"اکیسویں صدی اردو میں فکشن کی صدی ہوگی” گوپی چند نارنگ


اس عہد میں ناول کی روایت جو کمزور تھی، اس کی طرف پھر توجہ ہوئی ہے۔ کچھ ناول لکھے گئے جن میں قرۃالعین حیدر سر فہرست ہیں۔ عصمت چغتائی، عبداللہ حسین، انتظار حسین، شوکت صدیقی، ممتاز مفتی، جمیلہ بانو، خدیجہ مستور، بانو قدسیہ اور کئی دوسروں نے ناول لکھے ہیں۔ ادھر تو ہر شخص ناول لکھ رہا ہے۔ لیکن مجموعی طور پر ہمارے یہاں ناول کی بہ نسبت افسانے پر زیادہ توجہ ہے۔

افسانے کی روایت بہت وقیع ہے۔ اس کی وجہ ہماری قدیم روایت بھی ہے۔ مصوری میں جس طرح MINIATURE کو مرکزی حیثیت حاصل ہے اسی طرح شاعری میں غزل کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ کوئی صنف اپنے پیمانے سے چھوٹی بڑی نہیں ہوتی۔ جاپان میں شاعری کی جان ’ہائیکو‘ ہی ہے۔ اور جاپانی ثقافت کی پہچان ہے۔ ہر صنف کی بڑائی اور معنویت اس کی ثقافت کے حوالے سے ہی ہوتی ہے۔ بے شک غزل کا شعر آپ مغرب میں پڑھیں۔ لوگ کہیں گے یعنی چہ؟ IS THIS GUY CRAZYیعنی خیر باشد اس کو کیا ہو گیا ہے؟

لیکن غزل ہماری مرکزی صنف ہے۔ بڑے سے بڑا خیال غزل میں سما جاتا ہے۔ دنیا کے بہترین ذہنوں نے جمالیاتی سطح پر اپنا اظہار غزل میں کیا ہے۔ چونکہ غزل مرکزی صنف ہے جو ACT OF CONDENSATION کا اعجاز ہے۔ اس کا کچھ تعلق تو مشرقی ذہن سے بھی ہے۔ یہی بات افسانے کی ہے۔ اس کا سیدھا تعلق صدیوں کی کتھا اور کہانی سے ہے۔ کہانی کا لفظ بھی کتھا سے نکلا ہے۔ اسلامی روایت میں حکایت ہے۔ دونوں روایتوں کے کلاسیکی اور لوک ادب میں چھوٹی چھوٹی کہانیاں اور حکایتیں شامل ہیں۔ جن کا سرا موجودہ افسانے سے آ ملتا ہے۔ افسانہ فکشن میں بلا شبہ ہماری مرکزی صنف ہے۔

ایک زمانے میں اردو میں تھیٹر بھی تھا۔ لیکن تھیٹر آہستہ آہستہ پس پشت چلا گیا۔ اس کی معاشرتی وجوہات بھی معلوم ہیں۔ غرض یہ کہ پریم چند کے زمانے سے اردو کہانی کو توجہ ملی۔ اسے افسانہ، مختصر افسانہ اور افسانچہ کہا گیا۔ پریم چند کا زمانہ بیسویں صدی کے آغاز کا زمانہ ہے۔ اس کے بعد منٹو، بیدی اور کرشن چند کی مثلث معرض وجود میں آئی۔ جس سے اردو افسانے کا سنہرا دور شروع ہوا۔ اس طرح پچاس برس میں اردو افسانہ شباب تک پہنچ چکا تھا۔ آج انتظار حسین اور قرۃالعین حیدر پر اردو فخر کر سکتی ہے۔

آپ کو یہ سن کر خوشی ہوگی کہ HARPER COLLINSنے جنوبی ایشیا کے لیے ایک نیا ایوارڈ شروع کیا ہے۔ اور PENGUIN کے ساتھ مل کر انگریزی میں ایک نیا ادبی رسالہ ”یاترا“ کے نام سے نکالا ہے۔ جس میں ہندوستان، پاکستان، سری لنکا، بنگلہ دیش، نیپال اور کچھ اور ممالک کے ادب کا انتخاب شامل ہو گا۔ اس کا پہلا ایوارڈ انتظار حسین کو دیا گیا ہے جو اکیاون ہزار روپے کا ہے۔ اردو ادب کی فتوحات سے مسرت ہونی چاہیے۔ اب اکیسویں صدی کی چاپ صاف سنائی دے رہی ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ آنے والی صدی اردو میں فکشن کی صدی ہو!

