دو کھڑکیوں والا نیشنل کا اصلی ٹیپ ریکارڈر
کتنے سیل کھاتا ہے۔ ٹیپ کے پچھواڑے میں سیلوں کی مقام پر نظریں پڑتے ہی شیرو نے پوچھا
آٹھ۔ بڑے۔ جانی نے جواب دیا
نیشنل کا اصلی ڈبل کھڑکی ہے۔ آٹھ تو کھائے گا ہی۔ شیرو نے تسلی سے کہا
چنداکے یا الہ دین کے۔ اس نے دوسرا سوال کیا
الہ دین سب سے بہترین۔ اس سے اچھے سیل دنیا میں کہیں نہیں۔ چندا جاپانی مشینوں کو خراب کر دیتا ہے۔ الہ دین زیادہ چلتا ہے۔ ختم بھی ہو جائے تو مقناطیس سے دوبارہ چارج ہو کر دو چار دن اور بھی چل جاتا ہے۔ امریکہ نے چاند پر اپنا جو جہاز بھیجا تھا اس میں بھی الہ دین کے سیل استعمال ہوئے تھے۔ چندا تو دو نمبر ہے۔ الہ دین سب سے بہترین۔
جانی نے شیلف میں رکھے الہ دین سیلوں کے مناقب ایک ہی سانس میں گنوائے۔ کیوں نہ گنواتا اس کے پاس ان بیٹری سیلوں کی چھوٹی سی ڈسٹری بیوشن ایجنسی جو تھی۔ لہذا اس کے مطابق دنیا کیا کائنات کے سب سے بہترین سیل الہ دین کے ہی تھے
ٹھیک کہتے ہو جانی لالہ تمہارا تجربہ تو سب سے زیادہ ہے اس کام میں۔ شیرو نے ہاتھ لگائے بغیر اپنی بالشت کے اندازوں سے ڈبل کھڑکی کی پیمائش کرتے ہوئے جواب دیا اور پھر جانی کو سلام کر کے دکان سے نکل گیا۔ دو گھنٹے بعد وہ اپنے جھونپڑے میں بیٹھا انہی پیمائشوں کے مطابق لال مخمل کی کٹائی کر رہا تھا۔
میرے سکول میں آبادی تو نہیں ہوئی لیکن رانجھن کی کشتی میں روزانہ دریا کے آر پار آتے جاتے ہماری اچھی دوستی ہو گئی۔ رانجھن اور اس کے یار دوستوں کو سکول کی شکل میں ایک ایسا ٹھکانہ مل گیا جہاں بیٹھ کے ہم سب کچہریاں، دعوتیں اورکچے کے ملکوں کی بدمعاشیوں اور سینہ زوری پر باتیں کرتے۔ کیہل قبیلہ ملکوں سے بہت ڈرتا ہے۔ ملکوں کے پاس دریا کنارے اپنی زمینیں ہیں اور کیہلوں کے پاس سوائے دریا کے کچھ بھی نہیں۔ ازل سے یہی دریا ہی ان کی کھیتی ہے اور وہ اسی میں اپنے چپو وئں سے ہل چلا تے اور پانی سے پانی کی فصل اٹھاتے ہیں۔
شراب اور زمین کی طاقت کے نشے میں دھت ملکوں کے لڑکے کبھی کبھی ان کی کسی قبول صورت عورت کو بھی اٹھا لے جاتے ہیں۔ اور اس کے بعد وہی ہوتا ہے جو طاقتور اور کمزور کے معاملے میں ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے۔ کمزورعزت جانے سے زیادہ جان بچ جانے پر خدا کا شکر ادا کر کے دوبارہ عزت لٹنے کے انتظار میں بیٹھ جاتا ہے۔ یہاں ہر مرد کے پاس کم از کم دو بیویاں تو ضرور ہیں۔ رانجھن کے پاس تین بیویوں دو محبوباؤں اور آٹھ کشتیوں کے ساتھ ساتھ اپنے قبیلے کی نمبرداری بھی ہے۔ میں نے اس سے درخواست کی کہ وہ نمبردار ہونے کے ناطے آٹھ دس بچوں کو تو سکول بھجوا دے تاکہ کل کلاں اگر محکمہ تعلیم والے بڑے صاحب سکول کے معائنے پر آئیں تو میں انہیں اپنی تھوڑی بہت کارکردگی تو دکھا سکوں۔ کہیں ایسا نہ ہو میری نوکری پر سوالیہ نشان لگ جائے کہ میں دو مہینے میں ایک بچے کو بھی سکول کا راستہ نہیں دکھا سکا۔
اگلی صبح جب میں سکول پہنچا تو رانجھن قبیلے کے سارے بچوں کے ساتھ سکول کے سامنے موجود تھا
