نشے میں ڈوبتے نوجوان اور تحریک انصاف کا مستقبل

کچھ ماہ قبل ایک وزیر نے ایک مقام پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ 70 یا 75 فیصد طلبہ و طالبات نشے میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ اسلام آباد کے پوش اسکولوں کی کینٹینوں سے ٹافی کے ریپر میں لپٹی آئس اور دیگر نشے کی ادویات باآسانی مل جاتی ہیں۔ بس بات نکلی تو چل پڑی، بجرنگی بھائی جان میں مار کھا کر چاند نواب کا پتہ بتانے والے کامل عارف صاحب (جو اب ”کیمرہ مین کامل عارف“ سے اقرار

Read more

غالب، غالب، غالب کا راگ

ہم نے بھی اپنے بچپن میں عامر لیاقت حسین صاحب کی طرح نصیر الدین شاہ صاحب والا گلزار کا لکھا غالب ڈرامہ دیکھا ہوا ہے۔ عامر بھائی اسے غالب فلم کہہ گئے تھے مگر ظاہر ہے کہ مرزا غالب پر بننے والی بھارتی فلم تو نہ اتنی مقبول ہے نہ اتنی اچھی۔ گلزار صاحب کا تخلیق کردہ ڈرامہ غالب پر بننے والے تمام ڈراموں اور فلموں سے بہت بہتر ہے مگر گلزار صاحب کے بھی کچھ مسائل ہیں۔ ایک مسئلہ تو گلزار صاحب سے بڑھ کر سیکولر بھارت کا ہے کہ جو بھی شخص ماضی میں بہتر تھا، اعلیٰ تھا، معروف تھا، اسے کسی طرح سے بس سیکولرازم اور لبرل ازم کا ہی کوئی قدیم نمونہ بنا دیا جائے۔ بے چارہ غالب تو شاعر تھا ورنہ اکبر اور اشوک اعظم بھی اس تحریک سے نہیں بچ سکے۔

مگر ہمارا آج کا موضوع یہ نہیں۔ سچ یہ ہے کہ غالب کی شاعری پر کوئی بات کرنے کی بھی ہماری جرأت نہیں۔ اگر ہم غالب کی شاعری پر ایک لفظ بھی لکھیں گے تو محض بحیثیت طالب علم مگر ہم آج غالب پر نہیں بلکہ برصغیر میں غالب غالب کی تکرار پر اور اس کے پیچھے موجود نفسیاتی وجوہات کو زیر بحث لانا چاہتے ہیں۔

کچھ عرصہ گزرا کہ بدقسمتی سے ہم کو PTV دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ معلوم ہوا کہ غالب کی 150 ویں برسی یا یوم پیدائش منانے کی کوئی کوشش جاری ہے۔ ایوان صدر میں پروگرام ہو رہا ہے، غالب کی غزلیں پڑھی جا رہی ہیں، گائی جا رہی ہیں، سامنے نصیر الدین شاہ صاحب بھی براجمان ہیں۔

Read more

جیل میں موجود پروفیسر کی لاش

ہمارا معاشرہ اب بغیر کسی بھی اجتماعی یادداشت کا معاشرہ ہے۔ ایسا معاشرہ جو کسی بھی معاملے پر بڑا وقتی اور جذباتی سا ردعمل دیتا ہے۔ پھر اس طرح اس واقعے کو بھول جاتا ہے جیسے وہ کبھی پیش ہی نہ آیا ہو۔ ایک سال قبل معصوم زینب کا قتل ہر شخص کی زبان پر تھا۔ تب وہ بیچاری بچی ہر سوشل میڈیا پروفائل پر نظر آتی تھی۔ مگر اب وہ کسی کو یاد بھی نہیں، بس اسی طرح ہر مہینے، ہر دن، ہر گھنٹے، ہر پل ہمارے معاشرے کو کوئی نہ کوئی جذباتی کھلونا مل جاتا ہے۔ لوگ تھوڑی دیر اس پر واویلا کرتے ہیں، پھر بھول جاتے ہیں۔ کہنے کو یہ لوگ کسی چیز کے خلاف ہوتے ہیں، جذباتی ہوتے ہیں۔ مگر اصل میں یہ لوگ اپنے رویے سے اس شخص، اس واقعے کی توہین کر رہے ہوتے ہیں۔ ان کا یہ عارضی سا ردعمل کبھی حالات بدل نہیں سکتا۔

کچھ عرصہ قبل اسی طرح پروفیسر جاوید کی زنجیر بندھی لاش کی تصویر نے سوشل میڈیا پر بڑی دھوم مچائی۔ لوگوں نے جیل انتظامیہ کو بھی گالیاں بکیں اور کچھ لوگوں نے نیب کے لئے بھی دشنام طرازی کی اور پھر حسب سابق بات آئی گئی ہو گئی۔ تب فواد چوہدری نے اس واقعے پر اپنی سیاست چمکانے کی کوشش کرتے ہوئے طاقتور اور کمزور کا بڑا موازنہ کیا تھا کہ کیسے طاقتور کے لئے گھر کو سب جیل قرار دیا جاتا ہے اور کیسے غریب زنجیروں میں لپٹا ہوا مرتا ہے۔

Read more

فیصل واوڈا کی بندوق

‏ ہمارے بچپن میں پاکستان ٹیلی ویژن پر اکثر تاریخی ڈرامے آیا کرتے۔ ان ڈراموں میں عموماً تلواریں، منجنیقیں اور دیگر قدیمی ہتھیار دکھائے جاتے تھے۔ پھر ایک ڈرامہ کراچی سینٹر نے بنایا جو سلطان فتح علی ٹیپو کی حیات پر تھا۔ سلطان کی زندگی اور جنگوں پر بنا یہ ڈرامہ خان آصف مرحوم کی تحریر تھی۔ سچ یہ ہے کہ یہ ڈرامہ پی ٹی وی کے پرانے ڈراموں (جیسے آخری چٹان، شاہین، تعبیر اور نور الدین زنگی وغیرہ) کے

Read more

ویاگرا کی گولی اور درس گاہوں کی گندی سیاست

ویسے تو اس دیس کی سرکاری جامعات ہمیشہ سے ہی ذرائع ابلاغ کا جھنجھنا رہی ہیں۔ مگر جامعہ کراچی اور جامعہ سندھ اس حوالے سے خصوصی اور امتیازی حیثیت رکھتی ہیں۔ حال ہی میں روزنامہ ایکسپریس ٹریبیون میں ایک خبر چھپی جو جامعہ سندھ کی دو اساتذہ خواتین کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ میں لگائی گئی درخواستوں سے متعلق تھی۔ ایک درخواست جامعہ سندھ کے انسٹی ٹیوٹ آف آرٹس اینڈ ڈیزائن کی سابق سربراہ صاحبہ کی جانب سے اپنی

Read more

خاک جن کی دفن ہے دریائے کنچن کے تلے!

شرمیلا بوس نے اپنی کتاب Dead Reckoning میں ایسے ان گنت واقعات تمام حوالوں سے درج کیے ہیں۔ انہوں نے لکھا ہے کہ جب سنتاہار میں پاکستانی افواج داخل ہوئیں تو معلوم ہوا کہ اس شہر کی تمام ہی غیر بنگالی آبادی کا قتل عام ہو چکا۔ ہر جگہ انسانی لاشوں سے اٹی پڑی تھی مگر بوس کے مطابق سب سے خوفناک منظر ایک کمرے میں فوجیوں کو ملا۔

کمرے کا دروازے کسی طرح کھل نہ رہا تھا۔ جب بڑی مشکل سے دروازہ کھلا تو اندر کم سن بچوں کی سڑی ہوئی لاشیں ڈھیر تھیں۔ ان تمام ہی بچوں کو بڑی بے دردی سے مارا گیا تھا، ان کو پاؤں سے پکڑ کر سر دیوار پر مارے گئے تھے۔ یہ کریہہ منظر دیکھ کر فوجی ششدر رہ گئے، ایسی بہیمیت انہوں نے کبھی نہ دکھی تھی، کہیں نہ دیکھی تھی۔

بنگال کے دریا، بنگال کے میدان، بنگال کے تالاب غیر بنگالیوں کی لاشوں سے پٹ گئے۔ ان تمام پاکستانیوں کی یادگاریں کہاں ہیں؟ سنتاہار کے یہ بچے کیا انسان کے بچے نہیں تھے؟ کیا مسلمان نہ تھے؟ کیا پاکستانی نہ تھے؟ ان لوگوں کی جانیں کیا رائیگاں گئیں؟ کوئی یاد نہیں، کوئی جواب نہیں، کوئی معنی نہیں؟ کوئی تفسیر نہیں؟

Read more

16 دسمبر اور کمزور یادداشت

ایک چھوٹا سا تجربہ کیجئے۔ ذرا کچھ نوجوانوں، کچھ بچوں وغیرہ سے دریافت کیجئے کہ 16 دسمبر کو ہمارے وطن میں کیا ہوا تھا؟ جواب میں اکثریت آپ کو بتائے گی کہ 16 دسمبر کو آرمی پبلک اسکول پر حملہ ہوا تھا، جواب غلط تو نہیں ہے۔ مگر چلئے، سوال تھوڑا سا تبدیل کیجئے، سوال کریں کہ پاکستان کی تاریخ میں 16 دسمبر کو کون سا سب سے بڑا سانحہ پیش آیا ہے، اگر سوال نوجوانوں، جوانوں بلکہ ادھیڑ عمر

Read more

مائنڈ سائنس، ریکی اور روحانی ٹھرک

دور قدیم میں مڈل کلاس یعنی متوسط طبقہ وجود نہیں رکھتا تھا۔ تب یا تو امراء تھے یا عوام تھے۔ عوام میں کوئی تھوڑا اوپر کوئی تھوڑا نیچے تو ہوتا تھا مگر عیاشیاں عوام کے لئے سمجھ لیجئے ممنوع ہی تھیں۔ تب کوئی آپ کو پنکھا جھلے یہ بھی ایک عیاشی ہی تھی اور یہ تک صرف امراء کو میسر تھا۔ عوام جو تھے، وہ عام تھے، یعنی وہ مخصوص پیشوں سے منسلک ہو کر برادریوں کی صورت میں جیتے

Read more

چھوٹے عمران خان زوہیر طورو کا نیا پاکستان

زوہیر طورو کو کون کون جانتا ہے؟ ”انقلاب! اگر ہماری پولیس ہمیں ڈنڈے مارے گی تو ہم انقلاب کیسے لائیں گے۔ ہم گرمی میں تباہ ہو گئے ہیں! “ جی یہی والا زوہیر طورو۔ زوہیر طورو بیچارہ اسلام آباد کا ایک برگر بچہ تھا۔ وہ انقلاب کے مزاحیہ تصورات رکھتا تھا۔ وہ تحریک انصاف کا رکن تھا اور اب تحریک انصاف حکمران ہے۔ یعنی یہ دراصل زوہیر طورو کا پاکستان ہے۔ مگر زوہیر طورو کا پاکستان ہے کیا؟ دراصل بدقسمتی

Read more

آنٹی انکروچمنٹ

”آنٹی جی آنٹی جی گٹ اپ اینڈ ڈانس! ” ہمارے ملک میں ہر شے ایک نعرہ ہے۔ ہر خبر دراصل کسی نوع کا بیان ہے۔ ہمارے ملک میں مستقل کچھ بھی نہیں۔ ہر انتظام عارضی ہے، وقتی ہے۔ ہر تحریک محض ابال ہے اور کچھ بھی نہیں۔ آج کل ایک نیا قسم کا ابال بڑے زور سے اٹھا ہے اور وہ ہے انٹی انکروچمنٹ ڈرائیو۔ یعنی انسداد تجاوزات مہم۔ اب راقم کیونکہ تہذیب کے تقاضوں کا کوئی خاص پابند نہیں

