کھیلن کومانگے چاند
لیکن ان لوگوں کو شاید یہ بات پتا نہیں ہے کہ قرآن شریف میں واضح طور پر لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب یہودیوں کو تباہ کریں گے تو سب کو ایک جگہ پر جمع کر لیں گے اور اسی لیے اسرائیل بنوایا گیا ہے. امید یہ ہے کہ میں مرنے سے پہلے یہ بھی دیکھ لوں گا.
جہاں تک تعلیم کے سلسلے میں تمہارا پروگرام ہے، میں اس سے اتفاق نہیں کرتا ہوں. مسلمانوں کو تمہاری سیکولر تعلیم کی ضرورت نہیں ہے. تعلیم یافتہ لوگوں نے پاکستان کو دیا ہی کیا ہے. میں تمہاری مہم میں شامل نہیں ہوں بلکہ اس کے خلاف ہوں.
اللہ تعالیٰ تم کو عقل دے اور حالات کو سمجھنے کا شعور. پرانا دوست ہونے کے ناتے سے میں تمہارے لیے دعا کرتا رہتا ہوں. اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے رہو.
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی پناہ میں رکھے.
عبدالغفور. مجبور و مغفور
٭٭٭ ٭٭٭
نیویارک. 28، اپریل
امجد پیارے!
تم اور بھابی خوش رہیں میری تو یہی دعا ہے.
تمہارا تفصیلی خط ملا تھا اور سارے حالات سے آگاہی ہوئی. جب بھی تمہارا خط ملتا ہے ایسا ہی لگتا ہے.
جیسے صحرا میں چلے باد نسیم
جیسے بیمار کو بے وجہ قرار آ جائے
جب بھی موقع ملے اسی طرح سے خط لکھتے رہا کرو. تمہاری بھابی کہتی ہیں کہ تمہارا خط پڑھ کر میں خوش ہوجاتا ہوں گویا کہ
ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق
وہ سمجھتے ہیں بیمار کا حال اچھا ہے
ویسے تم اگر خط نہ بھی لکھو تو
تم میرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا
یہاں پر سب خیر ہے اور اب میرا کام کافی چل نکلا ہے. کارڈیالوجسٹ ہونے کے ناتے میں کافی مشہور و مقبول ہو چکا ہوں اور ہر طرح کے لوگ میرے مریض ہیں اور آمدنی کا گراف بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے. پیارے دل کا کام ہی ایسا ہوتا ہے. تم کو تو پتا ہے کہ
دل ہے کہ نشور ایک باجا ہے سینے کے اندر تاروں کا
جب چوٹ پڑے تھرا جائے جو ٹھیس لگے جھنکار اٹھے
تم نے جو پروگرام بنایا ہے وہ ایک اچھا پروگرام ہے مگر میں اس میں تمہاری مدد نہیں کر سکوں گا. اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت میں خود ڈالر جمع کر رہا ہوں. تم کو تو پتا ہے کہ کراچی میں میرے خاندان نے میری تعلیم و تربیت میں کافی توجہ دی تھی. پھر تمام محرم مجلسوں میں جانا، یوم حسین کے فنکشن منعقد کرانا، شام غریباں میں علاماؤں کی باتیں سننا. اس تعلیم کا یہ زبردست فائدہ ہوا کہ اس لامذہب ملک میں آنے کے باوجود میں نے علیؓ کا، حسینؓ کا، کربلا کا راستہ نہیں چھوڑا.