جہاں تک اردو شاعری کا تعلق ہے فیضؔ اور فراقؔ کے بعد اب کون ہے؟ اختر الایمان البتہ اہمیت رکھتے ہیں۔ میرا جی، ناصر کاظمی، ن م راشد اور مجید امجد بس گزر گئے اور شاعری کا ایک دور ختم ہو گیا۔ ویسے امکانات سے کبھی انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن کوئی ایسی بات نظر نہیں آتی۔ یوں دیکھیں تو کون سوچ سکتا تھا کہ اقبال جیسی جید ہستی جس نے ایک بار پھر اردو شاعری کو میؔر اور غالؔب کی شعری سطح پر لا کھڑا کیا تھا، ان کے چند برس کے اندر ہی شعری افق پر ایک ایسی شخصیت اور ابھرے گی جو اپنی زندگی میں بھی LEGENDبن جائے گی، یعنی فیض احمد فؔیؔض۔

کہاں اقباؔل جن کی شاعری کا سارا INSPIRATION اور FOCUS مذہبی ہے اور کہاں فؔیؔض جس کا سارا رویہ غیر مذہبی ہے، یعنی سیکولر اور سوشلسٹ۔ دونوں کے موضوعاتی دائروں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ فیؔض، اقباؔل کے درجے کے شاعر نہیں، مگر اس میں کلام نہیں کہ فیؔض کے توسط سے دنیا کے بڑے سے بڑے فورم میں اردو شاعری کی آواز پہچانی گئی۔ اور ان کی انقلابی اور غنائی شاعری، اس عہد میں دنیا کی کسی بھی زبان میں کی گئی اس نوع کی شاعری کے مقابلے میں رکھی جا سکتی ہے۔ یہ اعزاز کوئی معمولی اعزاز نہیں ہے۔ میں یہ بات اس لیے کہہ رہا ہوں کہ ضروری نہیں کہ مقبولیت اہمیت کا بدل ہو۔ مقبول تو داغ بھی تھے۔ جو مقبولیت میڈیا کی راہ سے یا موسیقی سے حاصل ہوتی ہے، ضروری نہیں کہ وہ شعری اہمیت کا بدل ہو۔ لیکن فیض کی شاعری میں جمالیاتی اور شعری جوہر بھی بدرجہ اتم موجود ہے۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کے بعد کیا؟ میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ منظر نامہ خالی ہے۔ بہت سی شخصیتیں ہیں۔ بعض آوازیں دلچسپ بھی ہیں۔ یہ سب اپنا اپنا رنگ رکھتی ہیں۔ لیکن اس عہد میں کوئی فراق گورکھ پوری یا فیض احمد فیض جیسی قد آور شخصیت نہیں ہے۔ اختر الایمان بھی اپنا بہترین سرمایہ دے چکے ہیں۔ آئندہ کے بارے میں اگرچہ کہنا مشکل ہے، لیکن میرا خیال ہے کہ کئی دہائیوں تک شاعری کی سطح پر کسی عظیم آواز کے ابھرنے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔

البتہ فکشن میں یہ امکانات زیادہ ہیں۔ کئی نئے نام انتہائی سر گرم ہیں۔ بعض ادبی مراکز ایسے بھی ہیں جن میں فکشن لکھنے والوں کی تعداد شاعری لکھنے والوں کی تعداد سے زیادہ ہے۔ اردو میں اب بھی شاعری کی وجہ سے ہر دوسرا تیسرا آدمی شعر گوئی کرتا ہے۔ لیکن کون کتنا سنجیدہ ہے یہ ایک علیحٰدہ مسئلہ ہے۔ بیدی نے ایک دفعہ کہا تھا کہ افسانہ بھی شعر ہے لیکن بحر طویل میں لکھا ہوا۔ طویل بحر آدمی کا امتحان لے لیتی ہے۔ اس کے لیے EFFORT چاہیے۔

امکان ہے کہ آنے والی صدی فکشن کی صدی ہوگی۔ آج کل ریڈیو، ٹی وی، ویڈیو، سیٹلائٹ خاص کر ٹی وی ڈرامہ کا جو اثر ہے وہ تو آپ دیکھ ہی رہے ہیں۔ ٹی ڈرامہ بھی بنیادی طور پر ناول ہی کی قبیل سے ہے۔ ناول یا طویل کہانی کی بنیاد پر سکرین پلے مرتب ہوتا ہے۔ نئے تقاضوں کے باعث زیادہ توجہ فکشن کی طرف ہو گئی ہے۔ لیکن احتیاطاً یہ بھی کہتا چلوں کہ مشاعرے کا دارہ بھی ثقافتی طور پر چونکہ بہت اہم ہے، شاعری بھی برابر چلن میں رہے گی۔ لیکن افسوس ہے کہ مشاعروں میں جو شاعری سامنے آتی ہے، اکثر و بیشتر وہ سچی شاعری نہیں ہوتی۔ اگر فیض و فراق مشاعرہ پڑھتے تھے تو اس لیے کہ مشاعرے کو فیض و فراق کی ضرورت ہوتی تھی نہ کہ فیض و فراق کی شاعری مشاعرے کی محتاج تھی۔