ہاں ماشٹر یہ رہی تمہاری فوج۔ ان سب کے نام اپنے رجسٹر میں لکھو۔ اور اپنی نوکری بچاؤ۔ لیکن خبردار جو تم نے انہیں ایک لفظ بھی پڑھایا۔ تعلیم انسان کو دو نمبریاں سکھاتی ہے۔ جب تمہارے صاحب معائنے پر آئیں تو تم صرف ایک گھنٹی بجانا یہ سب آجائیں گے۔
سن رہے اوئے ماشٹر صاحب نے جب گھنٹی بجائی اور تم میں سے ایک بھی نہ آیا تو اسے کاٹ کے دریا میں پھینک دوں گا۔ سمجھے؟
سمجھ گئے۔ سب نے یک زبان ہو کرکہا
اور میں بچوں کے نام اپنے رجسٹر میں لکھنے بیٹھ گیا
دوسرے مہینے کے اختتام سے دو چار دن پہلے ایک شام شیرو ٹیپ فنڈ میں رقم جمع کرانے آیا، اور رقم کاؤنٹر پر رکھ کرچلے جانے کی بجائے آج دکان کے باہر ہی رک گیا۔ شاید وہ جانی سے کوئی بات کرنا چاہتا تھا جو بپھرے ہوئے خاری شاہ کی جوانی سے مغز ماری کر رہا تھا
یار جانی میں نہ فارسی بول رہا ہوں نہ عربی تومیری بات سمجھ رہا لیکن پھر بھی ضد کر رہا ہے۔ میں نے تجھے سائیں ریاض حسین موچھ والے کے نوحوں کا کیسٹ بنانے کا کہا تھا۔ پوری لسٹ دی تھی۔ یہ رہی۔ خاری شاہ نے کاغذ کا ایک صفحہ جانی کے منہ کے سامنے کرتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی
تو نے اس میں دو نوحے کسی اور کے کیوں بھرے۔ مجھے اس کا جواب دے صرف۔ خاری نے جانی سے دو ٹوک جواب مانگا
شاہ جی بات تم بھی میری سمجھ رہے ہو لیکن پھر بھی نہیں سمجھ رہے۔ ضد تم بھی کر رہے ہو۔ میں نے تو اپنے طور پر ایک اچھائی کی اور وہی میرے گلے میں پڑ گئی۔ سائیڈ بی پر چودہ منٹ کی جگہ خالی بچ رہی تھی۔ اگر میں نے دو نوحے کسی اور کے بھر دیے تو کون سی قیامت آگئی؟
جانی نے لسٹ شاہ جی کے ہاتھ سے لے کر تہہ کرتے ہوئے مایوسی سے جواب دیا
میں نے تجھے چٹھی بھیجی تھی یہ اچھائی کرنے کی؟ تیری اچھائی کے چکر میں میرا 90 منٹ کا TDK کیسٹ برباد ہو گیا؟ اگر تجھے خالی جگہ پر کرنی ہی تھی تو اس پر بھی موچھ والے کے نوحے بھرتا۔ قمبرقمی کے کیوں بھرے؟ میرے حساب سے تو نے قمی جیسے غیر معروف نوحہ خواں کو اتنے بڑے ذاکر اہل بیت کے ساتھ رکھ کر سائیں ریاض حسین موچھ والے کی توہین کی ہے۔
بالو شاہ تھلے کے متولی اور خطیب اہل بیت زوار حاجی منظور حسین شاہ کے فرزند سید افتخار حسین عرف خاری شاہ کے منہ سے توہین کا لفظ سن کر جانی کے پھیپھڑے تک کانپ گئے۔ اس نے آج صبح ہی اخبار میں توہین مذہب کے نئے قانون کے بارے میں پڑھا تھا۔ جانی کے دماغ نے لمحوں میں اسے سمجھایا کہ بیٹا حکومت جونیجو کی ہے لیکن قانون ضیا کا چلتا ہے۔ اس سے پہلے کہ خاری شاہ تجھ پر توہین ریاض حسین شاہ موچھ والا ثابت کر کے قانون کا غلط استعمال کرے اس کی ہر بات مان لے جتنے نوحے بھرنے کا کہہ رہا ہے بھر دے ورنہ تیرا نوحہ پڑھنے والا کوئی نہیں ہو گا
واہ شاہ جی واہ اتنی چھوٹی بات پر اتنے زیادہ گرم ہو رہے ہو۔ چھوڑو یار۔ میں ابھی تمہارا گلہ دور کرتا ہوں۔ قمبرقمی کے اوپر موچھ والا پھیرتا ہوں بس 14 منٹ دے دو مجھے۔ سگریٹ ختم ہو نے سے پہلے تمہارا کام ہو جائے گا۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

