کھیلن کومانگے چاند


امید ہے کہ آپ برا نہیں مانیں گے اور میری بات سمجھنے کی کوشش کریں گے.

خالہ جان کو میرا سلام کہیں. انہیں اپنے وعدے کے مطابق ہمارے پاس امریکا آنا ہے. جیسے ہی وہ حکم کریں گی میں ٹکٹ بھیج دوں گا. امی آپ کو دعا کہہ رہی ہیں.

بھابی کو سلام اور بچوں کو بہت بہت پیار.
ایک دفعہ پھر معافی کا طلب گار ہوں.
آپ کا. محمد رفیق
٭٭٭ ٭٭٭
گرین کینڈل. نیوجرسی. 5، مئی
ڈیئر امجد!
خوش رہو.

تمہارا خط ہمیشہ دنیا بھر کی خبر لے کر آتا ہے. ایک طرح سے ہر ایک کے بارے میں خبر مل جاتی ہے کہ کون کیا کر رہا ہے. نصیر صاحب کی موت کی خبر افسوس ناک ہے اور اس سے بھی زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ بے چارے گلشن کی چورنگی پر منی بس سے ٹکر کھا کر پڑے رہے نہ منی بس رکی اور نہ ہی کسی کو توفیق ہوئی کہ کوئی ان کی مدد کرتا. ایدھی ایمبولینس کے غیر تربیت یافتہ ایمبولینس ڈرائیوروں نے جیسے ہی اٹھانا چاہا تو وہ مر گئے. میں تو ڈاکٹر نہیں ہوں لیکن اتنا مجھے پتا ہے کہ جن لوگوں کے سر پر یا پیچھے کی ہڈی پر چوٹ لگتی ہے انہیں خاص طریقے سے اٹھانا چاہیے ورنہ ان کی حرام مغز کٹ سکتی ہے جس سے آدمی مر بھی سکتا ہے اور مستقل اپاہج بھی ہو سکتا ہے. جیسا کہ تم نے خط میں لکھا ہے ان کے ساتھ بھی یہی ہوا ہے. ان کے بچے تو اب بڑے ہو گئے ہوں گے. خدا انہیں اپنے جوار رحمت میں جگہ دے.

امجد تعلیم پھیلانے کی تمہاری مہم بہت اچھی ہے لیکن میری سمجھ میں یہ نہیں آتا ہے کہ تم لوگ کس طرح سے تعلیم پھیلاؤ گے. ہم لوگ تو کراچی بہت بعد میں آئے تھے. جب میرے ابو کا ٹرانسفر کراچی ہو گیا تھا. مجھے پنجاب کا پتا ہے کہ میلوں میل سفر کرتے رہو کوئی اسکول نہیں ملتا. گاؤں، دیہات میں پڑھا لکھا آدمی مسجد کا مولوی ہوتا ہے جو کہ خود ہی پکا جاہل ہوتا ہے اور جسے زمانے کا کچھ بھی پتا نہیں ہے. ان حالات میں تم کس طرح سے تعلیم پھیلانے کی مہم شروع کرو گے اور کامیاب ہو گے میری سمجھ میں نہیں آتا ہے.

مجھے لگتا ہے کہ موجودہ پاکستان کے نوابزادہ نصراللہ خان، کھر، بے نظیر، مزاری، وٹو، شریف، کھوکھر، ٹوانے، دولتانے، بھٹو، جتوئی، میرزاد اور نہ جانے کون کون، کی موجودگی میں پاکستان میں تعلیم کبھی بھی پھیل سکے گی. ساتھ میں جو تم لوگوں کی آرمی ہے وہ خود اتنی بڑی پیراسائٹ ہے کہ وہ خود ملک کو ایک دن ختم کردے گی. میں خود پنجابی ہوں اور میرا ایک بھائی اب تو فوج میں بریگیڈیئر ہو گیا ہے اور مجھے تھوڑا بہت اندازہ ہے کہ اتنی بڑی آرمی کو زندہ رکھنے کے لیے بہت سے لوگوں کا پیٹ کاٹنا پڑے گا اور ان کے بھی مفاد میں یہی ہے کہ عوام جاہل رہیں تاکہ یہ سوال کوئی نہ اٹھائے.

