شیما کرمانی۔ رقص اور مزاحمت

تحریک نسواں کی پنتالیسویں ( 45 ) سالگرہ پر شیما کرمانی نے نئے سال کے پہلے مہینے میں طلسم تھیٹر اینڈ ڈانس فیسٹیول 6 تا 22 جنوری منعقد کیا۔ ذرا سوچیں سترہ دن تک روز ایک پروگرام پیش کرنا کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہے۔ آرٹس کونسل کراچی کے احمد شاہ نے اپنا بڑا آڈیٹوریم فراہم کیے رکھا۔ اس کی بھی داد دینی چاہیے۔ ویسے تو سارے ڈرامے ایک سے بڑھ کر ایک تھے مگر اٹھارہ جنوری کو امر جلیل

Read more

کشمیر کے جبری گمشدہ افراد کی نصف بیوائیں

کشمیر کو کبھی جنت ارضی کہا جاتا تھا لیکن آج یہ دنیا کا سب سے زیادہ عسکری یا فوجی علاقہ یعنی ہندوستان کے پانچ لاکھ فوجیوں کا گھر بن چکا ہے۔ آرمڈ فورسز اسپیشل پاور ایکٹ AFSPA جیسے بھیانک قانون کے تحت یہ فوجی کئی عشروں سے جواب دہی یا سزا کے خوف کے بغیر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ جبری گمشدگیاں، بلا جواز گرفتاریاں، اذیت رسانی، قتل، اور غیر معینہ نظر بندی جیسے ہتھکنڈے

Read more

کیا امریکہ واحد سپر پاور ہے؟

پاکستان کے بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ہمارے جیسے لوگوں کو زمانۂ طالبعلمی میں ان کے بزرگ دانشور یہی بتاتے تھے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے لیاقت علی خاں کا سوویت یونین کا دعوت نامہ نظر انداز کرنا اور امریکہ کا دورہ کرنا غلط تھا۔ اس کے بعد سینٹو اور سیٹو جیسے اتحادوں میں شامل ہونا اور بھی غلط تھا۔ پاکستان کے ادارہ بین الاقوامی تعلقات کی کانفرنس میں بدلتے ہوئے عالمی نظام اور پاکستان کے

Read more

گوادر کا مستقبل کیا ہے؟

پاکستان کے بہترین دماغ انگریزی میں لکھتے ہیں، اس لئے عوام کی اکثریت ان کے خیالات سے مستفید نہیں ہو پاتی۔ چند روز قبل پاکستان کے بین الاقوامی تعلقات کے ادارے نے اپنی پچھہترویں سالگرہ کے موقع پر ”پاکستان اور بدلتا ہوا عالمی نظام“ کے عنوان سے ایک کانفرنس کا انعقاد کیا تو خیال آیا کہ کیوں نہ ان مقالوں کا خلاصہ اردو میں پیش کیا جائے۔ چنانچہ ابتدا کر رہے ہیں ”گوادر، سی پیک اور قومی ترقی“ کے بارے

Read more

جنریشن گیپ

آئی پیڈ اور موبائل کے دور میں پیدا ہونے والی جنریشن کیا جانے کہ ہم بچپن میں کتابوں بھرے بستے کے ساتھ تختی، قلم اور دوات ساتھ لے کر جاتے تھے۔ اس کے بعد فاؤنٹین پین کا زمانہ آیا، اس کے لئے بھی سیاہی کی دوات درکار ہوتی تھی اور سیاہی چوس یا بلاٹنگ پیپر بھی چاہیے ہوتا تھا، اب موجودہ نسل کیا جانے کہ یہ کیا بلا تھی۔ خوشخطی پر بہت زور دیا جاتا تھا۔ پھر بال پین کا زمانہ آیا۔ اس کی وجہ سے جہاں آسانیاں پیدا ہوئیں یعنی سیاہی کی دوات نہیں رکھنی پڑتی تھی، وہیں تنقید بھی ہوتی تھی کہ اس کے استعمال سے بچوں کی لکھائی خراب ہو جائے گی، اس لئے بہت سے اسکولوں میں بچوں کو بال پین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی تھی۔ ایسی بہت ساری تبدیلیاں جن میں سیاست، اقدار، ثقافت سب ہی شامل ہیں، جنریشن گیپ کا سبب بنتی ہیں۔ بات آگے بڑھانے سے پہلے حالیہ تاریخ میں جو مختلف جنریشنز یا نسلیں سامنے آئی ہیں، ان کا ذکر ہو جائے۔

Read more

مردوں نے بنائیں جو رسمیں، ان کو حق کا فرمان کہا

ہمارے والد بتایا کرتے تھے کہ ان کے بچپن میں دہلی میں ان کے خاندان کی خواتین تقریبات میں شرکت کے لئے ڈولی میں بیٹھ کر جاتی تھیں جنہیں کہار اٹھا کر چلتے تھے، اس کے بعد شٹل کاک نما برقعے پہنے جانے لگے۔ قیام پاکستان سے کچھ پہلے اسکول اور کالج جانے والی لڑکیوں نے کالے برقعے پہننا شروع کر دیے تھے جنہیں فیشن ایبل سمجھا جاتا تھا۔ میں نے اپنے بچپن میں امی اور رشتے کی خالاؤں کو

Read more

انقلابی شوہر کی کیبنٹ سیکریٹری بیوی کی خود نوشت

Pakistan in an age of turbulence معصومہ حسن کی نئی کتاب کہنے کو تو ان کی سوانح عمری ہے لیکن اس میں بجا طور پر ہمیں فتحیاب علی خان کا اور پاکستان کی سیاسی تاریخ کا تفصیلی ذکر بھی ملتا ہے۔ ریٹائر منٹ کے بعد معصومہ کا ارادہ بانیٔ پاکستان محمد علی جناح کے بارے میں کتاب لکھنے کا تھا لیکن 26 ستمبر 2010 کو جب ان کے شوہر اور زندگی بھر کے دوست فتحیاب علی خان کا انتقال ہوا

Read more

جس محلے میں تھا ہمارا گھر

ڈاکٹر سجاد احمد صدیقی کی یادوں اور خاکوں پر مشتمل کتاب پر اس کے علاوہ اور کیا تبصرہ کروں کہ اس کا پہلا خاکہ ”بڑی امی“ پڑھتے ہوئے میرے آنسو بہنے لگے تھے۔ اس کتاب کا انتساب بھی ماں کے نام ہی ہے۔ یہ ایک ہی نشست میں پڑھے جانے والی کتاب ہے۔ ایک دفعہ ہاتھ میں اٹھا لیں تو ختم کیے بغیر نہیں رہ سکتے۔ پہلا خاکہ ہی اتنا پر اثر ہے کہ قاری کو مکمل طور پر اپنی

Read more

سیمیں مرجان درانی: قسطوں میں موت

اب لڑکیوں کو زندہ دفن نہیں کیا جاتا۔ ہاں کچھ کو کارو کاری کے الزام میں، کچھ کو رسوم و رواج سے بغاوت اور معاشرے کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز کرنے کے جرم میں مار دیا جاتا ہے لیکن بہت سی لڑکیوں کو قسطوں میں قتل کیا جاتا ہے۔ ان کی خواہشوں امنگوں اور صلاحیتوں کا گلا گھونٹ کر انہیں دھیرے دھیرے مارا جاتا ہے، اس قتل کو آپ پدر سری معاشرے کی کرامات بھی کہہ سکتے ہیں کہ

Read more

رشی خان کا آدھا انسان

میں رشی خان کو نہیں جانتی ہوں۔ نہ ہی پہلے میں نے ان کی شاعری یا نثر پڑھی ہے مگر جب ان کے پبلشر نے ان کی کتاب ”آدھا انسان“ مجھے بھجوائی تو ان کا تعارف پڑھ کر ایک حیرت انگیز خوشی ہوئی۔ یہ تو اپنے قبیلے کے ہی نکلے۔ انجینئرنگ چھوڑ کر لکھنے لکھانے کی طرف آئے۔ ان کی صحافت کی وجہ سے ضیا الحق کے دور میں ان پر ایسے ”بھاری“ مقدمات بنائے گئے جن میں انہیں موت

Read more

ون یونٹ ٹوٹنے کی گولڈن جوبلی

پاکستان اپنے قیام کے وقت ایک ایسا انوکھا ملک تھا، جس کا ایک حصہ باقی حصوں سے ایک ہزار میل کے فاصلے پر واقع تھا۔ وہاں جانے کے لئے آپ کو ہندوستان کے اوپر پرواز کر کے جانا پڑتا تھا۔ جب ہندوستان سے زیادہ تعلقات خراب ہوتے تھے تو اور بھی لمبا فضائی روٹ اختیار کرنا پڑتا تھا۔ اندرونی معاملات اور بھی پیچیدہ تھے، مغربی حصے کے سیاستدان جمہوری اصولوں کے مطابق مشرقی حصے کو اس کا جائز حق دینے

Read more

ماہی گیروں کے مسائل

پاکستان کے جس شعبے پر بھی نظر ڈالو، مصحفی کی طرح یہی کہنا پڑتا ہے کہ ہم تو سمجھے تھے کہ ہو گا کوئی زخم۔ تیرے دل میں تو بہت کام رفو کا نکلا۔ ماہی گیری کے شعبے کی بھی یہی صورت حال ہے۔ بدلتے ہوئے رجحانات اور منڈی کی قوتیں اس شعبے پر حاوی ہو گئی ہیں۔ عورتیں زیادہ تر جسمانی محنت والے کام کرتی تھیں اور سب سے پہلے وہی آمدنی کے ذرائع سے محروم ہوئیں۔ ماہی گیروں

Read more

شہناز احد کی مسافتوں کی دھول

شہناز احد ہمارے دو سال بعد عملی صحافت میں آنے والے نو عمر صحافیوں کی کھیپ میں شامل تھیں۔ انہوں نے ہفت روزہ معیار سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے اپنی تہلکہ خیز رپورٹوں اور فیچرز کے ذریعے دھوم مچا دی۔ اس کے ساتھ ہی وہ آزادیٔ صحافت اور صحافیوں کے معاشی حقوق کے لئے جد و جہد کرنے والے منہاج برنا کے قافلے میں بھی شامل ہو گئیں۔ اور یوں ہماری دوست بھی بن گئیں۔

