کھیلن کومانگے چاند


امجد ایسے اداروں کا کیا فائدہ ہے. ایسے ڈاکٹروں سے تو عطائی اچھے ہیں کیوں کہ اب جو ڈاکٹر یہاں سے نکل رہے ہیں وہ وہاں ہی علاج کریں گے. امریکا اور انگلینڈ نہیں آ سکیں گے. لوگوں کے پیسے خرچ ہوں گے اور میرے ابو جیسے لوگ بے وجہ مر جائیں گے.

اب تم یہ بل شٹ والی بات نہ کرنا کہ میری طرح سے بہت سے لوگوں نے پاکستان چھوڑ دیا ہے تو پاکستان میں گاربیج ہی رہ جائے گا. تمہاری بات کم از کم میرے معاملے میں درست نہیں ہوگی کہ تم کو پتا ہے کہ کراچی میں ایک سال تک کوشش کرنے کے باوجود مجھے کسی بھی جگہ مناسب نوکری نہیں ملی تھی اور میں مجبور ہو کر واپس آیا تھا.

میں اس طویل خط کی معافی چاہتا ہوں مگر اپنی بات سمجھانے کے لیے یہ ضروری تھا کہ تمہیں اپنی نفرت اور اپنے غصے کی وجہ بھی سمجھاؤں.

خدا تم کو کراچی کے ہسپتالوں سے بچائے.
تمہارا. اسلام الدین
٭٭٭ ٭٭٭
وی چی ٹا. 5، مئی
امجد بھائی!

جب آپ کا خط ملا اس وقت میں اپنا سامان لپیٹ کر پرانی نوکری چھوڑ کر کلیولینڈ سے وی چی تا شفٹ ہو رہا تھا. اس نئی جگہ پر زیادہ بہتر نوکری ملی ہے. یہاں امریکا کے زیادہ تر ہوائی جہاز بنانے کی فیکٹریاں ہیں. بوئنگ سے لے کر چھوٹے جہاز تک یہاں بنتے ہیں اور دنیا بھر سے بڑے بڑے لوگ یہاں ہوائی جہاز خریدنے آتے ہیں. یہ نوکری بہت ہی اچھی ہے. پچھلی نوکری کے مقابلے میں، سمجھ لیں کہ ہر چیز ڈبل ہے. یہاں پر کافی پاکستانی انجینئرز کام کرتے ہیں. ویسے بھی پورے امریکا میں شاید پاکستان کے سب سے زیادہ انجینئر کام کرتے ہیں. ایسی ایسی جگہوں پر ایسا ایسا کام کر رہے ہیں کہ آپ کو تعجب ہوگا. افسوس یہ ہے کہ ان لوگوں کے لیے پاکستان میں کوئی جگہ نہیں ہے.

آپ کی تعلیمی مہم کے سلسلے میں عرض یہ ہے کہ میں مکمل طور پر آپ کی مدد کروں گا. نہ صرف یہ کہ اپنے پاس سے آپ کو چندہ بھیجوں گا بلکہ کوشش کروں گا کہ دوسروں سے بھی جمع کر کے آپ کو بھیج سکوں، مگر اس سلسلے میں مجھے بڑا خراب تجربہ ہوا ہے. کچھ سال پہلے میں پاکستان آیا تھا تو مجھے پتا لگا تھا کہ این ای ڈی انجینئرنگ کالج کے کچھ اسٹاف ممبر اس بات پر پریشان تھے کہ جام صادق جیسے کچھ لوگ یونیورسٹی کے شفٹ ہونے کے بعد کالج کی پرانی بلڈنگ پر کوئی پلازہ بنانا چاہتے ہیں.

