لفظوں کا توپچی: صولت رضا


جنرل کاکڑ کے بعد جنرل جہانگیر کرامت آ چکے تھے۔ انہوں نے ملکی مسائل کے حل کے لئے قومی سلامتی کونسل کی تجویز دی جو وزیر اعظم کو ناگوار گزری، جنرل جہانگیر کرامت کو استعفا دینا پڑا، اور نواز شریف نے جنرل پرویز مشرف کو نیا آرمی چیف مقرر کر دیا۔ تاریخ ایک بار پھر اپنے آپ کو دہرانے جا رہی تھی، لیکن ڈرامے کے کردار بدل گئے تھے : ذوالفقار علی بھٹو کی جگہ نواز شریف اور ضیاءالحق کی جگہ پرویز مشرف۔ 1999 کے وسط میں کرگل کی مہم جوئی نے وزیر اعظم اور آرمی چیف کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا، اور جیت اس کی ہوئی جس کے پاس بندوق کی طاقت تھی۔

اپنے اقتدار کو استحکام دینے کے لئے جنرل پرویز مشرف نے بھی احتساب کا نعرہ لگایا۔ احتساب کی تمثیل میں حقیقت کا رنگ بھرنے کے لئے جہاں وزارت اطلاعات و نشریات نے نیرنگ خیال کا سہارا لیا، وہاں آئی ایس پی آر کے افسروں کو بھی کوچۂ صحافت میں اپنے تعلقات کو بروئے کار لانا پڑا۔ ایک میجر جنرل کی سربراہی میں مستعد افسروں کی ٹیم فوج کا امیج اجاگر کرنے کے لئے ہمہ وقت کوشاں تھی۔ صولت اب بریگیڈیئر ہو چکا تھا، لیکن اس کا عجز و انکسار وہی تھا۔

شانوں پر پھول ستارے بڑھنے کے ساتھ اس کی باتوں میں نرم لہجے کی خوشبو بھی بڑھتی گئی۔ وہ نہ افسری کا رعب ڈالتا، نہ عسکری شان کی جھلک دکھاتا، اور نہ وردی کی چھب۔ اسے کبھی یہ غلط فہمی نہ رہی کہ وہ لب وا کرتا ہے تو اس کے منہ سے پھول جھڑتے ہیں اور اس کی زبان علم و حکمت کے موتی رولتی ہے۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وہ نہ فلسفہ جھاڑتا تھا، نہ منطق بگھارتا تھا، نہ عقل و دانش کے لولوئے لالہ بکھیرتا تھا، نہ ففتھ جنریشن وار کی مختلف جہتوں کی نقاب کشائی کرتا تھا۔

اقتدار کے اسپ شب رنگ پہ جو بھی کود کے سوار ہو جائے، رکاب میں پاؤں جمتے ہی اسے ایک کام یہ بھی سوجھتا ہے کہ پاکستان ٹیلیویژن کا خبرنامہ ٹھیک کیا جائے۔ تشخیص ہوتی ہے کہ خبرنامے کی کوئی ساکھ، کوئی کریڈیبلٹی نہیں، نیوز روم میں چغد بیٹھے ہیں جنہیں میڈیا کے نازک معاملات کی ذرا سوجھ بوجھ نہیں۔ کوئی مشیر، ترقی کا ایک اور زینہ طے کرنے کا ارمان لئے، بیڑا اٹھاتا ہے کہ وہ نیوز کے کارپردازوں کو چند روز میں ابلاغیات کے اسرار و رموز سکھا دے گا۔

اقتدار کی باگ پر جنرل مشرف کی گرفت مضبوط ہوئی تو ایک جرنیل نے یہی نسخہ آزمانے کی ترکیب لڑائی، صدر مملکت نے ان کی تجویز پہ صاد کیا۔ اس جرنیل نے آئی ایس پی آر میں بریگیڈیئر صولت اور کرنل منصور سے کہا کہ ڈائریکٹر نیوز کے دفتر چلنا ہے۔ صولت وضع دار آدمی ہے، آنے سے پہلے مجھے فون کر دیا : ”سر! ہم آپ کی طرف آ رہے ہیں، میں، جنرل صاحب اور کرنل منصور، چائے پیئیں گے آپ کے ساتھ“ ۔ میرا ماتھا ٹھنکا کہ آج یک دم یہ محبت کیوں جاگی؟