Read more

تخلیقی آزادی کیا ہے؟

زندگی بھی عجیب و غریب ہے۔ دکھ نہ ملے تو خوشی کی قدر نہیں ہوتی۔ شور نہ ہو تو خاموشی کی قدر نہیں ہوتی۔ اسی طرح کسی کا نہ ہونا اس کے ہونے کی اہمیت کا احساس دلاتا ہے۔ تخلیقی آزادی کا مسئلہ بھی کچھ اے سا ہی ہے۔ اگر پابندیاں نہ ہوں تو آزادی کی قدر نہ ہو۔ مگر تخلیقی آزادی پر پابندیاں لگانا کچھ اتنا آسان بھی نہیں ہوتا۔ بقول شاعر: پاتے نہیں جب راہ تو چڑھ جاتے

Read more

پاکستان میں میڈیا کا بحران

تلخیص و تبصرہ: مہ ناز رحمن ٓآج میں آپ کو میڈیا کے بحران کے بارے میں توصیف احمد خان اور عرفان عزیز کی تحقیق و تالیف پر مبنی کتاب کے بارے میں بتاؤں گی۔ بڑے بوڑھے کہہ گئے ہیں کہ ایک اکیلا، دو گیارہ۔ تو واقعی ان دو صاحبان نے کمال کر دکھایا ہے اور میڈیا کے بحران کی گہرائیوں میں جا کے اس کے بنیادی اسباب اور میڈیا سے وابستہ لوگوں پر گزرنے والی مصیبتوں اور آفتوں کو سامنے

Read more

نوجوانوں کے مسائل اور عورت مارچ

جب سے معلوم ہوا ہے کہ پاکستان کی آبادی میں نوجوانوں کا تناسب 63 فی صد ہے، سب نے نوجوانوں کے مسائل کے بارے میں بات کرنا شروع کر دی ہے۔ اس لئے ہم نے سوچا کہ پاکستانی معاشرے میں عورت کے مقام کے بارے میں بات کرتے ہوئے کیوں نہ ہر دور کی نوجوان نسل کی خواتین کے حوالے سے بات کی جائے۔ ہر نسل کو اپنے سے پہلے والی نسل سے کیا ملا اور اس نے اگلی نسل

Read more

ارتقائے بشر اور اخلاقیات۔ مصنف:جان ایوری۔ مترجم:اعجاز احمد

تبصرہ: مہ ناز رحمن جان اسکیلز ایوری ایک سائنسدان ہیں اور ابتدائی شہرت انہیں اپنی سائنسی تحقیق کی بنا پر ہی حاصل ہوئی لیکن 1990 کے عشرے کے اوائل سے وہ امن کے لئے کام کرنے والے کارکن کی حیثیت سے فعال ہو گئے۔ اسی لئے وہ سائنس اور اخلاقیات کے باہمی تعلق پر زور دیتے ہیں۔ وہ سائنسدانوں کو ان کی سماجی ذمہ داری کا احساس دلانا چاہتے ہیں۔ سائنس اور ٹیکنالوجی نے انسانی سماج کو بہت سے فائدے

Read more

ہماری فیمنسٹ ہیروز پر ایک کتاب

برصغیر پاک ہند کے جدید ذہن رکھنے والے مردوں نے ہمیشہ عورتوں کی تعلیم اور ترقی کی حمایت کی ہے۔ تاریخ کی عظیم ترین فیمنسٹ عورتوں کی حیات، نظریات اور تحریکوں کے عالمی مطالعے کے ذریعے نعیم مرزا نے راجا رام موہن رائے، شیخ عبدااللہ اور محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس تشکیل دینے والے مردوں کی روایت کو آگے بڑھایا ہے۔ اکیسویں صدی کی نئی نسل کو 1364 سے 1933 تک کی تاریخ کی عظیم ترین فیمنسٹ عورتوں سے متعارف کرانا یقیناً

Read more

فیض کی محبت میں: اشفاق کا فیض سے بے پناہ عشق

ایک دو ماہ پہلے اشفاق حسین کی کتاب ”فیض کی محبت میں“ کا ذکر سنا اور پھر مارچ کے آغاز میں انہوں نے کتاب بھجوا بھی دی تھی لیکن آپ جانیں مارچ کے مہینے میں ہم خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے مہینہ بھر عورتوں سے متعلق سرگرمیوں میں ہی مصروف رہتے ہیں اور پھر کتاب کی ضخامت نے بھی ڈرا دیا تھا۔ ہمیں اپنی کمزوری کا علم تھا کہ اگر کتاب اٹھا لی تو ختم کیے بغیر نہیں

Read more

خدا کی بستی کا خالق تسنیم صدیقی چلا گیا

بہت پرانی بات ہے، اس وقت ہم صحافی کالونی گلشن اقبال میں رہتے تھے۔ اک روز ہمارے گھر میں برسوں سے کام کرنے والی ملازمہ نے ہمیں مطلع کیا کہ اب وہ ہمارے پاس مزید کام نہیں کر سکے گی کیونکہ اس نے سپر ہائی وے پر ”خدا کی بستی“ میں اپنا گھر بنا لیا ہے۔ ہمیں اس کے جا نے کا افسوس تو ہوا لیکن اس کے ساتھ ہی ”خدا کی بستی“ کا نام دماغ سے چپک گیا۔ آخر

Read more

عشق وہ کار مسلسل ہے… راشد رحمن کی جدوجہد

دسمبر کے آغاز میں سیالکوٹ میں پریانتھا کمارا کے ہجوم کے ہاتھوں قتل نے پوری قوم کو ہلا کے رکھ دیا اور دسمبر کے اواخر میں راشد رحمن کے بارے میں توصیف احمد خان کی لکھی ہوئی کتاب میرے سامنے آئی تو مجھے یوں لگا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سب توہین مذہب کے نام پر جھوٹے الزامات لگانے اور اور اس قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوں۔ مجھے نہیں معلوم آج

Read more

کریمہ بلوچ: میرا جامہ حیات اور آپ کی برہنہ شمشیر

ویسے تو ہم ملک کی ساری خواتین کے حالات سے باخبر رہنا چاہتے ہیں لیکن کراچی سے تعلق رکھنے کی وجہ سے بلوچوں سے ہماری جان پہچان لیاری کی وجہ سے زیادہ ہوئی۔ جب ہم روزنامہ مساوات میں کام کرتے تھے تو اپنے کولیگ نادر شاہ عادل کے ساتھ جا کے لیاری کی خواتین پر ایک فیچر بھی بنایا تھا۔ تب پیپلز پارٹی لیاری کی مقبول ترین پارٹی تھی اور خواتین کی بڑی تعداد پارٹی کے لئے کام کرتی تھی۔نادر

Read more

کچھ ذکر سونار بنگلہ کا

مشرقی پاکستان کو ہم سے الگ ہوئے نصف صدی ہو گئی لیکن ہم نے اس سانحے سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ اور آہستہ آہستہ ہم اس حادثے کو بھولتے چلے گئے۔ نئی نسل کو تو یاد بھی نہیں کہ کبھی مشرقی پاکستان بھی ہماراحصہ تھا۔ اور پھر یہ بھی ہے کہ نئی نسل نے ماضی قریب میں ایسے سانحات دیکھے کہ انہیں ماضی بعید کے بارے میں جاننے کا وقت ہی نہیں ملا۔ کچھ دیر قبل ہی ایک استاد بتا

Read more

بوڑھوں سے تعصب

بہت پہلے کی بات ہے کراچی پریس کلب کے ایک صدر ہوا کرتے تھے، حضور احمد شاہ، اتنی پیاری اور خوش باش شخصیت شاید ہی کسی پریس کلب کو نصیب ہوئی ہو۔ کام وہ ڈان اخبار میں کرتے تھے اور ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچ چکے تھے۔ میں اور لالی ( لالہ رخ انصاری) اپنے انقلابی اور سیاسی جنون کے باوجود پریس کلب کے ثقافتی پروگراموں میں بھی دلچسپی رکھتے تھے۔ ایک دن لالی نے بتایا کہ ہندوستان سے ایک

Read more

لطافت علی صدیقی کی کتاب: ہزاروں انکشافات

لطافت علی صدیقی کی کتاب  ’ہزاروں انکشافات‘  کا ذیلی عنوان ہے، سازشیں، سیاہ راتیں، قاتل و مقتول کی داستانیں۔ لطافت علی صدیقی کا تعلق منہاج برنا اور نثار عثمانی کے قافلے یعنی بقول احفاظ صحافیوں کی اس کھیپ سے ہے جو درد مند دل اور صاف ہاتھ رکھتے ہیں اور اپنے پیشیکی حرمت کا بھی احساس رکھتے ہیں۔ ا ب وہ کینیڈا کی شہریت اختیار کر چکے ہیں۔ کورونا نے دنیا میں جتنی بھی تباہی مچائی ہو لیکن لاک ڈاؤن

Read more

سینما: عورتوں کے حقوق کے لئے

آج کل جنوبی ایشیا کے ترقی پسند حلقوں کی جانب سے یہ آواز زور و شور سے اٹھائی جا رہی ہے کہ اب سیاست کا میدان عورتوں کے سپرد کر دینا چاہیے۔ ایک ایسی سیاسی پارٹی ہو جس میں مرد کارکن بن کے کام کریں اور ساری سیاسی قیادت عورتوں کے ہاتھ میں ہو۔ ہماری بینا سرور طویل عرصے سے جنوبی ایشیا میں قیام امن کے لئے کام کر رہی ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے انسانیت کے لئے نسائیت

Read more

بوم بسیرا: کتابوں کی باتیں

بوم بسیرا۔ ایک نوجوان کی ہوشربا داستان جو امریکا جا کر گھر کی واپسی کا راستہ بھول گیا۔ آپ کس قسم کی کتاب پڑھنے جا رہے ہیں، اس کا اندازہ آپ کو درج ذیل سطور سے ہو جائے گا: ”اس ناول کے آغاز میں ہی روداد نویس اعتراف کرتا ہے کہ کہانی کے تمام کردار فرضی اور قصہ گو کے خراب دماغ کی اختراع ہیں اور عام زندگی کے چلتے پھرتے لوگوں سے ان کی مطابقت محض اتفاقیہ ہے۔ تصوراتی

Read more

منکر نکیر۔ ایک باغی کی ڈائری

عبید نے اپنی کتاب کا انتساب خود کو پہچاننے کی کوشش میں سرگرداں ہر انسان کے نام کیا ہے۔ اس کے بعد وہ کہتا ہے ”اگر کوئی شخص مجھے نہ جانے اور نہ پہچانے تو مجھے کوئی دکھ نہیں لیکن اگر میں خود کو نہ جان سکوں اور خود کو ہی نہ پہچان سکوں تو مجھے بہت افسوس ہو گا۔“

کچھ عرصہ پہلے سوشل میڈیا پر ایک ایرانی شاعرہ کی نظم کا ترجمہ وائرل ہوا تھا۔ عبید نے اپنی کتاب کا آغاز اسی نظم سے کیا ہے بقول اس کے ’سعودی عرب کے بارے میں سچی مگر اختلافی بات کرو تو قانون کی دفعہ 302 لگتی ہے، پاکستان پر بات کرو تو آرٹیکل 6 لگتا ہے۔ ایران کی بات کرو تو فوراً یزید سے مناسبت جوڑ دی جاتی ہے۔ مگر کیا کریں۔ جو لوگ مذہب میں حل ڈھونڈتے ہیں، ان کو جواب تو دینا ہی پڑتا ہے کیونکہ یہ ہمارے بچوں کے مستقبل کا معاملہ ہے۔

Read more

نیشنلسٹ دوستوں کی خدمت میں چند گزارشات

جہاں تک عوامی اور جمہوری مسائل اور قوموں کی زمین اور وسائل پر قبضے کا تعلق ہے تو میں بائیں بازو سے جڑی ہوئی ایک ادنیٰ کارکن کی حیثیت سے کچھ معروضات پیش کرنا چاہتی ہوں۔ بورژوازی نیشنلسٹ اپروچ اور ہماری اپروچ میں بنیادی فرق ہے۔ ہم محنت کشوں کی نمائندگی کرتے ہیں اور محنت کش طبقہ ہر طرح کے ظلم اور استحصال کے خلاف لڑنے کے لئے تیار رہتا ہے، اسی لئے وہ مظلوم قوموں کی خود مختاری کی

Read more

انیس ہارون کی کتاب: ویرانی دل و دنیا – کورونا کے شب و روز کا روزنامچہ

گزشتہ سال مارچ سے جب کرونا کی وجہ سے ہم گھروں میں بند ہو گئے تو ہر کسی نے اس قید تنہائی کا اپنے طور پر کوئی علاج نکالا۔ آپ تصور کر سکتے ہیں کہ انیس ہارون جیسی ایکٹوسٹ اور مجلسی خاتون کے لئے یہ عرصہ کتنا کٹھن گزرا ہو گا۔ انیس اور ان کے جیون ساتھی سید ہارون احمد پہ یہ مصرعہ صادق آتا ہے کہ۔ :سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے۔ ہم نے انہیں ہمیشہ دوسروں

Read more

عورتیں آ گئیں میدان میں

صنفی مساوات کے لئے کام کرنا میری نوکری کا حصہ ہے مگر ذاتی طور پر میں سمجھتی ہوں کہ مرد اور عورت برابر نہیں ہیں بلکہ عورتیں مردوں سے برتر ہیں۔ مستقبل ڈیجیٹل ہے اور اس میں عورتیں زیادہ اہمیت کی حامل ہوں گی۔ میلون کونر اپنی کتاب ”مردانہ بالا دستی کا خاتمہ“ میں بتاتا ہے کہ حال ہی میں انسانی دماغ کی جو تصاویر لی گئی ہیں، ان سے پتا چلتا ہے کہ مردوں کے دماغ کا وہ حصہ

Read more

شین فرخ۔ بی پڑوسن (حصہ دوم)

دنیا جانتی ہے کہ احفاظ اپنے نظریات کے حوالے سے کتنے سخت گیر اور بے لچک تھے۔ صحافتی ٹریڈ یونین میں وہ منہاج برنا کو اپنا لیڈر مانتے تھے۔ جب کچھ لوگ برنا پی ایف یو جے سے الگ ہوئے تو ان میں احفاظ کے بہنوئی نسیم شاد اور شین فرخ بھی شامل تھے، اس پر احفاظ ہمیشہ ان دونوں سے ناراض رہے حالانکہ شین نے شاید میری وجہ سے ہمیشہ ان کے ساتھ دوستی نبھانے کی کوشش کی۔ اور

Read more

بی پڑوسن (شین فرخ)

کوئی بیس سال پہلے کی بات ہے، میں طاہرہ خان کے ساتھ ایک مشاورتی پروگرام کے لئے کوئٹہ گئی ہوئی تھی۔ ہم سرینا ہوٹل میں ٹھہرے تھے۔ ایک صبح ناشتے کے لئے باہر نکلے تو ایک میز پر فراز اکیلے بیٹھے نظر آئے، غالب کی طرح ہمارے بھی ہاتھ پاؤں خوشی سے پھول گئے، ساحر اور فیض کے بعد ہم ان ہی کی شاعری کے دیوانے تھے لیکن کبھی ذاتی طور پر ملاقات کی نوبت نہیں آئی تھی حالانکہ وہ

Read more

بچوں، بوڑھوں اور بیماروں کی دیکھ بھال صرف عورت کی ذمہ داری کیوں؟

بہت پرانی بات ہے، لالی ایک انگریزی روزنامے میں اور میں ایک اردو روزنامے میں کام کرتے تھے ایک روز وہ دفتر نہیں آئی اور اگلے روز اس نے بتایا کہ کام والی نے چھٹی کی تھی اس لئے اسے گھر رکنا پڑا اور پھر اس نے ہمیشہ کی طرح مسکراتے ہوئے پوچھا تھا ”آخر جب بھی ملازمہ چھٹی کرے یا بچہ بیمار پڑے تو ہمیشہ بیوی کو ہی دفتر سے چھٹی کیوں کرنی پڑتی ہے؟“ میرے پاس اس کے سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔ لیکن اب لوگ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ بچوں، بوڑھوں، بیماروں اور معذوروں کی دیکھ بھال معاشرے کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے میں طبی دیکھ بھال، سماجی خدمات، بچپن میں یا معذوری کی صورت میں سماجی تحفظ (آرٹیکل 25 ) تعلیم سب کے لئے (آرٹیکل 26 ) کا حق بھی شامل ہے۔

Read more

مرد اور عورت: دوست یا دشمن؟

1995 میں جب میں نے این جی اوز کی دنیا میں قدم رکھا تو مردوں کے بارے میں اپنی نوجوان خواتین کولیگز کا جارحانہ رویہ دیکہ کر حیرت ہوئی۔ ہم ٹھہرے بائیں بازو کی طلبا سیاست سے آگے آنے والے لوگ۔ ہم تو یہی سمجھتے تھے کہ مرد اور عورت مل کر انقلاب لائیں گے۔ اور یہ بھی کہ جب انقلاب آئے گا تو مزدوروں اور کسانوں کی طرح عورتوں کے مسائل بھی حل ہو جائیں گے۔ یہ ہم ستر

Read more

جنگ جو جیتی نہیں جا سکی

”سی آئی اے کے ڈائرکٹر جارج ٹینیٹ کو بے چینی سے اپنے پاکستانی ہم منصب ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹننٹ جنرل محمود احمد کا انتظار تھا۔ یہ 9 / 11 کے دو دن بعد کا ذکر ہے جب امریکہ کو اپنی سر زمین پر ہونے والی بدترین دہشت گردی نے ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اس روز لینگلے میں سی آئی اے کے ہیڈکوارٹرز کا تناؤ بھرا ماحول چند روز قبل جنرل محمود کی لینگلے آمد والے ماحول سے

Read more

وہ جو سورج پہ کمند ڈالنے نکلے

جوانی واقعی دیوانی ہوتی ہے، نوجوان سمجھتے ہیں کہ وہ دنیا بدل سکتے ہیں، انقلاب لا سکتے ہیں، سماج سے نا انصافی اور ظلم کا خاتمہ کر سکتے ہیں، امیر اور غریب کی تفریق ختم کر سکتے ہیں اور نجانے کیا کچھ کر سکتے ہیں۔ ساٹھ اور ستر کے عشرے میں نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن اور ان سے پہلے ڈی ایس ایف میں شامل نوجوان بھی سورج پہ کمند ڈالنے نکلے تھے۔ ان نوجوانوں نے ’اپنی چھاتی میں اس دیس کے

Read more

عورت کیا چاہتی ہے؟

صبح علی احمد خان صاحب سے بات ہو رہی تھی، انہوں نے بتایا کہ وہ اپنی صحافیانہ زندگی کی یادداشتیں قلم بند کر رہے ہیں۔ ہم نے علی احمد جو اب سارے صحافیوں کے لئے خان صاحب ہیں کے ساتھ ہفت روزہ محور اور روزنامہ امن میں 79 اور 1980 کے عشرے کے ابتدائی برسوں میں کام کیا ہے۔ معلوم نہیں کیوں لیکن جب انہوں نے اس زمانے کی بات چھیڑی تو ہماری ”شعور کی رو“ چلنا شروع ہو گئی۔

Read more

کتابوں کی باتیں

کچھ عرصہ قبل افتخار احمد اور اصغر جمیل کی انگریزی میں لکھی ہوئی کتاب ”اسلامی لیبر کوڈ“ موصول ہوئی تو قدرے حیرت ہوئی کہ کچھ لوگ جذباتیت سے ہٹ کر پاکستان میں بھی ایسے موضوعات پر تحقیق و تصنیف میں مصروف ہیں۔ مصنفین کے مطابق اس وقت مسلمانوں کی تعداد ایک اعشاریہ آٹھ بلین ہے یعنی دنیا کی کل آبادی کا ایک چوتھائی حصہ مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ ایشیائی اور افریقی ممالک میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً 69.4 فی صد ہے یعنی مسلمانوں کی مجموعی آبادی کا ستائیس فی صد حصہ ان ممالک میں رہتا ہے۔ یورپ اور امریکہ میں مسلمانوں کی تعداد صرف تین فی صد ہے۔ دنیا میں مسلم اکثریت والے ستاون ممالک ہیں جن میں ایک ارب سے زیادہ مسلمان رہتے ہیں۔ یہ سب OIC اسلامی تنظیم برائے تعاون کے رکن ہیں جس کا قیام 1969 میں عمل میں آیا تھا۔

Read more

پاکستانیو! چاچا چنڈ نہ بنو

ایک زمانہ تھا کہ جب بھی ٹی وی کھولو، جنوبی کوریا کے طلبہ اور پولیس باہم نبرد آزما نظر آتے تھے۔ جنوبی کوریا کے لوگوں کے لئے بڑے بڑے مظاہرے کوئی نئی بات نہیں، 1987 میں طلبہ کے مظاہروں نے آمریت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا تھا۔ اور اس کے تیس سال بعد ہونے والے مظاہروں کی بدولت ایک بدعنوان صدر کا مواخذہ ہوا تھا۔ لیکن اب پولیس اور مظاہرین کے درمیان پر تشدد مقابلہ ماضی کا قصہ

Read more

عورت، خاندان اور سرمایہ دار نظام

سرمایہ دارانہ نظام میں پیدا ہونے والے نئے مالی بحران کے نتیجے میں ہونے والی تنقید عورتوں کی ایک نئی تحریک کو جنم دینے جا رہی ہے۔ عورتوں کے حقوق کو جب بھی خطرہ لاحق ہوا ہے تو عورتوں نے اس کے خلاف بھرپور رد عمل کا اظہار کیا ہے لیکن عورتوں کے مظاہروں سے ایک اور بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ وہ زیادہ تر قانونی موشگافیوں پر زور دیتی ہیں اور سرمایہ دار سیاست دانوں کی حمایت کرتی

Read more

عورتوں، بچوں اور اقلیتوں کی آواز: رحمان صاحب

بارہ اپریل کو جب صحافی مزدور ایکشن کمیٹی کی جانب سے ہم پریس کلب میں احفاظ الرحمٰن کی پہلی برسی منا رہے تھے تو رحمٰن صاحب کے انتقال کی خبر ملی اور ہم سب مزید دکھی ہو گئے۔ اس پروگرام میں ہم نے ان دونوں کا سوگ بھی منایا، ان کی زندگیوں کو سیلیبریٹ بھی کیا اور ان کے مشن کو آگے بڑھانے کا عزم بھی کیا۔ تب سے اخبارات، ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر تعزیتی پیغامات کا

Read more

رحمان صاحب بھی رخصت ہوئے

ابن عبدالرحمان جنہیں لوگ آئی اے رحمان کے نام سے جانتے ہیں، جو انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے ہم جیسے سب لوگوں کے رحمان صاحب تھے، کے رخصت ہونے کی خبر بھی آ گئی اور عین اس دن آئی جب ہم کراچی میں احفاظ الرحمان کی پہلی برسی کے موقع پر ان کی یاد میں ترتیب دیے جانے والے پروگرام کی تیاریوں میں مصروف تھے۔ ستمبر 2020 میں جب ہم نے آرٹس کونسل میں احفاظ کے لئے ریفرنس منعقد کیا تھا تو اس کے مہمان خصوصی آئی اے رحمان صاحب تھے۔ وہ اس پروگرام کے لئے خصوصی طور پر لاہور سے تشریف لائے تھے۔

Read more

ڈان اور مافیاز

پاکستان میں جب وی سی آر نیا نیا آیا تھا تو وہ امیتابھ کے عروج کا زمانہ تھا۔ کمرشل فلموں میں بھی اسمگلنگ کے علاوہ سرمایہ داروں کے استحصال، مزدوروں کی حالت زار اور ٹریڈ یونین لیڈروں کی جد و جہد کو موضوع بنایا جاتا تھا۔ وہاں بیکار فلمیں بھی بنتی ہیں مگر سیاستدانوں کی ہوس اقتدار کے بارے میں تو بے شمار اور بہت اچھی فلمیں بنیں اور آج بھی وہاں ریپ، مرد اور عورت کے علاوہ دیگر صنفی

Read more

میں احفاظ الرحمن کی بیوہ ہوں

آپ میں سے اکثر لوگ مجھے خواتین کے حقوق کی سرگرم کارکن کی حیثیت سے جانتے ہیں اور میں آج شام سے یہ سوچ رہی ہوں کہ اگر میں اپنے شوہر سے پہلے مر جاتی اور خواتین محاذ عمل کی کارکنان عورتوں کی تحریک کی تاریخ کے حوالے سے ہونے والے کسی جلسے میں میرے شوہر کو مدعو کرتیں تو کیا ان کا تعارف یہ کہہ کر کروایا جاتا کہ یہ مہ ناز کے رنڈوے شوہر ہیں؟ نہیں نا۔ مرد

Read more

اپنی جیبوں سے رہیں سارے نمازی ہوشیار

جو اصطلاحات اب استعمال نہیں ہوتیں ظاہر ہے ہم انہیں بھولتے جا رہے ہیں مگر مشتری ہوشیار باش نجانے کیسے یاد آ گیا۔ اور پھر اس مفہوم سے جڑا ایک پرنا مصرع بھی، اپنی جیبوں سے رہیں سارے نمازی ہوشیار۔ حساس لوگوں کے ساتھ مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ہر چیز کا اثر بہت زیادہ لیتے ہیں۔ ہمارا تو یہ حال ہے کہ کوئی دکھ بھری کہانی پڑھ لیں یا سن لیں تو بھوک پیاس اور نیند اڑ جاتی

Read more

بوڑھے والدین اور سمندر پار بسنے والی اولاد

ڈاکٹر سدھو ہندوستانی نژاد ڈاکٹروں کی ایسوسی ایشن BAPIOکے رکن ہیں۔ پاکستانی ڈاکٹروں کی ایسوسی ایشن کا نام APPNE ہے۔ ان تنطیموں نے ان سخت قوانین اور ضابطوں کو چیلنج کرنے کے لئے ایک ٹاسک فورس بنائی ہے۔ جو حکام کو متنبہ کر رہی ہے کہ اس طرح کے قوانین بچوں اور ان کے بوڑھے رشتہ داروں کے درمیان مستقل جدائی کا سبب بن رہے ہیں اور ان کے اراکین کی ذہنی صحت متاثر ہو رہی ہے۔ انہیں ہر وقت اپنے بوڑھے والدین کی فکر ستاتی رہتی ہے۔ برطانیہ میں مقیم اکثر ڈاکٹرز امریکہ یا آسٹریلیا منتقل ہونے کا پروگرام بنا رہے ہیں کیونکہ وہاں کے امیگریشن قوانین اتنے سخت نہیں ہیں۔

Read more

طاہرہ کاظمی: ہماری مایا اینجلو

طاہرہ کی کتاب ”کنول پھول اور تتلیوں کے پنکھ“ پڑھ کر ہمارا حال قدیم داستانوں کے ان کرداروں کا سا ہوا جو کبھی ہنستے تھے اور کبھی روتے تھے۔ جب وہ کہتی ہے کہ اسے عورت ہونے پر فخر ہے، تو ہمارا دل بھی خوشی اور فخر کے جذبات سے لبریز ہو جاتا ہے مگر جب اس نے عورت پر ہونے والے مظالم کی کہانیاں سنانا شروع کیں تو لاکھ ضبط کرنے پر بھی ہمارے آنسو بہہ نکلے اور سائیڈ

Read more

خواتین، میڈیا اور اخلاقیات

ہفتے کی صبح کو عکس ریسرچ سنٹر کی ’خواتین ، میڈیا اور اخلاقیات: فاصلے کو کم کرنا‘ کے موضوع پر ہونے والی قومی مشاورت میں شرکت کا موقع ملا تو یہ جان کر خوشگوار حیرت ہوئی کہ انہوں نے پرنٹ میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا کے لئے ایک صنفی حساسیت پر مبنی ضابطہ اخلاق بنا رکھا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے پاکستانی خواتین کا میڈیا شکایت سیل بھی بنایا ہوا ہے۔  پاکستان میں میڈیا کو بڑی حد تک آزاد اور

Read more

مرد بیویوں کے بارے میں لطیفے کیوں گھڑتے ہیں؟

بہت پرانی بات ہے، ہم ایک سات روزہ ورکشاپ میں گئے، چاروں صوبوں سے مرد اور عورتیں آئے ہوئے تھے۔ ایک رات ایک ونگ میں شور شرابا ہوا۔ معلوم ہوا ایک صاحب کسی خاتون کے کمرے میں گھسنے کی کوشش فرما رہے تھے۔ ظاہر ہے لوگوں نے ان کی خاصی ”عزت افزائی“ کی۔ بعد میں پتہ چلا کہ دن میں کہیں گفتگو کے دوران ان صاحبہ نے اپنی گھریلو زندگی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے یہ کہہ دیا تھا کہ وہ اپنے شوہر سے خوش نہیں ہیں چنانچہ ان صاحب کا ”میں ہوں نا“ سنڈروم ابھر کر سامنے آ گیا تھا۔

Read more

عبدالحمید چھاپرا: خبر کا ایک مورچہ جاتا رہا

ستر کے عشرے میں احفاظ نے عبدالحمید چھاپرا سے میرا تعارف کروایا تھا۔ تب وہ برنس روڈ پر رہتا تھا اور تحریک استقلال کی نشست سے الیکشن میں ریکارڈ ووٹ لے کر کامیاب ہوا تھا۔ گورا چٹا اور غیر معمولی حد تک سیاہ اور گھنگریالے بالوں والا چھاپرا صحافت اور سیاست دونوں میدانوں میں سر گرم عمل تھا۔ ڈیلی نیوز میں اس کی چٹپٹی خبریں چھپا کرتی تھیں۔ برنا گروپ سے وابستہ تھا۔ وہ کیا تھا، اسی کے لفظوں میں

Read more

ماہی گیروں کی کشتی ریلی

کراچی والے جانتے ہیں کہ اکتوبرمیں یہاں سخت گرمی پڑتی ہے اور اس گرمی میں بوٹ (کشتی) ریلی میں شرکت! لیکن بات وہی پرانی ہے کہ جب کو ہ ندا سے صدا آتی ہے توآپ رک نہیں سکتے، خود پر اختیار نہیں رہتا۔ ریگل چوک اور پریس کلب اور آرٹس کونسل سے نکلنے والی ریلیوں میں تو ہم نے بارہا شرکت کی ہے لیکن سمندر میں کشتییوں میں بیٹھ کر ریلی نکالنے کا ہمارا یہ پہلا تجربہ تھا۔ کچھ بے

Read more

چینی بچے

اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ چین جانے کے بعد آپ کو سب سے زیادہ خوبصورت کیا لگا؟ تو میرا جواب ہو گا ”چینی بچے“ ۔ ننھے منے، گول مٹول، پھولے پھولے سرخ سرخ گالوں والے، ڈھیر سارے کپڑوں میں لپٹے ہوئے اور سر پر خوبصورت سی ٹوپی پہنے ہوئے چینی بچے۔ بچے سب ہی کو اچھے لگتے ہیں اور سب ہی ان سے پیار کرتے ہیں لیکن چین میں صرف انفرادی طور پر ہی نہیں بلکہ اجتماعی طور پر جس طرح بچوں کا خیال رکھا جاتا ہے، شاید ہی کہیں اور رکھا جاتا ہو۔