Read more

پانی سے چلنے والی گاڑی اور عمران خان

غالباً یہ 2011 ء کی ہی بات ہے سارے ہی ذرائع ابلاغ پر ایک حضرت چھا گئے۔ محترم کا دعویٰ تھا کہ وہ ایک سائنس کے ماہر ہیں اور پانی سے گاڑی چلا لیتے ہیں۔ محترم کے پاس اپنی ایجاد یا اختراع کا پورا نسخہ تھا۔ محترم فرماتے تھے کہ پانی H 2 O ہوتا ہے یعنی دو ہائیڈروجن اور ایک آکسیجن کے جوہر کے ملنے سے بنا ہوتا ہے۔ ان کی ایجاد سے پانی ہائیڈروجن اور آکسیجن گیس میں ٹوٹ جاتا ہے اور پھر یہ دونوں گیسیں بالکل کسی بھی دوسرے ایندھن کی طرح جل کرگاڑی کے انجن کو چلاتی ہیں۔ موصوف کا دعویٰ بڑا تھا، اتنا بڑا تھا کہ اگر حقیقتاً پانی گاڑی اور دیگر انجنوں کا ایندھن بن سکتا تو گاڑیوں سے لے کر ٹرینوں تک کا سفر تقریباً مفت ہو جاتا اور فیکٹریوں، ملوں، بجلی گھروں، الغرض ہر نوع کے کارخانوں میں انقلاب برپا ہو جاتا۔

ہمارا میڈیا بیچارہ خبروں کا پیاسا، دعوؤں، وعدوں اور بیانات پر چلنے والا۔ سارا کا سارا ہی موصوف کے گن گانے لگا۔ سندھی چینلوں نے محترم کی پرستش ہی شروع کر دی اور کاوش ٹی وی وغیرہ پر شکوہ کیا گیا کہ قومی میڈیا سندھ کے عظیم سپوت پر توجہ نہیں دے رہا۔ مگر قومی میڈیا بھی موصوف کے گیت گا ہی رہا تھا۔ موصوف کو پروگراموں میں مدعو کیا جاتا اور سامنے کبھی ڈاکٹر عطاء الرحمن اور کبھی ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو بٹھا دیا جاتا۔

Read more

یہودی کا داماد

ہماری یادداشت تھوڑی سی کمزور ہو گئی ہے اس لئے صحیح سے یاد نہیں آتا کہ ”یہودی کی بیٹی“ کس نے لکھا تھا، وہ امتیاز علی تاج کی تحریر تھی یا کسی اور کی۔ مگر ہم نے اس پر بننے والی بلیک اینڈ وائٹ بھارتی فلم ضرور دیکھی ہے کہ جس میں یوسف خان المعروف دلیپ کمار جی ہیرو ہیں۔ یہ فلم بڑے کمال کی ہے، سوچنے کی بات ہے کہ ہند کے ماحول میں رہنے والے لکھاری نے 2000 سال سے بھی زیادہ قدیم سلطنت روما کا تصور کیا اور وہاں پر پسے ہوئے یہود کے حالات کو سوچا اور ایک یہودی کی بیٹی اور ایک رومی شہزادے کے درمیان ہونے والی محبت کی منظر کشی کی۔

ایسا تو تخیل بھی کرنے کے لئے بڑا دل اور بڑا دماغ چاہیے۔ مگر تب ایسے تجربات عام تھے، ویسے جہاں تک یہود کی بات ہے وہ تاریخ میں اکثر ہی مظلوم اور پسا ہوا طبقہ رہے ہیں مگر ان کے زوال سے ہی ان کے عروج برآمد ہوئے ہیں۔ یہ بنی یعقوبؑ یعنی بنی اسرائیل دنیا میں جہاں بھی بسے اقلیت میں رہے، سوائے حضرت داؤدؑ اور حضرت سلیمانؑ کے ادوار کے یہ کبھی دنیا کے کسی خطے کے حاکم نہ رہے۔ یہ کنعان سے مصر گئے اور وہاں پر عزیز کی حکمرانی کے وسیلے سے حاکم بنے۔

Read more

امام کعبہ اور حرم پاک کے مقدس منبر سے بدصورت جھوٹ

حال ہی میں امام کعبہ جناب عبدالرحمن السدیس صاحب نے بڑا دلچسپ خطاب جمعہ فرمایا، انہوں نے مکہ کے مقدس منبر پر چڑھ کر ارشاد فرمایا کہ ہر صدی میں اللہ رب العزت ایک مجدد بھیجتا ہے، اس صدی کا مجدد کوئی اور نہیں بلکہ ولی عہد سلطنت جناب محمد بن سلیمان صاحب ہیں جو عقائد اسلامی کو عہد حاضر میں نئی بہار عطا فرما رہے ہیں، ان کی بصیرت آموز نظر اور ان کے حکیمانہ افعال سے یہ مقدس

