لفظوں کا توپچی: صولت رضا
صولت کی بات دل کو لگی۔ اس کی جگہ توپ خانے میں نہیں تھی۔ وہ گولے بارود اور توپ و تفنگ سے کھیلنے کے لئے نہیں، لفظوں سے کھیلنے کے لئے پیدا ہوا تھا، لفظوں کا توپچی۔ اس نے شمشیر زنی تو سیکھی تھی، لیکن اس کا ہاتھ قلم سے تلوار کا کام لینے کا ہنر جانتا تھا۔ اسے جنگی منصوبہ بندی اور فوجی حکمت عملی تو پڑھائی گئی تھی لیکن اس کا محاذ کوئی اور ہی میدان کارزار تھا۔
آئی ایس پی آر میں صولت کو واقعی سازگار ماحول مل گیا۔ لکھنے لکھانے کے جراثیم تو اس میں پہلے سے تھے، اب مواقع ملے تو وہ کھل کھیلا۔ ہلال کے لئے ہلکے پھلکے مضمون لکھنے لگا۔ اس نے اردو اکادمی میں بیتے ہوئے شب و روز کو ”روٹ مارچ“ میں اردو لفظوں کا چولا پہنایا تو داد و تحسین کے ڈونگرے برسنے لگے۔ ارے، اردو اکادمی کہہ گیا میں، یہ ملٹری اکیڈمی تھی کاکول کی، اردو میں اسے اردو اکادمی ہی کہیں گے، کہ ترک زبان میں، جس نے ہماری لشکری بھاشا کو اردو کا نام دیا ہے، عسکری تربیت گاہ کو اردو اکادمی ہی کہتے ہیں۔ صولت کے ”روٹ مارچ“ کا کینوس وسیع ہوا تو اس پہ ”کاکولیات“ کی قوس قزح کے رنگ پھیل گئے۔ ”کاکولیات“ کو ہاتھوں ہاتھ لیا گیا اور اس کے اتنے ایڈیشن شائع ہوئے کہ نہ مصنف کو پتا ہے، نہ پبلشر کو۔ کتاب کے ساتھ مصنف کو بھی شہرت اور مقبولیت ملی اور اس کا شمار سکہ بند ادیبوں میں ہونے لگا۔
لیکن، صولت، آئی ایس پی آر میں، صرف مضمون لکھنے کے لئے تو نہیں تھا، اور بھی کام تھے اسے زمانے میں، محبت کے سوا۔ ایک کام، جو اسے سونپا گیا، اٹک قلعے میں فوجی ٹربیونل کی کارروائی کی خبروں سے متعلق تھا، جس کی سربراہی ایسا جرنیل کر رہا تھا، جو آگے چل کر ہماری تاریخ کا ایک اہم کردار بننے والا تھا، میجر جنرل محمد ضیاءالحق۔ اس فوجی ٹربیونل میں کورٹ مارشل ہو رہا تھا، ان فوجی افسروں کا جن کے خلاف بھٹو حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کا الزام تھا۔
سقوط ڈھاکہ پر تلملائے ہوئے ان افسروں کی مبینہ سازش اور اس کے خلاف قانونی کارروائی کی رپورٹنگ کے لئے ہمارے دو صحافی دوستوں کی ڈیوٹی لگی تھی، اے پی پی سے عزیر اور پی پی آئی سے رمضان عادل کی، اور رابطہ کار کا فرض سونپا گیا تھا صولت کو۔ حساس نوعیت کے اس فرض کی ادائیگی کے دوران صولت کو اس مبینہ سازش کی تفصیلات کا بھی علم ہوا، استغاثے اور صفائی کے وکلاء کے موقف سے بھی آگاہی ہوئی، ملزموں کے کردار اور طرزعمل کو سمجھنے کا بھی موقع ملا، اور اسے جنرل ضیاءالحق کا اعتماد بھی حاصل ہوا۔