سہیل : نارنگ صاحب! آپ کے خیال میں وہ اردو ادب جو ہندوستان میں تخلیق ہو رہا ہے۔ اپنی زبان یا تخلیقی جوہر کے حوالے سے اس اردو ادب سے کس طرح مختلف ہے جو پاکستان یا مغرب میں لکھا جا رہا ہے؟

نارنگ : جہاں تک مقامی موضوعات یا رنگ کا تعلق ہے تو مقامی معاشرتی رنگ مختلف ہو گا۔ لیکن جہاں تک ادبی رجحانات کا تعلق ہے، کوئی بڑا فرق نہیں ہے۔ ادبی تقاضے اور لسانی تشکیل ایک سی ہے۔ اچھا شعر خواہ ہندوستان میں لکھا جائے خواہ پاکستان یا کینیڈا یا لندن میں اس کی اچھائی برائی کی میزان ایک ہے۔ اگر اس سے شعریات کے بنیادی تقاضے پورے ہوتے ہیں۔ تو وہ اچھا شعر یا اچھا ادب ہے۔ اگر وہ ادبی معیار پر پورا نہیں اترتا تو ’سکہ کاسد‘ ہے۔

اگر شعر میں حسن ہے، لطافت ہے، تاثیر ہے، کیفیت ہے، انوکھا پن ہے، اجنبیت ہے، تازگی ہے، دل کو چھونے والا کچھ ہے، شعور کی کوئی نئی سطح ہے، نیا تجربہ ہے، جذبے کی نئی لہر ہے، بصیرت کا نیا دریچہ، تو شعر چاہے کسی نے کہا ہو، کہیں کہا ہو، زمین و زمان کی قید نہیں، وہ اعلٰی درجے کا شعر ہے۔ اسی طرح STORY TELLING کے بنیادی تقاضے ہیں۔ NARRATIVE کا STRUCTURE ہے۔ FICTIONAL DISCOURSE ہے۔ پلاٹ ہے، کہانی ہے، واقعیت ہے، کردار نگاری ہے، منظر نگاری ہے یعنی ہر وہ چیز جو بیانیہ کو بیانیہ بناتی ہے۔

اگر ان کے تقاضے پورے کیے گئے ہیں، تو وہ کہانی بھی خواہ کہاں لکھی جائے، لا محالہ ادب میں جگہ پائے گی۔ مقامیت بیانیہ میں ضروری ہے۔ ہندوستان کا لکھنے والا بہار میں کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے آدمی کے بارے میں لکھ سکتا ہے۔ جبکہ محمد منشا یاد راولپنڈی میں چرواہوں یا قصباتی زندگی یا پوٹھوہار کے لوگوں کی زندگی کے بارے میں لکھ سکتا ہے۔ یا کینیڈا کا ادیب تارکین وطن کے مسائل کے بارے میں لکھ سکتا ہے۔ جن پر اردو کے سواد اعظم سے باہر ہی لکھا جائے گا۔ تو مقامی رنگ کی سطح پر تو فرق ہو سکتا ہے۔ یہ رنگ الگ الگ ہو گا۔ لیکن شعریات ایک ہے۔ FINAL JUDGEMENT اس پر مبنی ہے کہ تحریر ادبی میزان پر پوری اترتی ہے یا نہیں۔

آپ کے سوال میں ایک اشارہ زبان کی طرف بھی تھا۔ اردو اب بہت پھیلی ہوئی زبان ہے۔ ایک زمانہ وہ تھا کہ میر نے کہا تھا کہ میری شاعری کو سمجھنے کے لیے دہلی کی جامع مسجد کی سیڑھیاں شرط ہیں۔ یہ طلسم اب جاتا رہا ہے۔ زبان کی معنویت وہ نہیں رہی۔ لیکن یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ معیار بھی ایک چیز ہے۔ انگریزی کو دیکھیں امریکی انگریزی، برطانوی انگریزی سے مختلف ہے۔ ہندوستانی اندریزی جو بہت ہی LOOKED DOWN چیز تھی۔ اب COLONIAL LITERATURE کے ذریعے ابھر آئی ہے۔

