سلطان پورہ کے دوہرے قتل کا اصل قصہ کیا تھا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سلطان پور نام کا یہ مضافاتی قصبہ کبھی اس بڑے شہر سے دس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تھا۔ مگر پھر شہر پھیلتا گیا اور یہ مضافاتی قصبہ شہر کا حصہ بن گیا۔ نام بھی بدل کر سلطان پورہ ہو گیا۔ کیوں اور کیسے ہوا؟ کوئی نہیں جانتا۔ البتہ اب یہ سب جانتے ہیں کہ سلطان پورہ جرائم پیشہ لوگوں کا گڑھ ہے۔ یہاں منشیات اور ہتھیاروں سمیت ہر قسم کا غیر قانونی کام ہوتا ہے۔ اسی لئے لڑائی جھگڑے یہاں کی زندگی کا معمول ہیں۔ یہاں مقیم ایسے گروہوں کے درمیان اکثر پستول بندوق یا کلاشنکوف کی گولیوں کا تبادلہ بھی ہوتا رہتا ہے۔ دو تین مہینے کے بعد ایک آدھ قتل تو جیسے یہاں کی زندگی کا حصہ ہے۔ کبھی کبھی ان گروہوں کے درمیان لمبی جنگ چھڑ جاتی ہے تو لاشوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس لئے پولیس کا آنا جانا بھی لگا ہی رہتا ہے۔

ایک عرصہ تک ملکی اخبارات اور ٹی وی نیوز چینلز یہاں کے بارے میں خبروں کو اہمیت دیتے رہے، لیکن پھر تنگ آ کر انہوں نے سلطان پورہ کے واقعات کو نظر انداز کرنا شروع کر دیا۔ البتہ اس بار واقعہ، ضرورت سے کچھ زیادہ دلچسپ تھا اس لئے اخباروں اور ٹی وی چینلز کو بھی مجبوراً اسے کوریج دینا پڑی۔

ہوا یوں کہ اس علاقے کی سب سے بڑی اور پرانی مسجد کے پیش امام ساٹھ سالہ مولوی کفایت اللہ کو ان کے حجرے میں قتل کر دیا گیا۔ حیرت اور اضطراب کا بڑا سبب مولوی صاحب کے ساتھ قتل ہونے والی نوجوان جسم فروش لڑکی اور وہ حالت تھی کہ جس میں اس دوہرے قتل کا ارتکاب ہوا۔ مولوی صاحب اور وہ لڑکی جنسی فعل کی حالت میں اور کپڑوں کے بغیر تھے، جب کسی نے پستول کی متعدد گولیوں سے دونوں کو اگلے جہان پہنچا دیا۔ وہاں سے شراب کی آدھی بوتل بھی ملی تھی۔

پہلی خبر ملتے ہی پولیس کی جماعت نے وہاں پہنچ کر اور پوری مسجد کو گھیرے میں لے کر ہر طرف سے بلاک کر دیا۔ پولیس نے پریس والوں کو بھی لاشوں کی تصویریں بنانے کا موقع نہیں دیا۔ مگر وہاں یہ افواہ بھی پھیلی ہوئی تھی کہ کسی نے پولیس کے آنے سے پہلے ہی تصویریں بنا لی تھیں۔ اس افواہ کو تقویت اس لئے بھی ملی کہ کسی نے مختلف ٹی وی چینلز کو ٹیلی فون کر کے یہ تصویریں فراہم کرنے کی پیش کش کی تھی۔ مگر معقول معاوضے کی آفر نہ ملنے پر اس نے اپنا ارادہ ملتوی کر دیا۔ اور اب چونکہ پولیس بھی اس آدمی کی تلاش میں تھی کہ جس نے تصویریں بنائی تھیں تو وہ بالکل ہی غائب ہو گیا تھا۔

لڑکی کی شناخت ہو گئی تھی مگر اس کے لواحقین کا دعویٰ تھا کہ اسے گزشتہ رات ہی کسی نے اغواء کر لیا تھا اور وہ صبح ہوتے ہی پولیس میں رپورٹ درج کرانا چاہتے تھے کہ انہیں یہ خبر ملی۔