Read more

بیجنگ میں نامور سائنسدان ڈاکٹر عبدا لسلام سے ملاقات

سترہ ستمبر 1987 ء کا دن ہمارے لئے ایک یادگار دن تھا کیونکہ اس دن ہماری پاکستان کے نامور فرزند اور بین الاقوامی شہرت یافتہ سائنسدان جناب عبدالسلام سے ملاقات ہوئی۔ وہ بیجنگ میں تھرڈ ورلڈ اکیڈمی آف سائنسز کی دوسری جنرل کانفرنس کے موقع پر تشریف لائے تھے۔ کانفرنس کا آغاز چودہ ستمبر کو ہوا تھا اور اس وقت کے چینی وزیر اعظم چاؤزے یانگ سمیت دنیا بھر کے ممتاز سائنسدانوں نے اس کانفرنس میں شرکت کی۔ سترہ ستمبر کو جناب عبدالسلام کی جانب سے کانفرنس کے شرکا کے اعزاز میں ایک دعوت منعقد کی گئی جس میں انہوں نے پاکستانی برادری کو بھی مدعو کیا تھا، اسی دعوت میں ہمیں اس مشہور عالم ہستی سے گفتگو کا موقع ملا۔

Read more

جشن احفاظ الرحمن

انتیس ستمبر کو کراچی کی سول سوسائٹی احفاظ الرحمن کی زندگی اور کارناموں کا جشن منا رہی ہے۔ بارہ اپریل 2020 ء کو پانچ سال تک کینسر سے لڑنے کے بعد جب اس نے آنکھیں موند لیں تو کرونا کی وبا کووڈ 19 کی وجہ سے کراچی میں سخت قسم کا لاک ڈاؤن چل رہا تھا۔ ایک طرف وائرس کا خوف، دوسری طرف پولیس کی سختی اس لئے صرف چند قریبی رشتہ دار اور دوست ہی جنازے میں شرکت کر

Read more

فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں

ہمارے ہونے میں تو ہمارے اماں ابا کا دخل ہے ہی لیکن ہم جیسے ہیں، اس میں بھی ان کا کافی دخل ہے۔ اب یہی دیکھ لیجیے کہ جب ہم بچے تھے تو ہمیں یہی نہیں بتایا گیا کہ ہماری ذات کیا ہے، ہمیں یہ بھی نہیں بتایا گیا تھا کہ شیعہ سنی کا کیامسئلہ ہے۔ ہمیں کبھی یہ سوچنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی کہ ہم شیعہ ہیں یا سنی۔ جب بھی ایسی کوئی بات ہوئی تو امی

Read more

چین کی عورتیں کتنی آزاد ہیں؟

چین کی عورتیں کس حد تک آزاد ہیں اکثر پاکستانی یہ جاننے کے خواہش مند ہوں گے ۔ 1949 میں عوامی جمہوریہ چین کے قیام کے بعد سے یقیناً عورتوں کوکچھ ایسے اقتصادی اور سیاسی حقوق ملے ہیں جو انہیں پہلے حاصل نہ تھے، خصوصاً ملازمت کرنے کا حق اور مردوں کے مساوی تنخواہ حاصل کرنے کا حق، اکثر عورتوں نے بڑی کامیابی سے زندگی کے مختلف شعبوں میں میں مردوں کو چیلنج کرتے ہوئے حاصل کیا ہے۔ اور اب

Read more

کرکٹ بیجنگ میں

شائقین کی تعداد کے اعتبارسے فٹ بال کے بعد کرکٹ دنیا کا دوسرا مقبول ترین کھیل ہے۔ پاکستان، ہندوستان اور برطانیہ سمیت اس کی دیگر سابقہ نو آبادیوں میں تو لوگ کرکٹ کے دیوانے ہیں ہی لیکن انٹرنیشنل کرکٹ کونسل ICCکے 104 رکن ممالک کے ساتھ ساتھ چین میں بھی کسی نہ کسی شکل میں کرکٹ موجود رہا ہے۔ تاریخی طور پر چینیوں کو کرکٹ سے اتنی دلچسپی نہیں رہی لیکن اب ICCکی نظریں چین پر ہیں اور وہ یہاں کرکٹ کو فروغ دینے کی کوشش میں ہے۔ ویسے بیجنگ میں 1980۔ ۔ 1990 کے عشروں میں کرکٹ کھیلا جاتا تھا۔ اس وقت بیجنگ میں موجود غیر ملکی سفارت خانے کرکٹ میچز کراتے تھے۔ ہر سال کرکٹ ٹورنامنٹس کا انعقاد ہوتا تھا لیکن 1996 کے بعدموزوں گراؤنڈز نہ ہونے اور لوگوں کی دلچسپی برقرار نہ رکھ پانے کے باعث یہ سلسلہ ختم ہو گیا۔

Read more

چینی معیشت کرونا سے پہلے اور کرونا کے بعد

اقتصادی اصلاحات کے بعد تیزی سے ترقی کرتی ہوئی چینی معیشت کو پہلی مرتبہ کورونا کی وبا کی وجہ سے دھچکا پہنچا ہے۔ ووہان میں کورونا کی وبا کے شروع ہونے کے بعد 2020ء کی پہلی سہ ماہی میں چینی معیشت گزشتہ سال کے مقابلے میں 6.8% سکڑ گئی۔ چنانچہ چینی حکومت نے نجی فرموں کے لئے مزید شعبے کھولنے اور براہ راست سرکاری مداخلت کو کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایک زمانے میں چین میں نجی کاروبار کرنے

Read more

کراچی کی حالت زار اور پروین شاکر

بارشوں کے رومانس سے پرانے شعرا کے دیوان بھرے پڑے ہیں۔ ساون میں پڑے جھولے اور اماں میرے بھیا کو بھیجو ری کہ ساون آیا اور نجانے کیا کیا۔ لیکن کراچی میں تو بارشیں ہمیشہ عذاب بن کر ہی نازل ہوتی ہیں۔ یہ کوئی آج کی بات نہیں۔ 1973 یا 1974 میں جب میں روزنامہ مساوات کراچی میں کام کرتی تھی۔ مون سون کا زمانہ تھا۔ ہم دفتر میں بیٹھے کام کر رہے تھے کہ بارش شروع ہو گئی، ہمارا

Read more

چین کے دیہی نوجوان اور شادیاں

پاکستان میں لڑکی والے جہیز کی بدولت پریشان رہتے ہیں لیکن چین کے دیہاتوں میں یہی پریشانی لڑکے والوں کو لاحق رہتی ہے۔ گو کہ چینی کسانوں کا معیار زندگی پہلے سے بہت بہتر ہو گیا ہے اور ان میں کچھ ”دو لت مند لوگ“ بھی پیدا ہو گئے ہیں لیکن ابھی بھی چین کے دیہاتی نوجوانوں کو شادی کرنے کے لئے اپنے معیار زندگی سے کہیں زیادہ اور غیر ضروری اخراجات کرنے پڑتے ہیں۔ چین کے دیہاتوں میں بہت

Read more

چین کی اقتصادی اصلاحات

ہم بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جو ساٹھ اور ستر کی دہائی میں مزدوروں اور کسانوں کو کارخانے اور زمین دلوانے کی بات کرتے تھے، انقلاب کے خواب دیکھتے تھے۔ اب یاد نہیں 1973 یا 1974 ء کا ذکر ہے، میں روزنامہ مساوات میں کام کر رہی تھی۔ اس زمانے میں ٹیلی پرنٹر پر خبریں آیا کرتی تھیں۔ چین کی کانگرس کا اجلاس ہوا اور چو این لائی نے اس میں تقریر کی۔ ٹیلی پرنٹر کے پیلے کاغذوں کے

Read more

چین میں شادیاں اور بڑھاپے میں طلاقیں

چین کے پرانے جاگیرداری معاشرہ میں والدین اپنے بچوں کی شادیاں طے کرتے تھے اور اگر کوئی لڑکی شادی کی عمر کو پہنچنے کے باوجود کنواری رہتی تھی تو والدین خاص طور پر ماں احساس جرم میں مبتلا ہو جاتی تھی اور جب تک اپنی لڑکی کے لئے بر نہیں ڈھونڈ لیتی تھی، اس کا کھانا پینا حرام ہو جاتا تھا۔ ویسے بھی اپنے بچوں کی شادیوں کا فیصلہ کرنا والدین کا نا قابل تنسیخ حق سمجھا جاتا تھا اور اکثر وہ اولاد کی مرضی معلوم کیے بغیر من مانے فیصلے بھی کیا کرتے تھے۔

اگر اولاد اپنی من مانی کرتی تھی تو اسے ناخلف قرار دیا جاتا تھا۔ بہر حال آزادی کے بعد صورتحال تبدیل ہو گئی اور نئے عائلی قوانین میں فریقین کواپنے شریک حیات کے براہ راست انتخاب کی آزادی حاصل ہے اور اب والدین کو اپنے بچوں کی شادی کے فیصلے کا مکمل اختیار نہیں رہا۔ والدین کی اکثریت مشاورتی کردار ادا کرتی ہے گو کہ کچھ دور افتادہ پسماندہ علاقوں میں ابھی بھی ایسا نہیں ہوتا۔

Read more

دیوار چین اور لوک کہانیاں

چین کا نام آتے ہی دیوار چین کا خیال ضرور آتا ہے۔ بچپن سے سنتے آئے تھے کہ دنیا کے سات عجائبات میں سے ایک دیوار چین ہے۔ چین جانے کے بعد جب ہمارے چینی دوستوں نے ہم سے پوچھا کہ ہم سب سے پہلے کیا دیکھنا پسند کریں گے تو ہمارا جواب تھا ”دیوار چین“ ۔ تصورات میں اکثر ہم نے دیوار چین کا نقشہ باندھنے کی کوشش کی لیکن بات نہیں بنی۔ ہمارا خیال تھا کہ یہ دیوار

Read more

جنریشن گیپ اور چین کے نوجوان

جنریشن گیپ ہر دور میں اور ہر جگہ موجود رہا ہے۔ بزرگ نوجوانو ں سے شاکی رہتے ہیں اور نوجوان بغاوت پر آمادہ رہتے ہیں۔ اب ہر کوئی سارتر تو نہیں ہوتا جو بڑھاپے میں بھی فرانس کے نوجوانوں میں مقبول تھا۔ ذرا علی گڑھ کے نوجوانوں بلکہ جون ایلیا کے بقول ”علی گڑھ کے لونڈوں“ کے بارے میں سوچئے جو ہاسٹلوں میں رہتے تھے اور والدین سے ”بلاٹنگ پیپر“ خریدنے کے بہانے پیسے منگواتے رہتے تھے۔ اب موجودہ اور

