مرزا آفت بیگ اور اسقف اعظم
اندلس کے مسلمانوں پر بہت کڑا وقت تھا۔ غرناطہ میں شکست ہو چکی تھی۔ وہاں کے اسقف اعظم نے اعلان کیا کہ یہ تو سارے مسلمانوں کو عیسائی مذہب اختیار کرنا ہو گا، یا پھر تین دن کے اندر اندر انہیں ملک چھوڑنا ہو گا۔ کسی دوسرے مسلک یا مذہب کے ملک میں رہنے کی گنجائش بالکل بھی نہیں ہے۔ مسلم بچارے رونے پیٹنے لگے اور شور مچانے لگے۔ ایک ہنگامہ برپا ہو گیا۔ آخر کار اسقف نے مجبور ہو کر اعلان کیا کہ وہ مسلمانوں سے مناظرے کے لیے تیار ہے۔ وہ اپنا ایک نمائندہ منتخب کر لیں۔ اگر مسلم مناظرہ جیت گئے تو وہ رہ سکتے ہیں ورنہ انہیں جانا پڑے گا اور عیسائیت اختیار کرنا ہوگی۔
Read more






