کمشنر پنڈی اور جنرل ضیا کا ریفرنڈم


منٹو نے اپنا افسانہ رسوائے ادب مگر بہترین افسانہ ”بو“ یوں شروع کیا ہے :

”برسات کے یہی دن تھے۔ کھڑکی کے باہر پیپل کے پتے اسی طرح نہا رہے تھے۔ ساگوان کے اس اسپرنگ دار پلنگ پر، جو اب کھڑکی کے پاس سے تھوڑا ادھر سرکا دیا گیا تھا، ایک گھاٹن لونڈیا، رندھیر کے ساتھ چمٹی ہوئی تھی۔”

فروری کی سردیوں کے یہی دن ہیں۔ ان ہی دنوں نمی نمی دھوپ میں کمشنر راولپنڈی ریٹائرمنٹ سے یہی کوئی پندرہ روز قبل رات کی تاریکی میں الیکشن 2024 کو، رندھیر مان کر چمٹ گئے اور صبح وصل، خودکشی سے لے کر خود کو گولی مارنے تک تمام پیشکش ایک ہی سانس میں کر ڈالی

کمشنر بہادر کس آغوش جفا شعار کی تحویل میں ہیں، اس راز کی اسے خبر ہو تو ہو، جو مریخ پر رنگلے پلنگ بچھا کر پکھیاں جھل جھل چناؤ کا نتیجہ جوڑ رہا ہے۔ ہمیں ہرگز نہیں، اردو کے ایک شاعر نے کہا تھا
عشق کا حال بیسوا جانیں
ہم بہو بیٹیاں یہ کیا جانیں
سو کمشنر اور دیگر معاملات میں بہو بیٹی بن کر رہنا ہی عین سلامتی ہے۔ بہت سے باشندگان مملکت کو اس جمع تفریق کی تاخیر دیکھ کر لگتا ہے انسان نے کمپیوٹر اور آرٹیفشل انٹیلی جنس تو چھوڑ، ابھی تک Electronic Numerical Integrator And Computer (ENIAC) بھی ایجاد نہیں کیا

ایسا ہی اندھیر ضلع غربی کے اس ریفرنڈم میں مچا جو جنرل ضیا دور میں ہوا

پانچ جولائی سن 1977 کو اللہ کے جس با برکت نام سے جنرل ضیا نے اقتدار پر شب خون مارا تھا اسے سات برس سے زائد ہو چلے تھے۔ انہیں اپنے عسکری اقتدار کا مشرف بہ اسلام اور مزید پانچ برس کا دوام کرنے کا خیال تو کئی ماہ پہلے آ گیا تھا مگر اسے شرف رائے دہی بخشنے کا اہتمام ان کی افتاد فولادی نے 19 دسمبر 1984 کی ایک صبح کو برپا کیا۔

جالندھر کے ٹیپو سلطان ایسا نہ کرتے تو کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ پاکستانی عوام جانتے ہیں کہ طاقت سے قبضہ صرف طاقت چھڑا سکتی ہے۔ یہ سرزمین چونکہ فرانس، روس، چین، ویت نام، ایران کی طرح ایک زبان نہیں اور یہاں والٹیئر، روسو، مارکس، ڈاکٹر علی شریعتی جیسے مفکران انقلابی صرف ٹیلی ویژن اینکرز کی صورت میں پائے جاتے ہیں جو اپنا بیانیہ غرفہ طاقت (balcony of power) کے ابروئے دلدار کے خفیف سے اشارے اور گراں بار لفافے کی مروت میں یوں بدلتے ہیں جیسے آسودہ حال ماں جیسے نازوں سے جنم دیے پہلے بچے کے پوتڑے ( (diapers) بدلتی ہے۔

عجب تضاد یہ ہے کہ جنرل ایوب ہوں کہ مشرف ان کی نفسیات میں یہ بھیانک احساس ندامت ضرور موجود رہتا ہے کہ مہذب معاشروں میں طاقت قانون کے تابع ہوتی ہے سو وہ کسی نہ کسی صورت ایک شوریٰ ضرور برپا کرتے ہیں

