دو کھڑکیوں والا نیشنل کا اصلی ٹیپ ریکارڈر
بے غیرت بیٹے ماؤں کو کپڑے دے کر واپس مانگتے ہیں۔ غیرت مند ماؤں کے کپڑے نہ اتارتے ہیں نہ اتارنے کی اجازت دیتے ہیں۔
شاید جانی کو اپنی ماں یاد آرہی تھی جسے اس کے مامے اور مامی نے گھر سے حصہ مانگنے کے جرم میں اتنا مارا پیٹا تھا کہ اس کے کپڑے پھٹ گئے تھے جانی اس وقت چار سال کا تھا۔ اس نے یہ سارا نظارہ اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ اسے یہ بھی یاد تھا کہ اس کی ماں نے کس طرح اسے سینے سے لپٹا کر اپنے سینے کا ننگاپن چھپایا تھا
ان یادوں سے پیچھا چھڑانے کے لئے جانی کاونٹر کے پیچھے بیٹھ کر کوئی چیز ڈھونڈنے میں لگ گیا۔ وہ کچھ بھی نہیں ڈھونڈ رہا تھا بلکہ شیرو سے اپنی بہتی آنکھیں چھپا رہا تھا
پیسے پورے ہو گئے کیا؟ چند لمحے کی خاموشی کے بعد شیرو نے بے یقینی کی کیفیت میں پوچھا
شیرو کا سوال سن کر جانی روزنامچہ لئے کاونٹر کے پیچھے سے ابھرا
کہاں پورے ہوئے ہیں آج کے ملا کے ابھی آٹھ سو بہتر ہی آئے ہیں دو مہینوں میں میرے پاس۔ جانی نے روزنامچے پر حساب کتاب کر تے ہوئے بتایا
ٹیپ کی نقد قیمت ہے تین ہزار آٹھ سو۔ قسطوں پر تجھے پڑے گا چار ہزار تین سو کا۔ بول منظور ہے؟
کتنے مہینے کی کتنی قسط ہو گی؟ شیرو نے پوچھا
باقیوں کے لئے ایک سال تیرے لئے پندرہ مہینے۔ ہر مہینے دو سو تیس دے گا تو باقی کے تین ہزار چار سو اٹھائیس پورے ہو جائیں گے
جانی نے کیلکولیٹر پر جلدی جلدی حساب کر کے شیرو کو سوالیہ نظریں دکھائیں جیسے اس کی مرضی پوچھ رہا ہو
جیسے تم حکم کرو میں حاضر ہوں۔ میری موٹی عقل میں موٹا حساب آگیا ہے کہ مجھے ہر مہینے دو سو کے اوپر تیس روپے تمہیں دینے ہیں۔ جب پورے ہو جائیں تو بتا دینا۔ تمہاری مہربانی ہے کہ ایک کیہل پر اعتبار کر رہے ہو۔ شیرو نے شکرگزاری سے سر جھکا دیا
جانی نے ٹیپ ریکارڈرکو چولی سمیت ڈبے میں پیک کر کے شیرو کے ہاتھوں میں تھما یا اور وہ جانی کے احسانات کا کوہ ہمالہ پشت پر لادے باہر جانے لگا لیکن جانی کی آواز نے اس کے قدم دروازے پر ہی روک دیے
اوئے ٹیپ تو لے جا رہا ہے اسے چلائے گا کیسے؟ سنے گا کیا؟ ساری رات خالی ٹیپ کو دیکھتا رہے گا؟
شیرو شرمندگی سے گردن کھجاتے ہوئے واپس مڑا
یہ خیال تو آیا ہی نہیں۔ کہ چلاؤں گا کیسے۔ نہ سیل لئے نہ کیسٹیں۔ شیرو کے ہونٹوں پر پھیکی پھیکی مسکراہٹ آئی
کس کو سنے گا سب سے پہلے؟ جانی نے الہ دین کے سیلوں کی چار جوڑیاں اس کے سامنے رکھتے ہوئے پوچھا
عطا اللہ خان کے دو تین نمبر دے دو۔ مجھے تو بس اسے ہی سننے کا شوق ہے جانی لالہ۔ جانی نے عطا اللہ عیسی خیلوی کے پانچ کیسٹ نکال کے اسے دیے اور شیرو کے کھاتے میں اندراج کرتے ہوئے اگلے ہفتے ان آٹھ سیلوں اور پانچ کیسٹوں کے پیسے دینے کی تاکید کی۔ اس نے شیرو کو صاف صاف بتا دیا کہ کیسٹ اور سیل ہمیشہ نقد پر ملیں گے قسطوں یا ادھار پر نہیں
شیرو اس کی تاکیدکو پلے سے باندھ کے وہاں سے چل دیا۔ اس رات دریا کے پار صبح تک عطا اللہ خان کی آواز گونجتی رہی
میڈا عشق وی تو
میڈا یار وی تو
میڈادین وہی تو ایمان وی تو
