کھیلن کومانگے چاند


کبھی کبھی اسٹیفن گرین پر اور ہرلیز میں گنس پیتا ہوں تو تم بہت یاد آتے ہو.
اپنا خیال رکھنا اور اسما کو میرا اور گرونیا کا سلام.
تمہارا. محمد احمد
٭٭٭ ٭٭٭
ڈیلاس. 30، اپریل
مائی ڈیئر امجد!
امید ہے کہ یہ خط تمہیں خوش و خرم پائے گا.

مصروفیات کی وجہ سے تمہیں جلد جواب نہیں دے سکا. پاکستان سے امی اور ابو آئے ہوئے تھے. میں انہیں لے کر عمرہ کرنے چلا گیا تھا. ماشاء اللہ سے یہ میرا ساتواں عمرہ تھا. ایک دفعہ پھر سے میری over hauling ہو گئی. اللہ کی مجھ پر بڑی مہربانیاں ہیں. پورے ڈیلاس شہر میں کوئی بھی پاکستانی اور ہندوستانی ڈاکٹر میرا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے.

یہ اسی آقا کا سارا کام ہے کہ ساری بات بنی ہوئی ہے اور بنی رہے گی.

میری سرگرمیوں کا تو تمہیں پتا ہے. میری آمدنی کا ایک حصہ لوئی فرح خان کو جاتا ہے. ڈیالس کے باہر ہی میرا ایک بڑا رینچ ہے اور اس طرح کے بہت سارے رینچ پورے امریکا میں ہیں. جہاں ہم لوگ آنے والی جنگ کی تیاری کر رہے ہیں. ہم لوگ سب اچھے خاصے ٹرینڈ ہیں اور ایک وقت آئے گا جب اس ملک میں ہم لوگوں کو اسلام کی لڑائی لڑنا ہوگی. یہ میرا یقین کامل ہے اور اسی طریقے سے ساری دنیا میں مسلمانوں کو برتری حاصل ہو سکتی ہے اور ہوگی. ہم لوگ بڑی پلاننگ سے کام کر رہے ہیں اور جب وقت آئے گا تو یہودیوں کو پتا بھی نہیں لگے گا کہ کیا سے کیا ہو گیا.

ایسی صورت میں تم خود ہی بتاؤ کہ میں تمہاری تعلیمی مہم کے لیے کہاں سے ڈالر لاؤں. میرے ڈالر زیادہ ضروری کام پر خرچ ہو رہے ہیں.

دعاؤں میں یاد رکھنا
شاکر چیمہ
٭٭٭ ٭٭٭
ہیوسٹن. 30، اپریل
امجد. خوش رہو.

تمہارا خط ملا. پہلے تو میں نے سوچا کہ جواب ہی نہ دوں. تمہیں سمجھانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے، مگر پھر یہ سوچ کر خط لکھ رہا ہوں کہ اس ملک میں یہ میں نے سیکھا ہے کہ جواب ضرور دینا چاہیے اور دوسرا یہ کہ تمہیں پتا تو لگے کہ میں یہاں کیا کر رہا ہوں.

میں نے پہلے کبھی تمہیں بتایا تھا کہ ہیوسٹن کی مسجدوں پر جماعت اسلامی کا قبضہ ہے. بظاہر تو یہ مسجدیں اسلامک سوسائٹی چلاتی ہے مگر درپردہ اسلامک سوسائٹی کے عہدیدار درحقیقت جماعت اسلامی کے پکے کارندے ہیں. جماعت اسلامی والوں نے اسلام کو نقصان پہنچانے کے علاوہ کوئی بھی کام نہیں کیا ہے. پاکستان میں اور پاکستان سے باہر جو پیسے جمع کیے ہیں انہیں اللے تللے سے ان سیاسی مقاصد کے لیے خرچ کیا ہے جن کا اسلام سے کوئی واسطہ نہیں ہے.

