٹ اگر آپ کو تجربہ گاہ میں پہنا دیں تو وہ آپ کے ٹمپورل لوب کو STIMULATE کر دے گا۔ اسے فعال کرنے سے آپ کو ایسا تجربہ ہو گا جسے پرانے زمانے میں ہم روحانی تجربہ کہتے تھے۔ وہ جو روحانی تجربہ ہے وہ صرف مذہبی آدمی کو ہی نہیں۔ بلکہ اگر مجھ جیسا دہریہ بھی وہاں چلا جائے اور اسے بھی وہ ایکٹروڈ پہنا دیں تو مجھے بھی وہ روحانی مافوق الفطرت تجربات ہونے لگیں گے۔

اب دلچسپی کی بات یہ ہے کہ۔ چونکہ میں شاعر بھی ہوں کہ دائیں دماغ کا جو تجربہ ہے۔ جسے ہم روحانی یا تخلیقی تجربہ کہتے ہیں۔ دائیں اور بائیں دماغ کے درمیان جو پل ہے اسے ہم کورپس کلوسمCORPUS COLLOSUM کہتے ہیں۔ وہ تجربہ دائیں دماغ سے جب بائیں دماغ کو جاتا ہے تو وہ اسے پہچاننے سے انکار کر دیتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ یہ پیغام کسی اور کمرے، سیارے یا دنیا سے آ رہا ہے۔ اب وہ جو تجربہ ہے وہ انسانی تجربہ ہے اور تمام انسانوں میں یکساں ہے لیکن اس کی تشریح ’تعبیر اور تفہیم میں فرق ہے۔ اگر آپ مذہبی آدمی ہیں تو آپ کہتے ہیں کہ خدا کی طرف سے مجھے الہام ہوا ہے۔ اگر آپ فرشتوں پر یقین کرتے ہیں تو آپ کہتے ہیں یہ پیغام کسی فرشتے کے ذریعے مجھ تک پہنچا ہے۔ اگر آپ مجھ جیسے سیکولر ہیں تو آپ کہتے ہیں کہ یہ لاشعور سے آیا ہے۔

غالب نے جو شعر کہا تھا وہ بہت معنی خیز ہے۔
آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں
غالب صریر خامہ نوائے سروش ہے

یہ جو نوائے سروش ہے، فرشتے کی آواز، یہ دراصل دائیں دماغ کی آواز ہے۔ یہ لاشعور کی آواز ہے۔ یہ آپ کا اجتماعی تجربہ ہے۔ فرق یہ ہے فرائیڈ نے کہا کہ انفرادی لاشعور ہے، یونگ نے کہا کہ یہ اجتماعی لاشعور ہے۔ آپ کو کئی ایسے تجربات بھی ہوسکتے ہیں جو آپ کے ذاتی تجربات نہیں ہیں۔ کلچر، تاریخ کے واقعات۔ یہ ایک راز ہے اور میں نے اس پر جو کتاب لکھی ہے اس کا نام MYSTERIES OF MYSTICISM مسٹریز آف مسٹیسزم ہے، وہ اگر کوئی آپ کا دوست پڑھنا چاہے تو مفتی گروپ میں میں پی ڈی ایف فائل تحفے کے طور پر بھیج دوں گا۔ اس میں، میں نے روحانی تجربات کی مذہبی، روحانی، نفسیاتی اور سائنسی تحقیق کو ایک کتاب میں جمع کرنے کی کوشش کی ہے۔ جس کی جو روایت ہے وہ اسے سمجھ سکتا ہے۔ تجربہ ایک چیز ہے جب کہ اس کی تعبیر اور تفہیم علیحدہ چیز ہے۔ ہر انسان اپنے تجربے کو اپنی روایت، فلسفے یا عقیدے کے حوالے سے سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔

سٹیفن ہاکنگ نے فرمایا کہ
It is model dependent reality

ہم حقیقت کو ایک خاص عینک سے، ایک خاص نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں۔ یہ نقطہ نظر اس تجربے کو ایک خاص معنی دیتا ہے۔ معنی اس تجربے میں نہیں ہوتا۔ ہم اس کو معنی دیتے ہیں۔ جیسے آپ سے میں ملا ہوں اور آپ کا نام سہیل ہے تو مجھے یہ نام دیکھ کر خوشی ہوئی۔ اب یہ میرا نقطہ نظر ہے، اگر میں منفی سوچ کا ہوتا۔ تو میں کہتا میرا نام سہیل ہے اور اس نے بھی یہی نام رکھ لیا ہے تو میں آپ سے حسد کرنے لگتا۔ محبت، پیار، اپنایت۔ رشتے میں نہیں ہوتی۔ ہم اس میں ڈالتے ہیں۔ انسانی تجربات کو مختلف انسان اور روایتیں مختلف معانی دیتے ہیں۔

سہیل تاج: اگر ہم اس تھیوری سے اتفاق کریں کہ دماغ کے ایک حصے سے کچھ روحانی تجربات پھوٹتے ہیں اور انہی تجربات کو انبیا اور اولیاء نے محسوس کیا تو سوال یہ ہے کہ آج کے دور میں اس نوعیت کے تجربات سامنے کیوں نہیں آ رہے؟

