عورت مارچ کیوں؟ کیوں نہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مارچ کا مہینہ بہار کا سندیسہ لاتا ہے یا نہیں، لیکن گزشتہ چند برسوں سے یہ عالمی یومِ نسواں کی مناسبت سے منعقد ہونے والے عورت مارچ ’کیوں ہونا چاہیے‘ یا ’کیوں نہیں ہونا چاہیے‘ کے نہ ختم ہونے والے مباحثوں کی سوغات لے کر ضرور وارد ہوتا ہے۔ اور آپ چاہیں یا نہ چاہیں آپ اس بابت سوچنے لگتے ہیں۔

آج اسی موضوع پر ایک تحریر دیکھ کر بے اختیار ممتاز مفتی کی کتاب ’تلاش‘ کا ایک اقتباس یاد آ گیا۔ آپ نے ممتاز مفتی کو پڑھا ہے یا نہیں اور آپ ان کی تحاریر سے اتفاق کرتے ہیں یا نہیں، یہ اقتباس اپنے آپ میں ایک ایسی حقیقت کا آئینہ دار ہے جس سے اختلاف ممکن نہیں۔

وہ لکھتے ہیں۔
” ایک بہت بڑا کہانی کار ’اسیکوپ‘ تھا۔اسیکوپ نے ایک کہانی اس دور کی لکھی ہے۔ اسے شولری یا شجاعت کا دور کہتے ہیں۔ وہ سورماؤں کا دور تھا۔ شوکت نفس کا دور تھا۔ چھوٹی سی بات پر عزت نفس مجروح ہو جاتی تھی، تلواریں نیام سے نکل آتیں اور تیغ زنی یعنی ’ڈوول‘ شروع ہو جاتی۔ تلواریں چلتی رہتیں جب تک ایک گھائل نہ ہو جاتا۔ ڈوول قانونی طور پر ممنوع نہ تھا۔

اسیکوپ لکھتا ہے کہ سڑک چل رہی تھی۔ اسلحہ سے لیس گھڑ سوار سورما آ جا رہے تھے۔

سڑک پر ایک طرف دو طرفہ بورڈ آویزاں تھا۔
دفعتاً ایک سورما اس بورڈ کو دیکھ کر رک گیا۔
بولا : ”واہ کیسا خوبصورت نیلے رنگ کا بورڈ لگا ہوا ہے۔“
سڑک کی دوسری جانب سے ایک سورما آ گیا۔
بولا : ”واقعی، بہت خوبصورت بورڈ ہے مگر اس کا رنگ تو سرخ ہے۔“

پہلا سورما بولا : ”ہم کہتے ہیں کہ اس کا رنگ نیلا ہے۔“
دوسرے نے کہا : ”ہم کہتے ہیں کہ اس کا رنگ سرخ ہے۔“
پہلے نے کہا : ”تم ہماری توہین کر رہے ہو۔ نکالو تلوار!“
دونوں سورماؤں نے تلواریں نکال لیں اور ڈوول کے لیے تیار ہو گئے۔

اتنے میں ایک سیانا بوڑھا موقع پر آ پہنچا۔ بولا ”بھائیو! کس بات پر ڈوول لڑنے لگے ہو؟“
پہلے سورما نے کہا : ”اس شخص نے ہماری توہین کی ہے۔“

” کیسے؟“ بوڑھے نے پوچھا۔
” ہم کہتے ہیں یہ بورڈ جو سڑک پر آویزاں ہے نیلے رنگ کا ہے۔“
دوسرا سورما بولا : ”“ ہم کہتے ہیں کہ یہ بورڈ سرخ رنگ ہے۔ ”
بوڑھا بولا : ”آؤ، دیکھیں کہ بورڈ کا کیا رنگ ہے۔“