اگر حکومت سنجیدگی سے تعلیم پھیلانا چاہے تو یہ بھی کوئی بہت بڑی بات نہیں ہے مگر اس کے لیے رقم کہاں سے آئے گی. مثال کے طور پر F. 16 کے جہاز اور ان کے نگہداشت کا خرچ پاکستان کے تمام تعلیمی بجٹ سے زیادہ ہے اور تم کو تو اندازہ ہوگا ہی کہ ہماری ساری حکومتیں تعلیم کے مقابلے میں F. 16 کو زیادہ اہمیت دیتی ہیں.

ایسی خراب صورت حال میں تم اور تمہاری مہم کیا حاصل کر لے گی، مجھے کچھ اندازہ نہیں ہے لیکن پھر بھی میں چاہوں گا کہ تمہاری مدد کروں. آج میں جو کچھ بھی ہوں اس کے بننے میں میرے والدین کے بعد کراچی یونیورسٹی کا بڑا ہاتھ ہے جہاں کی بنیادی ٹوٹی پھوٹی تعلیم کے بعد میں اس قابل ہوسکا کہ امریکا آ کر یہاں کے امتحان پاس کر سکوں اور عزت سے اپنی ضرورت سے زیادہ کما سکوں. میں تو دن رات خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کیوں کہ اگر میرے والد کھر کے مزارعے یا نوابزادہ نصراللہ یا لغاری کی زمینوں پر کام کرنے والے بے گاری ہوتے تو آج نہ جانے میں کس حال میں ہوتا. تم کو میری طرف سے مستقل چندہ ملتا رہے گا.

بھابی کو سلام دینا اور بچوں کو پیار. میرے لائق کوئی کام ہو تو حکم کرنا.
تمہارا. محمد افضل
٭٭٭ ٭٭٭
کنساس مسوری. 8، مئی
ڈیئر امجد!

اگر تم ایک ایسی مہم شروع کرو جس کے ذریعے سے کراچی کے تمام میڈیکل کالج بشمول بقائی، ضیاء الدین، ہمدرد، کراچی میڈیکل ڈینٹل کالج، ڈی ایم سی اور ایس ایم سی کو بند کر دیا جائے تو میں تمہاری مہم کے لیے جتنا بھی ہو سکے گا، دوں گا. دوسری بات یہ کہ ان اداروں کے بند ہونے سے جو پیسے بچیں گے وہ تمہاری عام تعلیم کی مہم پر خرچ کیے جا سکیں گے. تم بھی سوچ رہے ہو گے کہ میں کیا بکواس کر رہا ہوں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ بکواس نہیں ہے، یہ حقیقت ہے اور میں یہی چاہتا ہوں. میں تمہیں بتاتا ہوں کہ میں ایسا کیوں سوچ رہا ہوں کہ یہی سب کچھ میرے اوپر بیت چکی ہے.

تین ماہ قبل مجھے یکایک کراچی آنا پڑ گیا تھا. میں تم سے بھی رابطہ نہیں کر سکا تھا کیوں کہ اٹھارہ دن اس طرح سے گزرے تھے جیسے کوئی ڈراؤنا خواب تھا. تقریباً تین لاکھ روپے خرچ ہوئے تھے اور آخر میں میرے 62، سالہ والد کی لاش مجھے ملی تھی. انہیں کوئی سینے کا انفیکشن ہوا تھا جس کے لیے میرا چھوٹا بھائی انہیں آغا خان ہسپتال لے گیا تھا. وہاں داخلے کے چوتھے دن یکایک ان کا Respiratory Failure ہو گیا تھا جس کے لیے انہیں وینٹی لیٹر کی ضرورت تھی.

میں اسی دن ہی کراچی پہنچا تھا. پہلے تو مجھے کوئی بتاتا ہی نہیں تھا لیکن جب میں نے بتایا کہ میں ڈاکٹر ہوں اور یہ میرے والد ہیں تو مجھے بتایا گیا کہ ابو کو کسی ایسی جگہ شفٹ کرنا پڑے گا جہاں وینٹی لیٹر ہو. کیوں کہ آغا خان ہسپتال کے وینٹی لیٹر خالی نہیں ہیں. یہ مجھے بعد میں پتا لگا تھا کہ ایک وینٹی لیٹر خالی تھا مگر کسی کے لیے رکھا گیا تھا. وہاں سے ہم لوگ ابو کو تاج میڈیکل کمپلیکس لے کر آئے. یہاں مجھے جلد ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ یہاں کا اسٹاف تربیت یافتہ نہیں ہے اور جس طرح کی بات وہ لوگ کرتے تھے اس سے اندازہ ہوتا تھا کہ ان کا Level of care کیا ہے.