Read more

چین میں بیٹے کو ترجیح دینے کا رویہ

ایشیا کے دیگر ممالک کی طرح چین میں بھی بیٹے کو ترجیح دی جاتی ہے۔ پاکستان میں تو لڑکے کی خواہش میں لوگ چھ سات بیٹیاں پیدا کر لیتے ہیں لیکن چین میں ایسا ممکن نہیں کیونکہ وہاں خاندانی منصوبہ بندی کی پالیسی پر حکومت کی دیگر پالیسیوں کی طرح لازمی عمل کرنا پڑتا ہے۔ چین کے شہروں میں رہنے والے خاندانی منصوبہ بندی کی پالیسی کی خلاف ورزی کے متحمل نہیں ہو سکتے کیونکہ پھر انہیں بہت سی مراعات

Read more

چین میں شادی کا ادارہ اور حکومت کا سیاسی مفاد

چین میں شادی کے رسم و رواج معاشرے میں آ نے والی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں۔ گزشتہ پچاس سال میں شادیوں کے انتظام و انصرام میں بہت زیادہ تبدیلیاں آئی ہیں۔ 1990 ء کی دہائی کے اواخر سے اب تک چین کے دیہی علاقوں میں ”دلہن کی قیمت“ میں ساٹھ گنا سے زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔ ایک مقامی ٹی وی چینل کے ڈپٹی ڈائرکٹر لیو تھونگ نے ’ویبو‘ پر لکھا :میرے والدین کے زمانے میں دلہن کو بائیسیکل

Read more

چینی عوام ۔ بلا کے تمباکونوش

چینی عوام بلا کے سگریٹ نوش واقع ہوئے ہیں۔ کرونا وائرس کے نزول کے ابتدائی دنوں میں چین میں ایک کارٹون بہت مقبول ہوا۔ ایک آدمی نے نیلے رنگ کا سرجیکل ماسک پہنا ہوا ہے اور اس میں سگریٹ پینے کے لئے ایک سوراخ بنا ہوا ہے۔ یعنی آپ اپنی صحت کا خیال رکھ بھی رہے ہیں اور نہیں بھی رکھ رہے۔ واضح رہے کہ چین دنیا کی سب سے بڑی سگریٹ مارکیٹ ہے۔ شنہوا نیوز ایجنسی کے مطابق تین

Read more

چین میں ریٹائرمنٹ کے مسائل

آج کل پاکستان میں ریٹائرمنٹ کی عمر کے بارے میں بحث چھڑی ہوئی ہے۔ 2019 ء میں چینی خبر رساں ایجنسی شنہوا کے لی شیا نے پاکستان کے بارے میں خبر دی تھی کہ وزیر اعظم عمران خان نے وزارت مالیات کو ہدایت کی ہے کہ قابل افسروں کی ریٹائرمنٹ عمر کو بڑھا نے اور ناکارہ افسروں کو جلد ریٹائر کرنے کے لئے سول سرونٹس کے سروس اسٹرکچر پر نظر ثانی کی راہیں ڈھونڈیں۔ آج کل پاکستان میں سرکاری افسران

Read more

صادقین، اک داستانوی شخصیت

1968۔ 69 ء میں جب میں نے کراچی یونیورسٹی کے شعبۂ اکنامکس میں ایم اے سال اول میں داخلہ لیاتو میرا قیام کراچی یونیورسٹی کے گرلز ہاسٹل میں رہا جہاں ہمارے گروپ کی سربراہ نزہت سلطان تھیں۔ وہ انگریزی ایم اے فائنل کر رہی تھیں۔ طلعت شہناز ایم اے فائنل فزکس میں تھیں، ممتاز موسیٰ تھرڈایئر آنرز بائیو کیمسٹر ی میں اور بلقیس جسے ہم سب بلی کہتے تھے، فزیالوجی تھرڈ ایئر آنرز میں تھیں۔ کچھ عرصہ بعد ممتاز کے

Read more

چینیوں کا طرز زندگی

19 COVID دنیا بھر کی طرح چینیوں کے طرز زندگی پر بھی اثر انداز ہوا ہے۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق پچھتر فی صد چینی رائے دہندگان کا کہنا تھا کہ اب وہ زیادہ ورزش کریں گے اور سونے کی عادت اور اوقات کو بہتر بنائیں گے۔ ویسے چینی لوگ ورزش کے شوقین تو ہمیشہ سے رہے ہیں۔ ہمارے وہاں قیام کے دوران صبح جب ہم گھر سے نکلتے تھے تو کوئی دوڑ لگاتا دکھائی دیتا تھا۔ کوئی تلوار کے

Read more

جب چین کے بند دروازے کھلے

ایک طویل عرصے تک دنیا سے الگ تھلگ رہنے کے بعد بالآخر 1978۔ 79 میں چین نے ”بند دروازے“ کی پالیسی ترک کر دی تو چین میں سیاحوں کی بھر مار ہو گئی لیکن بیرونی دنیا پر چین کے دروازے کھولنے کا مقصد محض سیاحوں کو خوش آمدید کہنا نہیں تھابلکہ اس پالیسی کے تحت چین میں اقتصادی لحاظ سے انتہائی دور رس تبدیلیاں عمل میں لائی جا رہی تھیں۔ چینی ان تبدیلیوں کو ’اقتصادی اصلاحات‘ کا نام دیتے تھے۔

Read more

چینی ٹی وی پروگرام اور فلمیں

آج کل اگر آپ چینی بولنے کی مشق کر رہے ہیں، تو چینی دوست آپ کو پانچ ٹی وی پروگرامز دیکھنے کا مشورہ دیں گے جن کے چینی ناموں کا ترجمہ کچھ یوں ہے : اپارٹمنٹ، بھاگتے رہو، غیر رسمی گفتگو، موتی شہزادی اور ابدی محبت۔ اس وقت چین کی ٹیلی ویژن انڈسٹری میں ہائی ٹیک پروگرام پروڈکشن، ٹرانسمیشن اور کوریج شامل ہے۔ چائنا سنٹرل ٹیلی ویژن چین کا سب سے بڑا اور طاقتورقومی ٹیلی ویژن ہے۔ 1987 ء میں

Read more

چین میں موسم بہار کا جشن اور عورتوں کا عالمی دن

چین کے لوگ نئے قمری سال اور بہار کی آمد کا جشن ایک ساتھ مناتے ہیں، بس یوں سمجھ لیجیے کہ اس تہوار کی اہمیت ان کے نزدیک ویسی ہی ہے جیسی مسلمانوں کے لئے عید ا لفطراور عیسائیوں کے لئے کرسمس کی۔ اس تہوار کی تاریخ ہر سال بدل جاتی ہے کیونکہ یہ قمری کیلنڈر کے مطابق منایا جاتا ہے۔ چینی قمری کیلنڈر میں بارہ سال کا ایک سائیکل ہوتا ہے اور ہر سال کسی جانور کے نام سے

Read more

کرامت علی: راہ گزر تو دیکھو

1968۔ 70 کے دوران کراچی یونیورسٹی میں جمعیت کا راج تھا۔ سات سال قبل حسین نقی کے این ایس ایف کے پلیٹ فارم سے جیتنے کے بعد سے جمعیت یونین کے الیکشن جیتتی چلی آ رہی تھی۔ این ایس ایف دو دھڑوں میں تقسیم ہو چکی تھی۔ کاظمی گروپ اور رشید گروپ۔ لیکن یونیورسٹی سے باہردنیا بدل رہی تھی۔ پیپلز پارٹی کا قیام عمل میں آ چکا تھا اور اس کا روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ عوام کے لئے

Read more

بلاسفیمی قوانین کی تاریخ اور موجودہ صورتحال

بر صغیر پر حکومت کرنے والے انگریزوں نے 1860 میں مذہب کے حوالے سے کیے جانے والے جرائم کو قانون کی شکل دی اور پھر 1927 ء میں اس قانون میں توسیع کر کے دانستہ یا بد نیتی پر مبنی ایسے اقدامات کو جرم قرار دیا تھا جن کا مقصد مذہبی عقائد کی توہین کر کے کسی بھی طبقے کے مذہبی جذبات کو مشتعل کر نا ہو۔ 1924 میں راجپال نامی ایک شخص نے توہین رسالت پر مبنی ایک کتاب شائع

Read more

چینی من بھاتا نہیں صحت بھاتا کھاتے ہیں

ہم پاکستانی صرف زبان کے چٹخارے میں یقین رکھتے ہیں لیکن چینی عوام جو کچھ کھاتے ہیں، اس کے طبی فوائد اور جسم پر اس کے اثرات سے پورے طور پر آگاہ ہوتے ہیں۔ اکثر دعوتوں میں جب چینی میزبان ہماری طرف کوئی ڈش بڑھاتے تھے تو اس کے طبی فوائد سے آگاہ کرنا نہیں بھولتے تھے۔ ویسے عام مزے مزے کے چینی کھانوں کے علاوہ طبی یا ادویاتی کھانوں کا ایک الگ مکتب ہے۔ بس یوں سمجھ لیں کہ یہ کھانے نہیں روایتی چینی ادویات ہوتی ہیں۔ ادویاتی کھانے پکانے کی ترکیبیں صدیوں سے نسل در نسل منتقل ہوتی چلی آ رہی ہیں۔ 206 قبل مسیح سے چین میں فوڈ تھیراپی یا غذا کے ذریعے علاج ہوتا رہا ہے۔

ہم نے تو یہ سب کچھ 1985 سے اگلے آٹھ سالوں تک دیکھا لیکن ابھی انٹرنیٹ پر اپریل 2020 ء میں لکھا ہواگیون وان ہنسبرگ کاسفری مضمون Travel article نظر سے گزرا تو معلوم ہوا کہ کہ آج بھی یہ کھانے چینیوں اور غیر ملکیوں میں اسی طرح مقبول ہیں۔ ہمارے قیام کے دوران لونگہوا میڈیکل ریستوراں بیجنگ میں اپنی نوعیت کا پہلا ریستوراں تھا جہاں لذیذکھانوں کے ساتھ ساتھ روایتی چینی ادویات کے ذریعے آپ کی بیماری کا علاج بھی کیا جاتا تھا۔

Read more

زیر زمین شہر مثالی شوہر اور شاہراہ ریشم

بیجنگ کے جدید اور تاریخی مقامات کا ذکر تو آپ نے بہت سنا ہو گالیکن زیر زمین شہر کا ذکر شاید آپ نے نہ سنا ہو۔ دسمبر 1985 ء میں فرینڈ شپ ہوٹل میں رہنے والے مختلف ممالک کے ماہرین تین بسوں میں بھر کے بیجنگ کے پرانے بازار میں واقع خواتین کے ملبوسات کی ایک دکان میں گئے۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ شاپنگ کے لئے قافلہ بنا کر جانے کی کیا ضرورت تھی تو اصل بات یہ