کچھ ایسا ہی پریم سپنا جنرل محمد ضیا الحق نے بھی دیکھ رکھا تھا سو ریفرینڈم کا کہرام مچ گیا۔ عوام سے ووٹ کی صورت میں پوچھا گیا کہ کیا وہ جنرل ضیا کہ ان تمام اقدامات زرین کی حمایت کرتے ہیں جو وہ اس ریاست کے قوانین کو قرآن اور سنت کی روشنی میں ہم آہنگ کر کے نافذ کرنا چاہتے ہیں اور کیا وہ اس بات کے حامی ہیں کہ پاکستان کا وجود اسلامی نظریے کی روشنی میں ڈھالنے کے لئے ان کی تائید جاری رکھی جائے۔ سو ریفرنڈم کے انعقاد کی تیاریاں جاری ہو گئیں۔ تب کراچی کا ضلع وسطی جو سن 1987 میں تشکیل دیا گیا ضلع غربی کا حصہ تھا۔ ہمارے زیر نگرانی دو تھانے جوہر آباد اور گلبرگ تھے۔ جوہر آباد کو شہرت دراصل نائن زیرو کی وجہ سے ملی۔

یہاں قائد تحریک کی مہاجر قومی موومنٹ کا ہیڈ کوارٹر بنا۔ یہ الطاف بھائی کی رہائش گاہ تھی کے ڈی اے کے ریکارڈ میں جس کا نمبر 494 / 8 یعنی عزیز آباد کے بلاک آٹھ کا گھر نمبر 494۔ ایم کیو ایم تب تک منشا شہود پہ نہیں آئی تھی۔ نائن زیرو دراصل اس گھر کے فون نمبر 673690 کے آخری دو ہندسے تھے۔ تحریکی ساتھی اپنے بڑوں کی ہدایت پرA touch of decency دینے کے لیے دبے الفاظ میں دوسرے ساتھی کو کہتے تھے، "بھائی میاں نائن زیرو جا ریا ہوں. فکری نشست ہے“

بات ریفرینڈم کی ہو رہی تھی۔ اصل میں آپ جیسے قاری کا ساتھ ہو تو دل بلاوجہ فلم سلسلہ کے امیت ملہوترآ اور چاندنی (امیتابھ ریکھا) کی طرح یادوں کے ٹیولپ کے کھیتوں میں کلکاریاں مار کر "لو کہاں آ گئے ہم” گانے کو کرتا ہے

انتظامی حوالوں سے تاحال ایک مارشل لا کا مزاج انداز حکمرانی پر غالب تھا اس لیے لیاقت سب ڈی ویژن جو آٹھ تھانوں پر مشتمل تھا جس کا ایک تھانہ منگھو پیر بلوچستان کی سرحد کو چھوتا تھا۔ اسے تین حصوں میں ریفرنڈم کی خاطر عارضی طور پر بانٹ دیا گیا۔ ریفرنڈم کا غلغلہ بلند ہوا تو فرشتوں کی صف سے ایک میجر صاحب علاقہ انچارج بن کر آ گئے۔ ان کا حکم تھا کہ چونکہ ووٹرز کو لانے لے جانے کی سہولت عام حالت میں تو امیدوار بہم پہنچاتے ہیں۔ لہذا بہتر ٹرن آؤٹ کے لیے مناسب یہ ہو گا کہ جو بھی بلڈنگ اس قابل ہو کیا پبلک کیا پرائیویٹ اسے پولنگ اسٹیشن بنا دیا جائے۔ یوں عام چناؤ کی نسبت پولنگ اسٹیشنوں کی تعداد ایک کی جگہ چار ہو گئی۔ تعلیمی اداروں سے اتنے استاد ملنا مشکل تھا لہذا چوہدری صاحب علاقہ ایس ڈی ایم نے تجویز دی کہ بنک اب بھی سرکاری تحویل میں ہیں۔ ان کا عملہ طلب کیا جائے۔