اس نے عالمی سطح کے ادیب پیدا کیے ہیں۔ کہنے کا مقصد یہ کہ روز مرہ اگرچہ ملکی اور مقامی ہوتا ہے۔ مگر زبان کے معیار کی نہج آفاقی ہوتی ہے۔ آج بھی دنیا میں ترجیح BRITSH PRONUCIATION کو دی جاتی ہے۔ اور بنیادی انگریزی جزوی اختلافات کے باوجود ایک NORM رکھتی ہے۔ اسی طرح پاکستان اور ہندوستان کی اردو کا مقامی مزاج الگ ہو سکتا ہے۔ یا باہر کی اردو کا مزاج ان ثقافتوں کو PROJECT کرے گا جن سے مقامی ثقافتیں دو چار ہیں۔

مثلاً خالد سہیل کا پس منظر اگر پشاور کا ہے تو وہ اپنے پس منظر سے اردو کی جو رنگت اپنے بچپن اور لڑکپن سے لے کر آئے ہیں وہ ان کی تحریر میں ضرور آئے گی۔ یہ فطری ہے اور اس پر کسی کو معترض ہونا بھی نہیں چاہیے۔ زبان کے رنگ جتنے زیادہ ہوں گے، زبان کے لہجے جتنے زیادہ ہوں گے، جتنے زیادہ اس کے انگ اور اسالیب ہوں گے، جتنی اس کی لسانی کیفیتیں زیادہ ہوں گی، اتنی زیادہ وہ زبان دولت مند ہوگی۔ زبان میں تلفظ، روزمرہ اور استعمال عام سے گھبرانا نہیں چاہیے۔

واضح رہے کہ ان باتوں سے زبان کی طاقت میں اضافہ ہوتا ہے۔ البتہ ہر لکھنے والے کو یہ کوشش کرنا پڑتی ہے کہ زبان کا ABSTRACT نظام ہے جس کی وجہ سے وہ عمل آراء ہوتی ہے۔ (اور ایسا نظام ہر زبان کا ہوتا ہے، جس کی ایک مجرد بنیاد ہوتی ہے، جس پر تمام مزاجوں کو اپنے آپ کو ڈھالنا پڑتا ہے ) ۔ ہر لکھنے والے کے لیے اس آئیڈیل تک پہنچنا ضروری ہے۔ اس آئیڈیل اور PERFECTION تک پہنچنے کی کوشش ادبی تخلیقی عمل کا حصہ ہے۔ لیکن اس کی بلندیوں تک کوئی میرؔ، غاؔلب یا اقؔبال ہی پہنچ سکتا ہے۔

اقبال اردو کے اہل زبان نہیں تھے۔ شاید اپنے نام کا تلفظ ہی صحیح نہیں کرتے تھے۔ ’حقہ‘ بھی ’ک‘ ( کشش) سے طلب کرتے تھے۔ لیکن انھوں نے جو شاعری کی ہے اس میں زبان کی بلند ترین شان نظر آتی ہے۔ جو اس کا اعلٰی ترین معیار بھی ہے۔ گویا ادیب اپنے رنگ و آہنگ کے ساتھ لکھنے کا مجاز ہے لیکن کوشش یہی ہونی چاہیے کہ تخلیقات زبان کے بنیادی معیار پر بھی پوری اتریں۔

سہیل : آپ نے آج گفتگو کے دوران کئی دفعہ ادبی معیار، جمالیاتی معیار اور لسانی معیار کا ذکر کیا ہے۔ یہ معیار کیا RELATIVE ہیں یا ABSOLUTE؟ اور ان پر مختلف مکاتب فکر کا کہاں تک CONSENSUS ہے؟

نارنگ : سارے معیار بالکل۔ RELATIVE یعنی اضافی ہیں۔ کوئی بھی معیار متعینہ یعنی FIXED یا مطلق یا ABSOLUTE نہیں ہے۔ بلکہ مارکسزم کے نقطہ نظر سے تو جتنے بھی سابقہ جمالیاتی معیار ہیں وہ سب بورژوا ہیں۔ اور اس طبقے نے بنائے ہیں جس کو مزاغت تھی اور جس کے پاس سرپرستی کے وسائل تھے، تخلیقی اذہان کو خرید سکتا تھا اور ان کو اپنی راہ پر چلا سکتا تھا۔ سارے جمالیاتی معیار خوا وہ شاعری کے ہوں یا آرٹ کے اسی طبقے نے پیدا کیے ہیں، جسے اشرافیہ کہتے ہیں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail