مرزا آفت بیگ اور اسقف اعظم

اندلس کے مسلمانوں پر بہت کڑا وقت تھا۔ غرناطہ میں شکست ہو چکی تھی۔ وہاں کے اسقف اعظم نے اعلان کیا کہ یہ تو سارے مسلمانوں کو عیسائی مذہب اختیار کرنا ہو گا، یا پھر تین دن کے اندر اندر انہیں ملک چھوڑنا ہو گا۔ کسی دوسرے مسلک یا مذہب کے ملک میں رہنے کی گنجائش بالکل بھی نہیں ہے۔ مسلم بچارے رونے پیٹنے لگے اور شور مچانے لگے۔ ایک ہنگامہ برپا ہو گیا۔ آخر کار اسقف نے مجبور ہو کر اعلان کیا کہ وہ مسلمانوں سے مناظرے کے لیے تیار ہے۔ وہ اپنا ایک نمائندہ منتخب کر لیں۔ اگر مسلم مناظرہ جیت گئے تو وہ رہ سکتے ہیں ورنہ انہیں جانا پڑے گا اور عیسائیت اختیار کرنا ہوگی۔

Read more

کتے – پطرس بخاری کا لافانی مضمون

علم الحیوانات کے پروفیسروں سے پوچھا۔ سلوتریوں سے دریافت کیا۔ خود سر کھپاتے رہے۔ لیکن کبھی سمجھ میں نہ آیا کہ آخر کتوں کا فائدہ کیا ہے؟ گائے کو لیجیے دودھ دیتی ہے۔ بکری کو لیجیے، دودھ دیتی ہے اور مینگنیاں بھی۔ یہ کتے کیا کرتے ہیں؟ کہنے لگے کہ کتا وفادار جانور ہے۔ اب جناب وفاداری اگر اسی کا نام ہے کہ شام کے سات بجے سے جو بھونکنا شروع کیا تو لگاتار بغیر دم لیے صبح کے چھ بجے تک بھونکتے چلے گئے۔ تو ہم لنڈورے ہی بھلے، کل ہی کی بات ہے کہ رات کے کوئی گیارہ بجے ایک کتے کی طبیعت جو ذرا گدگدائی تو انہوں نے باہر سڑک پر آ کر طرح کا ایک مصرع دے دیا۔ ایک آدھ منٹ کے بعد سامنے کے بنگلے میں ایک کتے نے مطلع عرض کر دیا۔ اب جناب ایک کہنہ مشق استاد کو جو غصہ آیا، ایک حلوائی کے چولہے میں سے باہر لپکے اور بھنا کے پوری غزل مقطع تک کہہ گئے۔ اس پر شمال مشرق کی طرف ایک قدر شناس کتے نے زوروں کی داد دی۔ اب تو حضرت وہ مشاعرہ گرم ہوا کہ کچھ نہ پوچھئے، کم بخت بعض تو دو غزلے سہ غزلے لکھ لائے تھے۔ کئی ایک نے فی البدیہہ قصیدے کے قصیدے پڑھ ڈالے، وہ ہنگامہ گرم ہوا کہ ٹھنڈا ہونے میں نہ آتا تھا۔ ہم نے کھڑکی میں سے ہزاروں دفعہ ”آرڈر آرڈر“ پکارا لیکن کبھی ایسے موقعوں پر پر دھان کی بھی کوئی بھی نہیں سنتا۔ اب ان سے کوئی پوچھئے کہ میاں تمہیں کوئی ایسا ہی ضروری مشاعرہ کرنا تھا تو دریا کے کنارے کھلی ہوا میں جاکر طبع آزمائی کرتے یہ گھروں کے درمیان آ کر سوتوں کو ستانا کون سی شرافت ہے۔

Read more

لندن کا سردار اور پشاوری بابا

تب کی بات ہے جب ہم ایک نیوز ویب سائٹ چلاتے تھے پشاور ون کے نام سے، آفس میں کوئی پنگا تھا اور کیس ہمارے پاس لگا ہوا تھا ایک رنگروٹ رپوٹر وہ والی ویب سائٹ دیکھتا پکڑا گیا تھا، اب سامنے سر جھکائے کھڑا تھا ابھی سماعت جاری تھی کہ ایک اور کٹا کھل گیا ہمارے ساتھی فوٹو گرافر کی فوٹو سٹوری میں آدھی فوٹو کسی اور کی اپ لوڈ ہو گئی تھیں۔ فوٹو گرافر صاب اس غم میں مرنے والے ہو چکے تھے۔

ماحول میں ہلکی گرمی تھی اور ہمیں تپ چڑھی ہوئی تھی کہ ایسے میں سیل فون کی گھنٹی بجی۔ یار گل سن میں انہاں دوناں منڈیاں نوں چھڈنا نہیں سمجھ آئی تینوں میری ساری شرافت اور مسکینی پنجابی میں بات سنتے ہی ختم ہو گئی کہ پنجابی میں بات کزن اور بھائیوں سے ہی کرنی ہوتی جدھر کسی دید لحاظ کی ضرورت نہیں پڑتی میں نے پوچھا کون بکواس کر رہا۔ وہ پھر بولا یہ دونوں بھائی میں سیدھے کر دینے۔ یہ سن کر ہم سوچ میں پڑ گئے کہ یہ میرے بھائیوں کا ذکر ہے کیا؟

سیل فون پر نمبر چیک کیا تو یو کے کا نمبر تھا۔ پوچھا کہ اپ کون؟ تو آگے سے جواب ملا سردارامیت سنگھ۔ او سردار

Read more

ملکہ سیدہ الزبتھ کے پوتے کی شادی خانہ آبادی

سیدہ الزبتھ کا فون آیا تھا۔ پوچھ رہی تھیں کہ ان کے پوتے کی شادی کا دعوت نامہ ملا یا نہیں؟ میں نے بتایا کہ ہاں، مل گیا تھا۔ لیکن کچھ مصروفیت ہے۔ کل شادی میں نہیں پہنچ سکوں گا۔ ولیمے میں شرکت کا ارادہ ہے۔ تس پر انھوں نے یہ کہہ کر مجھے حیران کردیا کہ ولیمہ شلیمہ کرنے کا ارادہ نہیں۔ پیسے بچانے کے لیے بس ایک ہی تقریب کررہے ہیں۔ ملکہ معظمہ، جیسا کہ آپ جانتے ہیں،

Read more

بندے سے خان زمان تک

اپنی نوکری کو لات مار کر ہم ویلے تھے۔ لات جیولری فرم کے گورے مالک کو یہ بتا کر ماری تھی کہ اب میں اپنی فرم بناؤں گا۔ فرم بنانے کو کوئی سرمایہ موجود نہ تھا۔ اس کے لئے اک دوست کی موٹر سائکل کام آئی جو اٹھارہ سو روپے نصف جس کے نو سو ہوتے ہیں میں بیچ کر قانونی مراحل طےکیے گئے۔ فرم بنا تو لی تھی لیکن مست حال سوئی پڑی تھی کہ کام کیسے کرنا ہے

Read more