صولت اپنے سرکاری فرائض کی انجام دہی کے لئے مختلف شہروں میں آتا جاتا تو رہتا تھا، لیکن پی ٹی وی نیوز کے ساتھ اس کا تعلق ہر جگہ سے برقرار رہا کہ یہ بات بھی اس کے فرائض میں شامل تھی، یوں اس کے ساتھ میرے ذاتی مراسم بھی پروان چڑھتے رہے۔ پھر اس کا تبادلہ کوئٹے ہو گیا۔ اس زمانے میں بلوچستان کے بعض علاقوں میں اندرونی شورش کے بعد زخموں پہ مرہم رکھنے کا عمل جاری تھا۔ صولت حساس طبیعت اور درد دل رکھنے والا آدمی ہے، انسانی ہمدردی اور معمولات زندگی کی بحالی کے اس کام میں اس نے جانفشانی سے حصہ لیا، نیک نامی بھی کمائی اور اپنے افسروں کی خوشنودی بھی حاصل کی۔
بلوچستان میں قیام کے دوران، صولت کو اعلٰی حکام کی محفلوں میں شرکت کے بھی مواقع ملے۔ ایک فوجی میس ایسی ہی ایک محفل میں برپا ہوئی تھی، جس میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو مہمان خصوصی تھے۔ آرمی چیف جنرل ضیاءالحق اور سینیئر فوجی افسر بھی تقریب میں شریک تھے۔ وزیراعظم ابھی شرکاء سے ہیلو ہائے کر رہے تھے کہ ان کے آبدار نے، شاید نورا تھا کہ جسے وزیر بھی جھک کے سلام کرتے تھے، مشروب مغرب کا گلاس انہیں پیش کیا۔ بھٹو صاحب کے پیاسے لب جام جانفزا سے چسکی لیا ہی چاہتے تھے کہ دور سے ہلکی سی آواز آئی : ”میس میں شراب منع ہے“ یعنی بنت عنب (انگور کی بیٹی) کا میس میں داخلہ ممنوع ہے۔
بھٹو صاحب گردن گھما کے بولے : ”کس نے لگائی ہے پابندی؟ ضیاء کہاں ہے؟“ وزیر اعظم کی طرف سے طلبی پر جنرل ضیاء لپک کے آئے اور عرض گزار ہوئے : ”سر! جنرل ٹکا خان کے زمانے سے پابندی عائد ہے“ ۔ جنرل ٹکا خان ام الخبائث کو تمام برائیوں کی جڑ قرار دیتے تھے۔ انہوں نے 25 مارچ 1971 کو آپریشن سرچ لائٹ کے ذریعے مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں اپنے جثے سے زیادہ حصہ ڈالنے کے باوجود شراب خانہ خراب ہی کو سقوط ڈھاکہ کا باعث سمجھ رکھا تھا کہ جنرل ٹائیگر نیازی سے جنرل گل حسن، جنرل ایس جی ایم پیرزادہ، جنرل عبد الحمید خاں اور جنرل یحیٰی خاں تک سبھی جرنیل قومی سلامتی کا دفتر بے معنی، غرق مے ناب کیے بیٹھے تھے۔
آرمی چیف کی بات سن کے وزیر اعظم نے جام لہرایا، چاروں طرف اچٹتی سی نگاہ ڈالی، ساغر کیف و سرور سے جرعہ لیا، اور محبوبانہ مسکراہٹ کے ساتھ چہکے : ”مگر، میں تو پیوں گا“ ۔ جنرل ضیاء نے دایاں ہاتھ سینے پہ رکھ کے گردن ذرا خم کی اور ہنس کے بولے : ”آپ تو قانون سے بالاتر ہیں، جناب!“ ۔ شرکائے محفل کی دبی دبی ہنسی میں بھٹو صاحب کا سبک جملہ صوتی لہروں کی صورت چاروں اور پھیل گیا۔ محفل طرب و نشاط کی ہمہ ہمی میں پتا ہی نہ چلا کہ قانون سے بالاتر والی بات کرتے ہوئے جنرل ضیاء کے لہجے میں تابع فرمان ہونے کے عہد کی جھلک تھی، وفور عقیدت کی سرشاری تھی یا طنز کی ہلکی سی کاٹ۔
لیکن وزیر اعظم بھٹو کے بارے میں عام تاثر یہی تھا کہ وہ خود کو واقعی قانون سے بالاتر سمجھتے تھے۔ نرگسیت کے خمار میں سرگزشتہ بھٹو خبط عظمت کے اسیر تھے، اور اپنے کو شکست خوردہ پاکستان کا نجات دہندہ، دکھوں کی ماری قوم کا مسیحا، قائد عوام، فخر ایشیا، عالم اسلام کا ہیرو، اور تیسری دنیا کا لیڈر کہلاتے تھے۔ مخالفین کہتے کہ اگر بھٹو صاحب کو قانون سے بالاتر ہونے کا زعم نہ ہوتا تو ان کی تشکیل کردہ فیڈرل سیکورٹی فورس کھل کھیل نہ پاتی، جماعت اسلامی کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نذیر احمد اور جمعیت علمائے اسلام سے تعلق رکھنے والے بلوچستان اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر مولوی شمس الدین قتل نہ ہوتے، سیالکوٹ سے پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی ملک سلیمان اور ان کی بوڑھی اہلیہ کو تھانوں میں نہ گھسیٹا جاتا، اور پیپلز پارٹی کے بانی سیکریٹری جنرل جے اے رحیم کے ساتھ انسانیت سوز سلوک نہ ہوتا۔
لاہور میں نواب محمد احمد خان کے قتل پہ ان کے بیٹے احمد رضا قصوری نے وزیر اعظم کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے پہ اصرار کیا تو بھٹو صاحب نے کہا کہ کرلو درج ایف آئی آر، کیا فرق پڑے گا؟ شاید، وہ سمجھتے تھے کہ کوئی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ لیکن یہی ایف آئی آر، بالآخر، ان کے لئے موت کا پروانہ ثابت ہوئی، اور بھٹو کے غیظ و غضب سے بچنے کے خواہاں جرنیلوں کی تزویراتی چال، انصاف کی اندھی دیوی کی جنبش ابرو، ججوں کے قلم اور تارا مسیح کے ہاتھوں نے انہیں پھانسی کے پھندے تک پہنچا دیا۔
کوئٹہ سے راولپنڈی، وہاں سے لاہور، اور پھر کراچی، گھاٹ گھاٹ کا پانی پی کر، صولت واپس راولپنڈی آ گیا۔ کچھ عرصے بعد وہ ترقی پا کے کرنیل بن چکا تھا۔ لیکن کیسا کرنیل تھا وہ؟ نہ غرور نہ نخوت، چہرے پہ جاہ و جلال نہ چال ڈھال میں خسروانہ تمکنت، وردی میں بھی اس کے گالوں پہ افسری کا غازہ نہیں تھا، اس کرنل سے ہزار گنا پھوں پھاں تو نائب صوبیدار کی ہوتی ہے۔ سادہ کپڑوں میں تو وہ بلڈی سویلین ہی لگتا تھا، کرتا شلوار پہنے ہوتا تو دیکھنے والا اسے کسی پرائمری سکول کا ٹیچر گردانتا، اور اگر قمیص پتلون میں ہوتا تو لوگ اسے کلکتہ آفس کا بابو سمجھتے۔
عہدہ بڑھنے کے ساتھ صولت کی ذمے داریاں بھی بڑھتی گئیں۔ اب وہ بری فوج کے سربراہ جنرل آصف نواز کا سٹاف افسر تھا۔ اس کی اہمیت وہی تھی جو شاہ کے مصاحب کی ہوتی ہے، لیکن صولت کی عاجزی اور انکساری میں کوئی فرق نہ آیا۔ وہ کسی صحافی سے ملتا تو سر کو ہلکا سا خم کر کے ملتا، اور اسے سر کہہ کے مخاطب ہوتا۔ اس کی یہی خوئے دلنوازی اس کے وقار میں اضافہ کرتی۔