ڈاکٹر خالد سہیل: ایسی بات نہیں ہے۔ یہ جو آگہی ہے جسے میں تخلیقی صلاحیت کہتا ہوں یہ ہر دور میں موجود رہی ہے۔ اس تخلیقی صلاحیت کو فعال کرنے کے اور سمجھنے کے صرف طریقے بدلے ہیں۔ مذہبی لوگ دائیں دماغ کے ٹمپورل لوب کو آج بھی مراقبے سے سٹیمولیٹ کر سکتے ہیں۔ آپ نماز سے کر سکتے ہیں۔ اگر آپ خشوع و خضوع سے نماز پڑھتے ہیں، آپ ورد کرتے ہیں، آپ اعتکاف کرتے ہیں۔ یہ جو اعتکاف اور چلہ کشی کا معاملہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ جو سٹیمولیشن ہو گی، وہ آپ کے علم اور تجربے کے مطابق ہو گی۔

اگر آپ چھوٹے شاعر ہیں تو دائیں دماغ کے سٹیمولیٹ ہونے پر آپ ادنیٰ قسم کا شعر کہتے ہیں اور اگر آپ غالب جیسے دانا ہیں تو آپ کا شعر بہت بڑا ہو گا۔ اگر آپ چھوٹے ولی ہیں تو آپ کی کرامت چھوٹی ہے۔ اگر آپ بڑے ولی ہیں تو آپ کی کرامت بڑی ہے۔ آپ چھوٹے سائنسدان ہیں تو آپ کی ایجاد بھی چھوٹی ہے۔ اگر آپ آئن سٹائن ہیں تو آپ کی سائنسی بصیرت بڑی ہے۔ سائنسی ’روحانی اور تخلیقی کام پہلے بھی ہو رہے تھے اور یہ کام آج بھی ہو رہے ہیں۔

مذہبی روایت میں اس تجربے کو جبرائل کا نام دیا گیا۔ شاعری میں نوائے سروش۔ گریکس نے یونانیوں نے اس کا نام میوزMUSE رکھا۔

امیوزمنٹ a۔ muse۔ mentکا لفظ میوز سے آیا ہے۔ میوز آپ کے لیے شاعری اور ادب کا تحفہ لاتی ہے۔ یہ ہمیشہ سے ہو رہا تھا اور اب بھی ہو رہا ہے۔

میں ایک مزاحیہ بات کہتا چلوں۔ میں نے علامہ اقبال کے بارے میں کہیں پڑھا تھا۔ کسی نے علامہ اقبال سے پوچھا کہ کیا آپ جبرائل کو مانتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ ہاں میں مانتا ہوں۔ پھر سوال ہوا کہ کیا جبرائل پیغمبروں کے پاس آتے تھے۔ اقبال نے جواب دیا کہ آتے تھے۔ پھر سوال ہوا کہ آپ کو تو پتہ نہیں، آپ کیسے مانتے ہیں؟ علامہ اقبال نے جواب دیا کہ اگر وہ میرے یپاس آ سکتا ہے تو ان کے پاس بھی آتا ہو گا۔ میں آدھی رات کو اٹھ کر پچیس شعر لکھ دیتا ہوں وہ بھی بغیر پہلے سے سوچے ہوئے۔

مجھ پر کیفیت طاری ہوتی ہے۔ جس کو ہم ٹرانس TRANCEکہتے ہیں۔ ہم ان چیزوں پر زیادہ بات نہیں کرتے کیونکہ لوگ بہت حساس ہیں اس معاملے میں۔ اگر آپ ایسی باتیں کریں تو لوگ کہیں گے کہ آپ مذہب کو چیلنج کر رہے ہیں لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ انسانی دماغ شروع سے لے کر اب تلک۔ کنفوشس سے لے کر آج تک۔ تخلیقی کام کر رہا ہے۔ ہمیں بصیرت دے رہا ہے۔ انسانی ارتقا میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ اس کو آپ روحانیت کہیں، اس کو شاعری کہیں یا اس کو نام جو بھی دے دیں۔ پہلے دائیں دماغ کو لوگ تصوف سے جگاتے تھے، مراقبے سے سٹیمولیٹ کرتے تھے، چلہ کاٹتے تھے۔ اب وہ کئی اور طریقوں سے بھی فعال ہو سکتا ہے۔

سہیل تاج صاحب۔ اب میں ایک ماہر نفسیات کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جن کا نام ابراہم میسلو ہے۔ انہوں نے روحانی تجربے کو نفسیات کے شعبے میں لانے کے لیے اس کا نام بدل دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب اسے آپ روحانی یا مذہبی نام دیتے ہیں تو گفتگو کہیں اور چلی جاتی ہے۔ انہوں نے اس کا نام دی پیک ایکسپیرینسز PEAK EXPERIENCESرکھا۔ یہ وہی روحانی تجربات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تجربات ایک عام آدمی کو بھی ہو سکتے ہیں اس کے لیے آپ کا ولی یا شاعر ہونا ضروری نہیں۔

ایک نانی ہے جو اپنے بچے سے کھیل رہی ہے، ماں ہے جو اپنے بچے کو دودھ پلا رہی ہے، آپ غروب آفتاب میں، آپ موسیقی سنتے ہوئے کھو جاتے ہیں، آپ کسی کی شاعری پڑھتے ہوئے عالم بے خودی میں چلے جاتے ہیں۔ آپ اپنی ذات کو بھول جاتے ہیں۔ چار گھنٹے گزر جاتے ہیں آپ وہی موسیقی سن رہے ہیں یا وہی شاعری پڑھ رہے ہیں۔ وہ جو کیفیت ہے اس میں کچھ تجربات ہوتے ہیں۔ جن کو عام زبان میں بیان نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ہمارے الفاظ کی ایک حد ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6 7

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail