لفظوں کا توپچی: صولت رضا


صولت کے ساتھ پہلی ملاقات مجھے اب بھی یاد ہے۔

نومبر 1970 کے دوسرے ہفتے کا کوئی دن تھا۔ ڈھائی تین ہفتے پہلے ہی میرا کراچی ٹیلیویژن سے لاہور سنٹر پہ تبادلہ ہوا تھا۔ ان دنوں لاہور سنٹر ایبٹ روڈ پہ نہیں تھا۔ شملہ پہاڑی والے چوک سے ریلوے سٹیشن کی طرف جائیں تو ایمپریس روڈ یا شارع عبدالحمید بن بادیس پر بائیں ہاتھ ریڈیو پاکستان کی عمارت ہے۔ جس احاطے میں یہ عمارت واقع ہے، اس کے صدر دروازے سے داخل ہونے کے بعد عمارت کے پچھواڑے تین چار جھونپڑے نما کمروں کو ٹیلیویژن سٹیشن کا نام دیا گیا تھا۔

انہی کمروں میں سٹوڈیو بھی تھا، پروگرام پروڈیوسروں کے بیٹھنے کی جگہ بھی تھی، اور انجنیئرنگ، کیمرا اور ڈیزائن سیکشن بھی وہیں تھے۔ سنٹر کے جنرل مینیجر کا دفتر اور خبروں کا شعبہ ایمپریس روڈ پہ دائیں ہاتھ، ریڈیو کی عمارت کے بالمقابل، کرائے کی ایک کوٹھی میں تھے۔ ہم لوگ نیوز روم میں خبروں کا بلیٹن تیار کرنے کے بعد سڑک پار کر کے سٹوڈیو میں جاتے تھے، جہاں سے خبریں پیش کی جاتی تھیں۔ بلیٹن نشر ہونے کا نہ کوئی وقت متعین تھا، اور نہ دورانیہ۔

عام طور پہ دس گیارہ منٹ کا بلیٹن ساڑھے آٹھ، نو بجے کے درمیان نشر کیا جاتا تھا جس کے بعد نیوز کا عملہ چھٹی کر کے اپنے اپنے گھروں کو چلا جاتا تھا۔ میں، عارضی طور پہ، ریلوے روڈ کی ایک بلڈنگ میں، اپنے دوست غلام حسین کے ساتھ ٹھہرا ہوا تھا جو اسلامیہ کالج میں لیکچرار تھے اور اس ہاسٹل نما عمارت میں رہتے تھے۔ دفتر کی گاڑی مجھے ریلوے روڈ تک پہنچا آتی تھی۔

جس دن کی میں بات کر رہا ہوں، اس روز بلیٹن کے بعد ، میرے ساتھی، اللہ بخشے، خالد محمود ربانی نے مجھے کہا کہ آپ میرے ساتھ ہی میری موٹر سائیکل پہ چلئے، مجھے ادھر ہی لکشمی چوک میں شہید صاحب سے ملنا ہے، آپ بھی ان سے مل لینا۔ شہید صاحب سے مراد ظہور عالم شہید تھے، اپنی ذات میں ایک ادارہ، بہت سے صحافیوں کے استاد، جن سے صحافت سیکھنے کے بعد بیسیوں اخبار نویس ایڈیٹر بنے اور بڑا نام کمایا۔ اس زمانے میں ہم جیسے نو آموز صحافی جب نیوز ایڈیٹر کا تصور کرتے تھے تو شہید صاحب کی جیتی جاگتی تصویر نگاہ میں کھنچ جاتی۔

اس سے پہلے شہید صاحب کے ساتھ میری ملاقات 1967 میں نوائے وقت کے دفتر میں ہوئی تھی جب میں حمید نظامی مرحوم کی اداریہ نویسی پر مضمون لکھنے کے لئے نوائے وقت کے پرانے شمارے دیکھنے کی غرض سے مال روڈ کے چیئرنگ کراس چوک میں شاہدین بلڈنگ گیا تھا۔ ملاقات نہیں، شہید صاحب کی زیارت۔ ہم نے ان کا بہت نام سنا ہوا تھا، ملاقات ہوئی تو عقیدت سے ہی دیکھا، سو، زیارت ہی ہوئی نا۔ شہید صاحب برسہا برس نوائے وقت سے وابستہ رہے تھے۔

شہید صاحب نے، ڈھائی تین مہینے پہلے ہی، صحافیوں کی ایک ہڑتال کے نتیجے میں، نوائے وقت سے الگ ہو کر، نیا اخبار نکالا تھا: ”جاوداں“ ۔ یہ نام رکھنے کی تحریک انہیں شاید اس مصرعے سے ملی ہو:

”صلۂ شہید کیا ہے، تب و تاب جاودانہ“

نوائے وقت سے شہادت پانے کے بعد صلۂ شہید حیات جاوداں ہی ہو سکتی تھی۔ لیکن یہ حیات جاوداں اکیلے شہید صاحب کے لئے تھوڑی تھی، ان کے دیرینہ رفیق کار بشیر احمد ارشد بھی ان کے ”شریک حیات“ تھے۔ ارشد صاحب نوائے وقت کے ادارتی صفحے کی جان تھے، ان کا ذہن اور قلم اس اخبار کی آبرو۔

تو، اس دن ربانی اور میں، ربانی کی موٹر سائیکل پہ، ایبٹ روڈ کے سینما گھروں میں فلم شو ٹوٹنے کے بعد ، بے ہنگم ہجوم، اور مرغ چنے، پٹھوروں اور نان چھولے کی ریڑھیوں اور دال چاول کے خانچوں کے گرد بھیڑ بھاڑ سے بچتے بچاتے لکشمی چوک پہنچے تو ہلکی ہلکی بوندا باندی شروع ہو چکی تھی، ہوا میں خوشگوار خنکی تھی، اور سرما کی آمد آمد کے آثار تھے۔ موٹر سائیکل سڑک کنارے کھڑی کی، اور ہم زینہ طے کر کے جاوداں کے دفتر میں وارد ہوئے۔ دفتر، میدان وغا یا رزم گاہ کا منظر پیش کر رہا تھا، جیسے ابھی شہیدوں کے لاشے اٹھائے گئے ہیں :

آگ بجھی ہوئی ادھر، ٹوٹی ہوئی طناب ادھر
کیا خبر اس مقام سے گزرے ہیں کتنے کارواں

کارواں نہیں، جاوداں۔ شہید صاحب سے ملاقات ہوئی، سلام نیاز عرض کیا، ربانی نے تعارف کرایا: ”ہمارے ساتھی، کچھ ہی دن پہلے کراچی سے ٹرانسفر ہو کے آئے ہیں“ ۔ شہید صاحب نے سر اوپر سے نیچے ہلایا جیسے سلام کو سند قبول بخشی ہو، اور فرمایا : ”کاکا! توں اوتھے بوہ (بیٹھ) ، میں ربانی نال گل کر لاں“ (تم ادھر بیٹھو، میں ربانی سے بات کر لوں ) ۔

میں نیوز روم میں واپس آیا۔ بڑے سے کمرے کے ایک کونے میں، بیس بائیس برس کا دبلا پتلا سا لڑکا ایک میز پہ بیٹھا تھا، سر کے بال کچھ الجھے ہوئے اور باریک سی مونچھیں، جیسے چہرے پہ ابھی خط نکلا ہو، سبزۂ خط سے کاکل سرکش نہ دبا ہو اور یہ زمرد حریف دم افعی نہ ہوا ہو۔ میز پہ کچھ کاغذ بے ترتیبی سے بکھرے تھے، کچھ پریس ریلیز اور ہینڈ آؤٹس کی کاپیاں، اور کچھ ٹیلی پرنٹر سے اتری کریڈ (creed) کے ورقچے۔ میں نے السلام علیکم کہہ کے مصافحے کے لئے ہاتھ بڑھایا، اور ہولے سے اپنا نام لیا : ”شکور طاہر“ ۔ وہ لڑکا کھڑا ہو گیا، اور بولا : ”اوہ! میں واقف ہوں، آپ کے نام سے، شعبۂ صحافت میں اساتذہ کی زبانی آپ کا نام سنا ہے، تشریف رکھیں، میرا نام صولت رضا ہے“ ۔ اساتذہ کی زبانی؟ شاید ڈاکٹر عبدالسلام خورشید، مسکین حجازی یا وارث میر میں سے کسی نے، بر سبیل تذکرہ، کبھی کوئی بات کر دی ہو، اور یہ محی الدین احمد تو میرا کلاس فیلو بھی تھا۔ ایک لمحے کو خود بینی، نہیں خود ستائی، کے تحت ذہن میں یہ لہر بھی آئی کہ ذکر تو ہونا ہی تھا کہ اب تک ایم اے صحافت میں سب سے زیادہ نمبر لینے کا ریکارڈ میرا تھا۔

