"اکیسویں صدی اردو میں فکشن کی صدی ہوگی” گوپی چند نارنگ
اردو میں فصحا کا تصور ہے مگر بیل گاڑی جوتنے والے کا شمار کبھی فصحا میں نہیں کیا گیا۔ نئے معیار اگر مسلمہ ہو بھی جائیں تب بھی بدلتے رہیں گے۔ کیونکہ طبقات میں کشمکش تو رہے گی۔ سارے انسان ایک سطح پر تو آ نہیں سکتے۔ آپ نفسیات کے ماہر ہیں مجھ سے بہتر جانتے ہیں کہ مادی طور پر پوری انسانیت اگر ایک سطح پر آ بھی جائے یعنی معاشی مساوات ہو جائے جو ایک خوش کن خیال ہے، تب بھی ذہنی طور پر ایک سطح پر نہیں آ سکتی۔ جو طبقہ زیادہ فعال ہو گا وہ معیار قائم کرے گا۔
اور معیار چونکہ آئیڈیالوجی کی رو سے ہیں اس لیے اضافی ہیں۔ معیاروں کے CONSESUS کے بارے میں جو آپ نے پوچھا ہے تو CONSENSUS بھی آئیڈیالوجیکل ہے۔ اس کو اشرافیہ یا فنون کی سرپرستی کرنے والے طے کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر مشاعرے میں فیض کو سنتے ہوئے ایک مزدور یا کسان یا مل ورکر یہ طے نہیں کرتا کہ فیض کی نظم : ”آج بازار میں پابجولاں چلو“ کی معنویت کیا ہے۔ وہ نظم پر اسلی سر دھنے گا یا مسرت کا اظہار کرے گا کہ دوسرے کرتے ہیں۔ اور یہ دوسرے اشرافیہ ہیں۔ یوں CONSENSUS پیدا ہوتا ہے۔ لیکن یہ CONSENSUS اصلی نہیں، آئیڈیالوجیکل ہے، اس لیے اضافی ہے۔
تیسری بات یہ کہ ادھر یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ ہر چیز لسانی DISCOURSE سے پیدا ہوتی ہے۔ ادب جو کچھ بھی ہے زبان کے حوالے سے ہے۔ آپ جو کچھ سوچتے ہیں، ادراک کرتے ہیں اور جس کا اظہار کرتے ہیں وہ بس زبان کے ذریعے سے ہے۔ کیونکہ انسان کی PERCEPTION اور COGNITION صرف اسی قدر ہے جس قدر کہ زبان انسان کو اس کی اجازت دیتی ہے۔ اور زبان ثقافت کے اندر ہے۔ مثال کے طور پر فرانسیسی میں GREY کے لیے تین نام ہیں جبکہ انگریزی میں صرف ایک نام ہے۔
اس کا یہ مطلب نہیں کہ GREY کے وہ شیڈ انگریزی کلچر میں نہیں ہیں۔ حقیقت میں تو ان کا وجود ہے، مگر انگریزی میں ان کو الگ تسلیم نہیں کیا گیا۔ وہ الگ معلوم نہیں ہوتے یا آنکھ ان کی الگ پہچان نہیں کر سکتی۔ اسی طرح KINSHIP کو لیجیے۔ ہمارے یہاں جو رشتے داریاں ہیں۔ ان میں بھانجے بھتیجے، چچا چچی، تایا تائی، ماموں ممانی، خالو خالہ وغیرہ سب کے لیے الگ الگ الفاظ ہیں۔ انگریزی میں ان کے لیے صرف NEPHEW، COUSIN، AUNT اور UNCLE کے الفاظ ہیں۔
اس کا یہ مطلب نہیں کہ مغرب میں خالہ یا خالو نہیں ہوتے ہیں۔ لیکن انگریزی زبان کا نظام ان کو الگ سے DISTINGUISH نہیں کرتا۔ الگ سے MARKOUT نہیں کرتا۔ حقیقت تو ایک تسلسل CONTINUUM ہے۔ ہم صرف اس چیز کو OBJECTIFY کر سکتے ہیں۔ جس کو ہم لسانی ڈسکورس سے پہچان سکیں۔ چنانچہ بنیادی سوال یہ ہے کہ صدیوں سے جس چیز کو ہم لٹریچر کہتے چلے آتے ہیں کیا لٹریچر صرف وہی ہے؟ دریدا نے جہاں معمولہ معنی کو پلٹ دیا ہو وہاں اس نے دونوں کی سرحدوں کو ملا دیا ہے۔
HE HAS TREATED PHILOSOPHY AS LITERATURE AND LITERATURE AS PHILOSOPHY.