Read more

موجودہ بیوی کا سابق شوہر کیا کہلاتا ہے؟

ہمیں بھی اردو سے پیار ہے۔ مگر کبھی کبھی اردو زبان کی ”عسرت“ ہمیں تنگ کر دیتی ہے اس لیے کیونکہ اردو زبان میں کچھ رشتوں کے لئے کوئی نام ہی نہیں۔ مگر یہ کون سے رشتے ہیں یہ بیان کرنے سے قبل ہم تھوڑی علمیت جھاڑنا ضروری سمجھتے ہیں تا کہ جاوید چوہدری کی روایت برقرار رہ سکے۔ بات یہ ہے کہ ہر زبان انسان کے تجربات سے بنی ہے، جس علاقے کا جو موسم ہے، جو تہذیب ہے،

Read more

عمران خان اور ایڈولف ہٹلر

ماشاء اللہ عمران خان کا تصور ذات بہت ہی بڑا ہے، وہ خود کو دنیا کا سب سے عظیم انسان سمجھتے ہیں۔ اس طرح کے تصور ذات کو علم نفسیات میں Grandiose Delusion کے ذیل میں کافی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ مگر عمران خان کے خاص معاملے میں یہ خبط محض ان کا ذاتی خبط نہیں بلکہ ان کے حوارین بھی ان کے اس خبط پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کے کانوں میں سرگوشیاں کرتے رہے ہیں کہ ”شہنشاہ معظم کی یہ ادا تو بالکل سکندر اعظم کی سی تھی“، ”جناب عالی ابھی تو بالکل نیلسن مینڈیلا معلوم ہوئے۔ “

خود سے محبت، نرگسیت، خود پرستی اور تکبر جیسے الفاظ عمران خان کی شخصیت کے اجزائے ترکیبی کا درجہ رکھتے ہیں مگر کیا یہ مسئلہ صرف عمران کان کا ہے؟

Read more

انگریزی بولنے والے بھکاری

کوئی ایک آدھ سال پرانی بات ہے کہ ایک جگہ ایک لڑکے کو میں نے سڑک پر یہ رٹا ہوا منتر پڑھتے دیکھا۔ "Dear sir, please help me, I am not a professional begger, I need some money” یہ لڑکا کوئی 16 یا 17 سال کا ہو گا، اس نے پتلون قمیص پہن رکھی تھی اور چہرے پر ایک بڑا سنجیدہ اور غمگین تاثر اوڑھے ہوئے تھا۔ غالب گمان یہ ہے کہ یہ لڑکا وہی تھا جو یہ نہ ہونے

Read more

رقی ، فلم نائک اور زومبی

ہم بھی کبھی بچے تھے اور بچکانہ چیزیں ہمیں بھی اچھی لگتی تھیں۔ انسان کی زندگی میں ٹین ایج خوابوں کی دنیا ہوتی ہے، ہمارے ٹین ایج میں بھارتی فلم نائک ریلیز ہوئی تھی۔ ایک ٹی وی چینل کا ملازم ایک وزیر اعلیٰ کا انٹرویو کرتا ہے اور پھر اس سے سوالات کی بوچھاڑ میں ایک ایسا مقام آ جاتا ہے کہ جب خود وزیر اعلیٰ اسے کہتا ہے کہ تم ایک دن کے لئے وزیر اعلیٰ بن کر خود سنبھال کر دیکھو صوبے کو۔ تنقید کرنا کتنا آسان ہے اور کام کرنا کتنا مشکل۔