دو دن کے بعد ہم لوگوں نے ابو کو ضیاء الدین ہسپتال کے آئی سی یو میں شفٹ کیا تھا. وہ شفٹ کرنا بھی ایک عجیب و غریب تجربہ تھا. ایدھی کی "ایمبولینس، جس میں کوئی بھی مناسب انتظام نہیں تھا. میں خود ہی انہیں آکسیجن کی بیگ لگا کر لے گیا تھا. بڑے سے ضیاء الدین ہسپتال میں آئی سی یو میں تو شاید سب کچھ تھا لیکن مریض کو دیکھنے والے ڈاکٹروں کے ساتھ کوئی مسئلہ تھا. مجھے ان کی بات سمجھ میں نہیں آئی تھی کیوں کہ چھوٹی چھوٹی باتوں کا بھی جواب ان لوگوں کے پاس نہیں ہوتا تھا.

میں سمجھ رہا تھا کہ میرے ابو کی طبیعت صحیح نہیں ہے. میں اپنے لحاظ سے کوئی مشورہ اول تو دیتا نہیں تھا لیکن اگر کسی غلطی کی نشاندہی کرتا تھا یا کسی ایسی رپورٹ کی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کرتا تھا جس پر ان کی نظر نہیں پڑی تھی تو وہ ناراض ہو جاتے تھے. جو سب سے بڑی کمی تھی وہ Accountability کی تھی. کوئی پوچھنے والا نہیں تھا.

آئی سی یو میں ڈیوٹی والے ڈاکٹروں سے لے کر کنسلٹنٹ تک کا رویہ بڑا ہی casual تھا. می نے کوئی رعایت نہیں مانگی تھی، کچھ کم نہیں کرایا تھا، جتنے پیسے لگ رہے تھے اتنے پیسے میں دے بھی رہا تھا مگر نرسوں سے لے کر ڈاکٹروں تک کسی کے کام سے میں مطمئن نہیں تھا اور میرے دیکھتے دیکھتے 62 سال کے میرے والد خواہ مخواہ ہی مر گئے. وہ فٹ تھے 62 سال مرنے کی عمر نہیں ہوتی. یہ قصور میرا ہی ہے کاش! میں انہیں اپنے پاس امریکا میں رکھتا.

ایک ایسا ملک جہاں کسی بھی چیز کی کوئی accountability نہیں ہے. وہاں ڈاکٹروں میں accountability کیوں ہو؟ یہ بات مجھے کراچی میں ہی کسی ڈاکٹر نے کہی تھی جو میرے لیے بہت افسوس کی بات ہے. کیوں کہ میرا خیال یہ ہے کہ سڑے سے سڑے سسٹم میں اور خراب سے خراب حالات میں بھی ڈاکٹر اور ٹیچر کو سسٹم کے دوسرے لوگوں سے اچھا ہونا چاہیے. ان پریشان کن حالات میں رہنے کے بعد میں تم کو فون بھی نہیں کر سکا تھا اور کراچی سے شدید غصے میں واپس آیا تھا.

یہاں آنے کے بعد کنساس سٹی اور کنساس مزدوری میں کام کرنے والے پاکستانی ڈاکٹروں سے بہت باتیں ہوئیں جو بھی ان ڈاکٹروں نے کراچی کے میڈیکل کالجوں اور ہسپتال میں ٹریننگ کے بارے میں بتایا ہے وہ تو بالکل ہی ناقابل قبول ہے. جنہوں نے ڈاؤ میڈیکل کالج اور سندھ میڈیکل کالج سے پڑھا ہے ان دونوں جگہ پر بی ایم ڈی سی کے مطابق مناسب اسٹاف ہے وہاں نہ کوئی تعلیم ہے نہ کوئی ٹریننگ اور باقی جو پرائیویٹ میڈیکل کالج ہیں، وہاں تو مکمل طور پر پی ایم ڈی سی کے ٹوٹے پھوٹے اصولوں کے مطابق بھی اسٹاف موجود نہیں ہے.

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6