آدھے گھنٹے کا خدا – اردو کا شاہکار افسانہ

وہ آدمی اس کا پیچھا کر رہے تھے۔ اتنی بلندی سے وہ دونوں نیچے سپاٹ کھیتوں میں چلتے ہوئے دو چھوٹے سے کھلونوں کی طرح نظر آ رہے تھے۔ دونوں کے کندھوں پر تیلیوں کی طرح باریک رائفلیں رکھی نظر آ رہی تھیں۔ یقیناً ان کا ارادہ اسے جان سے مار دینے کا تھا۔ مگر وہ لوگ ابھی اس سے بہت دور تھے۔ نگاہ کی سیدھ سے اس نے نیچے کی طرف دیکھتے ہوئے دل ہی دل میں اندازہ کیا۔

Read more

پتلی بائی: غلام عباس

محبت کا جذبہ پہلے پہل انسان کے دل میں کب بیدار ہوتا ہے، اس کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں۔ بعض لوگ لڑکپن ہی سے عاشق مزاج ہوتے ہیں اور بعض بلوغت کو پہنچ کے بھی اس جذبے سے بے بہرہ ہی رہتے ہیں۔

میری عمر کوئی نو دس برس کی ہوگی کہ مجھے عشق ہو گیا۔ عہد طفلی کا وہ معصوم عشق نہیں جو کھلونوں سے بہل جاتا ہے۔ بلکہ سچ مچ کا ہجر و وصال والا عشق جس میں محبوب کی یاد آہیں بھرواتی ہے۔ دل میں ہوک اٹھتی ہے۔ چہرے کا رنگ زرد رہنے لگتا ہے۔ بھوک پیاس کی سدھ نہیں رہتی۔ جس نے مجھے اس مرض میں مبتلا کیا وہ میری کوئی ہم عمر لڑکی نہ تھی۔ بلکہ بیس بائیس برس کی ایک پوری جوان عورت تھی۔ ایک خوبصورت ایکٹرس!

Read more

نام دیو مالی: مولوی عبد الحق

نام دیو مقبرہ رابعہ درانی اورنگ آباد (دکن) کے باغ میں مالی تھا۔ ذات کا ڈھیڑ جوبہت نیچ قوم خیال کی جاتی ہے۔ قوموں کا امتیاز مصنوعی ہے اور رفتہ رفتہ نسلی ہوگیا ہے۔ سچائی، نیکی، حسن کسی کی میراث نہیں۔ یہ خوبیاں نیچی ذات والوں میں بھی ایسی ہی ہوتی ہیں جیسی اونچی ذات والوں میں۔

قیس ہو کوہکن ہو یا حالی
عاشقی کچھ کسی کی ذات نہیں

مقبرے کا باغ میری نگرانی میں تھا۔ میرے رہنے کا مکان بھی باغ کے احاطے ہی میں تھا۔ میں نے اپنے بنگلے کے سامنے چمن بنانے کا کام نام دیو کے سپرد کیا۔ میں اندر کمرے میں کام کرتا رہتا تھا۔ میری میز کے سامنے بڑی سی کھڑکی تھی۔ اس میں سے چمن صاف نظر آتا تھا۔ لکھتے لکھتے کبھی نظر اٹھا کر دیکھا تو نام دیو کو ہمہ تن اپنے کام میں مصروف پاتا۔ بعض دفعہ اس کی حرکتیں دیکھ کر بہت تعجب ہوتا۔ مثلاً کیا دیکھتا ہوں کہ نام دیو ایک پودے کے سامنے بیٹھا اس کا تھانولا صاف کر رہا ہے۔

Read more

ذرا ہور اُوپر

نواب صاحب نوکر خانے سے جھومتے جھامتے نکلے تو اصلی چنبیلی کے تیل کی خوشبو سے ان کا سارا بدن مہکا جا رہا تھا۔
اپنے شاندار کمرے کی بے پناہ شاندار مسہری پر آ کر وہ دھپ سے گرے تو سارا کمرہ معطر ہو گیا۔ ۔ ۔ پاشا دولہن نے ناک اٹھا کر فضا میں کچھ سونگھتے ہی خطرہ محسوس کیا۔ اگلے ہی لمحے وہ نواب صاحب کے پاس پہنچ چکی تھیں۔ ۔ ۔ سراپا انگارہ بنی ہوئی۔

”سچی سچی بول دیو، آپ کاں سے آرئیں۔ ۔ ۔ جھوٹ بولنے کی کوشش نکو کرو۔ ۔ ۔ “
نواب صاحب ایک شاندار ہنسی ہنسے۔
”ہمنا جھوٹ بولنے کی ضرورت بھی کیا ہے؟ جو تمے سمجھے وہ ہیچ سچ ہے۔ “