تاریخ کے بارے میں بھی یہ سوال ابھرتا ہے کہ تاریخ بیانیہ ہے اور بیانیہ تاریخ ہے۔ ایک ادب وہ ہے جو انسان کو بیدار کرنے کے لیے بطور POLITICAL DISCOURSE لکھا جاتا ہے۔ اور ایک ادب ذہنی تفریح کے لیے لکھا جاتا ہے۔ دبستان لکھنؤ کی بہت سی تحریریں اسی زمرے کی ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ ہم اسی ’ادب‘ کو ’ادب‘ کہتے ہیں جو ذہنی تفریح کے لیے لکھا گیا ہو۔ اور اس کو ادب نہیں کہتے بلکہ پروپیگنڈا اور نعرے بازی کے خانے میں ڈال دیتے ہیں جو عوام کی بیداری کے لیے لکھا گیا ہو اور جس میں پیغام کو فوقیت حاصل ہو۔ ادب کے پیمانوں کے بارے میں یہ گفتگو برابر جاری ہے۔
اب بنیادی سوال موضوع انسانی HUMAN CONCIOUSNESS کا بھی ہے۔ انسانی کلچر جو HUMANISM سے جڑا ہوا ہے دو تین صدیوں سے پرانا نہیں ہے۔ انسان جس کی تعمیر میں لاکھوں صدیاں بیت گئی ہیں، اس میں دو تین صدیاں معمولی زمانہ ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا کہ کیا CONCIOUSNESSجس سے جمالیات کی اقدار ابھرتی ہیں، خود ایک MYTH نہیں ہے؟ ڈیکارٹ کا مشہور قول ہے : I AM BECAUSE I THINK۔
اگر یہ تشکیل محض ہے تو اس کی بنیاد یعنی اصل یا حقیقت کیا ہے؟
THE WAY AESTHETICS IS A CONSTRUCT OF THE CONCIOUS NESS AND SINCE CONCIOUSNESS IS FICTIVE. AESTHETICS IS IN ITS FINAL ANALYSIS IS ALSO FICTIVE.
سہیل : نارنگ صاحب! دینا بھر کے انسانوں کے حواس خمسہ تو ایک جیسے ہیں۔ اور ان کی جسمانی اور دماغی خصوصیات بھی ایک طرح کی ہیں۔ جن کی وجہ سے پوری انسانیت میں چند خصوصیات مشترک ہیں۔ لیکن معاشرتی عوامل ان کو مختلف رنگوں میں ڈھالتے ہیں۔ وہ بچہ جو ایسے پختونی ماحول میں پلا بڑھا جہاں صرف پشتو بولی جاتی ہو، اس بچے سے جو یورپ کے ایسے ماحول میں پلا بڑھا ہو جہاں چار زبانیں بولی جاتی ہوں، دنیا کو مختلف انداز سے دیکھتا ہے۔ آپ کے خیال میں HUMAN UNITY اور HUMAN DIVERSITY کے پہلو کہاں بغلگیر ہوتے ہیں؟
نارنگ : حواس خمسہ تو بے شک ایک سے ہیں مگر لسانی ڈسکورس تو ہر کلچر کا الگ ہے۔ انسانی برادری کا تشخص حواس سے نہیں بلکہ کلچر کی الگ الگ شناخت سے ہے۔ پختون بچہ صرف اتنا سوچ یا سمجھ سکتا ہے جتنا اس کے کلچر کا دائرہ ہے۔ اور یورپی بچے کا ادراک اگر کثیر ثقافتی ہے تو اس میں لا محالہ فہم و ادراک کی وسعت زیادہ ہوگی۔ زبانیں اور کلچر الگ الگ ہیں۔ اسی لیے انسانی وحدت سے انسانی کثرت زیادہ فعال اور کار گر ہے۔ فلسفے اور ثقافت میں وحدت کا تصور ناکام ہو چکا ہے۔ وحدت آمریت کا دوسرا نام بھی ہے۔ یاد رہے :
DIVERSITY IS MUCH MORE REAL، MUCH MORE SIGNIFICANT AND MUCH MORE VIBRANT THAN UNITY.
