لفظوں کا توپچی: صولت رضا


ٹیلیویژن سنٹر کو فوجی گھیرے میں لئے جانے کے کوئی آدھ، پون گھنٹے بعد ، آئی ایس پی آر کا کیپٹن ارشد ہمارے چھوٹے سے نیوز روم میں آیا، جہاں نیوز ایڈیٹر ظفر صمدانی کے علاوہ ممتاز حمید راؤ، حبیب اللہ فاروقی، سید سراج السالکین اور دو کیمرا مین بیٹھے تھے۔ سنٹر کے جنرل مینیجر زبیر علی اپنے دفتر میں تھے۔ خالد محمود ربانی اور میں، پانچ مہینے پہلے ہی، پاکستان ٹیلیویژن میں نیوز پروڈیوسر بھرتی ہوئے تھے، اور سنٹرل ٹریننگ انسٹییٹوٹ میں ہماری عملی تربیت مکمل ہونے کو تھی۔ ہم دونوں بھی نیوز روم میں موجود تھے۔ کیپٹن ارشد نرم مزاج، خوش اخلاق آدمی تھا، کبھی کبھار، کوریج کے سلسلے میں، نیوز روم آتا رہتا تھا۔ کیپٹن ارشد نے صرف یہ کہا کہ سب کچھ معمول کے مطابق رہے گا، کوئی مسئلہ ہو تو ہم حاضر ہیں۔ یہ تھا فوجی ٹیک اوور۔

اور 1977 کا مارشل لاء؟ لگتا ہے کل کی بات ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے قبل از وقت اسمبلیاں توڑ کے انتخابات کرائے تو غلغلہ مچا کہ دھاندلی ہوئی ہے۔ مخالفوں نے بھٹو صاحب کے خلاف تحریک چلائی، جلوس نکلے، کہیں فائرنگ ہوئی، کہیں لاش گری۔ بالآخر سعودی سفیر ریاض الخطیب کی شٹل ڈپلومیسی کی بدولت مذاکرات کا ڈول ڈلا۔ لیکن جب نیتیں صاف نہ ہوں تو انجام معلوم۔ دونوں طرف سیانے بیانے لوگ تھے، لیکن ڈور کا سرا کسی کے ہاتھ نہ آتا، فریقین معاملات آگے بڑھانے کی بجائے شطرنج کی چالیں چلتے رہے، عوام انتظار کی سولی پہ ٹنگے رہے، معیشت کی نبضیں ڈوبتی رہیں۔

بات چیت کے دور پہ دور ہوئے، نتیجہ، وہی ڈھاک کے تین پات۔ چار اور پانچ جولائی کی درمیانی رات بھٹو صاحب نے پریس کانفرنس میں گلہ کیا کہ اپوزیشن ہر بار نئے مطالبات لے کے آ جاتی ہے۔ رپورٹر اس پریس کانفرنس سے نکلے ہی تھے کہ فوجی دستوں کی نقل و حرکت شروع ہو گئی، وزیر اعظم بھٹو اور اہم سیاستدانوں کو حفاظتی تحویل میں لے لیا گیا، آئین التوا میں ڈال دیا گیا، حکومت معزول اور اسمبلیاں تحلیل کر دی گئیں، اور ملک کا نظم و نسق فوج نے سنبھال لیا۔

لیکن ٹرپل ون بریگیڈ کے کمانڈر سے تھوڑی چوک ہو گئی، پی ٹی وی اور ریڈیو کی طرف کوئی دستہ نہ بھیجا گیا۔ صبح سویرے ایک فوجی افسر مارشل لاء کے نفاذ کی خبر نشر کرانے کے لئے پشاور روڈ پہ راولپنڈی ریڈیو سٹیشن پہنچا تو اسے بتایا گیا کہ خبریں تو سی این او (سنٹرل نیوز آرگنائزیشن) سے نشر ہوتی ہیں جس کا سٹوڈیو اے بلاک سیٹلائٹ ٹاؤن میں عرشی مسجد کے پاس ہے۔ شاید، آئی ایس پی آر کو اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا۔ وقت تیزی سے نکل رہا تھا۔

