اماں کا دل ایسا ہی تھا

اور جب ابّا کی تنخواہ کے ساڑھے تین سو روپے خرچ ہو جاتے تب امّاں ہمارا پسندیدہ پکوان تیار کرتیں۔ ترکیب یہ تھی کہ سوکھی روٹیوں کے ٹکڑے کپڑے کے پرانے تھیلے میں جمع ہوتے رہتے اور مہینے کے آخری دنوں میں ان ٹکڑوں کی قسمت کھلتی۔ پانی میں بھگو کر نرم کر کے ان کے ساتھ ایک دو مُٹھی بچی ہوئی دالیں سل بٹے پر پسے مصالحے کے ساتھ دیگچی میں ڈال کر پکنے چھوڑ دی جاتیں، حتیٰ کہ

Read more

ببلو کا بیف بن گیا

ہمارے دو نونہال ہیں۔ برخوردار خان کو جانور بہت زیادہ پسند ہیں۔ اس کا خیال ہے کہ دنیا کا ہر جانور ہمیں پال لینا چاہیے۔ بکرا عید پر وہ بچپن سے ہی پرجوش ہو جاتا تھا۔ اس وقت تک کاغذ کی بوٹیاں بناتا رہتا تھا جب تک بکرے کی بوٹیاں بننے کا عمل ختم نہیں ہو جاتا تھا۔ مگر اسے جانور پالنے کا شوق تو ہے، رکھنے کا نہیں۔ اور وہ جلدی جلدی ماڈل تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ ایسے میں عید پر اسے موقع ملتا ہے کہ جانور کو دو چار دن رکھ کر ایک بہترین انداز میں فارغ کر دے یعنی اس کے تکے کباب بنا ڈالے جس میں ایک دن کا موج میلہ مزید مل جاتا ہے۔

Read more

قمری کیلنڈر اور ذہنوں میں اٹھتے سوالات…2

گزشتہ نشست میں عرض کیا گیا تھا کہ یورپی کونسل آف فتویٰ اینڈ ریسرچ (المجلس الاروبی للا فتاء والبحوث) کا جس کے بانی سربراہ علامہ یوسف القرضاوی تھے۔ موقف یہ ہے کہ رویت یعنی چاند کا دیکھنا مطلوب و مقصود نہیں بلکہ ایک ذریعہ ہے نئے مہینے کے آغاز کو جاننے کا! اور اب نیا مہینہ حساب کے ذریعے جانا جا سکتا ہے۔ اسی بنیاد پر فقہ کونسل آف شمالی امریکہ نے اگلے پچیس برس کا کیلنڈر بنایا۔

جو گروہ رویت کو لازم قرار دے رہا ہے، ہم اس کے خلوص نیت کی قدر کرتے ہیں۔ بہر طور بطور طالب علم ہمارے کچھ سوالات ہیں جو ہم اس گروہ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔

Read more

چاند رات کے کاسنی آنسو

اب تو محسوس بھی نہیں ہوتا کہ ہم قافلے سے بچھڑ چکے ہیں، اس کاررواں سے الگ ہو چکے ہیں، جس کا ہر فرد پیار، محبت، دوستی، خوشی اور غمی کی لڑی میں پرویا ہوا ہے۔ مجھے بڑا یاد ہے کہ وہ میری جرمنی میں پہلی عید تھی۔ میں پانچ یورو کا کالنگ کارڈ لے کر آیا، دل بے چین تھا، امی سے بات کرنی تھی، ابو سے بات کرنی تھی، بھائیوں کو دل کا حال بتانا تھا، بہنوں سے

Read more