یہاں پر کئی دفعہ لوگوں سے بحث وغیرہ ہوئی لیکن اس وقت کی دینی تعلیم اور شریعت کا علم ہونے کی وجہ سے میں نے بحث کرنے والوں کو ناک آؤٹ کر دیا. گورے تو بحث کرتے نہیں ہیں، صرف معلومات حاصل کرتے ہیں اور اپنے کام سے کام رکھتے ہیں. لیکن عرب، پاکستان اور ہندوستان کے تبلیغی اور سڑے ہوئی سنی اکثر بحث میں لگ جاتے ہیں. لیکن مولا علی کی مدد سے میں نے ہمیشہ ان کا ناطقہ بند کر دیا ہے. یعنی مجھے ہے حکم اذاں لا الٰہ الا للہ
اب ایک نیا مسئلہ اٹھ کھڑا ہوا ہے. ہمارے بچے اب عجیب و غریب قسم کے سوال کرتے ہیں. ہر قسم کی باتوں میں سائنس لے کر آ جاتے ہیں. ہم لوگوں نے بھی سائنس پڑھی تھی، اپنے زمانے میں آئن سٹائن، فزکس، کیمسٹری، سب کچھ پڑھا تھا مگر ہمارے نظام تعلیم کی یہ خوبی ہے کہ کبھی بھی سائنس اور اسلام کا ٹکراؤ نہیں ہوا. اگر کبھی کسی نے کرنے کی کوشش کی تو ہمارے علما کے پاس ہر سوال کا جواب بھی ہوتا تھا. یار تم لوگوں کے بچے بہت خوش قسمت ہیں، سنی ہیں تو کم از کم ہر جمعے کو مسجد میں مولوی صاحب کی باتیں سن رہے ہیں.
ہم شیعہ لوگوں میں تو مجلسوں کی روایت ایسی ہے کہ کوئی بگڑ ہی نہیں سکتا ہے. دوسری جانب ٹیلی ویژن، ریڈیو اور اخبارات میں کافی مذہب کے بارے میں چھپتا رہتا ہے. یہاں تو عجیب حال ہے. اسکولوں میں سائنس، ٹیلی ویژن پر سائنس اور سائنس بھی ایسی کہ ہر بچہ ہر وقت سوال کرتا رہتا ہے. یہ خود کیوں کہ مناسب عیسائی نہیں ہیں لہٰذا بچوں کے ہر سوال کا جواب بھی سائنسی بنیاد پر دینے کی کوشش کرتے ہیں. چاہے بچہ مذہب ہی کیوں نہ چھوڑ دے.
میری سیکریٹری مجھ سے پوچھ کر ایک دن اپنی تیرہ سالہ لڑکی کو لے کر آ گئی جو ایران اور شیعہ مذہب کے بارے میں سوال کرنا چاہتی تھی. میں نے اسے عیسائیت سے کافی بھڑکانے کی کوشش کی مگر وہ تو مجھے بعد میں پتا لگا کہ دو ہاتھ کی یہ لڑکی پہلے ہی پھری ہوئی ہے، مگر اسلام کے بارے میں کافی پریشان کن سوال اس نے کر دیے تھے. یہ لوگ اتنے مادہ پرست ہو گئے ہیں کہ تم اندازہ نہیں کر سکتے ہو. انہیں کیا پتہ کہ
خدا بندے سے پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
کا کیا مطلب ہے؟
اسی سلسلے میں ہم لوگوں نے ایک پروگرام بنایا ہے اور ہم سارے شیعہ ڈاکٹر ایک لاکھ ڈالر جمع کر رہے ہیں تاکہ اس سال پاکستان سے کچھ شیعہ عالموں کو امریکا بلائیں. پروگرام یہ ہے کہ امریکا کے ہر بڑے شہر میں مجلس عزا برپا کی جائے گی اور اپنے بچوں کو ہم لوگ موقع دیں گے کہ ان عالموں سے سوال کریں اور جواب سنیں. اس طرح سے یہ لوگ جو پاکستان اور ہندوستان کی مجلسوں سے فیض یاب نہیں ہو رہے ہیں انہیں بھی فیض یاب ہونے کا موقع ملے گا.
اس سارے کام میں کافی خرچہ ہے. ابتدائی طور پر ان عالموں سے بات تو ہو گئی ہے، گو کہ ابھی ان لوگوں نے اپنی فیس نہیں بتائی ہے مگر اچھی خاصی رقم انہیں دینا ہوگی. کسی نے ہمیں یہ کہا ہے کہ جتنا پاکستان میں کماتے ہیں اس کا ڈبل تو انہیں ملنا چاہیے. پھر ہر شہر میں مجلس منعقد کرنے میں بھی اچھا خاصا خرچہ آئے گا. یعنی ان لوگوں کی فیس، جہاز کا کرایہ، ہر شہر میں جگہ کا خرچ.