سیکریٹری اطلاعات مسعود نبی نور کی ڈھنڈیا مچی۔ وہ فوجی افسر اور مسعود نبی نور بھاگم بھاگ سی این او پہنچے تو ناہیدہ بشیر (جو خبرنامے کی نیوز فلموں کی کمنٹری پڑھا کرتی تھی) بلیٹن پڑھ رہی تھی جس میں بھٹو صاحب کی رات کی پریس کانفرنس کی تفصیلی خبر دی گئی تھی۔ خبریں آخری دموں پہ تھیں جب مسعود نبی نور سٹوڈیو کا دروازہ کھول کے اندر داخل ہوئے اور ناہیدہ سے مارشل لاء کے نفاذ کی خبر پڑھوائی۔ یہ تھا جنرل ضیاء کا مارشل لاء۔ میں انہی خیالات میں غلطاں و پیچاں، ٹیلیویژن سنٹر کی طرف جا رہا تھا۔

لیکن، آج کیا ہونے والا ہے؟ ایک دغدغہ سا تھا۔ مجھے خیال آیا کہ صولت کی آواز میں ایک گمبھیرتا تھی، اس کی روایتی شگفتگی مفقود تھی۔ چل کیا رہا ہے؟ کچھ سجھائی نہیں دیتا تھا، کوئی سرا نہیں ملتا تھا۔ انہی سوچوں میں گم، میں ٹیلیویژن سنٹر پہنچا تو تھوڑی دیر بعد پھر صولت کا فون آ گیا : ”سر، ایک افسوسناک خبر ہے، چیف کا انتقال ہو گیا ہے“ ۔ ”ہائیں! جنرل آصف نواز کا؟ کب؟ کیسے؟ کیا ہوا؟“ ۔ ”سر، ابھی کچھ پتا نہیں، میں ہسپتال میں ہوں، سوچا کہ آپ کو الرٹ کر دوں، جیسے ہی تفصیل ملتی ہے، میں بتاتا ہوں۔ آپ خبر کا انتظار کیجئے“ ۔

انتظار شروع ہوا۔ اس دوران اعلٰی سویلین حکام کو سن گن ہو چکی تھی اور وہ تفصیلات جاننے کے لئے بار بار ہمارے نیوز روم میں فون کر رہے تھے۔ ہمیں خود کچھ پتا نہیں تھا، انہیں کیا بتاتے۔ وہ کوسنا دیتے کہ عجب بے خبر لوگ ہو تم، اتنا بڑا سانحہ ہو گیا، اور تم لوگوں کو کچھ معلوم ہی نہیں۔ انہیں کیسے سمجھاتے کہ ہمیں کشف نہیں ہوتا، خبر کہیں نہ کہیں سے ملتی ہے ہمیں، اور جہاں سے خبر ملنا تھی، وہاں سب کی اپنی سٹی گم ہے۔

جنرل آصف نواز کی اچانک موت کا صدمہ ہمیں اس لئے بھی زیادہ تھا کہ وہ پاکستان ٹیلیویژن میں ہمارے پرانے ساتھی پروڈیوسر اور انگریزی کے ممتاز نیوز کاسٹر شجاع نواز کے بڑے بھائی تھے۔ شجاع نواز کئی کتابوں کے مصنف اور عالمی شہرت کے تجزیہ کار ہیں۔