پھر حالات کی چرخی اس رپورٹر کو صوبے کا وزیر اعلیٰ بنا دیتی ہے اور ایک دن کے وزیر اعلیٰ صاحب صوبے کو سمجھ لیجیے کہ نیویارک ہی بنا دیتے ہیں، تالیاں! اس کہانی میں ایک ظالم ولن (جو سابقہ وزیر اعلیٰ تھا) وہ رپورٹر صاحب کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتا ہے مگر وہ کامیاب نہیں ہوتا۔ پھر رپورٹر صاحب کی اپنی محبت بھی اس حق اور انصاف کی جنگ میں بڑی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ بعد میں یہ کہانی ان گنت فلموں میں دہرائی گئی۔

Read more

”اسٹیٹس کو“ اور لہراتے ہوئے مکے

آج سے 25 سال پہلے کا زمانہ آج سے بہت مختلف تھا۔ بچوں پر ماں باپ پابندیاں لگاتے اور بچے بھی ان پابندیوں پر عمل کرنے پر مجبور ہوتے۔ مگر زمانہ بدل رہا تھا، زمانہ بدل گیا۔ آج کے دور میں چند اصطلاحات ایک نوع کے وظیفے کا درجہ حاصل کر گئی ہیں۔ ان اصطلاحات میں سے ایک ٹیبو ہے۔ ٹیبو ایسے موضوعات کو کہا جاتا ہے کہ جن پر بات نہیں کی جاتی، ان موضوعات پر بات بڑی شدت

Read more

ساودھان انڈیا، کرائم پیٹرول اور خوفناک دنیا

بھارتی چینلوں پر جرائم کی کہانیاں بڑی کثرت سے آتی ہیں۔ چند سال قبل اس نوع کے پروگرام ہمارے وطن کے چینلوں پر بھی کثرت سے آتے تھے مگر اب اُن کی وہ فراوانی اور پذیرائی نظر نہیں آتی۔ بہرحال اس جیسے بھارتی پروگرام بھی ہمارے وطن میں کافی مقبول ہیں مگر ان پروگراموں سے ہوتا کیا ہے اور یہ کیوں ذہنی صحت کے لئے مضر ہیں؟ ان پروگراموں میں جرائم کی داستانیں Dramatize کر کے دکھائی جاتی ہیں۔ یہ

Read more

عمران خان کے ایک نوجوان حامی کے نام خط

پیارے بھانجے، سدا خوش رہو! مجھے تمہاری پیدائش کا دن اچھی طرح یاد ہے۔ یہ بھی یاد ہے کہ تمہاری چھٹی پر میرے بیمار والد نے تمہارا چھوٹا سا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر” اقراء” لکھوایا تھا۔ میں تمہاری ذہانت سے ہمیشہ سے متاثر رہا ہوں۔ تم 2009ء میں بیرون ملک چلے گئے اور ہم اپنی زندگی میں کچھ ایسا الجھے کہ یہ نظر انداز کر گیا کہ تم کن کن ذہنی منازل سے گزر رہے ہو، کیا کیا

Read more

بھکر کے آدم خور بھائی کون تھے؟

چند سال قبل بھکر کے دو بھائی ذرائع ابلاغ پر اچانک ہر جگہ نظر آنے لگے۔ خبر خوفناک تھی۔ بھکر میں دو بھائی قبروں سے تازہ لاشیں چراتے تھے اور انہیں اپنے گھر میں لا کر اُن کا گوشت پکا کر کھاتے۔ یہ برادران ہمارے معاشرے میں ہیبت کا نشان بن گئے۔ ان کے بارے میں بہت سے مضامین اخبارات و رسائل میں شائع ہوئے۔ ان میں ایک حیرت انگیز بات موجود تھی۔ درج تھا کہ ان دونوں بھائیوں کی

Read more

توپ کھسکی، پروفیسر آئے۔۔۔

فلم ’منا بھائی ایم بی بی ایس‘ کا ایک سین بڑا اہم ہے۔ اِس سین میں فلم کے ہیرو‘ منا‘ کا اسسٹنٹ ’سرکٹ ’ ایک سیاح کو غریب لوگوں کی تصویریں اتارتے دیکھ کر اُس سے پوچھتا ہے کہ تم باہر سے آنے والوں کو انڈیا میں کوئی اچھی چیز نظر نہیں آتی۔ یہاں سیاح ایک دلچسپ بات کہتا ہے۔ "I want to see real India, poor India, sick India” اگر بات انڈیا کے بجائے پاکستان کی ہو اوراِس فلمی

