میرا بچپن لائل پور میں گزرا، چھٹیوں میں ہم لاہور میں گوالمنڈی، سید مٹھے اور وزیر خاں کی مسجد کی عقبی گلی میں مقیم رشتہ داروں کے گھر جا کے رہتے تھے۔ بچپن کی ایک دھندلی سی یاد کافی سالوں ساتھ رہی۔ ایک مرتبہ چھٹیوں میں نانی کے ساتھ ہم بہن بھائی لاہور گئے تو گوالمنڈی میں ماموں کی گلی میں سوگوار سا ماحول پایا۔ نانی اور رشتے کی خالائیں آپس میں سرگوشیاں کرنے لگیں، ہم دیگر بچوں کے ساتھ کھیلتے کودتے پھرتے مگر نہ سمجھتے ہوئے بھی کچھ نہ کچھ سمجھ آ ہی جاتا تھا۔
نانی کے ساتھ ہم بھی سامنے والے مکان میں رہنے والی بیوہ استانی کے گھر گئے۔ ماحول کچھ ایسا تھا جیسے مرنے پر لوگ تعزیت کرنے جاتے ہیں۔ بیوہ استانی کی چودہ پندرہ سالہ گونگی اور ذہنی طور پر کمزور بچی نے ایک بچے کو جنم دیا تھا۔ بیوہ ماں کے آنسوؤں کو میں آج تک نہیں بھولی۔ نصف صدی سے بھی پہلے کی بات ہے، اس وقت لوگ ڈی این اے کے بارے میں نہیں جانتے تھے۔ محلے کے ایک صاحب کے بارے میں خواتین سرگوشیوں میں کہتی تھیں کہ وہ اس حرکت کے ذمہ دار ہیں لیکن کھل کے کہنے کی کسی میں ہمت نہیں تھی اور نہ ہی کوئی یہ بات ثابت کر سکتا تھا۔
Read more