انہوں نے دیکھا کہ بورڈ پر ایک جانب نیلا رنگ کیا ہوا تھا دوسری جانب سرخ۔

آج بھی دنیا میں بیشتر جھگڑے اسی بات پر ہوتے ہیں۔
ایک کہتا ہے ”بورڈ نیلا ہے“ ۔
دوسرا کہتا ہے ”نہیں سرخ ہے۔“
کبھی کسی نے بورڈ کی دوسری جانب دیکھنے کی کوشش نہیں کی۔

یہ عورت مارچ بھی اسی بورڈ کی طرح ہے جس کی ایک سمت سرخ رنگ ہے اور دوسری سمت نیلا۔ جو جس سمت سے اس بورڈ کو دیکھ رہا ہے اسی رنگ کے ہونے پر دلیلیں دے رہا ہے، دوسری جانب نظر کرنے کی زحمت ہی نہیں کر رہا۔

وہ جو اس مارچ کے حق میں ہیں اور خصوصیت کے ساتھ وہ جنہیں پرنٹ، الکٹرانک میڈیا پر ہائی لائٹ کیا جاتا ہے، انہیں تمام (یا تقریباً تمام) مرد ظالم، عورتوں کے حقوق سے نابلد، غاصب، انا پرست، کہنہ روایات کے پیروکار نظر آتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ خواتین کے ساتھ ہونے والے تمام تر امتیازی سلوک اور نا انصافیوں کے کلی ذمہ دار مرد ہیں اور یہ بھی کہ مرد کو ہر حیثیت، ہر رشتے میں تمام حقوق حاصل ہیں اور اس کا ہر فرمان پتھر پر لکیر کی حیثیت رکھتا ہے جس سے اختلاف کی جرات کوئی نہیں کر سکتا۔ مذید برآں یہ کہ مذہبی یا ثقافتی روایات خواتین کو ترقی کی اڑان بھرنے سے روکے ہوئے ہیں۔ اگر کوئی خاتون ان کے موقف سے اختلاف کر رہی ہے تو وہ اس لیے ایسا کر رہی ہے کہ وہ اس طرف داری کے صلے میں مرد حضرات سے داد وصول کر سکے گی۔

دوسری جانب وہ ہیں جنہیں عورت مارچ ایک نہایت کریہہ عمل دکھائی دیتا ہے۔ ان کے خیال میں چونکہ ہم اسلام کے پیروکار ہیں جو کہ ایک مکمل ضابطہ حیات وضع کرتا ہے، اس لیے ہمارے ہاں خواتین کو مکمل حقوق اور مکمل تحفظ حاصل ہے اور ہمیں کسی ایسے مسئلے کا سامنا نہیں جس کی جانب توجہ مبذول کروانے کو ہمیں آواز اٹھانی پڑے۔ ہم خواتین کو ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کے طور پر اتنی تکریم حاصل ہے جتنی تکریم کی ہم اہل ہیں۔ اور اگر کوئی ہمارے موقف سے اختلاف کرتا ہے تو اس کے پیچھے ضرور کوئی منفی / تخریبی سوچ کارفرما ہو گی۔

مارچ کے حامی یہ بھول جاتے ہیں کہ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں۔ اگر پانچوں انگلیاں برابر ہوتیں تو ہم سب خواتین کسی اندھیرے غار میں پتھروں کو رگڑ رگڑ کر کھانا پکانے کی تگ و دو میں مصروف ہوتیں، نہ کہ اکیسویں صدی کے مردوں کے شانہ بشانہ اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہوتیں۔ اس خود انحصاری، اس پر اعتمادی کا سہرا بھی مردوں کے سر ہی جاتا ہے جنہوں نے نہ صرف اپنا حق لینا سکھایا بلکہ معاشرے کے دیگر کمزور و محکوم طبقوں کے حقوق کی جنگ لڑنا بھی سکھایا۔ مت ڈالیے اپنی تمام تر محرومیوں کا بوجھ ان مردوں پر جن کی ڈوریں ہم جیسی ہی کسی خاتون کے ہاتھ میں ہوتی ہیں جو جب چاہیں ڈور کا زاویہ بدل کر ان مردوں کو اپنی منشاء کے مطابق فیصلے کرنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ اور کھلے دل سے اعتراف کیجئے ان مردوں کی کھلی ذہنیت کا بھی جو باپ، بھائی، بیٹا نہ ہونے کے باوجود آپ کے ساتھ آپ کی مثبت سوچ کے پرچار کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔

مارچ کے مخالفین یہ بھول جاتے ہیں کہ اسلام کے نام لیوا ہونے کے باوجود ہم خواتین کو تعلیم کے حق سے، وراثت کے حق سے، اپنی پسند کے حق سے محروم رکھتے ہیں۔ ہم صنف کی بنیاد پر اجرت میں کمی بیشی اپنا حق سمجھتے ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں اس اسلامی معاشرے میں تنہا خاتون کو کس قدر تحفظ حاصل ہوتا ہے یا وہ پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرتے ہوئے خود کو کتنا محفوظ سمجھتی ہے۔ مذہب کے عطا کردہ حقوق انسانوں کے ہاتھوں کس انصاف پسندی سے تقسیم ہوتے ہیں، یہ کوئی ڈھکی چھپی کہانی تو نہیں۔ اسلام سے پہلے بیٹیوں کو زندہ درگور کرنے کی روایت کو ہم نے بیٹیوں کو پال پوس کر اپنی جان یا عزت بچانے کے سودے میں کیسے تبدیل کیا، اور کیا یہ واقعی زندہ درگور کرنے سے مختلف ہوتا ہو گا، کبھی سوچا؟ کیا واقعی اسلام کے نام کی تسبیح جپنے والے اسلام کی تعلیمات کی روح کو سمجھ کر عزتوں کی حفاظت کرتے ہیں؟ اس اسلامی ملک میں جانے کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو اسلام کا نام استعمال کر کے حقوق کی زبانی جمع تفریق کر کے اپنے فرائض سے جان چھڑا لیتے ہیں۔

نہیں ناں؟ تو پھر بورڈ کے رنگ کے سرخ ہونے یا نیلا ہونے پر تلواریں نیام سے نکل کیوں آتی ہیں؟ کیوں نہیں ہم بورڈ کو دوسری طرف سے جا کر دیکھتے؟ وہ کہتے ہیں ناں کہ ’اگر آپ انہیں قائل نہیں کر سکتے تو کنفیوژ کر دیں‘ ۔ بس یہی کچھ ہوتا ہے ہمارے یہاں، دلیل سے قائل نہیں کر سکتے تو کنفیوژ کر دیتے ہیں۔ حقیقی حقوق اور حقوق کی آگہی سے محروم رکھنا ہے تو غیر اہم، ذو معنی اور مضحکہ خیز جملوں کی تکرار اس بلند آواز میں شروع کر دو کہ نقار خانے میں طوطی کی آواز کوئی نہ سن سکے اور جنہیں ان حقوق کی ادائیگی کے ضمن میں حقیقی تبدیلی کی ضرورت ہے وہ کسی نہ کسی پلے کارڈ کی آڑ لے کر اپنی روش پر قائم رہ سکیں۔

اگر ہم معاشرے میں حقیقی تبدیلی کے خواہاں ہیں تو ہمیں کھلے ذہن سے دوسرے گروہ کی بات کو سننا اور سمجھنا ہو گا اور یہ دیکھنا ہو گا کہ کہاں اس کا موقف توجہ طلب ہے، کہاں مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے اور کہاں اختلاف رائے پر ”اتفاق“ کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو تلواریں نیام سے باہر نکلتی رہیں گی اور بے سود معرکوں کے بگل بجتے رہیں گے۔
۔ ۔

عروج احمد۔ کرکٹ، کمپیوٹر، سیاست، فوٹوگرافی اور سیاحت سے شغف ہے۔ کتابوں سے رشتہ بہت پرانا ہے۔ لکھنا شوق ہے اور فلیش فکشن میں طبع آزمائی کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ گاہے بہ گاہے بلاگ بھی لکھتی رہتی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *