شرمیلا بوس نے اپنی کتاب Dead Reckoning میں ایسے ان گنت واقعات تمام حوالوں سے درج کیے ہیں۔ انہوں نے لکھا ہے کہ جب سنتاہار میں پاکستانی افواج داخل ہوئیں تو معلوم ہوا کہ اس شہر کی تمام ہی غیر بنگالی آبادی کا قتل عام ہو چکا۔ ہر جگہ انسانی لاشوں سے اٹی پڑی تھی مگر بوس کے مطابق سب سے خوفناک منظر ایک کمرے میں فوجیوں کو ملا۔
کمرے کا دروازے کسی طرح کھل نہ رہا تھا۔ جب بڑی مشکل سے دروازہ کھلا تو اندر کم سن بچوں کی سڑی ہوئی لاشیں ڈھیر تھیں۔ ان تمام ہی بچوں کو بڑی بے دردی سے مارا گیا تھا، ان کو پاؤں سے پکڑ کر سر دیوار پر مارے گئے تھے۔ یہ کریہہ منظر دیکھ کر فوجی ششدر رہ گئے، ایسی بہیمیت انہوں نے کبھی نہ دکھی تھی، کہیں نہ دیکھی تھی۔
بنگال کے دریا، بنگال کے میدان، بنگال کے تالاب غیر بنگالیوں کی لاشوں سے پٹ گئے۔ ان تمام پاکستانیوں کی یادگاریں کہاں ہیں؟ سنتاہار کے یہ بچے کیا انسان کے بچے نہیں تھے؟ کیا مسلمان نہ تھے؟ کیا پاکستانی نہ تھے؟ ان لوگوں کی جانیں کیا رائیگاں گئیں؟ کوئی یاد نہیں، کوئی جواب نہیں، کوئی معنی نہیں؟ کوئی تفسیر نہیں؟
Read more