مجھے 8 جنوری 1993 کا دن نہیں بھولتا۔ جمعہ، چھٹی کا دن ہوتا تھا، لیکن، نیوز میں ہفتہ وار تعطیل کا تصور کہاں؟ ہاں، اس دن کام کا زیادہ بوجھ نہیں تھا۔ میرا ارادہ نماز جمعہ کے بعد دفتر جانے کا تھا۔ بچے ایوب پارک جانا چاہتے تھے، چنانچہ ہم لنچ کے لئے کھانا وانا لے کے دس بجے کے قریب اسلام آباد سے ٹوپی رکھ چلے گئے۔ ابھی پہنچے ہی تھے کہ میرا موبائل فون بجا۔ اس زمانے میں موبائل عام نہیں تھے، خال خال لوگوں کے پاس ہی موبائل فون تھا، اور اس فون کا وزن بھی، خدا جھوٹ نہ بلوائے، ایک کلو کے لگ بھگ ہوتا تھا۔
اس موبائل فون کا قصہ یہ تھا کہ 1992 کے اواخر میں شاہد رفیع پاکستان ٹیلیویژن کے مینجنگ ڈائریکٹر بنے تو انہوں نے ٹیلیویژن نشریات کی کوالٹی بہتر بنانے کے لئے جو پہلا انقلابی فیصلہ کیا وہ دو موبائل فون لینے کا تھا، ایک اپنے لئے، دوسرا ڈائریکٹر نیوز کے لئے (اس طرح کے ہوتے تھے انقلابی فیصلے، اور یہ ہوتا تھا افسروں کا وژن) ۔ اس دور میں سرکاری محکموں اور نیم سرکاری اداروں کے لئے موبائل فون کابینہ ڈویژن کی منظوری سے ہی لیا جا سکتا تھا، پتا نہیں شاہد رفیع کو موبائل فون کی منظوری لینے کے لئے کیا کیا پاپڑ بیلنا پڑے ہوں گے۔
اس سے دو ڈھائی سال پہلے جب موبائل فون کی پاکستان میں آمد آمد ہوئی تو حجم میں یہ گڑگڑی حقے جتنا تھا، جسے اٹھانے اور سنبھالنے کے لئے، حقہ بردار کی طرح، موبائل بردار بھی درکار تھا۔ اس زمانے میں اسلام آباد کے صرف دو صحافیوں کے پاس موبائل فون ہوتا تھا، ایک تھے عبدالودود قریشی (جو بعد میں پی ایچ ڈی کر کے ڈاکٹر ہو گئے ) ، اور دوسرے تھے، حسین حقانی، جنہیں آپ چاہیں تو صحافی کہہ لیں یا سفارت کار یا دانشور۔ ودود قریشی تو، اپنی ڈائری کی طرح، اپنا بھاری فون بھی خود اٹھائے ہوتے تھے، حقانی کے ساتھ، فون اور چارجنگ بیٹری اٹھانے کے لئے، کبھی کبھی، محکمے کا کوئی فدوی بھی ہوتا تھا، اسی لئے کچھ نکتہ چیں اس بدگمانی کا اظہار کرتے تھے کہ یہ موبائل فون بھی ہمہ وقتی رابطے کے لئے مقتدر حلقوں کی طرف سے مہیا کیا گیا تھا، واللہ اعلم بالصواب۔
ہاں، تو بات ہو رہی تھی کہ میرے موبائل کی گھنٹی بجی، لائن پہ دوسری طرف صولت تھے۔ بولے : ”سر! آپ کہاں ہیں؟“ ”جی، میں ذرا گھر سے باہر ہوں، ایوب پارک میں بچوں کے ساتھ، کہئے؟“ ”ایسا ہے کہ آپ دفتر پہنچنے کی کوشش کریں، اور ایک اہم خبر کا انتظار کریں“ ۔ فون بند ہو گیا۔ میرا ماتھا ٹھنکا: الٰہی! خیر! کیا اہم خبر ہو سکتی ہے؟ میں قیاس کے گھوڑے دوڑانے لگا۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ گزشتہ دو تین ہفتوں سے اسلام آباد کی فضا میں ایسی خبروں یا افواہوں کی سرسراہٹ تھی کہ فوج کے سربراہ اور حکومت کے درمیان کچھ کشیدگی چل رہی ہے۔