”گل بدن کے پاس سے آرئیں نا آپ؟ “
”معلوم ہے تو پھر پوچھنا کائے کو؟ “

Read more

وہ بڈھا – راجندر سنگھ بیدی کا شاہکار افسانہ

میں نہیں جانتی۔ میں تو مزے میں چلی جا رہی تھی۔ میرے ہاتھ میں کالے رنگ کا ایک پرس تھا، جس میں چاندی کے تار سے کچھ کڑھا ہوا تھا اور میں ہاتھ میں اسے گھما رہی تھی۔ کچھ دیر میں اچک کر فٹ پاتھ پر ہو گئی، کیو ں کہ مین روڈ پر سے ادھر آنے والی بسیں اڈے پر پہنچنے اور ٹائم کیپر کو ٹائم دینے کے لئے یہاں آ کر ایک دم راستہ کاٹتی تھیں۔ اس لئے

Read more

گڈریا۔ اردو کا شاہکار افسانہ

رانو کی قیادت میں اس کے دوست داؤ جی کو گھیرے کھڑے تھے اور رانو داؤ جی کی ٹھوڑی پکڑ کر ہلا رہا تھا اور پوچھ رہا تھا۔ ”اب بول بیٹا، اب بول“ اور داؤ جی خاموش کھڑے تھے، ایک لڑکے نے پگڑی اتار کر کہا۔ ”پہلے بودی کاٹو بودی“ اور رانو نے مسواکیں کاٹنے والی درانتی سے داؤ جی کی بودی کاٹ دی۔ وہی لڑکا پھر بولا ”بلا دیں جے؟ “ اور رانو ں نے کہا۔ ”جانے دو بڈھا ہے، میرے ساتھ بکریاں چرایا کرے گا۔ “ پھر اس نے داؤ جی کی ٹھوڑی اوپر اٹھاتے ہوئے کہا ”کلمہ پڑھ پنڈتا“ اور داؤ جی آہستہ سے بولے :
”کون سا؟“

رانو نے ان کے ننگے سر پر ایسا تھپڑ مارا کہ وہ گرتے گرتے بچے اور بولا ”سالے کلمے بھی کوئی پانچ سات ہیں!“

Read more

شطرنج کے کھلاڑی – اردو کے شاہکار افسانے

نواب واجد علی شاہ کا زمانہ تھا۔ لکھنؤ عیش و عشرت کے رنگ میں ڈوبا ہوا تھا۔ چھوٹے بڑے امیر و غریب سب رنگ رلیاں منارہے تھے کہیں نشاط کی محفلیں آراستہ تھیں۔ کوئی افیون کی پینک کے مزے لیتا تھا زندگی کے ہر ایک شعبہ میں رندی ومستی کا زور تھا۔ امور سیاست میں، شعر وسخن میں، طرز معاشرت میں، صنعت وحرفت میں، تجارت وتبادلہ میں سبھی جگہ نفس پرستی کی دہائی تھی۔ اراکین سلطنت سے مے خوری کے غلام ہورہے تھے۔ شعرأ بوسہ وکنار میں مست اہل حرفہ کلابتواور چکن بنانے میں، اہل سیف تیتر بازی میں، اہل روزگار سرمہ و مسی، عطر و تیل کی خریدو فروخت کا دلدادہ غرض ساراملک نفس پروری کی بیڑیوں میں جکڑا ہواتھا۔

سب کی آنکھوں میں ساغر وجام کا نشہ چھایا ہواتھا، دنیا میں کیا ہورہا ہے۔ علم وحکمت کے کن کن ایجادوں میں مصروف ہے۔ بحروبرپر مغربی اقوام کس طرح اوی ہوتی جاتی ہیں۔ اس کی کسی کو خبرنہ تھی۔ بٹیرلڑرہے ہیں تیتروں میں پالیاں ہورہی تھیں کہیں چوسرہورہی ہے۔ پوبارہ کا شور مچا ہوا ہے کہیں شطرنج کے معرکے چھڑے ہوئے ہیں۔ فوجیں زیروزبر ہورہی ہیں۔ نواب کا حال اس سے بد تر تھا۔ ہاں گتوں اور تالوں کی ایجاد ہوتی تھی۔

