چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں
عبداللہ حسین نے اداس نسلیں لکھا، ان نسلوں کی کہانی جن کو کبھی جبری طور پر بھرتی کر کے محاذ جنگ پر بھیجا گیا اور وہ اجنبی زمینوں پر اجنبی دشمن سے نا معلوم مقصد کے لئے لڑتے ہوئے مارے گئے اور کبھی ہجرت کے دکھ سہتے نئے وطن کی آس میں حسین دنوں کے خواب آنکھوں میں سجائے تہہ تیغ کر دیے گئے۔ نیا وطن تو بن گیا لیکن وطن بنتے ہی اس پر ایک قوت نے قبضہ جما
Read more








