امن قائم کرنے میں عورتوں کا حصہ

میں پوچھتی ہوں؛ چھوٹے، بڑے، ہلکے، بھاری، نیوکلیائی، بائیولوجیکل ہتھیاروں کی دوڑ آخر کس لئے؟ نسل انسانی کا خون بہانے کے لئے؟ بنی نوع انسان کا خاتمہ کرنے کے لئے؟ ہتھیار جمع کرنے والے اور جنگیں کرنے والے یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ: خون اپنا ہو یا پرایا ہو، نسل آدم کا خون ہے آخر جنگ مشرق میں ہو یا مغرب میں، امن عالم کا خون ہے آخر جنگ تو خود ہی اک مسئلہ ہے، جنگ کیا مسئلوں کا

Read more

زنا بالجبر اور سماجی رویے

میرا بچپن لائل پور میں گزرا، چھٹیوں میں ہم لاہور میں گوالمنڈی، سید مٹھے اور وزیر خاں کی مسجد کی عقبی گلی میں مقیم رشتہ داروں کے گھر جا کے رہتے تھے۔ بچپن کی ایک دھندلی سی یاد کافی سالوں ساتھ رہی۔ ایک مرتبہ چھٹیوں میں نانی کے ساتھ ہم بہن بھائی لاہور گئے تو گوالمنڈی میں ماموں کی گلی میں سوگوار سا ماحول پایا۔ نانی اور رشتے کی خالائیں آپس میں سرگوشیاں کرنے لگیں، ہم دیگر بچوں کے ساتھ کھیلتے کودتے پھرتے مگر نہ سمجھتے ہوئے بھی کچھ نہ کچھ سمجھ آ ہی جاتا تھا۔

نانی کے ساتھ ہم بھی سامنے والے مکان میں رہنے والی بیوہ استانی کے گھر گئے۔ ماحول کچھ ایسا تھا جیسے مرنے پر لوگ تعزیت کرنے جاتے ہیں۔ بیوہ استانی کی چودہ پندرہ سالہ گونگی اور ذہنی طور پر کمزور بچی نے ایک بچے کو جنم دیا تھا۔ بیوہ ماں کے آنسوؤں کو میں آج تک نہیں بھولی۔ نصف صدی سے بھی پہلے کی بات ہے، اس وقت لوگ ڈی این اے کے بارے میں نہیں جانتے تھے۔ محلے کے ایک صاحب کے بارے میں خواتین سرگوشیوں میں کہتی تھیں کہ وہ اس حرکت کے ذمہ دار ہیں لیکن کھل کے کہنے کی کسی میں ہمت نہیں تھی اور نہ ہی کوئی یہ بات ثابت کر سکتا تھا۔

Read more

رہائش اور دیگر بنیادی ضروریات کی فراہمی کس کی ذمہ داری؟

کراچی میں پاکستان کوارٹرز، ایمپریس مارکیٹ اور اب سرکلرریلوے کے تجاوزات اور رہائشی مکانات کے انہدام کے بعد لوگ رہائشی مسئلے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنے لگے ہیں۔ کیا ہمارا نظام، ہماری ریاست اور حکومت اس مسئلے کو حل کر سکتی ہے؟ اس حوالے سے مختلف ممالک میں مختلف نظام اپنائے گئے، ایک منصوبہ بند معیشت پر مبنی نظام اوردوسرا آزاد منڈی کی معشیت والا نظام۔ منصوبہ بند معیشت میں ریاست افراد کی تعداد کے لحاظ سے ان کی ضروریات پوری کرنے کے لئے منصوبہ بندی کرتی ہے۔

Read more

غریب کا بیانیہ

سفید داڑھی، گوری گلابی رنگت اور اجلے سفید کپڑوں میں ملبوس حاجی بادشاہ نے جب بولنا شروع کیا تو مجھے ہو چی منہ، ماﺅزے تنگ، چی گویرا اور مارکس یاد آ گئے۔ وہ کہہ رہے تھے ” پاکستان کے بائیس کروڑ لوگوں میں سے امیر لوگ کتنے ہوں گے ؟ ڈیڑھ دو کروڑ؟ اکثریت میں تو ہم ہیں۔ ہمارے بغیر ان لوگوں کا گزارہ بھی تو نہیں ہوتا۔ ان کے بچوں کو ہماری عورتیں سنبھالتی ہیں، ان کے گھروں میں

Read more

باتیں قیصر بنگالی کی: ابھی کچھ لوگ باقی ہیں

سوچتی ہوں انسان کو کیا چیز دوسروں سے منفرد کرتی ہے؟ اقبال تو کہہ گئے ہیں کہ درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو لیکن پاکستان کے حالات دیکھ کر تو یوں لگتا ہے کہ انسان کو صرف دوسروں اور اپنے ملک کو لوٹنے کھسوٹنے کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو اپنے ذاتی مفادا ت سے بالا تر ہو کر عوام کے، غریبوں، دکھی لوگوں اور کچلے اور پسے ہوئے طبقات کے

Read more

کتابوں کی باتیں

کہتے ہیں کہ تناور پیڑ کے نیچے اگنے والے پودے پنپ نہیں سکتے مگر شائستہ سعیدنے جناتی دانشوروں، فلسفیوں، ادیبوں اور شاعروں کے گھرانے سے تعلق رکھنے کے باوجود اپنی شخصیت کو منوایا ہے۔ وہ سید محمد تقی کی بیٹی اور رئیس امروہوی اور جون ایلیا کی بھتیجی ہیں۔ خاندان سے متعلق وہ پہلے بھی ایک کتاب ”دو نسلوں کی مائیں“ لکھ چکی ہیں۔ زیر نظر کتاب ”پاکستانی خاندان اور عورت۔ پرورش، پابندی، خود مختاری“ کا دیباچہ ڈاکٹر محمد علی صدیقی نے لکھا ہے۔

Read more

دیہی عورتوں کے مسائل

دیہی عورتوں کے مسائل کے بارے میں بات کرنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ پاکستان میں شہری اور دیہی تفریق بے حد بڑھ چکی ہے۔ مثال کے طور پراگر آپ کراچی سے اندرون سندھ کی طرف جائیں تو یوں لگتا ہے کہ آپ ٹائم مشین میں بیٹھ کر ماضی کی طرف جا رہے ہیں۔ ویسے تو بڑے شہروں کا بھی برا حال ہے لیکن دیہاتوں میں تو انفرا اسٹرکچر نہ ہونے کے برابر ہے۔ جیسے غربت کے بارے میں

Read more

کیا عورت انسان نہیں؟

پڑھنے کا شوق بچپن سے تھا، گھر میں کتابوں اور رسائل کی فراوانی تھی۔ پڑھنے پر کوئی روک ٹوک نہیں تھی۔ اس لئے جو بڑے پڑھتے تھے، وہ ہم بھی پڑھتے تھے، خواہ سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔ اتنا یاد ہے کہ لکھنے والے زیادہ تر مرد حضرات تھے اور ان کا محبوب موضوع ’عورت‘ تھا۔ ’عورت ایک پہیلی ہے۔ عورت یہ ہے۔ عورت وہ ہے‘ ۔ کچھ عرصہ تک تو ہم مرعوب رہے لیکن پھر خیال آیا۔ آخر ان مرد حضرات کو بھلا کیا پتا کہ عورت کیا سوچتی ہے۔ کیا محسوس کرتی ہے۔ اس کے دل پر کیا گزرتی ہے؟

یہ سب تو ایک عورت ہی بتا سکتی ہے لیکن ایک تو لکھنے والی عورتیں کم تھیں، دوسرے عورتوں کے رسائل میں شائع ہونے والی تحریروں اور عورتوں کے ناولوں کو مرد حضرات ’ادب‘ ماننے کو تیا رہی نہ تھے۔ دوسرے درجے کے شہریوں کی طرح ان رسائل میں لکھنے والیوں کو دوسرے درجے کی ادیب سمجھا جاتا تھالیکن وہ جو کہتے ہیں نا کہ سو سنار کی ایک لوہار کی تو اردو ادب میں رشید جہاں، عصمت چغتائی اور پھر قرۃ العین نے بڑے بڑے مرد ادیبوں کے چھکے چھڑوا دیے۔