Read more

1985 کا چین: دانشور کی بحالی اور معیشت کی نمو

اسے حسن اتفاق ہی کہنا چاہیے کہ ادھر میں نے چین کے بارے میں اپنی یادداشتیں قلم بند کرنا شروع کیں، ادھر مجھے محمد کریم احمد کا سفر نامہ ”چین سے چین تک“ موصول ہوا۔ وہ 2015ء سے 2018ء تک چین میں رہے اور چائنا ریڈیو انٹرنیشنل کی اردو سروس میں کام کیا۔ ہمارے باہمی رابطے کا ذریعہ چانگ شی شوان (انتخاب عالم) بنے جو ہمارے بہترین فیملی فرینڈ ہیں۔ گزشتہ قسط میں پاکستان ایمبیسی اسکول اور کالج میں ملازمت

Read more

زنا اور بلاسفیمی کے جھوٹے الزامات

کم عمری میں ہم نے دیکھا تھا کہ جب بھی مرد ذہانت اور پرفارمنس کے حساب سے عورت سے دب رہا ہوتا تھا یا کسی جھگڑے یا بحث میں کمزور پڑ رہا ہوتا تھا تو وہ ایک ہی ہتھیار استعمال کرتا تھا جو ہمیشہ کارگر ثابت ہوتا تھا اور وہ ہتھیار تھا، عورت کی کردار کشی۔ عورت کے بارے میں ایسے ایسے افسانے تراشے جاتے تھے کہ وہ بیچاری سہم کر خاموش ہو جاتی تھی۔ ضیا الحق کے زنا آرڈیننس نے تو اور قیامت ڈھا دی تھی کیونکہ اس میں زنا بالجبر اور زنا بالرضا میں کوئی فرق نہیں کیا گیا تھا۔

اگر کسی عورت کا ریپ ہوتا تھا تو اسے ثبوت کے لئے چار گواہ لانے کو کہا جاتا تھا ورنہ عورت کو ہی قصوروار ٹھہرایا جاتا تھا۔ پولیس بھی من مانے طور پر حدود قوانین کا استعمال کرتی تھی۔ اگر کوئی نوجوان جوڑا اپنی مرضی کی شادی کے لئے گھر سے نکلتا تھا تو لڑکی کے والدین لڑکے پر اغوا کا مقدمہ درج کرا دیتے تھے۔ پولیس اس جوڑے کو گرفتار کر کے اپنے طور پر حد جاری کر دیتی تھی۔

Read more

چین 1985 میں

چینی مرد اور عورت مل جل کر گھریلو ذمہ داریاں پوری کرتے ہیں۔ قارئین، گزشتہ بلاگز میں واقعات کی ترتیب آگے پیچھے ہو گئی تھی لیکن اب ہم ترتیب سے آگے بڑھیں گے۔ ستمبر 1985 میں چین جانے سے پہلے ہم نے چین کی عورتوں کے بارے میں بہت پڑھا تھالیکن آنکھوں دیکھی بات کا لطف ہی کچھ اور ہے، مثال کے طور پر ہمارے ہاں سے دوگنی لمبی بس کو جب ایک نو عمر خاتون ڈرائیور چلا رہی ہو

Read more

تھین آن من چوک پر چینی طلبا کا احتجاج

چین میں ہمارے قیام کے دوران جو اہم ترین واقعہ پیش آیا جس پر مغربی ذرائع ابلاغ نے بہت کچھ لکھا اور جس کے بارے میں مغربی محققین آج تک تحقیقی مقالے لکھ رہے ہیں، وہ تھا 1989 اپریل میں طلبا کا احتجاج۔ کمیونسٹ پارٹی کے سابق جنرل سیکریٹری ہو یاؤ بانگ کے انتقال پر بیجنگ کے طلبا مارچ کرتے ہوئے تھین آن من اسکوائر گئے تھے اور وہاں دھرنا دیا تھا۔ جلد ہی اس دھرنے میں ملک بھر سے

Read more

فی جوڑا ایک بچہ

ہمارے چین میں قیام کے دوران فی جوڑا ایک بچہ کی پالیسی پر زور و شور سے عملدرآمد ہو رہا تھا۔ پاکستان میں ہم بچپن سے خاندانی منصوبہ بندی کے محکمے کے اشتہارات دیکھتے اور سنتے چلے آ رہے تھے جن پر لوگوں کی اکثریت نے عمل کر کے نہ دیا۔ یہاں تک کہ محکمہ سے تنخواہ وصول کرنے والوں نے خود پانچ سات بچے پیدا کیے لیکن ریڈیو اور ٹی وی پر ’بچے دو ہی اچھے‘ کا راگ الاپا

Read more

سید معظم علی: اک اور خواب گزیدہ رخصت ہوا

معظم سے میری پہلی ملاقات ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کراچی کے دفتر میں ہوئی۔ یوں تو اس دفتر میں بہت سے کوآرڈینیٹر آئے اور گئے لیکن جتنی سنجیدگی اور ذمہ داری سے وہ کام کرتے تھے، شاید ہی کسی نے کیا ہو، وہ تو جب ہماری دوستی ہوئی اور چرچ ورلڈ سروس پاکستان – افغانستان میں ہم نے اکٹھے کام کیا تو پتا چلا کہ دوستوں کے درمیان ان سے زیادہ غیر سنجیدہ، ہنسوڑ، چٹکلے باز اور لا ابالی

Read more

چین کا ثقافتی انقلاب اور اس کے تہوار

بہر حال ہم نے ثقافتی انقلاب کے بارے میں صرف پڑھا ہے، اس لئے آپ کو آنکھوں دیکھا حال سنانے سے رہے۔ لیکن اتنا ضرور کہیں گے کہ ہمارے سفارتکاروں تک کو صورتحال کا صحیح ادراک نہیں ہوتا تھا۔ وہ بیجنگ آ کر اسی طرح ماؤ کے قصیدے پڑھنے لگتے تھے جیسے ثقافتی انقلاب تک پوری چینی قوم پڑھتی تھی۔ ان کو اندازہ نہیں تھا کہ چینی دانشور اور دیگر پڑھے لکھے لوگ ثقافتی انقلاب کے دوران کس تکلیف سے گزرے تھے۔ دانشوروں اور فنکاروں پر کتنے ظلم ڈھائے گئے، ریڈ گارڈز نے ثقافتی انقلاب کے دوران دینگ سیاؤ پنگ کے بیٹے کو اٹھا کر ایک اونچی عمارت سے نیچے سڑک پر پھینک دیا تھا اور وہ عمر بھر کے لئے معذور ہو گیا تھا۔

Read more

چوتھی قسط ثقافتی انقلاب۔ شروع سے آخر تک غلط

جب ہم وہاں پہنچے تو میڈیا اور ادب میں چار کے ٹولے کے خلاف بہت کچھ لکھا جا رہا تھا۔ کیسے لوگوں کی زندگی کے قیمتی سال ضائع ہوئے، ان پر کیا کیا ظلم ہوئے۔ ایسی کامیڈی فلمیں بن رہی تھیں جن میں ثقافتی انقلاب کا مذاق اڑایا جاتا تھا۔ ”یہ پڑھے لکھے لوگ آخر اپنے آپ کو سمجھتے کیا ہیں؟ کسان اور مزدور ان کی نظروں میں حقیر ہیں۔ اسپتال میں سرجن صاحب بہت اونچی چیز سمجھتے ہیں خود کو جب کہ ہم تو انسانی مساوات میں یقین رکھتے ہیں۔ ہم ایک کسان کو سرجن کی ملازمت دیں گے اور سرجن کو کھیتی باڑی کرنے کے لئے گاؤں بھیج دیں گے“ ۔

ایسا ہی کیا گیا اور پھر آپریشن تھیٹر میں مزاحیہ انداز میں کسان کو آپریشن کرتے ہوئے دکھایا گیا۔ یہ اس چینی کامیڈی فلم کا ذکر ہے جو ہم نے چین میں ثقافتی انقلاب کے بارے میں اپنے 1985۔ ۔ ۔ 93 کے قیام کے دوران دیکھی تھی۔ کتابوں کی کتابیں اساتذہ اور دانشوروں کی کہانیوں سے بھری ہوئی تھیں جن میں بتایا گیا تھا کہ چار کے ٹولے اور ان کے زیر اثر ریڈ گارڈز نے ان کے ساتھ کیا کیا زیادتیاں کی تھیں، کیسے زمیندارانہ پس منظر رکھنے والوں اور انٹلکچوئلز کی تذلیل کی جاتی تھی۔

یونیورسٹیاں بند کر دی گئی تھیں اس لئے تعلیم کا بہت ہرج ہوا۔ ہمیں وہاں رہتے ہوئے ثقافتی انقلاب کے حوالے سے جو کچھ پڑھنے کا اتفاق

Read more

چین میں آٹھ سال – تیسری قسط

پیپلز ڈیلی سب سے مشہور اور کثیر الاشاعت اخبار تھا۔ ہم غیر ملکیوں کے لئے انگریزی میں شائع ہونے والا چائنا ڈیلی اخبار ایک نعمت سے کم نہیں تھا کیونکہ۔ ”زبان یار من چینی و من چینی نمی دانم“ والا معاملہ تھا۔ آٹھ سال تک ہم نے ”جنگ“ اور۔ ”اخبار جہاں“ میں جو ہفتہ وار مکتوب چین ’اور مکتوب بیجنگ‘ باقاعدگی سے لکھا جس پر چینی حکومت نے ہمیں ’تمغۂ دوستی‘ سے بھی نوازا، اس میں ہمیں اس اخبار سے بہت مدد ملتی تھی۔

Read more

چین میں آٹھ سال (قسط 2 )۔

احفاظ نے تو کچھ دنوں بعد با قاعدگی سے دفتر جانا شروع کر دیا تھا، بچے بہت چھوٹے تھے اس لئے انہیں اسکول لے جانا اور واپس لانا ہماری ذمہ داری ٹھہری۔ اسکول بہت دور سفارتی علاقے میں تھا اور ہمارے پاس اپنی سواری بھی نہیں تھی۔ سردی کی شدت میں آہستہ آہستہ اضافہ ہو رہا تھا۔ ہمارے علاقے سے صرف 302 نمبر کی بس اسکول والے علاقے کی طرف جاتی تھی۔ ہمارے اسٹاپ کا نام عقب میں واقع یونیورسٹی