فوری طور پہ کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آئی۔ خیر، تھوڑی دیر میں جرنیلی دستہ پہنچ گیا۔ آتے ہی جرنیل صاحب نے کہا : ”جی! تو آج کیا کچھ شامل ہو گا خبرنامے میں؟“ ۔ خبروں کی متوقع ترتیب بتانے کے لئے اس دن کا فلم آرڈر ان کے سامنے رکھا گیا۔ فلم آرڈر ہڈیوں کا وہ ڈھانچہ ہے جس پر جملوں کا گوشت پوست چڑھا کر خبرنامے کا ہیولٰی تیار ہوتا ہے۔ موصوف فلم آرڈر دیکھ کے بولے : ”یہ آپ جنرل پرویز کی تین کوریج کیوں چلا رہے ہیں؟“ ۔ وہ صدر مشرف کو جنرل پرویز کہتے تھے، شاید بے تکلفی کی حد کو پہنچی ہوئی قربت کا اظہار مقصود تھا۔ ہر کوریج کی خبری اہمیت یا نیوز ویلیو انہیں بتائی گئی۔ بولے : ”ایک کوریج ڈراپ کر دیں، دو کافی ہیں“ ۔ ہم نے آمنا کہا، خس کم، جہاں پاک۔ خوش ہو گئے کہ مشن کامیاب رہا۔

فلم آرڈر پہ نظر ڈالتے ہوئے بولے : ”یہ کیا ہے؟ نظریۂ پاکستان ٹرسٹ، ظفر علی خاں برسی؟ کون ہے یہ ظفر علی خاں؟“ ۔ کرنل منصور نے بتایا : ”سر! وہ مولانا ظفر علی خاں زمیندار اخبار والے“ ۔ جرنیل صاحب کا فوری رد عمل تھا : ”ہائیں! کب مرا یہ؟ بتایا ہی نہیں کسی نے“ ۔ صورت حال کو سنبھالنے کے لئے صولت نے کہا : ”سر! چالیس پینتالیس سال ہو گئے ہیں انتقال کو، برسی ہے آج“ ۔ جنرل صاحب نے اطمینان کی گہری سانس لی کہ پرانی بات ہے، ورنہ اخبار کے ایڈیٹر کا جنازہ چھوٹ جانے کا افسوس رہتا۔ فرمایا : ”چھوڑیں جی، برسی ورسی“ ۔ صولت نے کہا : ”سر! وہ بابائے صحافت، تحریک پاکستان میں۔“ جنرل صاحب نے بیچ میں ہی صولت کا فقرہ کاٹ دیا : ”چھڈو جی، پینتالیس سال ہو گئے، مر، مرا گیا، نکالیں جی اسے“ ۔

لیں جناب! جرنیل صاحب نے مولانا ظفر علی خاں کا سمری ٹرائل کر کے فوری سزا سنا دی : حبس دوام بعبور دریائے شور، یعنی کالا پانی، دیس نکالا۔ نظریۂ پاکستان تو یحیٰی خاں کے دور میں ان کے وزیر اطلاعات میجر جنرل شیر علی خاں کے ہاتھوں غتر بود ہو چکا تھا، عہد الست اور آئین کے تحفظ کے حلف کی طرح ٹرسٹ بھی جانے کب کا ٹوٹ چکا تھا، آج مولانا ظفر علی خاں بھی بیک بینی و دو گوش نکال باہر کیے گئے۔

خبرنامے کا پروڈیوسر کچھ کہنا چاہتا تھا، کرنل منصور نے مجھے آنکھ ماری، جس کا مطلب تھا کہ ذرا ضبط سے کام لیں، جیسے پنجابی میں کہتے ہیں : ”دڑ وٹ“ ۔ صولت اپنی جگہ پیچ و تاب کھا کے رہ گیا۔ اس کے پیچ و تاب کھانے کا یہ پہلا موقع تھوڑی تھا۔ آئی ایس پی آر کے ساتھ نوکری کے تیس بتیس سال میں پتا نہیں اس نے کس کس موقعے پہ پیچ و تاب کھائے ہوں گے، تبھی تو صولت نے اپنی خود نوشت سوانح کا عنوان بھی یہی رکھا ہے : ”پیچ و تاب زندگی“ ۔

اس رات جنرل صاحب نے اپنے شانے خود ہی تھپکے ہوں گے کہ بالآخر خبرنامے کا معیار، کم از کم، بی بی سی کے برابر تو ہو ہی گیا ہے۔

اگلے دن سہ رکنی خصوصی دستہ مغرب سے ذرا پہلے پھر خبرنامے کے محاذ پہ پہنچ گیا۔ فلم آرڈر پہ نظر ڈالتے ہوئے جنرل صاحب کی سوئی ایک جگہ اٹک گئی۔ ”یہ کیا ہے، کیڈٹ کالج کی تقریب؟“ ۔ بتایا گیا کہ دور دراز مقام پہ اس کالج کی پہلی سالانہ تقریب ہے۔ فرمایا : ”چھڈو جی! اس میں کیا خبریت ہے؟“ ۔ میں نے بتانا چاہا کہ بڑے شہروں کی ایسی تقریبات چلتی رہتی ہیں، پسماندہ علاقے کو بھی کچھ نمائندگی ملنی چاہیے، بچوں کی حوصلہ افزائی ہو جائے گی۔

بولے : ”نکالیں جی، کوئی ضرورت نہیں“ ۔ ٹھیک ہے جناب، نکل گئی۔ خبرنامے کے بعد نیوز روم میں تین چار ٹیلی فون آئے کہ وہ جی، کیڈٹ کالج کی کوریج؟ ڈیوٹی پر موجود سٹاف نے ٹال دیا۔ اگلے روز پھر کئی فون آئے۔ کالج کے پرنسپل نے بھی مجھ سے فون پہ بات کی۔ انہیں مطمئن کرانے کی کوشش کی گئی کہ جناب، چھوٹے بلیٹن میں یہ کوریج چل گئی تھی، لیکن خبرنامے کے بغیر ان کی تسلی کیسے ہوتی۔ زچ ہو کے میں نے کہا کہ جناب شام کو دیکھیں گے اگر کوئی گنجائش نکل سکی تو۔

مگر، گنجائش کہاں نکلنی تھی۔ تیسرے دن کوئی گیارہ بجے کے قریب صدر مملکت کے پبلک ریلیشنز افسر کرنل حسن کا مجھے فون آیا : ”سر! صدر صاحب چاہتے ہیں کہ وہ کیڈٹ کالج کی کوریج خبرنامے میں چل جائے“ ۔ ظاہر ہے صدر کی خواہش ہمارے لئے تو حکم تھا۔ میں نے پوچھا کہ چکر کیا ہے؟ پتا چلا کہ کیڈٹ کالج کے پرنسپل کوئی ریٹائرڈ بریگیڈیئر ہیں جو کسی مرحلے میں جنرل پرویز مشرف کے استاد بھی رہ چکے تھے، انہوں نے رات صدر مملکت کو فون کر کے شکایت کی تھی کہ ڈائریکٹر نیوز کالج کی کوریج خبرنامے میں شامل کرنے سے انکاری ہے۔

کوئی دو گھنٹے بعد مجھے جرنیلی دستے کے کماندار کا بھی فون آیا : ”وہ پرسوں ہم نے کیڈٹ کالج کی کوریج ڈراپ کر دی تھی، رات مجھے ویسے ہی خیال آیا کہ دور افتادہ علاقے میں بہت اچھا کیڈٹ کالج بنا ہے، تمہاری بات میں وزن تھا کہ بچوں کی حوصلہ افزائی ہو جائے گی، تو چلا دیں تھوڑی سی یہ کوریج“ ۔ ”جی، بہتر، ایوان صدر سے بھی فون آ گیا تھا“ میں نے بتایا، لیکن جنرل صاحب نے ٹھک سے فون بند کر دیا۔ شام کو ساڑھے پانچ بجے کے قریب صولت کا فون آیا ”سر! ہم نہیں آئیں گے، آپ خود ہی دیکھ لیا کریں“ ۔

یوں جنرل صاحب نے خبرنامے کا محاذ فتح کرنے کی بجائے اپنی حکمت عملی کے تحت وقتی پسپائی اختیار کر لی اور یہ بھاری پتھر چوم کے چھوڑ دیا۔

پھر ایک دن خبر ملی کہ صولت نے ریٹائرمنٹ لے لی ہے۔ بریگیڈیئر صدیق سالک 1988 میں بہاولپور سانحے میں شہید ہوئے تو اس کے بعد سے فوج کے لڑاکا بازوؤں سے ہی کوئی میجر جنرل آئی ایس پی آر کی سربراہی کے لئے آ جاتا تھا۔ سالک زندہ رہتے تو شاید آئی ایس پی آر کے پہلے میجر جنرل ہوتے، یہ ان کا خواب تھا، اور اس خواب کے شرمندۂ تعبیر ہونے کے قوی امکانات تھے، لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اب صولت کا میجر جنرل بننے کا چانس تھا، لیکن جی ایچ کیو کو کچھ اور منظور تھا۔ ملٹری اکیڈمی کاکول میں صولت کے اپنے ایک کورس میٹ، میجر جنرل کے عہدے پر ترقی پا کر آئی ایس پی آر کے سربراہ مقرر کر دیے گئے تو صولت نے، نوکری جاری رکھنے کی بجائے، فوجی روایت کے مطابق ریٹائرمنٹ لینے کو ترجیح دی۔

دسمبر 2004 میں میری بڑی بیٹی کی شادی تھی۔ صولت کو شادی میں شرکت کا دعوت نامہ پہلے ہی بھیج چکا تھا، شادی کی تاریخ سے دو دن پہلے فون پہ یاددہانی کا میسیج بھیجا تو صولت کا جواب آیا کہ میں تو حج کے لئے حجاز مقدس میں ہوں۔ پہلے تو مجھے خیال آیا کہ کہیں اسے بھی حج پہ اسی طرح تو نہیں بھجوایا گیا جس طرح اکبر بادشاہ نے خان خاناں بیرم خاں سے جان چھڑانے کے لئے اسے حج پہ بھجوایا تھا۔ تسلی اس وقت ہوئی جب صولت نے بتایا کہ بیگم بھی ہمراہ ہیں۔ اگر صولت کو بیرم خاں بنانا مقصود ہوتا تو اکیلے ہی حج پہ گئے ہوتے۔ اچھا تو قبلہ، آئی ایس پی آر والی سلیٹ صاف کرانے گئے تھے تاکہ نئی زندگی کا آغاز زیرو میٹر سے کر سکیں جس میں پریس ریلیز کی کوئی آلائش اور پبلک ریلیشننگ کی کوئی قباحتیں نہ ہوں۔

ویسے، صولت کے حج سے مجھے تھوڑی حیرت ضرور ہوئی تھی کہ اچھا بھلا، چلتا پھرتا، صحت مند بندہ اور حج پہ؟ صولت نے تو کبھی مذہبیت کا ڈھونگ نہیں رچایا تھا، اس نے تو کبھی کسی چیز کا بھی ڈھونگ نہیں رچایا تھا۔ ہمیں تو آج تک یہ نہیں پتا چلا تھا کہ وہ نماز بھی پڑھتا ہے یا نہیں، کبھی اس بات کا اشارہ نہیں ملا کہ اس کا مذہبی مسلک یا ذہنی مکتب فکر کیا ہے، وہ سنی ہے یا شیعہ، اس کا تعلق دائیں بازو سے ہے یا بائیں بازو سے، اس کی آنکھ سے ایشیا سرخ دکھائی دیتا ہے یا سبز، وہ پنجابی ہے یا اردو سپیکنگ؟ وہ پنجابی بولتا تھا تو لاہور کے بھاٹی یا موچی دروازے کا لگتا تھا، اور اردو میں اس کی گل افشانی گفتار گنگا جمنی لہجے کی غمازی کرتی تھی۔ ہمیں اس سے انگریزی میں بات چیت کرنے کا موقع ہی نہیں ملا جس سے اندازہ ہو سکتا کہ وہ ملکۂ معظمہ کے شستہ اور شائستہ آہنگ میں انگریزی کاکنی لہجے میں بولتا ہے۔

حج کے بعد صولت نے معلمی کا پیشہ اختیار کیا۔ کیوں؟ یہ بھی کوئی خوئے سلطانی، بوئے سلطانی والا چکر تھا؟ شاہجہاں نے بھی بادشاہت سے سبکدوش کیے جانے کے بعد بچے پڑھانا چاہے تھے جس پہ سعادت مند بیٹے اورنگزیب نے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ ابھی سر سے بوئے سلطانی نہیں گئی۔ اگر بوئے سلطانی کا معاملہ ہوتا تو صولت آئی ایس پی آر کیوں چھوڑتا۔ اور پھر نوکری ہی کرنی تھی تو کسی پراپرٹی ٹائیکون کے ساتھ نتھی ہو جاتا جہاں اور کئی جرنیل عیش و آرام کے جھولے جھول رہے تھے۔ صولت کو تو پنجاب یونیورسٹی نیو کیمپس کا زمانہ یاد آتا تھا، اس نے اسلام آباد کی یونیورسٹی میں شعبۂ ابلاغیات کی نیو ڈالی اور اسے پروان چڑھایا۔ پھر الیکٹرانک میڈیا کی کشش نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا۔

فوج کا محکمۂ تعلقات عامہ ہو، یونیورسٹی کا شعبۂ ابلاغیات ہو یا برقیاتی ذریعۂ ابلاغ، صولت کا تعلق ہر جگہ لفظوں سے ہی جڑا رہا۔ فوجی تربیت کے بعد اسے توپ خانے میں افسری ملی تھی جو اسے راس نہ آئی، وہ گولہ بارود پھینکنے کے لئے نہیں، حرف و صوت سے کھیلنے، شگفتہ جملوں کی پھلجھڑیاں چھوڑنے اور علم و ادب کے ماحول میں لفظوں کے پھول بکھیرنے کے لئے تھا، لفظوں کا توپچی!

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4