میجر صاحب کہ مدھ بھریاں تھیں اکھیان جن کی باتیں پھل جڑیاں۔ بے زبان، بے اعتبار، بلی کو شیر سمجھنے والی سرمئی آنکھوں والے، چھ فٹ سے نکلتا قد، مونچھیں، پاٹ دار آواز۔ سویلین افسران کو دھول، ببول اور بگولوں سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے تھے۔ سہولت کے لیے ان کا نام میجر محمد علی رکھ لیتے ہیں ویسے خفیہ اداروں کے افسران کا اصلی نام صرف والدہ کو معلوم ہوتا ہے۔ ہم سے جلد دوستی ہو گئی۔ حس مزاح اچھی تھی کوئی دیکھ سن نہ رہا تو قہقہہ بھی لگا لیتے تھے اور چند ایک گالیاں بھی با آواز بلند دے دیا کرتے تھے۔ اس جانب توجہ دلاؤ تو فرماتے کہ ان گالیوں میں اللہ کے عطا کردہ اعضائے انسانی کا تذکرہ ہوتا ہے۔ ویسے بھی اس عمر تک تو ہم سب ایک دوسرے کو جسمانی طور پر اچھی طرح دیکھ بھال چکے ہوتے ہیں سو گاہے گاہے ان کا ذکر بھی لطف بیاں کو بڑھا دیتا ہے۔ ان کی شخصیت کی اٹھان اور Swag دیکھ کر ضلع غربی کے عملے کا خیال تھا کہ محسود یا وزیر قبیلے کے ہیں مگر دو دن بعد جب بلڈی سویلینز کو اپنے سے زیادہ قابل اور کشادہ مزاج پایا تو سرکاری دوستوں پر راز کھول دیا کہ ان کا گھرانا رامپور کا درانی قبیلہ ہے۔ جس کی تعریف ماؤنٹ اسٹوارٹ الفنسٹن نے بھی کی ہے اور ان کی کتاب

An Account of the Kingdom of Caubul
اس تعریف سے بھری پڑی ہے

افسروں کی محفل میں اسٹوڈنٹ بریانی زردے اور رائتے کی اودھم دھاڑ میں میجر صاحب کے نجیب الطرفین ہونے کی دھوم ایسی مچی، ہمارے ان سے بیس سال تعلقات رہے اس کے بعد میجر صاحب نے مجال ہے بھولے سے کسی کتاب کا نام لیا ہو

چوہدری صاحب کی تجویز پر جب سب مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بریگیڈئیر ریاض کے دفتر سے فون کھڑکے شہر بھر کے بنکوں سے مرد اور خواتین افسران کی ایک بڑی تعداد نے ڈپٹی کمشنر کے دفتر پر لنچ سے پہلے پہلے رپورٹ کیا۔ بریگڈئیر صاحب نے ان کی آمد سے قبل صبح کی بریفنگ میں اعلان کیا کہ انہوں نے میجر جنرل شیر افضل صاحب (ڈی ایم ایل اے ) سے وعدہ کیا ہے کہ ان کے اپنے رجواڑے ضلع غربی میں ووٹنگ کا ٹرن آیوٹ پچھتر فیصد تک رہے گا So boys its a done deal۔ Major Ali is your one man SSG unit

بنک سے آنے والی خواتین افسر تعلیم کھاتے والیوں کی نسبت تیز و طرار، دنیا دار مگر ڈپٹی کمشنر کی طاقتور دنیا اور اس کے بے پناہ اختیارات سے نا واقف تھیں۔ جنرل مشرف سے پہلے کی مجسٹریسی، گورے کے عہد کی یادگار تھی۔ اصلی تے وڈی سرکار

A government on two legs

انہی نازنین افسروں میں دراز قد، اداکارہ تبو جیسی شکل اور لب و لہجے والی مگر اس سے کہیں زیادہ خوش لباس نوشین چھٹہ بھی تھی۔ ناز و ادا اور حرکات میں ایک عجب سا دلبرانہ Throw تھا۔ ایک بے چارگی جو آپ کو بلاوجہ محمد بن قاسم بننے پر اکساتی تھی۔

اب آپ کو اس کالم میں آگے چل کر پنڈی والے کمشنر لیاقت چھٹہ اور بنک والی نوشین چھٹہ میں کوئی مماثلت ملے تو اس میں سارا فساد ان کے جاٹ ہونے کا ہے۔ جو من میں آئے سو کر گزرنے والے جاٹ۔