Read more

مٹی کی مونا لیزا – اردو کے شاہکار افسانے

مونا لیزا کی مسکراہٹ میں کیا بھید ہے؟

اس کے ہونٹوں پر یہ شفق کا سونا، سورج کا جشن طلوع ہے یا غروب ہوتے ہوئے آفتاب کا گہرا ملال؟ ان نیم وا متبسم ہونٹوں کے درمیان یہ باریک سی کالی لکیر کیا ہے؟ یہ طلوع و غروب کے عین بیچ میں اندھیرے کی آبشار کہاں سے گر رہی ہے؟ ہرے ہرے طوطوں کی ایک ٹولی شور مچاتی امرود کے گھنے باغوں کے اوپر سے گزرتی ہے۔ ویران باغ کی جنگلی گھاس میں گلاب کا ایک زرد شگوفہ پھوٹتا ہے۔ آم کے درختوں میں بہنے والی نہر کی پلیا پر سے ایک ننگ دھڑنگ کالا لڑکا ریتلے ٹھنڈے پانی میں چھلانگ لگاتا ہے اور پکے ہوئے گہرے بسنتی آموں کا میٹھا رس مٹی پر گرنے لگتا ہے۔

سینما ہال کے بک سٹال پر کھڑے میں اس میٹھے رس کی گرم خوشبو سونگھتا ہوں اور ایک آنکھ سے انگریزی رسالے کو دیکھتے ہوئے دوسری آنکھ سے ان عورتوں کو دیکھتا ہوں جنہیں میں نے فلم شروع ہونے سے پہلے سب سے اونچے درجوں کی ٹکٹوں والی کھڑکی پر دیکھا تھا۔ اس سے پہلے انہیں سبز رنگ کی لمبی کار میں نکلتے دیکھا تھا اور اس سے پہلے بھی شاید انہیں کسی خواب کے ویرانے میں دیکھا تھا۔ ایک عورت موٹی، بھدی، جسم کا ہر خم گوشت میں ڈوبا ہوا، آنکھوں میں کاجل کی موٹی تہہ، ہونٹوں پر لپ سٹک کا لیپ، کانوں میں سونے کی بالیاں، انگلیوں پر نیل پالش، کلائیوں میں سونے کے کنگن، گلے میں سونے کا ہار، سینے میں سونے کا دل، ڈھلی ہوئی جوانی، ڈھلا ہوا جسم، چال میں زیادہ خوشحالی اور زیادہ خوش وقتی کی بیزاری، آنکھوں میں پرخوری کا خمار اور پیٹ کے ساتھ لگایا ہوا بھاری زرتار پرس دوسری لڑکی الٹرا ماڈرن، الٹرا سمارٹ، سادگی بطور زیور اپنائے ہوئے، دبلی پتلی، سبز رنگ کی چست قمیض، کٹے ہوئے سنہرے بال، کانوں میں چمکتے ہوئے سبز نگینے، کلائی میں سونے کی زنجیر والی گھڑی اور دوپٹے کی رسی گلے میں، گہرے شیڈ کی پنسل کے ابرو، آنکھوں میں پرکار سحرکاری، گردن کھلے گریبان میں سے اوپر اٹھی ہوئی، دائیں جانب کو اس کا ہلکا سا مغرور خم، ڈورس ڈے کٹ کے بال، بالوں میں یورپی عطر کی مہک، دماغ گزری ہوئی کل کے ملال سے نا آشنا، دل آنے والی کل کے وسوسوں سے بے نیاز، زندگی کی بھر پور خوشبوؤں اور مسرتوں سے لبریز جسم، کچھ رکا رکا سا متحرک سا، کچھ بڑبڑاتا ہوا۔ اس دودھ کی طرح جسے ابال آنے ہی والا ہو۔ سر اینگلو پاکستان، لباس پنجابی، زبان انگریزی اور دل نہ تیرا نہ میرا۔

Read more

آنندی – اردو کے شاہکار افسانے

بلدیہ کا اجلاس زوروں پر تھا۔ ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا اور خلافِ معمول ایک ممبر بھی غیر حاضر نہ تھا۔ بلدیہ کے زیرِ بحث مسئلہ یہ تھا کہ زنان بازاری کو شہر بدر کر دیا جائے کیونکہ ان کا وجود انسانیت، شرافت اور تہذیب کے دامن پر بد نما داغ ہے۔

بلدیہ کے ایک بھاری بھرکم رکن جو ملک و قوم کے سچے خیر خواہ اور دردمند سمجھے جاتے تھے نہایت فصاحت سے تقریر کر رہے تھے۔

”اور پھر حضرات آپ یہ بھی خیال فرمائیے کہ ان کا قیام شہر کے ایک ایسے حصے میں ہے جو نہ صرف شہر کے بیچوں بیچ عام گزر گا ہ ہے بلکہ شہر کا سب سے بڑا تجارتی مرکز بھی ہے چنانچہ ہر شریف آدمی کو چار و ناچار اس بازار سے گزرنا پڑتا ہے۔ علاوہ ازیں شرفاء کی پاک دامن بہو بیٹیاں اس بازار کی تجارتی اہمیت کی وجہ سے یہاں آنے اور خرید و فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔ صاحبان! یہ شریف زادیاں ان آبرو باختہ، نیم عریاں بیسواؤں کے بناؤ سنگار کو دیکھتی ہیں تو قدرتی طور پران کے دل میں بھی آرائش و دلربائی کی نئی نئی امنگیں اور ولولے پیدا ہوتے ہیں اور وہ اپنے غریب شوہروں سے طرح طرح کے غازوں، لونڈروں، زرق برق ساریوں اور قیمتی زیوروں کی فرمائشیں کرنے لگتی ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کا پُر مسرت گھر، ان کا راحت کدہ ہمیشہ کے لئے جہنم کا نمونہ بن جاتا ہے۔ “