یہ ریکارڈ کئی سال بعد ایک طالبہ صالحہ صدیق نے توڑا تھا، اور ریکارڈ کا کیا ہے، یہ تو ٹوٹنا ہی ہوتا ہے، آبگینے کی طرح، کانچ کے کھلونے کی طرح، عاشق کے دل کی طرح، سوہنی کے گھڑے کی طرح، وعدۂ وصل کی طرح، ساغر و مینا کی طرح، جام سفال کی طرح، رند بلانوش کی توبہ کی طرح اور ملا و زاہد کے پندار کی طرح۔ میں نے خود ستائی کے اس لغو خیال کو جھٹک دیا۔

ہاتھ ملاتے ہی صولت نے کسی کو چائے کے لئے بولا۔ میں ابھی کرسی پہ بیٹھا ہی تھا کہ ایک لمبا تڑنگا نوجوان، لہراتا، ڈولتا، کمرے میں داخل ہوا، سیدھا صولت کی میز پہ آیا، اور بولا : ”سلاماں لیکم، پاء جی!“ ۔ اس نوجوان کی نظر مجھ پہ پڑی تو تھوڑا ٹھٹھکا، آنکھیں سکیڑ کے بولا : ”آپ، آپ، شکور صاحب ہیں نا؟“ ۔ میں نے اثبات میں سر ہلایا، اور اسے پہچاننے کی کوشش کرنے لگا، لیکن کوئی نام ذہن میں نہ چمکا۔ میں حیران تھا کہ یہ مجھے کیسے جانتا ہے۔

اس نے مصافحے کے لئے ہاتھ بڑھایا، اور خالص لاہوری لہجے میں بولا : ”مجھے جہانگیڑ بدڑ کہتے ہیں، آپ مجھے نہیں جانتے، میں آپ کو جانتا ہوں۔ وہ سٹوڈنٹس یونین میں حافظ شفیق تھا نا، آپ کے ساتھ کونسلڑ، اس کی الیکشن کمپین میں نے ہی چلائی تھی، میں پولنگ ایجنٹ تھا اس کا، بہت ووٹ لئے تھے اس نے، مگڑ آپ کے ووٹ زیادہ تھے“ ۔

حافظ شفیق، ہیلے کالج کا طالب علم تھا، 1966۔ 67 کے سیشن میں وہ دوسرے نمبر پہ یونین کا کونسلر منتخب ہوا تھا۔ پانچ کونسلر منتخب ہونا تھے۔ ان میں سے ایک لاء کالج کا خلیل الرحمان بھی تھا، ہائی کورٹ کے جج جسٹس چوہدری صدیق کا بیٹا، جو بعد میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس خلیل الرحمان رمدے کے نام سے مشہور ہوا۔ حافظ شفیق کے بعد رمدے کے زیادہ ووٹ تھے، اگرچہ کئی برس بعد رمدے صاحب کا خیال تھا کہ انہوں نے جنرل سیکریٹری کے عہدے کے لئے انتخاب لڑا تھا اور محیی الدین سے ہار گئے تھے۔