Read more

پاکستان کا مزدور طبقہ

میرا بچپن لائلپور کی کوہ نور کالونی میں گزرا۔ میرا خیال ہے اس وقت کوہ نور ٹیکسٹائل مل پاکستان کی سب سے بڑی ٹیکسٹائل ملز میں سے ایک تھی اور ہزاروں مزدوروں کا روزگار اس سے وابستہ تھا جو مختلف شفٹوں میں کام کرتے تھے۔ جب شفٹ چھٹتی تھی تو میں دوڑ کر چھت پر جاتی تھی اور مزدوروں کو باہر نکلتا دیکھتی تھی۔ ہمارے گھر کی عقبی سڑک پر سر ہی سر نظر آتے تھے اور مجھے یہ منظر

Read more

پاکستان کی مادری زبانوں میں کی جانے والی منتخب شاعری

جب سے پاکستان کی مادری زبانوں میں کی جانے والی منتخب شاعری کے اردو تراجم کی کتاب ہاتھ میں آئی ہے، ایک عجیب کیفیت طاری ہے۔ کارزار حیات میں جو گھمسان کا رن پڑا ا ہوا ہے شاید وہ شعر و ادب سے بہت دور لے گیا تھا اندازہ ہی نہ تھا کہ پاکستان میں اتنی اچھی شاعری ہو رہی ہے۔ پہلی ملاقات میں دھیمے مزاج اور نرم شخصیت والے نیاز ندیم کو میں جمہوری حکمرانی اور ترقیاتی شعبے سے وابستہ دیگر کارکنوں کی طرح صرف اپنی ملازمت کے حوالے سے مصروف رہنے والا شخص ہی سمجھی لیکن آہستہ آہستہ ان کی شخصیت کے جوہر کھلے۔ ایک ماں کی حیثیت سے مجھے وہ اس لئے بھی اچھے لگے کہ انہوں نے اپنی مادری زبان سے محبت کو دوسروں کی مادری زبان سے نفرت کا جواز نہیں بنایا بلکہ اپنی مرتب کردہ کتاب ’پاکستان کی مادری زبانوں کا ادب۔ منتخب شاعری۔ 1، کا انتساب انہوں نے ”اپنی اماں۔ شہزادی اور اپنی مادری زبان سندھی کے ساتھ ساتھ تمام ماؤں اور مادری زبانوں کے نام کیا ہے۔ نیاز ندیم انڈس کلچرل فورم کے چئیر پرسن ہیں اور ہر سال فروری میں مادری زبانوں کے عالمی دن کی مناسبت سے ’پاکستان کی مادری زبانوں کا ادبی میلہ‘ لوک ورثہ اور ادارہء استحکام شراکتی ترقی کے تعاون سے منعقد کرتے ہیں۔

Read more

حسین نقی کون؟ اور پیپلز پارٹی کی بہادر کارکن لڑکیاں کون؟

  حسین نقی کا نام میں نے پہلی مرتبہ کراچی یونیورسٹی میں 1969۔ 70 میں اس وقت سنا جب میں نے بائیں بازو کی امیدوار کی حیثیت سے اکنامکس سوسائٹی کی نائب صدر کا انتخاب جیتا تھا۔ این ایس ایف کا جو بھی کارکن مجھے مبارکباد دینے اتا، یہی کہتا کہ حسین نقی کے سات سال بعد کراچی یونیورسٹی میں این ایس ایف جیتی ہے۔ ساتھ ہی مجھے یہ بھی بتایا جاتا کہ وائس چانسلر اشتیاق حسین قریشی نے انہیں

Read more

فہمیدہ ریاض۔۔۔ بولڈ اینڈ جینئس

مجھے لکھنا تو کچھ اور تھا لیکن ہوا یہ کہ فہمیدہ چلی گئیں اور اب فہمیدہ کے علاوہ کسی اور کے بارے میں کیسے لکھوں۔ ساٹھ کی دہائی کے اواخر اور ستر کی دہائی کے ابتدائی سالوں میں نوجوانی کے دور میں داخل ہونے والی نسل انقلاب کے رومان میں مبتلا تھی، یہ خواب دیکھنے والی نسل تھی جو خود کو ڈی کلاس کرنے کے چکر میں رہتی تھی ۔ ہمیں تو غربت میں بھی رومانس نظر آتا تھا۔ 1968میں