Read more

حرام جادی – اردو کے شاہکار افسانے

دروازہ کی دھڑ دھڑ اور ”کواڑ کھولو“ کی مسلسل اور ضدی چیخیں اس کے دماغ میں اس طرح گونجیں جیسے گہرے تاریک کنوئیں میں ڈول کے گرنے کی طویل، گرجتی ہوئی آواز۔ اس کی پر خواب او نیم رضا مند آنکھیں آہستہ آہستہ کھلیں لیکن دوسرے لمحہ ہی منہ اندھیرے کے ہلکے ہلکے اجالے میں ملی ہوئی سرمہ جیسی سیاہی اس کے پپوٹوں میں بھرنے لگی اور وہ پھر بند ہو گئیں۔ آنکھوں کے پردے بوجھل کمبلوں کی طرح نیچے لٹک گئے اور ڈلوں کو دبا دبا کر سلانے لگے لیکن کان آنکھوں کی ہم آہنگی چھوڑ کر بھنبھنا رہے تھے۔ وہ اس سحر خیز حملہ آور کی تازہ یورش کے خلاف اپنے روزن بند کر لینا چاہتے تھے اور پھر بھی بھنبھنا رہے تھے۔

امید و بیم کی یہ کشمکش جسے نیند شاید جلد ہی اپنے دھارے میں غرق کر لیتی، زیادہ دیر جاری نہ رہی۔ اب کے تو دروازہ کی چولیں تک ہلی جا رہی تھیں اور آوازیں زیادہ بے صبر، بے تاب، کرخت اور بھرائے ہوئے گلے سے نکل رہی تھیں۔ ”کھولو کھولو۔ “ یہ آوازیں پتلی، نوک دار تتلیوں کی طرح دماغ میں گھس کر نیند کے پردوں کو تار تار کیے دے رہی تھیں۔ وہ یہ بھی سن رہی تھی کہ پکارنے والا کھولو۔ کھولو کے وقفہ کے درمیان آہستہ ناخوشگوار ارادوں کا اظہار بھی کر دیتا تھا۔ یہی نہیں بلکہ کوئی شخص اسے سڑک کے ڈھیلوں کو استعمال کرنے کی ترغیب دے رہا تھا۔ آخر اس نے آنکھیں پوری کھول دیں اور ہاتھوں کو چارپائی پر جھٹکتے ہوئے کہا۔ ”نصیبن دیکھو تو کون ہے؟ “

Read more

سوتیلا آدمی – اردو کے شاہکار افسانے

جاڑوں کی رات تھی۔ سر شام ہی سناٹا پڑ گیا تھا۔ میری ہمیشہ کی عادت ہے کہ دیر سے سوتا ہوں۔ اول شب کبھی نیند نہیں آئی۔ اس روز بھی ایسا ہی ہوا۔ گھر کے اور لوگ تو کبھی کے اپنے اپنے بستروں پر جا چکے تھے۔ میں کچھ دیر تک ایک جاسوسی ناول پڑھتا رہا۔ اس کے بعد یوں ہی بیٹھے بیٹھے گنگنانے لگا۔ چھٹے اسیر، تو بدلا ہوا زمانہ تھانہ پھول نہ چمن تھا نہ آشیانہ تھا۔ غالباً محمد جوہر کی غزل کا شعر ہے۔ ان دنوں فلم ”دیوداس“ نئی نئی ریلیز ہوئی تھی۔سہگل کے گانوں سے گلی کوچے گونج رہے تھے۔ جسے دیکھیے الاپ رہا ہے۔ ”بالم آئے بسو مورے من میں۔ “ لیکن یہ غزل پہاڑی سا نیال نے گائی تھی۔ نہ جانے کیوں اس وقت میں اسے گنگنانے لگا۔ ہو سکتا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہو کہ میں کئی سال بعد لکھنو واپس آیا تھا۔ پرانا مکان چھٹ چکا تھا اور نئے مکان میں یہ میری پہلی شب تھی۔ گنگناتے گنگناتے مزے میں جو آیاتو اونچے سروں میں گانے لگا۔ میرا کمرہ سب سے الگ تھلگ سڑک کے رخ پر تھا۔

Read more