نوشین صاحبہ نے سب سے پہلے اس نے اس بڑے ہال کے ایک کونے میں اپنی میز پر براجمان میجر محمد علی کی نگاہوں کے مارچ پاسٹ کو نظر انداز کرتے ہوئے چوہدری صاحب کی طرف رخ کیا۔ اس نے دور سے ان کی پنجابی میں کسی پولیس افسر سے فون پر گفتگو سن لی تھی۔ چوہدری صاحب بہت خوش مزاج تھے۔ انگریزی بولتے تو لگتا جھوٹ بول رہے ہیں۔ اردو بولتے تو لگتا ناراض ہیں۔ اس کا نام اپنی ماسٹر لسٹ میں نہ پاکر انہوں نے اسے کسٹم سے ڈیوٹی پر آئے ملک صاحب کی طرف بھیج دیا۔ ملک صاحب کا ائرپورٹ پر کام کچھ اس نوعیت کا تھا کہ ان کی نگاہ تین سو ساٹھ ڈگری کے سی سی ٹی وی کیمرے کی طرح کہیں رکتی ہی نہ تھی۔ اندازے زیادہ لگاتے، بولتے کم تھے۔ نوشیں کا نام وہاں بھی نہ تھا سو اسے ہماری جانب پنجابی بول کر بھیج دیا۔ اس کا نام ہماری لسٹ میں تھا۔ ہماری تجویز پر نشست افروز ہوئی تو کہنے لگی ”سر ایتھے آن کر میں نوں اینی خوشی ہوئی کہ سارے افسر ایتھے پنجابی نے،“

ہم نے پنجابی میں ہی پوچھ لیا کہ تہاڈی ڈیوٹی لالو کھیت دے ”بی“ ایریا والے گورنمنٹ کالج وچ لا دینے آں؟

خوف سے پیلی پڑ گئی کہنے لگی ”سر اے مہاجراں دیاں زنانیاں وی بہت ڈاہڈیاں ہوندیاں نے۔ میں نوں ایناں توں بہت ڈر لگدا اے۔ میری ڈیوٹی تسی اپنے نال ای رکھو۔
” (سر یہ مہاجر خواتین بھی بہت زور آور ہوتی ہیں۔ میری ڈیوٹی آپ اپنے ساتھ رکھیں ’)
ہم نے کہا پوچھ لیا کہ بنک میں آپ کیا کارنامے دکھاتی ہیں؟
مسکرا کر فرمایا شماریات ونگ کی ace tabulator ہوں۔ جمع تفریق کی ماہر، ویسے آپس کی بات ہے۔ ہم پنجابی تفریق کم کرتے میں مگر جمع زیادہ کرتی ہوں پرسنٹ ایج نکالنی ہو۔ قرض کی رقم میں چالبازی کرنی ہو۔ بنک کے بڑے اور پارٹیاں مجھ سے مشورہ کرتی ہیں۔ میرے باس کہتے ہیں کہ میں آئی ایم ایف تک کو چونا لگا سکتی ہوں۔

ہم نے کہا تو بہت قابل ہے ابھی تیرا آرڈر اسٹنٹ الیکشنر کمشنر محبوب انور کو کہہ کر نکلوا دیتے ہیں کہ تو

Assigned the Duties of a Magistrate for Referendum Results for Gulberg، Joharabad and New Karachi Police Stations

دفتر والوں نے جب پلاسٹک کوٹیڈ آرڈر لا کر دیا تو نہال ہو کر اشکبار ہو گئی، رندھی ہوئی آواز میں کہنے لگی ابا بوتا کہندا سی شینو دیے سی ایس ایس کر لے۔ پر میں کسی ہور چکراں وچ ساں۔

ہم نے چکر کا نہیں پوچھا۔ آرڈر دیا تو پوچھ لیا کہ ڈیوٹی کے لیے کہاں رپورٹ کرنا ہو گا۔ ہم نے طے کیا کہ وہ ہمیں حسن اسکوائر جہاں قیام تھا اس کے باہر مل جائے گی۔ گھر سے آتے میں وہ ہمارے راستے میں پڑتا ہے