دو ڈھائی گھنٹے بعد ، صولت کا پھر فون آیا، انہوں نے تفصیل بتائی کہ چیف نے معمول کے مطابق صبح جاگنگ کی، اور، شاید، کچھ زیادہ کر گئے، اسی دوران انہیں دل کا دورہ پڑا، وہ بے دم ہو کے لان میں گر گئے یا لیٹ گئے، ہسپتال لے جایا گیا تو، ڈاکٹروں کی تمام تر کوششوں کے باوجود، جانبر نہ ہو سکے۔ خبر کا نشر ہونا تھا کہ ملک میں صف ماتم بچھ گئی، ساتھ ہی افواہوں کا بازار گرم ہو گیا، اور چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں : یہ حادثاتی موت تھی یا قتل کی کوئی سازش؟ چنگے بھلے تو تھے وہ، یکایک یہ کیا ہوا؟ زہر تو نہیں دیا گیا انہیں؟ ساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہو مشروب میں؟ یہ اچانک موت کا پہلا واقعہ تو نہیں؟ لیاقت علی خاں کا قتل، اور وہ ضیاءالحق کے طیارے کا حادثہ؟ غرض، جتنے منہ، اتنی باتیں۔

سب سے زیادہ غم و اندوہ کی کیفیت اور اس سے زیادہ تشویش بلکہ سراسیمگی سویلین حکومت کے اعلٰی حلقوں میں تھی۔ کچھ وزیروں کے چہروں کا رنگ اڑا ہوا تھا، انہیں ڈر تھا کہیں الزام تراشی کا رخ حکومت کی طرف نہ ہو جائے، یہ بھی اندیشہ تھا کہ حزب اختلاف اس سانحے کا ملبہ حکومت پہ نہ ڈال دے۔ چوہدری نثار علی خاں اہم وزیر تھے، بلکہ وزیراعظم نواز شریف کے نفس ناطقہ، تعلق فوجی گھرانے سے تھا، والد بریگیڈیئر رہے تھے اور بڑے بھائی، افتخار علی خاں، لیفٹیننٹ جنرل تھے۔ ان کی پریشانی دیدنی تھی۔ شام کو مجھے ان کا فون آیا : ”شکور بھائی! اس خبر کا کیا کر رہے ہیں؟“ ۔ ”ظاہر ہے جی، لیڈ سٹوری ہو گی، بلیٹن کی پہلی خبر“ ۔ ”بالکل، لیڈ ہی ہونی چاہیے، پوری تفصیل دیں، تصویریں وغیرہ بھی لگائیں ان کی۔ ہیڈ لائن کریں گے نا؟ آئی ایس پی آر سے رابطے میں رہیں“ ۔

اگلے دن جنرل آصف نواز کی تدفین تھی، پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ۔ سویلین حکام کی پریشانی بڑھ چکی تھی، کہیں سرکاری اعزاز کے مظاہرے میں کوئی کسر نہ رہ جائے۔ ایک کے بعد ایک، وفاقی وزیروں کے فون آتے رہے، تجہیز و تکفین کی کوریج کے انتظامات کا پوچھتے رہے، اور اپنے سنہری مشوروں سے بھی نوازتے رہے کہ آرمی چیف کے شایان شان اور اثر انگیز کوریج کیسے کی جا سکتی ہے۔ صولت کی پریشانی دہری تھی، اس کے ذہن پہ اپنے افسر اعلٰی کی اچانک موت کا صدمہ بھی تھا، اور اسے تدفین کی کوریج کے بارے میں اپنے جرنیلوں کے ساتھ ساتھ سویلین حکام کو بھی مطمئن کرنا تھا۔ صولت کے اعصاب مضبوط تھے، اس نے پورے حوصلے کے ساتھ صورت حال سنبھالے رکھی۔ جنرل آصف نواز کے سفر آخرت کی خبرنامے میں کوریج پہ سبھی نے اطمینان کا اظہار کیا۔

جنرل آصف نواز کی زندگی میں تو حکومت وقت کے لئے کوئی پریشانی تھی یا نہیں، ان کی اچانک موت نے حکومت کے لئے ایک مخمصہ ضرور کھڑا کر دیا کہ اب آرمی چیف کسے بنایا جائے۔ فوج کی روایت یہ ہے کہ آرمی چیف کے انتقال یا بیرون ملک دورے کی صورت میں کور کمانڈروں میں سے وہ جرنیل، جس نے دوسرے تمام کمانڈروں سے پہلے کور کی کمان سنبھالی ہو قائم مقام چیف بن جاتا ہے۔ چنانچہ لاہور کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل محمد اشرف نے قائم مقام آرمی چیف کا چارج لے لیا حالانکہ دو لیفٹیننٹ جنرل ان سے سینیئر تھے، ایک تھے لیفٹیننٹ جنرل فرخ خاں جو چیف آف جنرل سٹاف تھے، اور دوسرے تھے آئی ایس آئی کے ڈی جی لیفٹیننٹ جنرل جاوید ناصر۔

لیفٹیننٹ جنرل حمید گل اگر ڈیڑھ سال پہلے جنرل آصف نواز کے ساتھ پھڈے کے بعد ریٹائر نہ کر دیے گئے ہوتے تو ان کے آرمی چیف بننے کا امکان ہو سکتا تھا۔ یہ پھڈا بھی عجیب سا تھا۔ آصف نواز اور حمید گل، دونوں کا فوجی کیریئر شاندار تھا، لیکن دونوں میں کچھ پیشہ ورانہ رقابت تھی۔ حمید گل نے اپنی خطابت کے زور پہ اور افغانستان کی جنگ میں اپنے متحرک کردار کی داستانوں کے ذریعے اپنے گرد سپر سپائی ماسٹر کا ہالہ سا بنا رکھا تھا، اور ارباب دانش و بینش اور صحافتی حلقوں میں ان کے ہوا خواہوں نے ان کی جرنیلی کی گڈی چڑھا رکھی تھی۔

ان حلقوں نے، غلط یا صحیح، یہ داستان بھی تراش رکھی تھی کہ امریکہ حمید گل کو پسند نہیں کرتا اور امریکہ کی کلیئرنس کے بغیر کوئی جرنیل پاکستان کا آرمی چیف نہیں بن سکتا، ورنہ حمید گل فوج کے سربراہ بن گئے ہوتے۔ آصف نواز نے فوج کی کمان سنبھالی تو اس وقت حمید گل ملتان کے کور کمانڈر تھے۔ نئے آرمی چیف نے ان کا تبادلہ کر کے انہیں ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا ڈائریکٹر جنرل مقرر کر دیا۔ حمید گل نے اس عہدے کو اپنی شان سے کمتر سمجھا، اور کہا کہ میں ٹینک بنانے کے لئے نہیں، ٹینک چلانے کے لئے فوج میں آیا تھا۔ یہ فوجی نظم و ضبط کی صریح خلاف ورزی تھی، اور فوج کا تو ڈھانچہ ہی ڈسپلن پر استوار ہے۔ سو، حکم عدولی پر حمید گل کو، وقت سے پہلے، ریٹائر کر دیا گیا۔ تب حمید گل کو احساس ہوا کہ نیم لفٹین ہو یا لیفٹیننٹ جنرل، آرمی چیف کی حکم عدولی نہیں کر سکتا۔ خیر، حمید گل تو اب دوڑ میں تھے ہی نہیں۔

عام تاثر یہی تھا کہ لیفٹننٹ جنرل فرخ آرمی چیف بن سکتے ہیں کہ سینیئر موسٹ ہیں، لیفٹیننٹ جنرل اشرف کو زعم تھا کہ وہ قائم مقام چیف ہیں، اور شنید تھی کہ وزیراعظم نواز شریف، لیفٹیننٹ جنرل رحم دل بھٹی کو آرمی چیف بنانا چاہتے ہیں، ہو سکتا ہے، کسی نے میاں نواز شریف کو یہ بتایا ہو کہ نام کے بھی شخصیت اور مزاج پہ اثرات مرتب ہوتے ہیں، اگر رحم دل بھٹی کو آرمی چیف بنا دیا جائے تو شاید وہ سویلین حکومت کے ساتھ کچھ رحم دلی کا سلوک کریں۔

ابھی یہ معاملہ چل ہی رہا تھا کہ ایک دن ہمارے کوئٹہ سنٹر کے جنرل مینیجر مصطفٰی مندوخیل کا مجھے فون آیا : ”سر! کیا ہو رہا ہے؟ کسے بنوا رہے ہیں چیف؟“ ۔ میں نے فرخ، اشرف اور رحم دل بھٹی کے نام لئے کہ تینوں میں سے کوئی بھی ہو سکتا ہے۔ مندوخیل نے قہقہہ لگایا : ”کاکڑ ہو جائے گا، دیکھنا“ ۔ لیفٹیننٹ جنرل عبد الوحید کاکڑ کوئٹہ کے کور کمانڈر تھے۔ میں نے پوچھا : ”کاکڑ ریٹائر نہیں ہونے والے؟“ ۔ ”جی، تقریباً ہو چکے ہیں ریٹائر، سامان باندھ لیا ہے انہوں نے کوئٹہ سے روانگی کے لئے، لیکن آپ دیکھتے جائیں ہوتا کیا ہے؟“ ۔ میں نے پوچھا : ”کاکڑ کس طرح بن پائیں گے؟“ ۔ ”ارے! پٹھان بھائی ہے ہمارا، ادھر بابا بھی تو بیٹھا ہے، پٹھان۔ لکھ لیں میری بات!“ ۔ بات کیا لکھنا تھی، لیکن ہوا وہی جو مندوخیل نے کہا تھا، لیفٹیننٹ جنرل عبد الوحید کاکڑ آرمی چیف مقرر ہو گئے۔

اور پھر وزیر اعظم نواز شریف اور صدر غلام اسحاق خاں کی آپس میں ٹھن گئی۔ بابے نے نواز شریف کے خلاف شکایتوں کی پٹاری کھول دی، نواز شریف کو لگا کہ انہیں دباؤ میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے، چنانچہ انہوں نے علم بغاوت بلند کر دیا کہ میں ڈکٹیشن نہیں لوں گا۔ غلام اسحاق خاں کے پاس آئین کی شق اٹھاون، ٹو، بی کا آزمودہ ہتھیار موجود تھا جس سے انہوں نے تین سال پہلے بے نظیر حکومت اور قومی اسمبلی کو تہ تیغ کیا تھا۔

ایک بار پھر بڑی چابکدستی سے یہ قرولی پھینکی گئی، مگر وار اوچھا پڑا۔ نواز شریف نے سپریم کورٹ کی اوٹ لی، ناٹے سے قد کے چیف جسٹس نسیم حسن شاہ نے اچھل کے یہ وار اپنے قلم پہ روک لیا، ٹوٹی ہوئی اسمبلی اور معزول حکومت بحال ہوئی۔ لیکن تعلقات کار میں جو دراڑ آ چکی تھی وہ بڑھتی گئی۔ فارسی کے دلدادہ غلام اسحاق خاں نے شرح آرزو کے لئے اس شعر کا سہارا لیا:

گماں مبر کہ بپایاں رسید کار مغاں
ہزار بادۂ ناخوردہ در رگ تاک است
یہ گمان نہ کر کہ کار مغاں ختم ہو گیا ہے، ہزاروں جام، جو ابھی پیئے نہیں گئے، انگور کی بیل میں ہیں۔

ساقی نے ابھی یہ شراب کشید نہیں کی تھی کہ جنرل وحید کاکڑ نے آگے بڑھ کے مغبچے اور پیر مغاں دونوں کے ہاتھ پکڑ لئے کہ نظام میکدہ درہم برہم ہوا چاہتا تھا۔ غلام اسحاق اور نواز شریف دونوں کو گھر کی راہ دکھائی گئی، دساور سے معین قریشی درآمد کیے گئے، نئے انتخابات کی بساط بچھی، اور ایک بار پھر بے نظیر بھٹو نے راج سنگھاسن کو زینت بخشی۔ بے نظیر کا راج تین سال بھی نہ چلا تھا کہ پھر اسمبلی ٹوٹی، نئے انتخابات ہوئے، اور نواز شریف دوسری بار وزیر اعظم بن گئے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4