لہٰذا ان لوگوں نے مل کر کوشش کی ہے کہ اب اس جگہ پر سائنس ٹیکنالوجی کا میوزیم بنائیں. میں ان لوگوں سے ملا تھا اور این ای ڈی کا گریجویٹ ہونے کے ناتے یہ وعدہ کیا تھا کہ میں امریکا میں این ای ڈی کے پاس شدہ لڑکوں سے کچھ مدد جمع کرنے کی کوشش کروں گا. کیمپس کی پرانی بلڈنگ کو اس کام کے لیے مختص کیا گیا ہے مگر افسوس کی بات ہے کہ اس سلسلے میں کچھ خاص کام نہیں ہو سکا ہے. سوائے چند ایک قریبی دوستوں کے زیادہ تر NEDians نے مدد کرنے سے نہ صرف یہ کہ منع کیا بلکہ عجیب عجیب قسم کے بہانے کیے ہیں اور ایسے ایسے سوال کیے ہیں کہ سن کر. افسوس ہوتا ہے اور شرم آتی ہے.

امجد بھائی واشنگٹن سے لے کر نیویارک تک، اور ڈلاس سے لے کر لاس اینجلز تک جس شہر میں چلے جائیں، زندگی کے ہر شعبوں کے میوزیم موجود ہیں. جہاں لوگ جاتے ہیں، دیکھتے ہیں، سمجھتے ہیں، اسکول کے بچوں سے لے کر بڑوں تک اور اس طرح سے ان کے علم میں اور آگہی میں اضافہ ہوتا ہے. میں نے جب واشنگٹن میں سائنس ٹیکنالوجی کا میوزیم دیکھا تو سوچا تھا کہ کاش کراچی میں ایسی کوئی جگہ ہوتی جہاں عام آدمی جا کر سائنس کے کمالات کی تاریخ دیکھتا. پھر جب مجھے این ای ڈی کے اس پروگرام کا پتا چلا تھا تو میں نے سوچا تھا کہ کم از کم پاکستانی انجینئر اس پروجیکٹ کے لیے کچھ کریں گے، مگر میں اس میں ناکام ہو کر دل ہار بیٹھا ہوں. شاید یہ میوزیم تو کبھی بھی نہیں بنے گا مگر میں آپ کی مہم کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور کروں گا.

ہاں ایک بات اور انٹرنیٹ کے اوپر این ای ڈی انجینئرنگ یونیورسٹی کا پیج بھی ہے اس کے اوپر بھی میں نے اپیل کی تھی، مگر کسی نے بھی مناسب جواب نہیں دیا ہے. حکومت کا لاکھوں روپیہ ہم جیسے لوگوں کو انجینئر بنانے پر خرچ ہو رہا ہے اور اپنے ہی ادارے کے لیے تھوڑے سے چندے کی اپیل پر بھی پرانے طالب علم کوئی توجہ نہیں دیتے ہیں. اس سے بڑھ کر ادارے کی بدقسمتی کیا ہوگی. نہ جانے یہ ادارے کا قصور ہے یا ہماری قوم ہی ایسی ہے. دعاؤں میں یاد رکھیں.

آپ کا. سلیم
٭٭٭ ٭٭٭
لندن. یکم مئی (انگلش سے اردو میں ترجمہ کیا گیا)
ڈیئر امجد
امید ہے کہ تم ٹھیک ہو گے.

تمہاری باتیں شاید درست ہوں لیکن میرا اس ملک سے اب کوئی واسطہ نہیں ہے. تعلیم کے بعد اس ملک میں مجھے صرف دھکے ہی ملے تھے. جب کبھی بھی اپنے والدین سے ملنے گیا، کراچی ائرپورٹ پر مجھے پریشان کیا گیا. غیر ضروری ڈیوٹیاں لگائی گئیں، رشوت لی گئی. ڈاکوؤں نے میرے ابو کے گھر گھس کر ماں باپ دونوں کو گولی مار دی اور لوٹ کر چلے گئے. میں ایمرجنسی میں کراچی پہنچا تو نہ جانے کتنی مشکلوں سے لاش ملی. سول ہسپتال میں میڈیکو لیگل افسر کو پیسے کھلانے پڑے. پولیس والوں کی خوشامدیں کرنا پڑیں. میری ہر مجبوری کا ہر ایک نے فائدہ اٹھایا اور یہ سارے کے سارے لوگ کراچی کے پڑھے لکھے تھے. اس شہر اور اس ملک میں کسی بھی قسم کی مہم کے لیے میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے اور اگر ہے تو بھی نہیں دوں گا.