اور پھر تقریب. تم خود سوچو!
امید ہے کہ تم میرے پروگرام کو سمجھ گئے ہو گے.
شاید تیرے دل میں میری بات اتر جائے
بھابی کو میرا بہت سلام کہنا اور بچوں کو پیار.
علی علی
تمہارا. محمد حسین
٭٭٭ ٭٭٭
ڈبلن. 28، اپریل
امجد!
سلانچے، گرونیا اور میرا پیار قبول ہو.
ہسپتال سے گھر پہنچا تو تمہارا خط ملا. تم کیا کر رہے ہو اس کی تفصیلات کا اندازہ ہوا. میرا اور گرونیا کا خیال ہے کہ تم جو بھی کر رہے ہو اچھا کر رہے ہو، اور دنیا کے تمام ترقی پذیر ملکوں میں اگر کسی چیز کی کمی ہے تو تعلیم ہے. ترقی یافتہ ممالک بہت بڑی رقم تعلیم پر خرچ کر رہے ہیں. اس کے باوجود ہر سال اس رقم میں اضافہ ہی کرتے جا رہے ہیں. کراچی میں، لاہور میں اور تمام پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ تعلیم کی کمی کی ہی وجہ سے ہو رہا ہے. میں تمہاری باتوں سے اتفاق کرتا ہوں.
تم نے مجھے کافی شرمندہ بھی کر دیا ہے. پاکستان سے آنے کے بعد میں نے کبھی بھی کسی اچھے کام کے لیے کوئی رقم نہیں بھیجی ہے. یہ بات بھی صحیح ہے کہ میڈیکل کالج میں حکومت نے جو پیسے ہم لوگوں پر خرچ کیے ہیں وہ تو قوم کی کھوئی رقم ہے. تاہم لوگوں نے رقم واپس کی ہے اور نہ ہی وہاں کام کر رہے ہیں. رفیق، شمیم، حمید کا خیال ہے کہ جو رقم ہم لوگ اپنے ماں باپ کو بھیج رہے ہیں وہ ایک طرح سے پاکستان کی زرمبادلہ کی آمدنی ہے.
میں اور گرونیا اس بات کو ہضم نہیں کر پاتے ہیں، کیوں کہ سال میں ہزار پندرہ سو پونڈ، ہماری آمدنی کے تناسب سے اتنی بڑی رقم نہیں اور یہ رقم ملک کا قرض کیا اتارے گی، ماں باپ کا قرض تو اتار سکتی نہیں ہے. یہ ایک عجیب بات ہے.
تم کو ایک اور عجیب بات بتاؤں. میری اور گرونیا کی ڈاکٹر ہونے کی وجہ سے تقریباً برابر کی ہی آمدنی ہے. مجھے پتا لگا کہ ڈاکٹر بننے کے بعد سے ہر ماہ گرونیا کے اکاؤنٹ میں سے کچھ رقم concern اور Amnesty International کو جاتی ہے. ایمنسٹی کے بارے میں تو تمہیں پتا ہی ہے. concern آئرش لوگوں کی ایک تنظیم ہے جو ترقی پذیر ملکوں کی غریب آبادی میں کام کرتی ہے. میں دل میں کافی شرمندہ ہوا. اپنے کالج کے زمانے میں ایدھی کا کام دیکھنے اور پتا ہونے کے باوجود مجھے اتنی توفیق نہیں ہوئی تھی کہ کچھ پیسے ایدھی کو ہی دے دیتا.
بہرحال میری اور گرونیا کی طرف سے ایک ہزار پونڈ قبول کرو اور تمہارے دیے ہوئے اکاؤنٹ میں ہر ماہ میری طرف سے پچاس پونڈ پہنچ جائے گا.
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