تو کیا فیصلے کی گھڑی آن پہنچی؟ یا فیصلہ ہو چکا اور اب اس پہ عملدرآمد ہو رہا ہے۔ پوچھوں تو کس سے پوچھوں، بتاؤں تو کسے بتاؤں۔ میں نے ایوب پارک والا پروگرام سمیٹا، اور دفتر کا رخ کیا۔ ابھی پہلی فون کال کو بارہ، تیرہ منٹ ہوئے تھے اور میں فیض آباد کے قریب تھا کہ پھر صولت کا فون آ گیا : ”سر! پہنچ گئے آپ؟“ ”جی نہیں، ابھی تو راستے میں ہوں، فیض آباد کے قریب“ ۔ ”سر، جلدی پہنچنے کی کوشش کریں“ ۔ ”معاملہ کیا ہے؟“ میں نے پوچھا، لیکن فون بند ہو چکا تھا۔ کیا ہو سکتا ہے؟ کیا مارشل لاء لگ رہا ہے یا لگ گیا ہے، جو اتنی شتابی ہے؟ لیکن، مارشل لاء ایسے تھوڑی لگتا ہے، بیٹھے بٹھائے، دن دیہاڑے۔
یونہی خیال آیا کہ 1958 کا مارشل لاء تو میرے سامنے نہیں لگا تھا، سکندر مرزا اور ایوب خان والا۔ میں تو اس وقت آٹھویں جماعت میں پڑھتا تھا۔ لیکن سنا اور کتابوں میں پڑھا تھا کہ یہ مارشل لاء رات گئے لگا تھا۔ اللہ مغفرت کرے، ہمارے نیوز کاسٹر وراثت مرزا بتاتے تھے کہ ایک شام، مغرب کے لگ بھگ، ایک فوجی جیپ انہیں گھر سے اٹھا لے گئی، اور کسی بیرک میں لے جا کے ایک مسودہ ان کے سامنے رکھا، یہ ترجمہ تھا جنرل ایوب خاں کی انگریزی تقریر کا جس میں مارشل لاء کے نفاذ کا اعلان کیا گیا تھا۔
وراثت مرزا کی بھاری آواز میں غضب کا دبدبہ تھا، آبشار کا سا سحر انگیز بہاؤ اور کمال کا صاف ستھرا لہجہ۔ وراثت مرزا کی آواز میں یہ ترجمہ ایوب خاں کی تقریر کے فوراً بعد نشر کیا گیا، لوگ سمجھے کہ جنرل ایوب خاں ان سے براہ راست اردو میں مخاطب ہیں۔ بعد میں تو وراثت مرزا نے صدر ایوب کی بہت سی تقریریں اردو زبان میں پڑھیں۔ وہ خبرنامے کے بہترین نیوز کاسٹر تھے، بلا کے اعتماد اور روانی سے خبریں پڑھتے تھے، ہر لفظ کھنکھناتا ہوا۔
ہاں، 1969 میں یحیٰی خان والا مارشل لاء تو ہمارے سامنے لگا تھا۔ مارچ کی 25 تاریخ تھی، شام پانچ، ساڑھے پانچ بجے کا وقت، جب فوجی دستے نے چکلالہ میں ٹیلیویژن سنٹر کی عمارت کو گھیرے میں لیا، تاہم کوئی فوجی جوان یا افسر عمارت کے احاطے میں داخل نہیں ہوا۔ یہ فوجی دو دن پہلے سے قریبی گراؤنڈ میں ڈیرہ ڈالے بیٹھے تھے، اور، مارشل لاء کے امکانات کے باوجود، ہم، سادہ لوح، سمجھتے تھے کہ یہ دستے کسی فوجی مشق کے لئے گراؤنڈ میں بیٹھے ہیں۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