اپنا خیال رکھنا تمہیں بھی کوئی گولی نہ مار دے.
فقط. منظر
٭٭٭ ٭٭٭
نیویارک. یکم مئی
امجد ڈیئر

سب ٹھیک ہے اور میں اپنے خاندان کے ساتھ مزے میں ہوں. تمہاری مہم کے سلسلے میں مجھے مندرجہ ذیل معلومات درکار ہیں.

تم لوگوں نے کتنے پیسے جمع کر لیے ہیں؟
تم لوگوں کو کتنے اور پیسوں کی ضرورت ہے؟
حکومت تمہاری کتنی مدد کر رہی ہے؟
تمہارا اکاؤنٹ آڈٹ ہوتا ہے کہ نہیں؟
اپنی ایک آڈٹ رپورٹ بھیج دو؟

میں 25 ڈالر کا پے آرڈر بھیج رہا ہوں. مہربانی کر کے اس کی رشید مجھے فوراً بھیج دینا. اپنے گھر میں سب کو سلام بولنا.

فقط. سلیم الدین مرزا
٭٭٭ ٭٭٭
شکاگو. 2، مئی
امجد، آداب!

آپ کا خط ملا تھا جس میں آپ نے کراچی اور سندھ میں تعلیمی مہم کے سلسلے میں آپ لوگوں کی مہم کا ذکر کیا تھا. میری آج ہی ابو سے کراچی بات ہوئی تھی. وہ آپ کو contact کریں گے اور میری طرف سے چندہ بھی دیں گے. اس کے علاوہ بھی وہ آپ کے کافی کام آسکتے ہیں. میں نے آپ لوگوں کا نمبر اور ایڈریس انہیں دے دیا ہے.

پاکستان میں تو عام تعلیم کی بہت ضرورت ہے اور اس سلسلے میں ہم سب لوگوں کو کچھ نہ کچھ ضرور کرنا چاہیے. میں نے آپ کے خط اور پروگرام کی فوٹو اسٹیٹ کاپیاں بنالی ہیں اور کچھ جاننے والوں کو بھیج رہی ہوں. امید ہے کہ ان سب کی جانب سے کچھ مدد مل جائے گی.

یہاں پر کام تو ٹھیک ہے مگر کبھی کبھی کراچی بہت یاد آتا ہے. سب کی خیریت اور سلام.
فقط. شکیلہ
٭٭٭ ٭٭٭
ورجینیا. 5، مئی
ڈیئر امجد

پاکستان ایک ناکام ملک ہے جو دنیا میں فیل ہو گیا ہے. تاریخ کے کسی واقعہ سے، فلسفے کے کسی اصول سے اور دیانت کے کسی معیار سے پاکستان اور پاکستانیوں کو ایک ملک اور قوم کہنا مناسب نہیں ہوگا. جب سے مجھے یاد ہے ایوب خان کے خاندان سے لے کر ضیاالحق تک اور بھٹو خاندان سے لے کر شریف خاندان تک فوجیوں، نوکرشاہی کے لوگوں اور ان خاندانوں کے دوستوں نے جس طرح سے ملک کو بھنبھوڑ بھنبھوڑ کر نوچا ہے اس کا اندازہ تم لوگ پاکستان میں بیٹھ کر، کر ہی نہیں سکتے ہو.

امریکا اور یورپ کے ہر بڑے شہر میں ان لوگوں کی جائیدادیں ہیں. ان کے بچے جس طرح سے لندن اور ویگاس میں خرچ کرتے ہیں اسے دیکھ کر عرب بھی شرمندہ ہوجائیں گے. ایسے ملک کا کیا مستقبل ہو سکتا ہے جہاں عورتوں اور بچوں کو بنیادی انسانی حقوق تک میسر نہیں ہیں. جہاں غربت کی انتہا کے ساتھ امیر لوگوں کی عیاشیوں کی بھی انتہا نہیں ہے. جس کا تصور بھی ممکن نہیں ہے.

اب پاکستان میں انقلاب بھی نہیں آئے گا کیوں کہ انقلاب لانے والی طاقتیں خود اتنی زیادہ کرپشن کا شکار ہیں کہ اب انقلاب کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاسکتا ہے.

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6