باتیں قیصر بنگالی کی: ابھی کچھ لوگ باقی ہیں

سوچتی ہوں انسان کو کیا چیز دوسروں سے منفرد کرتی ہے؟ اقبال تو کہہ گئے ہیں کہ درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو لیکن پاکستان کے حالات دیکھ کر تو یوں لگتا ہے کہ انسان کو صرف دوسروں اور اپنے ملک کو لوٹنے کھسوٹنے کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ ہم میں سے…

Read more

کتابوں کی باتیں

کہتے ہیں کہ تناور پیڑ کے نیچے اگنے والے پودے پنپ نہیں سکتے مگر شائستہ سعیدنے جناتی دانشوروں، فلسفیوں، ادیبوں اور شاعروں کے گھرانے سے تعلق رکھنے کے باوجود اپنی شخصیت کو منوایا ہے۔ وہ سید محمد تقی کی بیٹی اور رئیس امروہوی اور جون ایلیا کی بھتیجی ہیں۔ خاندان سے متعلق وہ پہلے بھی ایک کتاب ”دو نسلوں کی مائیں“ لکھ چکی ہیں۔ زیر نظر کتاب ”پاکستانی خاندان اور عورت۔ پرورش، پابندی، خود مختاری“ کا دیباچہ ڈاکٹر محمد علی صدیقی نے لکھا ہے۔

Read more

دیہی عورتوں کے مسائل

دیہی عورتوں کے مسائل کے بارے میں بات کرنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ پاکستان میں شہری اور دیہی تفریق بے حد بڑھ چکی ہے۔ مثال کے طور پراگر آپ کراچی سے اندرون سندھ کی طرف جائیں تو یوں لگتا ہے کہ آپ ٹائم مشین میں بیٹھ کر ماضی کی طرف جا رہے…

Read more

کیا عورت انسان نہیں؟

پڑھنے کا شوق بچپن سے تھا، گھر میں کتابوں اور رسائل کی فراوانی تھی۔ پڑھنے پر کوئی روک ٹوک نہیں تھی۔ اس لئے جو بڑے پڑھتے تھے، وہ ہم بھی پڑھتے تھے، خواہ سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔ اتنا یاد ہے کہ لکھنے والے زیادہ تر مرد حضرات تھے اور ان کا محبوب موضوع ’عورت‘ تھا۔ ’عورت ایک پہیلی ہے۔ عورت یہ ہے۔ عورت وہ ہے‘ ۔ کچھ عرصہ تک تو ہم مرعوب رہے لیکن پھر خیال آیا۔ آخر ان مرد حضرات کو بھلا کیا پتا کہ عورت کیا سوچتی ہے۔ کیا محسوس کرتی ہے۔ اس کے دل پر کیا گزرتی ہے؟

یہ سب تو ایک عورت ہی بتا سکتی ہے لیکن ایک تو لکھنے والی عورتیں کم تھیں، دوسرے عورتوں کے رسائل میں شائع ہونے والی تحریروں اور عورتوں کے ناولوں کو مرد حضرات ’ادب‘ ماننے کو تیا رہی نہ تھے۔ دوسرے درجے کے شہریوں کی طرح ان رسائل میں لکھنے والیوں کو دوسرے درجے کی ادیب سمجھا جاتا تھالیکن وہ جو کہتے ہیں نا کہ سو سنار کی ایک لوہار کی تو اردو ادب میں رشید جہاں، عصمت چغتائی اور پھر قرۃ العین نے بڑے بڑے مرد ادیبوں کے چھکے چھڑوا دیے۔

Read more

پاکستان کا مزدور طبقہ

میرا بچپن لائلپور کی کوہ نور کالونی میں گزرا۔ میرا خیال ہے اس وقت کوہ نور ٹیکسٹائل مل پاکستان کی سب سے بڑی ٹیکسٹائل ملز میں سے ایک تھی اور ہزاروں مزدوروں کا روزگار اس سے وابستہ تھا جو مختلف شفٹوں میں کام کرتے تھے۔ جب شفٹ چھٹتی تھی تو میں دوڑ کر چھت پر…

Read more

پاکستان کی مادری زبانوں میں کی جانے والی منتخب شاعری

جب سے پاکستان کی مادری زبانوں میں کی جانے والی منتخب شاعری کے اردو تراجم کی کتاب ہاتھ میں آئی ہے، ایک عجیب کیفیت طاری ہے۔ کارزار حیات میں جو گھمسان کا رن پڑا ا ہوا ہے شاید وہ شعر و ادب سے بہت دور لے گیا تھا اندازہ ہی نہ تھا کہ پاکستان میں اتنی اچھی شاعری ہو رہی ہے۔ پہلی ملاقات میں دھیمے مزاج اور نرم شخصیت والے نیاز ندیم کو میں جمہوری حکمرانی اور ترقیاتی شعبے سے وابستہ دیگر کارکنوں کی طرح صرف اپنی ملازمت کے حوالے سے مصروف رہنے والا شخص ہی سمجھی لیکن آہستہ آہستہ ان کی شخصیت کے جوہر کھلے۔ ایک ماں کی حیثیت سے مجھے وہ اس لئے بھی اچھے لگے کہ انہوں نے اپنی مادری زبان سے محبت کو دوسروں کی مادری زبان سے نفرت کا جواز نہیں بنایا بلکہ اپنی مرتب کردہ کتاب ’پاکستان کی مادری زبانوں کا ادب۔ منتخب شاعری۔ 1، کا انتساب انہوں نے ”اپنی اماں۔ شہزادی اور اپنی مادری زبان سندھی کے ساتھ ساتھ تمام ماؤں اور مادری زبانوں کے نام کیا ہے۔ نیاز ندیم انڈس کلچرل فورم کے چئیر پرسن ہیں اور ہر سال فروری میں مادری زبانوں کے عالمی دن کی مناسبت سے ’پاکستان کی مادری زبانوں کا ادبی میلہ‘ لوک ورثہ اور ادارہء استحکام شراکتی ترقی کے تعاون سے منعقد کرتے ہیں۔

Read more

حسین نقی کون؟ اور پیپلز پارٹی کی بہادر کارکن لڑکیاں کون؟

  حسین نقی کا نام میں نے پہلی مرتبہ کراچی یونیورسٹی میں 1969۔ 70 میں اس وقت سنا جب میں نے بائیں بازو کی امیدوار کی حیثیت سے اکنامکس سوسائٹی کی نائب صدر کا انتخاب جیتا تھا۔ این ایس ایف کا جو بھی کارکن مجھے مبارکباد دینے اتا، یہی کہتا کہ حسین نقی کے سات…

Read more

فہمیدہ ریاض۔۔۔ بولڈ اینڈ جینئس

مجھے لکھنا تو کچھ اور تھا لیکن ہوا یہ کہ فہمیدہ چلی گئیں اور اب فہمیدہ کے علاوہ کسی اور کے بارے میں کیسے لکھوں۔ ساٹھ کی دہائی کے اواخر اور ستر کی دہائی کے ابتدائی سالوں میں نوجوانی کے دور میں داخل ہونے والی نسل انقلاب کے رومان میں مبتلا تھی، یہ خواب دیکھنے…

Read more

ہم ادھوری عورتیں۔۔۔

برسوں پہلے عورتوں کی آدھی گواہی کا غلفلہ اٹھا تھا۔ کہا گیا کہ مالیاتی امورمیں دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر ہوگی یہ ضیاءالحق کا دور تھا۔ اس کے بعد بینظیر کا دور آیا تو پہلی مرتبہ سندھ ہائی کورٹ میں ایک خاتون جج کا تقریر ہوا لیکن بنک میں مالیاتی امور کے…

Read more

جنسی ہراسانی آخر کب تک؟

قلم قبیلے سے تعلق رکھنے کی بنا پر ہمیں الفاظ کی حرمت کا زیادہ ہی پاس رہا ہے۔ مگر توبہ کیجئے صاحب، یہ پاکستان ہے، یہاں کسی کے بارے میں کچھ بھی شائع ہو جائے، کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔ اخبار یا کتاب کی بات تو چھوڑئیے، ان الفاظ کو آپ قانون کی شکل بھی دے…

Read more