سارا دن وہ ہمارے ساتھ رہیں گی رات بارہ بجے تک ریزلٹ بن جانے کے بعد ہم اسے اس کے گھر اتار دیں گے۔ رعب اور بھرم کی خاطر وہ ایک ہیٹ یا ٹوپی ضرور پہن لے۔ اس نے کہا وہ اسکوائر کی پشت پر واقع اپنے کسی عزیز سے اس پر لفظ مجسٹریٹ کے ڈراؤنے الفاظ سے کڑھوا لے گی۔ (تصویر فوٹو شاپ ہے مگر آپ کو مدعا سمجھا دے گی)

ریفرنڈم کی عہد آفرین صبح ایسا ہی ہوا۔ نوشین چھٹہ بے تابی سے جنرل ضیا الحق کو اسلام کے از سر نو نفاذ میں سہولت کاری بہم پہنچانے کے لیے ایک مرقع دلربائی بنی سر پر مجسٹریٹ کے الفاظ سے کڑھی ہوئی ٹوپی اور میچنگ کوٹ پہنے سڑک کنارے منتظر تھی۔

رات بھر کوئی بے تابی سی بے تابی ہوگی کہ جیپ میں سوار ہوتے ہی اس نے پوچھ لیا تسی پنجابی نہیں ہو۔ تسی میمن ہو۔ یہ تصدیق اسے یقیناً یونس حبیب (مہران بینک فیم) سے ملی ہوگی جس سے ہمارے قدیم مراسم تھے۔ نوشین کا سوال اور اعتراض سن کر ہمارا وہی حال ہوا جو جگر مراد آبادی نے بیان کیا تھا کہ

کیا کرے حال دل بیان جگر
ٹوٹی پھوٹی زبان ہے پیارے
کہنے لگی ”میمن تے بڑے بزدل ہوندے نے۔ تسی بھی بزدل ہو؟“

ہم نے کہا پاکستان آ کر ہو گئے ہیں ورنہ ممبئی میں تو اقبال مرچی (تصویر ) یوسف پٹیل انڈر ورلڈ کے سب ڈان میمن تھے ہمارا بھائی لوگ کا ایک فون جاتا تو ریکھا کی سیکرٹری فرزانہ ہو کہ مادھوری کے سیکرٹری راکیش ناتھ بس اتنا بولتے، "بھائی کا فون ہے۔” تو ریکھا ہو مادھوری ہو یا منداکنی (سن صاحبا سن والی) سیکرٹری کو کہتیں
بھائی کو بول ساڑھی باندھ رہی ہوں۔ سلام کے لیے دبئی آنے کے لئے ائرپورٹ بس پہنچ رہی ہوں

مگر اب کیا ہے ہم پاکستان میں سب سے ڈرتے ہیں یہ میجر محمد علی کھڑے ہیں۔ ان کے منھ پر بول رہے ہیں کہ میمن فوج سے زیادہ پولیس اور انکم ٹیکس سے ڈرتے ہیں

اپنے بارے میں بتانے لگی کہ اس کا نام ویسے تو نوشین ہے مگر قریبی ساتھی اسے شین کہتے ہیں۔ ہم نے پوچھا کہ اگر ہم اسے شین کہیں تو کیا ہمارا شمار بھی اس کے قریبی ساتھیوں میں ہو گا۔ جو حالت تھی وہ کہیں یا نہ کہیں۔ بس اتنا سننے میں آیا کہ

You are too much

ہمارے استفسار پر کہنے لگی اس کا تعلق سرگودھا کی ایک مضافاتی بستی جھال چکیاں سے ہے۔ اس جھال چکیاں اس لیے کہتے ہیں کہ یہاں ایک نہر ہے جو نیچے گرتی ہے اور ایک چکی لگی ہے۔ بہت رومانٹک منظر ہوتا ہے۔ ہم نے پوچھا اسی رومانٹک منظر کے چکر میں کراچی آنا ہوا تو ایک دفعہ اور شرما گئی مگر اب کی دفعہ اس شرمندگی میں خجالت اور پچھتاوا غالب تھا۔ اس باب میں مزید سوال جواب ہم نے موقوف کر کے پوچھ لیا کہ وہاں کی آپ اور نہر کے علاوہ کی کیا شے مشہور ہے تو جواب ملا ”دال“۔

ہم اسے لے کر جب جوہر آباد تھانے پہنچے تو ایس ایچ او سخاوت شاہ منتظر تھے۔ وہاں حلوہ پوری کا ناشتہ کر کے جب روانہ ہوئے تو صدیق آباد کے باہر ایک اسکول پر ایک میمن شور مچا رہا تھا۔ میجر صاحب بھی سامنے سے اپنی گاڑی میں آتے دکھائی دیے۔ میمن کو گلہ تھا کہ اس کا نام یہ سامنے اسکول والے کہہ رہے ہیں روڈ کے دوسری طرف دہلی اسکول میں ہے۔ یہ کیسا ریفرنڈم ہے۔ سالا ٹوٹل فراڈ۔ ہم نے میجر صاحب کو آنکھ ماری کہ ایس ایچ او صاحب آپ اور مجسٹریٹ صاحبہ اس بکواسیے کو جا کر توہین ریفرنڈیم کی سزا سنا کر موبائل میں بٹھا دو۔ ہم آن کر ڈانٹ ڈپٹ کر چھوڑ دیں گے۔

ایسا ہی ہوا۔ اس بے چارے کی گھگی بندھ گئی جب مجسٹریٹ صاحبہ نے اسے ڈرایا کہ ”مناف صاحب آپ کو علم ہے آپ نے ریفرنڈم کی توہین نہیں کی بلکہ اسلام نافذ کرنے میں سرکار کو بدنام کیا ہے۔ اس کی سزا تین ماہ ہے۔ مناف کہنے لگا باجی میرا ایسا ارادہ نہیں تھا۔ ادھر ووٹ رکھتے تو لوگوں کو کم پنچات کرنی پڑتی۔ دہلی اسکول دو میل دور ہے۔ میں تو پبلک کی تکلیف کی بات کر رہا تھا۔ آپ میرے کو بولو میں موٹر سائیکل پر بیٹھ کر ٹھٹھہ میں ووٹ ڈالتا ہوں۔ اسلام کے لیے تو ہماری جان حاضر ہے۔ بس
جنرل صاحب تو دسویں خلیفہ لگتے ہیں۔ ہمیں ڈر لگا کہ یہ بھوتنی کا بھانجا اپنی روانی میں خلیفہ کو میا خلیفہ سے جوڑ دے گا تو میجر صاحب کا ہمراہی عسکری دستہ اس کو جی تھری رائفلوں سے چھلنی کر دے گا

ہم نے کہا اس کو دہلی اسکول بھیجو اور ہمیں وہاں بتاؤ پولنگ کا انتظام کیسا چل رہا ہے۔ سخاوت صاحب کو اشارہ کر دیا کہ ووٹ ڈال دے تو چھوڑ دینا۔

ریفرینڈم کے خلاف اول فول بکنے والے میمن کو گرفتار نہ کرنے پر میجر محمد علی نے ہمارے خلاف رپورٹ کی کہ

The officer has tendency to trivialize the writ of state۔ Shows favoritism and favors to his own folks۔ Extremely efficient، courteous and hugely respected in the area of his jurisdiction but not cut out for bold endeavors.-

(افسر عالی مقام میں یہ رجحان پایا جاتا ہے کہ ریاست کی اہمیت کو کم تر جانتے ہیں اور اپنوں کی طرف داری سے گریز نہیں فرماتے۔ صلاحیت بے پناہ ہے۔ خوش اخلاق ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے علاقے میں بہت عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں مگر کسی دلیرانہ مشن کے لیے موزوں نہیں۔)

یہ رپورٹ مختلف ذرائع سے ہوتی ہوئی ہمارے مشفق و مہرباں لطف علی خاص خیلی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کے پاس پہنچ گئی۔

سن 1993 میں جب ہم چیف منسٹر ہاؤس میں تعینات تھے ان کا فون آیا کہ ”اقبال ابھی اگلے مہینے ریٹائر ہونے والا ہوں میں نے ساری زندگی نے چیف منسٹر ہاؤس اندر سے نہیں دیکھا۔ کچھ مہربانی کر۔

ان کو چیف منسٹر ہاؤس بلا کر سیر کرانا کچھ ایسا انہونا کام نہ تھا کہ وہ کون سے امام کعبہ تھے جن سے رام مندر کا اودھ گھاٹن (افتتاح ) کرانا ہو۔ دو رات بعد چیف منسٹر ہاؤس میں سینیٹ کی ڈپٹی چئیرمن نورجہاں پانے زئی کا کھانا تھا۔ گریڈ اٹھارہ کے بطور کوٹھار (سندھ کے محکمہ مال کا ایک بہت نچلا عہدہ) بھرتی ہونے والے مگر ترقی کر کے عمر کے آخر میں ضلع غربی کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کا نام بلوچستان سے آئے ہوئے مہمانوں کی فہرست میں ڈال دیا اور سردار لطف علی خان خاص خیلی آف خاران۔ بلوچستان کا کارڈ ان کے داماد کو تھما دیا۔ بہت خوش ہوئے کہ ہم نے انہیں اپنی جانب سے مدعو کیا ہے۔ رخصت ہوتے وقت ادھر ادھر دیکھ کر یہ اطمینان کرنے کے بعد کہ کہیں را، موساد اور سی ٓآئی اے دیکھ سن تو نہیں رہی ہمیں سرگوشی سے کہنے لگے میں نے صدر ضیا کا طیارہ فضا میں پھٹنے سے پہلے ہی وہ رپورٹ نذر آتش کردی تھی جو میجر موٹے نے تیرے خلاف دی تھی۔

مختلف پولنگ اسٹیشنوں سے فارم پنتالیس جمع کرتے ہوئے اور عملے کو وہاں موجود بنی بس میں سوار کرا کے رات ساڑھے نو بجے جب ہم یوسف گوٹھ، سرجانی ٹاؤن کے سرکاری اسکول پہنچے تو لائٹ جا چکی تھی۔ موم بتیاں جل رہی تھیں۔ نوشین چھٹہ نے ہمیں بتایا کہ یہاں جس افسر نے آنا تھا آج اس کی والدہ کا سوئم ہے تو اس کی جگہ ایچ آر والوں نے کلینکل ڈپریشن کا شکار ایک دوسری افسر امبر سلیم کو اچانک بھیجا ہے۔ اس بے چاری نے نہ کبھی ٹریننگ سیشن اٹینڈ کیا ہے نہ اس کو الیکشن کے گورکھ دھندے اور فارم پنتیالیس کا کچھ پتہ ہے۔ اجازت دیں تو میں ایک سگریٹ پی لوں پھر اس کا معاملہ دیکھتی ہوں۔ اب تک اس نے دن بھر میں جتنی تین چار سگریٹیں پی ہیں وہ پولنگ اسٹیشنوں میں چھپ چھپا کر اوٹ لے کر پی ہیں۔

ہم نے کہا یہ تو کوئی بات نہیں ہم نے تو پنجاب کے ایک چیف سیکرٹری کو منرل واٹر کی بوتل میں شلوار قمیص میں ملبوس بمبئی سفائر نامی جن پیتے دیکھا ہے لا ایک سگریٹ ہمیں بھی پلا۔ شرارت سے کہنے لگی ”بھری ہوئی نہیں”۔

ہم نے بھی جوابی وار کیا کہ ویسے بھی ایک وقت میں دو نشے ہم سے کہاں ہینڈل ہو سکتے ہیں۔

امبر سلیم نے ایک کونا پکڑا تھا۔ عملہ بھی بے زار تھا۔ بی بی نے سارے ووٹ ایک تھیلے میں بند کر کے بغیر فارم پنتالیس پر اندراج کیے سیل کر دیے تھے۔ سیل کرنے والی مہر بھی اسی تھیلے کے اندر لاکھ سمیت بند کردی۔ اس کی طبی دشواریوں سے ناواقف ساتھی عملے نے جب ڈرایا کہ یہ تو سارا معاملہ ہی چوپٹ ہو گیا۔ یہ تو پورا ریفرنڈم دوبارہ سے کرانا پڑے گا جنرل ضیا کو تو آج رات نیند نہیں آئے گی کہ یہ کیا غضب ہوا۔ یہ سب سن کر وہ بے چاری تو مسلسل رو رہی تھی۔ باقی تینوں پریزائڈنگ افسران جا چکے تھے۔