Read more

سنی لیونے، میک اپ تو کر لو

سنی جی کو کون نہیں جانتا؟ آپ مشہور بھارتی اداکارہ ہیں۔ راگنی ایم ایم ایس، لیلی ایک پہیلی، تیرا انتظار اور کئی دیگر فلموں میں آپ ہیروئن آ چکی ہیں۔ پھر کئی فلموں میں آپ کے آئٹم نمبر آئے ہیں جیسے شاہ رخ خان کی رئیس میں ’لیلیٰ میں لیلیٰ‘۔ مگر کئی لوگ سنی جی کو ان کی فلمی اینٹری سے پہلے سے جانتے ہیں مگر اس شناسائی کے بیان سے شرماتے ہیں۔ مگر سنی لیونے کا ذکر آخر ہم

Read more

سماجی میڈیا پر بہتے محبت کے دریا

ہم نے وہ دور بھی دیکھا ہے جب سافٹ ویئر(Software)کو ایپ (App) نہیں کہا جاتا تھا، وہ دور بھی دیکھا ہے جب آرکٹ، فیس بک اور ’ہائی فاﺅ‘ وغیرہ نئے نئے وارد ہوئے تھے اور انہیں سوشل میڈیا نہیں کہا جاتا تھا اور وہ دور بھی دیکھا ہے جب لوگ موڈیم سے فون کے ذریعہ انٹرنیٹ لگایا کرتے تھے۔ مگر پھر دور بدل گیا۔ انٹرنیٹ سوشل میڈیا کے ہم معنی ہو گیا اور سوشل میڈیا زندگی کے۔ لوگوں کے فیس

Read more

بھارتی ڈراموں میں ناظرین کا تصور

خوش قسمتی کہیے یا بدقسمتی مگر 2007ء تک میں ڈش، کیبل وغیرہ سے محفوظ رہا، ہاں ہمارے ہاں بھارتی فلمیں ضرور دیکھی جاتی تھیں، اولاً وی سی آر پر اور بعد ازاں سی ڈی پر مگر جب کیبل لگا تو بھارت کی دیگر میڈیا پروڈکٹس یعنی گیم شوز، موسیقی اور رقص کے مقابلے اور ڈراموں سے پالا پڑا، ان سب ہی چیزوں میں سب سے عجیب شے بھارتی ڈرامے تھے۔ مجھے بڑی حیرت ہوئی کہ یہ چیز ہماری پاکستانی عوام

Read more

ممبئی حملے اور نواز شریف

حال ہی میں ملک کے تین مرتبہ وزیر اعظم رہنے والے شخص میاں محمد نواز شریف صاحب نے ایک انٹرویو دیا جس پر بھارت میں بہت ”بھارت ناٹیٹم‘‘ اور ”ڈانڈیا‘‘ ہوا اور پاکستان میں بھی سارے ہی ذرائع ابلاغ ”خٹک ڈانس‘‘ میں مصروف رہے۔ میاں صاحب اپنے اس انٹرویو میں پوچھتے ہیں کہ کیا ہم انتہا پسند گروہوں کو یہ اجازت دیں گے کہ وہ بھارت میں جا کر 150 لوگوں کوہلاک کر دیں؟ میاں صاحب کا سوال معصومانہ ہے۔

Read more

Yes me too!

شیکسپیئر نے کچھ لازوال مکالمے تخلیق کئے ہیں، ان میں سے ایک ہے، You too, Brutus? ”یعنی تم بھی بروٹس؟“جی ہاں بروٹس۔ بروٹس جو جولیئس سیزر کا دوست تھا۔ وہ بھی پارلیمنٹیریز کے ساتھ مل کر سیزر پر حملہ آور ہوا اور جب سب نے ایک ایک خنجر کا وار سیزر پر کیا تو بروٹس نے بھی اپنے دوست کو خنجر گھونپ دیا۔اس موقع پر جب زخمی سیزر کی نظر بروٹس پر پڑی تو حیرت سے اس کی زبان سے

Read more