Read more

ہم ادھوری عورتیں۔۔۔

برسوں پہلے عورتوں کی آدھی گواہی کا غلفلہ اٹھا تھا۔ کہا گیا کہ مالیاتی امورمیں دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر ہوگی یہ ضیاءالحق کا دور تھا۔ اس کے بعد بینظیر کا دور آیا تو پہلی مرتبہ سندھ ہائی کورٹ میں ایک خاتون جج کا تقریر ہوا لیکن بنک میں مالیاتی امور کے حوالے سے ان سے کہا گیا کہ ان کے ساتھ کسی مرد کے دستخط در کار ہیں۔ اس پر ان خاتون نے کہا تھا کہ

Read more

جنسی ہراسانی آخر کب تک؟

قلم قبیلے سے تعلق رکھنے کی بنا پر ہمیں الفاظ کی حرمت کا زیادہ ہی پاس رہا ہے۔ مگر توبہ کیجئے صاحب، یہ پاکستان ہے، یہاں کسی کے بارے میں کچھ بھی شائع ہو جائے، کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔ اخبار یا کتاب کی بات تو چھوڑئیے، ان الفاظ کو آپ قانون کی شکل بھی دے دیں، تب بھی بہت سے لوگوں پر کوئی اثر نہیں ہونے والا۔ اب یہی دیکھ لیجئے کہ 2010ء میں کام کی جگہ پر جنسی طور

Read more

قومی ڈیپریشن ۔۔۔۔ اور پیٹ پوجا کا جنون

ہم کھانے کے لئے زندہ رہتے ہیں یا زندہ رہنے کے لئے کھاتے ہیں؟ یہ اس زمانے کی بات ہے جب کراچی میں کون آئس کریم نئی نئی متعارف ہوئی تھی، ایک شام ہم باہر نکلے تو ہم نے اپنی بچی کو ایک کون آئس کریم دلوا دی۔ بچی ہمارے ساتھ آئس کریم کھاتی ہوئی فٹ پاتھ پر چل رہی تھی کہ ایک سفید پاجامہ کرتا پہنے ہوئے کھچڑی بالوں والے صاحب نے اس کو روکا اور جھک کر اسے

Read more

عطاالحق قاسمی کا کالم اور ایک صحافی کی خود داری کا دھڑن تختہ

اٹھارہ اگست پاکستان کی تاریخ میں عمران خان کے وزارت عظمےٰ کا حلف اٹھانے کے حوالے سے یاد رکھا جائے گا لیکن احفاظ الرحمنٰ اور ان کے اہل خانہ اس تاریخ کو کسی اور وجہ سے بھی یاد رکھیں گے۔ اس روز عطاالحق قاسمی نے اپنے کالم میں جہاں آزادی صحافت کے لئے احفاظ الرحمن کی خدمات کو سراہا اور چند بہت اچھی تجاویز بھی پیش کیں جیسے نئی نسل کو پاکستان کے چند جی دار صحافیوں کے ناموں سے

Read more

سیاسی مقاصد کے لئے مذہب کا استعمال

ساٹھ کی دہائی کے آخری برسوں کا ذکر ہے۔ کراچی یونیورسٹی میں داخلہ لینے سے پہلے سیاست سے ہمارا تعلق خوابوں اور کتابوں کے حوالے سے تھا یعنی ہم کتابیں پڑھتے تھے اور ایک ایسے معاشرے کے خواب ضروردیکھتے تھے جو امن، انصاف اور مساوات پر مبنی ہو گا لیکن عملی سیاست کی ہمیں الف بے بھی نہیں پتا تھی۔ کراچی یونیورسٹی میں جمعیت کے لڑکوں نے جب مذہب کے حوالے سے ہمیں سیاست یا سیاست کے حوالے سے مذہب

Read more

ایم آر ڈی، لہو میں دھمال اور کوک سٹوڈیو کا انقلاب

جمہوریت کی خاطرکوڑے کھانے والے ، بے روزگاری کا عذاب جھیلنے والے ، قید و بند کی صعوبتیں اٹھانے والے ترقی پسند ساتھی بتا سکتے ہیں کہ ضیاالحق کی آمریت کے دوران جب وہ اقبال بانو کو فیض کا یہ کلام گاتے ہوئے سنتے تھے تو ان پر کیا گزرتی تھی۔خون جوش مارنے لگتا تھا۔سرشاری ،کیف و مستی اور جذب کا عالم طاری ہو جاتا تھا اور یہ یقین پختہ ہو جاتا تھا کہ پاکستان میں جمہوریت آ کر رہے

Read more