اسکول میں چار پولنگ اسٹیشن تھے۔ نوشین نے ساری سچویشن کو ویسے ہی بھانپ لیا جیسا ویسے قرضوں میں کھانچے نکالتے وقت کرتی تھی۔ باقی عملے کو تو منی بس میں سوار کر کے بھیجنے کی تجویز دی اور اپنے ہات سے چار بوتھ کے نتائج میجر جنرل شیر افضل صاحب (ڈی ایم ایل اے ) کی آتما کو ٹھنڈا کرنے کے بریگڈئیر ریاض کے کیے گئے وعدے کے عین مطابق کہ ان کے اپنے ضلع غربی میں ووٹنگ کا ٹرن آیوٹ پچھتر فیصد تک رہے گا ہر پولنگ اسٹیشن کا نتیجہ ڈھائی ہزار ووٹ اپنے ماسٹر فارم پنتالیس میں ڈال کر رجسٹر میں اندراج کیا۔ جنرل ضیا کو اس ایک پولنگ اسٹیشن سے دس ہزار ووٹ نوشین کی مہربانی سے مل گئے۔ امبر کو جیپ میں پیچھے بٹھایا، محبوب انور سے ڈی سی آفس پہنچ کر ایک تھیلا مہر سیل لے کر امبر کے جعلی دستخط سے ڈال کر دوبارہ سیل کیا اور جنرل محمد ضیا الحق کو تاریخ میں امر کر دیا۔
جب ہم اسے ڈراپ کر رہے تھے تو کہنے لگی کہ ”سر جی جے راجیش کھنہ اور زینت امان بھی ایتھوں الیکشن لڑدے تے اینے ووٹ نہ ملدے۔ جن نے میں فارم سنتالیس وچ پائے نے اور سر تسی نال نہ ہوندے تے ایمان نال ریفرنڈم نہیں جنتا دا کھلم کھلا ریپ سی ”۔

(نوٹ: اوقات واردات میں معمولی رد و بدل کے علاوہ تمام واقعات بعینہ درست اور حقائق پر مبنی ہیں تمام سول اور فوجی افسران کے نام بھی حقیقی ہیں البتہ خواتین عملے کو فرضی نام دیے گئے ہیں۔ )

Facebook Comments HS

اقبال دیوان

ہمارے جگر جان ،اقبال دیوان پہلے کبھی افسر ہوتے وہ بھی ایسے کوئی خاص نہیں بس چھوٹے موٹے۔اللہ نے عزت رکھی ۔ اللہ بخشے خیر سے ریٹائر ہوگئے۔ ایسا ہی کچھ ہوتا ہے اس طرح کہ کاموں میں۔ ایک بات اچھی ہے کہ میمن ہونے کے باوجود لکھنے پڑھنے سے کبھی دل نہیں چرایا اور دھندے کو دھرم نہیں جانا۔ ان دنوں گزر اوقات کے لیے ایک آرٹ اسکول میں مصوری سیکھنے جاتے ہیں۔فگر ڈرائینگ اور واٹر کلر میں دل چسپی ہے گوآتے دونوں ہی نہیں۔ مگر خوش ہیں کہ ہیں تو کسی کی نگاہ میں۔اولاد امریکہ یورپ بلاتی ہے مگر وہ راج کپور کی طرح گا کر ٹرخا دیتے ہیں کہ جینا یہاںمرنا یہاں اس کے سوا جانا کہاں۔ میری لندن تو کیا پاکستان میں بھی کوئی جائداد نہیں کروں گا کیا اگر ہوگیا ناکام ، بس سایہ دیوار ہے یہیں رہنے دو۔

iqbal-diwan has 123 posts and counting.See all posts by iqbal-diwan