کشمیر میں عوامی احتجاج ختم کیے بغیر اور فوج نکالے بغیر ترقی ممکن نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سنہ 1947 کے ہنگام کے دوران جموں اور کشمیر نو آزاد کردہ برصغیر میں وہ واحد ریاست تھی جس کے پاس تحریر شدہ آئین کا پلان موجود تھا۔ یہ آئین تمام بالغ شہریوں، مرد و خواتین کو ووٹ کے حق کی گارنٹی دیتا تھا اور مذہبی اقلیتوں کے لئے عزت نفس اور مذہبی آزادی کا خاص خیال رکھتا تھا۔ یہ قابل تعریف مساوات اور جمہوری صفت کسی حد تک سیاسی جدوجہد اور بادشاہت کی مخالفت کے نتیجے میں ابھرنے والے شعور کا نتیجہ تھی جس نے کئی نسلوں سے لوگوں کی آزادی سلب کر رکھی تھی۔ کشمیر کے لوگ حق خود اختیاری کے قومی شعور کی خاطر مذہبی اور طبقاتی فرق کو ختم کرنے کے قابل ہو گئے تھے۔

پھر بادشاہت کے استعبدادی شکنجے سے حال ہی میں آزاد ہوئے لوگ ابھرے۔ اس سحر انگیز ماحول میں کوئی طاقت ایسی طاقتور دکھائی نہیں دیتی تھی جو ایک جمہوری اور آزاد معاشرے کے خواب کی مخالفت کر پاتی۔

کشمیر میں مسلح تنازع اور جوابی بغاوت نے سیاسی ماحول کو تبدیل تو کیا مگر سیاسی، سوشل اور صنفی درجات کو اس نے متاثر نہیں کیا۔ سنہ 1989 سے کشمیر کے لوگ مسلح تنازعے اور بغاوت کی سوشل، معاشی، سیاسی اور نفسیاتی ضرب سہہ رہے ہیں۔ کئی دہائیوں سے جاری اس غیر یقینی صورتحال نے سوشل فیبرک کو بہت منفی انداز میں متاثر کیا ہے جس کے نتیجے میں ایک ایسی نوجوان نسل وجود میں آ گئی ہے جو غیر مطمئن اور بھٹکی ہوئی ہے۔

پانچ اگست 2019 کو من مانے فیصلے کے ذریعے جموں اور کشمیر کے خود مختار سٹیٹس کو ختم کر کے اسے ایک یونین علاقہ بنا دینے کے نتیجے میں نریندر مودی اور اس کے گروہ کے تجویز کردہ بھارتی سیاسی اور انتخابی نظام کے متعلق کشمیریوں میں ایک بے حسی پیدا ہو گئی ہے۔ یہ طے شدہ امر ہے کہ لوگوں کی رائے کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ان لوگوں اہم سیاسی عہدوں پر تعینات کیا جائے گا جو نئی دہلی کے ایجنڈے پر عمل پیرا کرنے کے لئے موزوں ترین ہوں گے۔

منتخب عوامی نمائندوں، ممبران اسمبلی اور علیحدگی پسندوں کی حراست کے بعد وہ جوش ختم ہو گیا ہے جو انتخابی سیاست کے ساتھ پیدا ہوا تھا اور موجودہ سیاسی خلا میں یہ سب بیکار لگ رہا ہے۔

موجودہ سیاسی عہدیداروں، گورنر اور بیوروکریسی کے احتساب کا نا ہونا ایک بڑی تعداد میں لوگوں کو مجبور کر رہا ہے کہ وہ جبر کو قبول کریں تاکہ وہ وزیراعظم کی آمرانہ حکومت کے غضب سے بچ سکیں۔

سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کی من مانی گرفتاریوں کے بعد مقامی سیاست مفلوج ہو گئی ہے اور بری حالت میں ہے۔ وزیر داخلہ امیت شاہ اور دیگر اعلی حکام کے دعوے کے مطابق ساری دنیا جموں اور کشمیر کا خاص سٹیٹس ختم کرنے کے معاملے میں ان کی حامی ہے جبکہ ایک ناقابل عبور خلیج کے دوسری طرف کشمیری عوام کھڑے ہیں جو اس سیاسی کھیل میں محض ایک بے بس مہرے کی حیثیت رکھتے ہیں۔

وادی کشمیر میں آزادیوں کو سلب کیا جانا اور تعلیمی اداروں کی بندش علاقے کے تعلیم یافتہ طبقات کے لئے مایوس کن ہے۔ بھارتی فوج اور نیم فوجی تنظیموں کی جانب سے بہت سے کشمیری نوجوانوں کی گرفتاری ظالمانہ فعل ہے اور اس نے پہلے ہی سے دور ہوئے لوگوں کو مزید مایوس کر دیا ہے۔ بی جے پی کی پالیسیوں نے طاقت استعمال کرنے کی حامی نیشنلسٹ قوتوں کو جائز قرار دے دیا ہے اور نفرت کی آگ کو ایسی ہوا دی ہے کہ کشمیری معاشرے کا تانا بانا بکھر کر رہ گیا ہے جس کی مرمت کرنا بہت مشکل دکھائی دینے لگا ہے۔ سیاسی موقع پرستوں نے سیاسی خودمختاری کو تباہ کر دیا ہے اور انجام کار ادارے مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں۔

علاقے میں سیاسی بے حسی کا ماحول، فوجی طاقت کا جبر، اخلاقی کمینگی اور معاشرے کے بکھر جانے کا عکس مجھے اپنے خاندان اور دوستوں سے گفتگو کے نتیجے میں صاف دکھائی دیتا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر گفتگو دائیں بازو کی پاپولر سیاست، شہری حقوق کی عدم موجودگی اور مستقبل کے بارے میں ابہام کے بارے میں ہوتی ہے۔

وزیر داخلہ امیت شاہ بلند بانگ دعوے کر رہے ہیں کہ خودمختار سٹیٹس سلب کیے جانے کے نتیجے میں جموں اور کشمیر ملک کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ علاقہ بن جائے گا۔ لیکن ان دعووں کے برخلاف جب تک فوج کو علاقے سے نہیں نکالا جاتا اور جمہوریت کو پروموٹ کر کے حکومت کو عوامی سیاست کے تابع نہیں کیا جاتا، اس وقت تک ترقی ممکن نہیں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر نائلہ علی خان

ڈاکٹر نائلہ خان کشمیر کے پہلے مسلمان وزیر اعظم شیخ محمد عبداللہ کی نواسی ہیں۔ ڈاکٹر نائلہ اوکلاہوما یونیورسٹی میں‌ انگلش لٹریچر کی پروفیسر ہیں۔

dr-nyla-khan has 37 posts and counting.See all posts by dr-nyla-khan