وحدت ایک تصوراتی چیز ہے۔ جبکہ LINGUISTIC، ETHNIC اور CULTURAL DIFFERENCES حقائق ہیں جو DIVERSITY کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ انسان نے برسوں کے تہذیبی ارتقاء سے اگر کوئی سبق سیکھا ہے تو وہ یہ ہے کہ DIVERSITY کو مصنوعی طور پر ختم کر کے وحدت میں ڈھالنے کی کوشش غیر انسانی ہے اور اگر غیر انسانی نہیں تو غیر تخلیقی ضرور ہے۔
آپ کے سوال کے دو حصے ہیں BIO LOGICAL اور CULTURAL۔ حیاتیاتی طور پر کرہ ارض پر انسان کی اوسط عمر بڑھ رہی ہے۔ ادھر انسان کی جسامت اور لمبائی بھی بڑھ رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا انسان کی COGNITION بھی بڑھ رہی ہے یا نہیں؟
CULTURALLY دنیا کو ایک کرنے کی جتنی بھی کوششیں کی گئی ہیں، ان کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ CULTURAL KINSHIP جو بھی ہے وہ ETHINIC ROOTS سے جڑی ہوئی ہے۔ یہ لا شعوری ہے اور ہر وہ چیز جو لا شعوری جڑیں رکھتی ہو، اس کو کوئی منطق یا شعوری کوششیں ختم نہیں کر سکتیں۔ لا شعور بار بار چھاپا مارتا ہے۔
میرا معروضہ یہ ہے کہ انسانی DIVERSITYانسانی UNITYکی نسبت زیادہ حقیقی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایسی کیا صورت ہو کہ یہ DIVERSITY، CONFLICT کا ذریعہ نہ بنے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اب تک جتنی تجاویز سامنے آئی ہیں ان میں سے کوئی بھی کار گر ثابت نہیں ہوئی۔ سارے فلسفے خواہ کمیونزم ہو یا EXISTENTIALISM، ناکام ہو چکے ہیں۔ اس سے اقدار کی دنیا میں CRISIS پیدا ہو رہا ہے۔ گویا LINGUISTIC DISCOURSE ہی واحد قدر ہے جس سے باقی سب قدریں قائم ہوتی ہیں۔ اس وقت البتہ ENLIGHTENMENT کی راہ تو اس مارکیسزم کے پاس ہے جسے دریدا OPEN MARXISM کہتا ہے۔ یعنی آزاد یا غیر مشروط مارکسزم، جس میں امید کی کرن باقی ہے یا ان مشرقی فلسفوں کے پاس ہے جو روحانی سر چشموں سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان کے علاوہ باقی تمام فلسفے ناکام ہو چکے ہیں۔
سہیل : جب ہم OBJECTIVE TRUTH کے متلاشیوں کی بات کرتے ہیں تو ہمیں دو طرح کے گروہ ملتے ہیں۔ ایک گروہ زندگی کو MICROSCOPE کے حوالے سے دیکھتا ہے اور فرد کی گہرائیوں پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ چاہے اس میں PSYCHOLOGIST شامل ہوں یا BIOLOGIST۔ اور دوسرا گروہ زندگی کو TELESCOPE کے حوالے سے دیکھتا ہے اور زندگی کی معاشرتی حقیقتوں پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ چاہے اس میں HISTORIANS ہوں یا SOCIALOGIST۔ آپ کے خیال میں کیا ان دونوں گروہوں کا آپس میں ملاپ ہو سکتا ہے؟ اور کیا ان دونوں گروہوں کے نمائندے آپس میں ایک MEANINGFUL DIALOGUE کر سکتے ہیں؟
نارنگ : اول یہ کہ OBJECTIVE TRUTH تو کوئی ہے ہی نہیں۔ سچائی یا حقیقت جو بھی ہے اضافی ہے یا کسی نہ کسی حوالے سے ہے۔ مثلاً سائنس میں بھی جو بات آج سچ ہے وہ کل غلط ثابت ہوتی ہے۔ یعنی جو بھی نئی دریافت سامنے آتی ہے وہ پرانی کو مسترد کر دیتی ہے، جو آج تک سچائی تھی۔ سائنس میں ہر قدم کسی نہ کسی POINT OF REFERENCE سے ہوتا ہے۔ جو کچھ نیوٹن نے ثابت کیا تو اس سے پہلے جو سچائی تھی وہ غلط ثابت ہو گئی اور ایک نئی سچائی سامنے آ گئی۔
ہمارے عہد میں جو کچھ آئن سٹائن نے ثابت کیا تو اس سے پہلے جو کچھ سچ تھا وہ غلط ثابت ہو گیا اور ایک نئی سچائی سامنے آئی۔ سائنس میں ہر لمحہ کچھ نہ کچھ بدل رہا ہے۔ جس کو ہم TRUTH کہتے ہیں وہ برابر تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ دوسرے علوم کا بھی یہی حال ہے۔ اس طرح ’خوردبینی علوم‘ اور ’دور بینی علوم‘ میں مکالمہ جاری ہے۔ گسسالٹ نفسیات کا کلی تصور اسی سمت میں قدم تھا۔ درخیم کی عمرانیات میں بھی یہی کوشش ملتی ہے۔ عوام کے مابین مکالمہ ساختیات میں اعلٰی سطح پر ملتا ہے۔
لیکن سچ کی گارنٹی کسی کے پاس نہیں۔ معلوم نہیں ادب کو آپ کس زمرے میں رکھیں گے۔ سائنس اور دیگر علوم کے مقابلے میں جب ہم ادب کی دنیا میں آتے ہیں تو یہاں حکمرانی تخیل اور وجدان کی ہے جو OBJECTIVE TRUTH کی منزلوں کو پھلانگ جاتا ہے اور TOTAL TRUTH یعنی کل سچائی اور استغراق کی اس سطح پر گفتگو کرتا ہے جہاں زمان و مکان ایک ہو جاتے ہیں اور وقت تحلیل ہو جاتا ہے۔ یہ منزل وجدان کی ہے جو روحانیت یا اعلٰی تصوف سے ملتی جلتی ہے۔ تخلیقات کا مقام یہی ہے۔ ادب کا قلمرو یہی ہے۔ جہاں کلی سچ جلوہ گر ہے۔ ہمارے عہد کے CRISIS کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نئے فلسفوں میں مابعد الطبیعات کی گنجائش نہیں ہے۔
سہیل : جی تو چاہتا ہے کہ گفتگو کا سلسلہ جاری رہے لیکن وقت خاصا ہو گیا ہے۔ یہ گفتگو بہت دلچسپ رہی۔ اس لیے اب اجازت دیں۔
نارنگ : بہت مناسب۔