کچھ عرصہ قبل ڈاکٹر اسرار احمد یہاں آئے تھے اور ہم لوگوں نے ان کے ساتھ بہت اچھی میٹنگ کی تھی اور دعوت اسلامی کے نام سے ایک جماعت بنائی گئی ہے. بڑی تیزی سے ہماری ممبرشپ میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس دفعہ کے الیکشن میں ہم لوگوں کو پوری امید ہے کہ جماعت اسلامی کا صفایا کردیں گے. اس قسم کی مہم میں پیسہ بھی خرچ ہوتا ہے. میرے بھائی امجد! میں اس کام کے لیے نہ صرف یہ کہ پیسہ دیتا ہوں بلکہ جمع بھی کرتا ہوں. اس صورت میں یہ میرے لیے ممکن نہیں ہوگا کہ تمہاری اس مہم کے لیے پیسہ بھیجوں، جس کا کوئی خاص فائدہ بھی نہیں ہے. تم بچوں کو جو تعلیم دینا چاہو گے اس سے بچے خراب ہی ہوں گے. مسلمان ملکوں میں سیکولر تعلیم دراصل یہودیوں اور ہندوؤں کی بہت پرانی سازش ہے. جس کے لیے انہیں تمہارے جیسے لوگ بھی مل گئے ہیں. خدا کرے گا، تم اور تمہاری مہم کبھی بھی کامیاب نہیں ہوگی.

فقط. محمد مجیب
٭٭٭ ٭٭٭
نیوجرسی. امریکا. 6، مئی
امجد بھائی!

امید ہے کہ آپ لوگ سب خیریت سے ہوں گے. خالہ جان کی طبیعت کیسی ہے؟ امید ہے کہ بالکل ٹھیک ٹھاک ہوں گی. کاظم کا فون شکاگو سے آیا تھا. اس کی شاید کراچی میں کسی سے بات ہوئی تھی تو پتا لگا تھا کہ خالہ جان کا پتے کا آپریشن ہونے والا ہے. امید ہے کہ سب کچھ بخیر و خوبی ہو گیا ہوگا. امی بالکل ٹھیک ہیں اور انڈیا سے پچھلے مہینے ہی واپس آئی ہیں. ابھی تک تو بمبئی، آگرے اور بلند شہر کے ہی قصے چل رہے ہیں.

اب آپ کے خط کے دوسرے حصے کی طرف آتا ہوں. میری سمجھ میں نہیں آتا کہ آپ ابھی تک خوش فہمیوں کا کیوں شکار ہیں. کیوں سمجھتے ہیں کہ پنجابیوں کے اس ملک پاکستان میں ہمارے جیسے اور آپ جیسے لوگوں کی کوئی جگہ ہے. کیوں اس قسم کی مہم چلانا چاہتے ہیں جو نہ آپ کی ذمہ داری ہے اور نہ ہی آپ کا کام ہے. تعلیم پھیلانا حکومت کا کام ہوتا ہے. اسکول بنانا، کالج اور یونیورسٹی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے آپ کی نہیں ہے. پورے ملک میں پنجابیوں کی اور سندھ، کراچی میں سندھیوں کی حکومت ہے اور یہ دونوں قومیں کبھی بھی تعلیم عام نہیں ہونے دیں گی. آپ نہ جانے کن خوابوں کی دنیا میں رہ رہے ہیں اور سمجھ رہے ہیں کہ آپ اس ملک میں تعلیم پھیلا لیں گے.

جہاں تک میرا تعلق ہے پاکستان نہ میرا ملک ہے اور نہ ہی میری شناخت ہے. پاکستان میرے بزرگوں کا حماقت کا نتیجہ ہے جنہوں نے غیر ضروری طور پر ہندوستان میں اپنا خون بہا کر اور جذباتی نعروں کے بہکاوے میں آ کر اسے حاصل کیا تھا. کراچی آ کر ہم لوگوں کو کیا ملا ہے. پڑھا لکھا ہونے کے باوجود ایسے فارم ملے ہیں جن پر لکھنا پڑا ہے کہ میرے ابا جان کہاں پیدا ہوئے تھے. ڈومیسائل اور پی آر سی کی لعنتوں کے پیچھے بھاگنا پڑا ہے. میرٹ ہونے کے باوجود میڈیکل اور انجینئرنگ کالجوں میں داخلہ ان کو ملا ہے جن کا ڈومیسائل لاڑکانہ اور دادو کا تھا. پی آئی اے، ریلوے اور پولیس میں نوکری پنجابیوں کو ملی ہے. ہم لوگوں کو کیا ملا ہے؟

مجھے تو آپ کا خط پڑھ کر غصہ آیا ہے. ایک آگ سی لگ گئی ہے. آپ خود مجھے لندن میں پاکستان کی ایمبیسی کا حال بتا چکے ہیں جہاں پنجابی اہلکاروں نے آپ کو اور خالہ جان کو کس طرح سے ذلیل و پریشان کیا تھا. واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانوں میں بیٹھے ہوئے سفارت کاروں سے تو میرا ذاتی تجربہ ہے. کتوں کو بھی اس طرح سے ٹریٹ نہیں کیا جاتا ہے جس طرح کا سلوک یہ لوگ پاکستانیوں سے کرتے ہیں. اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے الو کے پٹھوں کا بھی یہی حال ہے.

اس کے مقابلے میں ہندوستان کے سفارت خانے بالکل مختلف ہیں. امی کے پاس ابھی تک گرین کارڈ ہے. ابھی جب وہ انڈیا جانے لگیں تو میں نے ڈرتے ڈرتے انڈین ایمبیسی کو ویزے کے لیے فون کیا. ان لوگوں نے نہ صرف یہ کہ اچھے طریقے سے بات کی بلکہ چار دن میں ویزا لگا کر بھیج بھی دیا. پاکستانی ایمبیسی میں کوئی کام کرانا جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہے.

اب آپ مجھے خط لکھ رہے ہیں کہ میں اس ملک میں تعلیمی مہم کے لیے پیسے بھیجوں. ایک ایسے ملک کے لیے جو ختم ہو رہا ہے. جہاں آپس کی مار کٹائی میں روز کتنے ہی لوگ مر جاتے ہیں. آپ کے پنجابیوں نے پہلے بنگالیوں کو لوٹا اور جس طرح سے پاکستان بنانے والے بہاریوں کو بے یارومددگار چھوڑا ہے اس کی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی. گزشتہ بیس سالوں سے جو سلوک کراچی کے مہاجروں کے ساتھ کیا جا رہا ہے اس کے بعد کسی مہاجر کے خیالات آپ جیسے ہیں تو اس کو اپنا علاج کرانا چاہیے.

ہم لوگوں کے خاندان میں سوائے آپ کے کوئی بھی پاکستان میں نہیں رہا ہے اور ہم لوگ جو اب امریکا آ گئے ہیں جہاں بھی ہیں، خوش ہیں. کام کرتے ہیں اور اس کا انعام پاتے ہیں. نہ کوئی رنگ دیکھتا ہے نہ مذہب پوچھتا ہے اور نہ ہی ڈومیسائل دکھانا پڑتا ہے. خاندان کے جتنے بچے ہیں سب اسکولوں میں اچھے جا رہے ہیں. آپ کیوں اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں. اس سے پہلے کہ آپ کے بارے میں کوئی بری خبر ہم لوگوں کو ملے آپ بھی یہاں آجائیں.

آپ جیسے قابل آدمی کے لیے بہت کام ہے. بڑی عزت ہے. یہاں کے یہودی اور عیسائی آپ کے اسلام آباد اور سندھ سیکریٹریٹ کے افسروں سے بہت اچھے ہیں. میں آپ کی مہم کے لیے ایک ڈالر بھی بھیجنے کو تیار نہیں ہوں. اگر زکوٰۃ خیرات دینا ہوگا تووہ میں بلند شہر پھوپھی جان کو بھیجوں گا کہ وہاں غریب رشتہ داروں میں تقسیم کردیں. اگر کسی مہم کے لیے بھیجوں گا تو وہ بھی ہندوستان میں بہت ہیں. پاکستان میں کسی بھی کام کے لیے میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے.

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6