Read more

چین میں آٹھ سال (پہلی قسط)۔

وہ ستمبر 1985 کا کوئی دن تھاجب ہم بیجنگ ایئر پورٹ پر اترے۔ احفاظ کے دفتر کے کچھ لوگ ہمیں لینے آئے ہوئے تھے۔ ہمارا سامان کراچی ایئر پورٹ پر ہی رہ گیا تھا۔ اس زمانے میں چین کے حاجی پاکستان کے راستے حج کرنے جاتے تھے۔ وہ حاجیوں کی واپسی کے دن تھے۔ پہلے تو ہماری تصدیق شدہ ٹکٹوں کے باوجود ہمیں سیٹیں نہیں مل رہی تھیں۔ بہت شور شرابا کرنے پر ہمیں بٹھا تو لیا گیامگر سامان نہیں

Read more

آصف فرخی بھی رخصت ہوئے

سنہ 1980 کے عشرے کا کوئی ابتدائی سال تھا۔ میں روزنامہ امن میں کام کرتی تھی۔ چھوٹا سا دفتر تھا۔ ایڈیٹر افضل صدیقی کے کمرے میں ایک کونے میں میری میز ہوتی تھی۔ ایڈیٹر کا کمرا تھا لوگوں کا آنا جانا لگا رہتا تھا۔ ایک روز ایک نوجوان آیا اور افضل صدیقی صاحب کو ایک کتاب دے کر چلا گیا۔ اس کے جاتے ہی افضل صاحب نے وہ کتاب مجھے تھما دی کہ کتابوں پر تبصرہ میری ذمہ داری تھی۔ ا س روز تو میرا اس سے تعارف بھی نہیں ہوا تھا مگر پہلی کتاب بھی پہلی محبت کی طرح انسان کی زندگی میں بہت اہمیت رکھتی ہے۔ آصف فرخی کی پہلی کتاب پر پہلا تبصرہ میرا تھا۔ اس نے ہمیشہ اس بات کو یاد رکھا اور بارہا دہرایا۔ برسوں بعد جب یونیسیف کے دفتر میں میری بیٹی کی اس سے ملاقات ہوئی تو اسے بھی اس نے یہی کہا ”آپ کی امی نے میری پہلی کتاب پر تبصرہ کیا تھا۔“

Read more

احفاظ الرحمن کے آخری نو دن: صحافت اور محبت کا آخری پڑاؤ

تیس مارچ کو آن لائن احفاظ کی بلڈ رپورٹ دیکھی تو خون میں PLATELETS کی تعداد بہت کم تھی۔ ان کے ڈاکٹر کو واٹس ایپ پر مطلع کیا تو جواب آیا کہ فوری طور پر آغا خان کے ایمرجنسی وارڈ میں لے جائیں۔ میں اور فیفے ان کے میل نرس سنیل اور ڈرائیور اللہ دتا کی مدد سے انہیں کار میں بٹھا کے اسپتال کی طرف دوڑے۔ شہر میں لاک ڈاؤن تھا۔ ایک دو جگہ روکا بھی گیا مگر اسپتال

Read more

وبا کے دنوں میں عورتوں پر تشدد

دنیا کی 35 فی صد عورتیں اپنے موجودہ یا سابق شریک زندگی کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتی ہیں۔ اس وقت دنیا میں موجود ساڑھے چھ کروڑ عورتوں کی شادی بچپن میں ہی ہو گئی تھی۔ ان میں ہر تین میں سے ایک عورت کی شادی پندرہ سال کی عمر سے پہلے ہوئی تھی۔ دنیا کی دو سو ملین عورتوں کا نسوانی ختنہ ہو چکا ہے، ان میں سے اکثریت کا ختنہ پانچ سال کی عمر سے پہلے کر دیا

Read more

عورتوں پر تشدد

کرونا کی وبا کے دوران جو مسائل سامنے آئے ہیں، ان میں جانی و مالی نقصان کے علاوہ عورتوں پر ہونے والے تشدد میں اضافہ کی شکایات بھی شامل ہیں۔ عورتوں پر تشدد دنیا بھر میں عام ہے اور یہ انسانی حقوق کی سب سے بڑی خلاف ورزی ہے۔ یہ کوئی انفرادی یا کبھی کبھار ہونے والا کام نہیں، اس کی جڑیں صنفی بنیادوں پر قائم سماجی ڈھانچے میں چھپی ہوئی ہیں۔ عورت کی عمر خواہ کچھ بھی ہو، سماجی

Read more

محمود درویش کی شاعری: جغرافیے کے معتوب

مارچ کے مہینے میں خواتین کے مارچ، دیگر پروگراموں اور الیکٹرونک چینلز پر ہونے والی لڑائیوں نے سب کو الجھائے رکھا مگر تسنیم احمر نے ذرا کچھ ہٹ کر میڈیا کے پارینہ اوراق پلٹنے کا سوچا اور ذرائع ابلاغ میں سینئرخواتین کے بارے میں ایک پروگرام منعقد کر ڈالا۔ جب میں حاضرین کو یہ بتا کر ہٹی کہ صحافت کو مشن سمجھنے والوں میں ہم بھی شامل تھے۔ ہم نے صحافت برائے صحافت نہیں بلکہ صحافت برائے انقلاب کی اور

Read more

فیمنسٹ پیروکاری، عائلی قوانین اور عورتوں پر ہونے والا تشدد

امتیازی قوانین دنیا بھر میں عورتوں کے انسانی حقوق کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ زندگی کا ساتھی چننے کا معاملہ ہو، یا وراثت میں حصہ ملنے کا یا ملازمت کرنے یا بچے کو اپنی تحویل میں لینے کا مسئلہ ہو، عورتوں کی زندگی کا ہر پہلو ان قوانین جنہیں عام طور پر عائلی قوانین کہا جاتا ہے، سے متاثر ہوتا ہے۔ ان قوانین کی بدولت دنیا بھر میں عورت اور مرد کے درمیان تفریق بڑھی ہے اور عورتوں پر

Read more

پاکستان میں صحافت کی متبادل تاریخ

ترقی یافتہ دنیا میں اساتذہ کا کتابیں لکھنا ایک عام سی بات ہے لیکن پاکستان میں کتابیں لکھنا اور شائع کرنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔ ایسے اساتذہ بھی کم ہیں اور ایسے ادارے تو اور بھی کم ہیں جو کتابوں کی اشاعت کے لئے تعاون کرتے ہوں۔ ڈاکٹر تو صیف احمد خان، سوسائٹی فار آلٹرنیٹو میڈیا اینڈ ریسرچ اور بدلتی دنیا پبلی کیشنز مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے ’پاکستان میں صحافت کی متبادل تاریخ‘ کو کتابی شکل میں ہمارے لئے مرتب کیا۔ طلبا اور محققین کے لئے تعلیم اور تحقیق کے حوالے سے اس کتاب کی افادیت اپنی جگہ لیکن پاکستان کی جمہوری جدوجہد کی تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے بھی اس کتاب کا مطالعہ ضروری ہے۔

Read more

پاکستانی خاندان اور عورت: پرورش، پابندی، خود مختاری

کہتے ہیں کہ تناور پیڑ کے نیچے اگنے والے پودے پنپ نہیں سکتے مگر شائستہ سعیدنے جناتی دانشوروں، فلسفیوں، ادیبوں اور شاعروں کے گھرانے سے تعلق رکھنے کے باوجود اپنی شخصیت کو منوایا ہے۔ خاندان سے متعلق وہ پہلے بھی ایک کتاب ”دو نسلوں کی مائیں“ لکھ چکی ہیں۔ زیر نظر کتاب ”پاکستانی خاندان اور عورت۔ پرورش، پابندی، خود مختاری“ کا دیباچہ ڈاکٹر محمد علی صدیقی نے لکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شائستہ سعید نے ایک اچھے خاندان کے لئے ضروری ہر پہلو کی نشاندہی کی ہے اور یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ آخرش کون سا مناسب طریقہ ہے کہ ہر خاندان کا ذمہ دار فرد بلا لحاظ جنس، کس طرح خاندان جیسی عظیم اکائی کی بہتری میں مقدور بھر کردار ادا کر کے دنیا کو کس قدر بہتر بنا سکتا ہے۔ ایک ایسی دنیا جس میں انسانوں کی بلا تفریق مذہب، نسل، زبان اور علاقہ، ان کے جوہر انسانیت کی وجہ سے عزت و توقیر ہو سکے۔ چونکہ ایک اچھا انسان ہی اپنے مذہب، نسل، زبان اور علاقے کے لئے قابل فخر سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ”

Read more

شانتا بخاری۔ ایسی چنگاری بھی یا رب اپنی خاکستر میں تھی

سب سے پہلے تو مجھے اعتراف کرنے دیجئے کہ میں شانتا بخاری سے ان کی زندگی میں ملنے سے محروم رہی، یہ تو اب چند سالوں سے اخبار و جرائد میں ان کے بارے میں مضامین پڑھنے کا اتفاق ہواتو بارہا خود سے پوچھا کہ آخر کیوں میں ایسی بے لوث اور کمٹڈ ٹریڈ یونین رہنما کے بارے میں پہلے جان نہیں پائی۔ شاید یہ بھی اس نظریاتی تقسیم کا نتیجہ تھا جس نے ہمیں ڈبوں میں بند کر رکھا

Read more

منیر مانک سندھ کا منٹو تھا

روزنامہ مساوات بند ہو چکا تھا، احفاظ بے روزگار تھے۔ آزادی صحافت کی جنگ لڑی جا چکی تھی، صحافیوں کو کوڑے لگ چکے تھے۔ ایک ایڈورٹائزنگ ایجنسی نے صرف ایک ہزار روپے کی تنخواہ پر ملازمت کی آفر کی تو احفاظ نے وہ بھی قبول کر لی تھی۔ میں تحریک استقلال کے ہفت روزہ پرچے ’محور‘ میں کام کر رہی تھی جسے شاہدہ اور نفیس احمد صدیقی نکالتے تھے جب انہیں سیاسی پرچے کی بجائے ’دھنک‘ اور ’تصویر ‘ جیسا

Read more

پاکستان کا تابکار عشرہ

ایڈیٹرز: نیلوفر فرخ، امین گل جی، جان میک کیری پبلشر: (اؤ یو پی) آکسفورڈ یونیورسٹی پریس ترجمہ وتبصرہ : مہ ناز رحمن ستر کے عشرہ کی پاکستان کے لئے کیا اہمیت تھی، یہ وہی بتا سکتے ہیں جو تب جوان تھے اور پاکستان کی تقدیر بدلنے کے خواب دیکھ رہے تھے۔ نیلوفر فرخ، امین گل جی، جان میک کیری نے تواس عشرے کی غیر رسمی ثقافتی تاریخ بیان کرنا چاہی تھی لیکن سیاسی تاریخ ثقافت کی چلمن کو ہٹا کر

Read more