میں نے بھی انتخاب میں حصہ لیا تھا، اور سب سے زیادہ ووٹ لے کر کونسلر منتخب ہوا تھا، شاید اسی وجہ سے جہانگیر بدر کو میرا نام یاد رہ گیا تھا۔ جہانگیر بدر بعض لاہوریوں کی طرح ”ر“ کو ”ڑ“ اور ”ڑ“ کو ”ر“ بول رہا تھا۔ صولت نے بتایا کہ جہانگیر بدر ابھرتا ہوا سٹوڈنٹ لیڈر ہے اور پنجاب یونیورسٹی میں بائیں بازو کے طلبہ میں مقبول ہے۔ جہانگیر بدر کئی سال طالب علم رہنما رہنے کے بعد پیپلز پارٹی کا لیڈر بن کے نمایاں ہوا، مارشل لاء دور میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، بے نظیر بھٹو کی قربت حاصل کی، وفاقی وزیر بنا، اور پاکستان کا قاضی القضات بنتے بنتے رہ گیا کہ بے نظیر اسے، بھلے مذاق میں سہی، سپریم کورٹ کا چیف جسٹس بنانا چاہتی تھیں۔ خیر، جہانگیر بدر کوئی پریس ریلیز دے کر چلا گیا۔

صولت نے بتایا کہ اس نے ایم اے صحافت کی پڑھائی کے دوران ہی زیر تربیت سب ایڈیٹر کے طور پہ نوائے وقت میں جزوقتی ملازمت کر لی تھی، اور جب یہ ہڑتال وغیرہ کا قضیہ ہوا تو، چند دوسرے لوگوں کے ساتھ، اسے بھی نوکری سے نکال دیا گیا، اور وہ شہید صاحب کے زیر سایہ جاوداں میں آ گیا ہے۔

صولت کے چہرے سے شرافت اور متانت جھلکتی تھی، سوچتی ہوئی آنکھیں، دھیمے لہجے میں بات کرنے کا نستعلیق انداز، گفتگو کا سلیقہ، لفظوں کے چناؤ میں محتاط، لیکن کبھی کسی جملے میں شگفتگی، کسی فقرے میں مزاح کا ہلکا سا شرارہ۔ مجھے اس سے بات کرنا اچھا لگا۔ گفتگو کے ساتھ، وہ چھوٹی موٹی خبر بھی بنا رہا تھا۔ لکھتے ہوئے اس کے ہاتھ کے اضطراب سے مجھے لقہ کبوتر یاد آ گیا جو اڑنے کے لئے پر تول رہا ہو۔ بات کرتے کرتے صولت کبھی خالی خالی نگاہوں سے خلا میں کچھ دیکھنے لگتا، جیسے رہ نورد شوق کسی منزل کا متلاشی ہو۔ مجھے لگا کہ وہ اپنے حالات سے مطمئن نہیں۔

صولت سے میری یہ پہلی ملاقات تھی، اس کا منظر آج بھی میرے ذہن میں تازہ ہے۔

نومبر 1971 کی 22 تاریخ تھی جب مشرقی پاکستان میں بھارت اور پاکستان کی فوجوں کے درمیان براہ راست جھڑپوں کا آغاز ہوا، اور مغربی محاذ پر بھی کشیدگی نقطۂ عروج پہ پہنچ گئی۔ اسی شام آٹھ بجے، ٹیلی پرنٹر کے ذریعے، مجھے لاہور سے تبادلے کا حکم موصول ہوا کہ اگلے دن صبح 9 بجے پاکستان ٹیلیویژن کے چکلالہ سنٹر پہ رپورٹ کروں۔ میں بوریا بستر لپیٹ کے، راتوں رات، اس حالت میں، بس سے سفر کرتا ہوا، راولپنڈی پہنچا کہ، جنگ کے خطرے کے پیش نظر، جی ٹی روڈ کے دونوں طرف، ہر شہر اور ہر قصبے میں، بلیک آؤٹ تھا۔