میڈا کرم وہ توں میڈا دھرم وی تو
میڈا ذوق وی تو وجدان وی تو
نکی جیی گل تو رسدیں ڈھولا تیڈی کمال ہیے
چارپائی پر رکھا ٹیپ بجتا رہا اور شیرو اپنے دل کی ساری کھڑکیاں کھولے اس کے گرد ساری رات طوافانہ رقص کرتا رہا
میں سکول کی چھت پر سرکاری کرسی میں دھنسا قدرت کے نظاروں سے لطف اٹھاتے ہوئے یہی سوچ رہا تھا کہ اگر میں آج کسی قصبے یا دیہات کے سکول میں ہوتا تو اتنا مطمئن کبھی نہ ہوتا۔ اب یہاں کے لوگوں نے نہ صرف مجھے اپنا لیا ہے بلکہ میں بھی ان کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ یہ علاقہ اب میرا دوسرا گھر بن گیا ہے۔ اور تو اور جب بھی موسم اچھا ہوتا ہے میں سکول کی چھت پر چارپائی ڈال کر یہاں رات بھی گزار لیتا ہوں۔ جب سارا آسمان ستاروں سے پر ہو اور دریا کی لگی ٹھنڈی ہوا چل رہی ہو تو ایسی بے فکری کی نیند آتی ہے کہ کچھ نہ پوچھیں۔ میرا تو ارادہ ہے کہ دس سال نوکری کر کے قبل از وقت ریٹائر منٹ لے کر آزاد ہو جاؤں۔ یہیں تھوڑی سے زمین لے کر گھر بناؤں اور باقی پر کھیتی باڑی کر کے شہنشاہی زندگی گزاروں۔ نہ غلامی کی نوکری ہو نہ نوکری جانے کا کوئی خوف۔
رانجھن کے مشورے پر میں نے اس کے ساتھ پارٹنرشپ میں انجن والی چھوٹی کشتی بھی لے لی ہے جو اس کا بھتیجا مٹھو چلاتا اور دریا کے آر پار سواریاں پہنچاتا ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ ہفتے کے ہفتے جب میں اور رانجھن حساب کرتے ہیں تو ڈیزل کا خرچہ اور مٹھو کی تنخواہ نکال کر ہم دونوں کے حصے میں پانچ چھ سو روپے آجاتے ہیں۔ رانجھن سچ کہتا تھا کہ حکومت کو نئی روشی کی بجائے نئی کشتی سکیم نکالنی چاہیے تھی۔ میں اپنے مستقبل کی منصوبہ بندی کر ہی رہا تھا کہ شیرو کی آواز نے مجھے چھت سے نیچے آنے پر مجبور کر دیا۔
ماشٹر جی ایک کام تھا تم سے۔ سلام دعا کے بعد اس نے آنے کا مقصد بیان کیا
امانت رکھوانی تھی تمہارے پاس۔ اس نے ڈبے میں بند اپنا ٹیپ ریکارڈ گود سے نکال کے میرے سامنے کیا
میں گدائی کے لئے پار جا رہا ہوں اس کی فکر لگی ہوئی ہے کہ کہیں کوئی میری کلکی میں گھس کے اسے چوری نہ کر جائے۔ اپنے ساتھ بھی نہیں لے جا سکتا۔ اسے دیکھ کے لوگوں نے مجھے لعنت دینی ہے خیرات تو نہیں دینی۔ گدائی نہیں کروں گا تو اس کی قسطیں کیسے دوں گا۔ اگر میں سویرے جاتے ہوئے تمہیں اپنی امانت دے جاؤں اور دو تین بجے تک واپس لے لوں تو تمہیں کوئی اعتراض تو نہیں ہو گا؟
مجھے تو کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن میں اسے رکھوں گا کہاں؟
سکول کے کمرے میں اور کہاں۔ یہ دیکھو میں ایک پھٹا لایا ہوں اسے اندر اوپر کر کے لگاؤں گا۔ اس پر پڑا رہیگا آرام سے۔ شیرو نے فوراًجواب دیا
اگر کوئی اسے سکول سے چوری کر گیا تو پھر؟ میں نے خدشہ ظاہر کیا
تمہارے ہوتے ہوئے کون چوری کرے گا ماشٹر جی۔ سارے کیہل تمہاری اتنی عزت کرتے ہیں۔ ایک دوسرے کا مال مار لیں گے لیکن تمہارے مال پر کبھی گندی نظر بھی نہیں ڈالیں گے۔ شیرو کے لہجے سے یقین جھلک رہا تھا
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