دسمبر کی تین تاریخ سے مغربی محاذ بھی دہک اٹھا، لیکن دونوں محاذوں پر جنگ زیادہ دن نہ چلی۔ سولہ دسمبر کی وہ منحوس سہ پہر تھی جب لیفٹیننٹ جنرل ٹائیگر نیازی نے ڈھاکے میں بھارتی جرنیل کے سامنے ہتھیار ڈال دیے، اور مشرقی پاکستان نے بنگلہ دیش کا روپ دھار لیا۔ مغربی محاذ بھی سرد ہو گیا، فوجی جنتا کی حکمرانی اپنے انجام کو پہنچی اور، بچے کھچے پاکستان میں، ذوالفقار علی بھٹو سریر آرائے مسند اقتدار ہو گئے۔

جاوداں کے دفتر میں اس ملاقات کے بعد صولت رضا سے میرا کوئی رابطہ نہیں تھا۔ شاید، کسی دن، منیر احمد منیر کی زبانی پتا چلا تھا کہ صولت اخبار شخبار چھوڑ کے فوج میں چلا گیا ہے۔ مجھے حیرت ہوئی تھی کہ دھان پان سا لڑکا اور فوج میں؟ فوج پہ یہ وقت بھی آنا تھا؟ اوہ! تو یہ 1971 کی جنگ کے اثرات ما بعد ہیں کہ شاعر نما لڑکے بالے بھی اب کرنیل جرنیل ماہی بنیں گے، اور ان کے لئے کوئی نور جہاں، کوئی ملکۂ ترنم لہک لہک کے نغمے گائے گی۔

خیر، وقت گزرتا رہا، مہ و سال کی ازلی گردش لوح جہاں پہ اپنے نقش ثبت کرتی رہی۔ میں صولت رضا کو اور جاوداں اخبار کو بھول بھال گیا۔

دو، ڈھائی سال بعد ، ایک دن پتا چلا کہ آئی ایس پی آر میں ایک نیا بھارو آیا ہے، نوجوان کپتان، نام ہے : صولت۔ مجھے یونہی خیال آیا کہ وہی صولت رضا نہ ہو، جاوداں میں جس سے ملاقات ہوئی تھی، جو صحافت چھوڑ کے فوج میں چلا گیا تھا۔ چند دن بعد ایک بانکا سجیلا فوجی کپتان، ہلال کے ادارتی عملے کے رکن رشید اختر کے ہمراہ، چکلالہ نیوز روم میں آیا، وہی صولت، جاوداں والا۔ ہمارے نیوز روم کا یہ پہلا وزٹ تھا اس کا، خیر سگالی دورہ سمجھ لیں، پی ٹی وی نیوز کے عملے سے تعارف اور میل ملاپ کے لئے۔

مختصر ملاقات میں کچھ ٹیلیویژن کی باتیں ہوئیں، کچھ آئی ایس پی آر کے لوگوں کی، کچھ نوائے وقت اور جاوداں کا تذکرہ رہا، اور کچھ پنجاب یونیورسٹی کے نیو کیمپس اور شعبۂ صحافت کے اساتذہ کا ذکر خیر۔ میں نے پوچھا کہ صحافت چھوڑ کے فوج میں کیوں گئے تھے؟ بولا : اخباروں کے حالات ہی اتنے دگرگوں تھے کہ گزارہ مشکل ہو رہا تھا، مستقبل بہت غیر یقینی دکھائی دیتا تھا۔ پوچھا : فوج میں کیسی گزری؟ بتانے لگا کہ کمیشن ملنے پر اسے توپ خانے میں بھیجا گیا تھا، لیکن کچھ زیادہ دل نہیں لگا، بس معاملات چل رہے تھے، جی چاہتا تھا کہ کچھ لکھنے پڑھنے کا ماحول ہو، کتابیں تو پڑھ لیتا تھا لیکن لکھنے لکھانے کی گنجائش کم تھی۔ سبب بنا تو آئی ایس پی آر میں آ گیا، ہے تو فوج ہی کا شعبہ لیکن اخبارات سے واسطہ تو رہتا ہے، یہی کافی ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4