کئی ایک نیوز چینلز اور اخباروں کے نمائندے وہاں پہنچ کر لوگوں سے سوالات کرتے پھر رہے تھے کہ کہیں سے کچھ اور خاص سننے کو ملے تو وہ اپنے چینل یا اخبار کو بھیجیں۔ انہی لوگوں میں روزنامہ ”راستہ“ اور ٹی وی چینل ”راستہ کا نمائندہ خالد عثمانی بھی موجود تھا۔ خالد عثمانی کا کرائم رپورٹنگ میں بڑا نام تھا کہ اس کی رپورٹنگ کا انداز ہمیشہ دوسرے لوگوں سے ہٹ کر ہوتا تھا۔ یوں بھی جب وہ رپورٹنگ کے لئے کسی علاقے میں جاتا تو خود کو پریس کا نمائندہ ظاہر نہیں کرتا تھا۔ اس کا کیمرہ مین بھی اس سے کہیں دور چھپ کر اسے زوم کر کے بیٹھ جاتا۔ خالد عثمانی جب اشارہ کرتا تو وہ کیمرہ آن کر لیتا۔ مائک بھی اس نے چھپایا ہوتا تھا۔ شکل سے ویسے بھی اسے بہت کم لوگ جانتے تھے، اس لئے وہ آسانی سے کام کرتا رہتا۔

اس دوہرے قتل کے بعد بھی اس نے مسجد کی طرف جانے یا پولیس سے کوئی سوال کرنے کی بجائے، عام لوگوں سے ملاقاتیں کرنے، مولوی کفایت اللہ کے کردار کے بارے میں جاننے اور سلطان پورہ کی تاریخ سے آگاہی حاصل کرنے کا پروگرام بنایا۔ اسی لئے اس نے کیمرہ مین کو بھی ساتھ نہیں لیا۔ وہ کئی دنوں تک علاقے کے مختلف چائے خانوں اور کھانے کے ڈھابوں پر بیٹھتا اور وہاں کے لوگوں سے ملتا رہا۔ جہاں جہاں ضرورت پڑی، اس نے جیب میں رکھا ہوا چھوٹا سا ریکارڈر استعمال کیا اور ان معلومات کو محفوظ کر لیا۔ اس کی سب سے زیادہ مفید گفتگو ایک پچاس پچپن سالہ تنویر علی سے ہوئی۔ جو بیس بائیس سال کی عمر میں، عمارتیں بنانے والے ایک ٹھیکیدار کے معاون کے طور پر یہاں آیا اور پھر یہیں بس گیا تھا۔ وہ سلطان پورہ کی پوری تاریخ کا چشم دید گواہ تھا۔

دو تین ملاقاتوں کے بعد خالد عثمانی نے مجبور ہو کر خود کو تنویر علی پر ظاہر کر دیا اور دوستی کی دعوت دی۔ تنویر علی نے بھی یہ جاننے کے بعد کہ وہ مشہور صحافی خالد عثمانی ہے، اس کی دعوت قبول کرلی۔ خالد عثمانی کا مقصد جاننے کے بعد تنویر علی نے اسے پورے علاقے سے روشناس کرایا اور ہر خاص جگہ کی پوری تاریخ سے بھی آگاہ کیا۔ تنویر علی کے بتانے پر ہی خالد عثمانی نے احمد حسن کو ڈھونڈا جو اب پچھتر سال کی عمر کو پہنچ کر ایک ریٹائرڈ آدمی کی زندگی گزار رہا تھا۔

خالد عثمانی نے اسے بمشکل ملاقات اور پھر گفتگو کے لئے راضی کیا۔ مگر چونکہ بقول تنویر علی، سلطان پورہ کی کہانی دراصل احمد حسن کی کہانی تھی، اس لئے خالد عثمانی کے پاس اور کوئی راستہ نہ تھا۔ کئی دنوں تک احمد حسن اور خالد عثمانی اس موضوع پر گفتگو کرتے رہے۔ دراصل، احمد حسن کو اب کئی جزئیات یاد کرنے میں دشواری پیش آ رہی تھی مگر پھر اس نے کچھ پرانی ڈائریوں وغیرہ سے ڈھونڈ کر اسے تمام معلومات فراہم کردیں۔ جنہیں خالد عثمانی نے بعد میں روزنامہ ”راستہ“ میں ایک طویل فیچر کے طور پر شائع کیا۔

اب آپ پہلے وہ ساری کہانی ترتیب سے پڑھیے جس میں احمد حسن کی زندگی کا بھی بہت سا حصہ شامل ہے۔

احمد حسن ایک تجارت پیشہ خاندان میں پیدا ہوا۔ یوں تو اس کے والد، چچا، تایا یہاں تک کہ دادا بھی اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ تھے، مگر اس کے بڑے بھائی اور تایا، چچا کے بیٹے یا تو ایم بی اے کر چکے تھے یا انہوں نے بزنس سے متعلق ہی دوسری ڈگریاں حاصل کر رکھی تھیں۔ وہ چھ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا۔ اسے بچپن ہی سے عمارات کی بناوٹ کے بارے جاننے کا شوق پیدا ہو گیا تھا۔ ابھی ہائی سکول میں تھا کہ اس نے دنیا کی بہت سے اہم عمارات کی تصویریں جمع کر لیں۔

جن کے ہو سکے نقشے بھی حاصل کر لئے۔ چند ایک کے تو اس نے ماڈل بھی بنوا لیے۔ سکول اور تھوڑا بہت کھیلوں کے بعد اس کا باقی سارا وقت ان عمارات کے بارے معلومات اکٹھی کرنے میں گزرتا۔ اسی ضمن میں تاریخ کی کتابیں بھی پڑھتا رہتا۔ گھر میں روپے پیسے کی کوئی کمی نہ تھی اور پھر دوسرے مضامین جو وہ سکول میں پڑھتا تھا ان میں بھی مناسب نمبر حاصل کرتا تھا تو ایسے میں کیوں کوئی اس کے شوق کو برا کہتا؟ سب اس کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔

نتیجہ یہ ہوا کہ سکول کالج کے بعد وہ انجینئرنگ یونیورسٹی پہنچا۔ سول انجینئر کی ڈگری امتیازی نمبروں سے حاصل کی اور مزید تعلیم کے لئے امریکہ چلا گیا۔ وہاں پہنچ کر وہ تعلیم کے ساتھ ساتھ پروفیسروں کی بتائی ہوئی دیگر کتب بھی پڑھتا رہا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ ایک ملٹی نیشنل کنسٹرکشن کمپنی میں نہایت دلکش تنخواہ پر ملازم ہو گیا۔ پانچ سال کے اندر اس کمپنی نے دنیا کے مختلف شہروں میں کئی قابل ذکر عمارتیں تعمیر کیں۔

پانچ سال کے بعد اسی کمپنی نے اس کی قابلیت، لگن اور محنت کو دیکھتے ہوئے اسے کمپنی میں پانچ فیصد کا حصہ دار بھی بنا لیا۔ اس کمپنی میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا واقعہ تھا۔ اب وہ اپنے خاندان کے سب لوگوں سے زیادہ کمانے لگا۔ آمدنی میں اتنا کھلا اضافہ ہوا تو خاندان کی طرف سے شادی کے لئے بھی دباؤ بڑھنے لگا۔ مگر اس نے صاف اعلان کر دیا کہ ابھی وہ کچھ اور کام کرنا چاہتا ہے، اس لئے ابھی شادی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ خاندان والوں نے بھی ایک عرصہ تک اپنا دباؤ بنائے رکھا لیکن پھر وہ خاموش ہو گئے۔

کمپنی کے کاموں کے سلسلے میں ہی دنیا میں گھومتے پھرتے اس کی کچھ ایسے پاکستانیوں سے ملاقاتیں ہوئیں جو اپنی اپنی فیلڈ میں قابل قدر کارہائے نمایاں انجام دے رہے تھے۔ یہی ملاقاتیں بعد میں دوستی کا رنگ اختیار کر گئیں۔ اور یہ لوگ کبھی کبھی مل کر پاکستان کے حالات پر بھی تبادلہ خیال کرنے لگے۔ سب کی خواہش تھی کہ اب وہ پاکستان کے لئے بھی کچھ کریں مگر ابھی ان میں سے ہر کوئی اپنے اپنے کاموں میں اتنا مصروف تھا کہ وہ ایسے کسی کام کے لئے وقت نہیں دے سکتا تھا۔

سب کے کام چلتے رہے، ترقیاں بھی ہوتی رہیں اور زندگی بھی آگے بڑھتی رہی۔ یہاں تک کہ احمد حسن کی عمر چالیس سال ہو گئی۔ تب اس نے سوچا کہ اب وہ شادی کر لے اور کچھ وقت پاکستان میں گزارے۔ اس نے کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی میٹنگ میں اپنا ارادہ ظاہر کیا تو تھوڑے بحث مباحثے کے بعد اسے اس شرط پر اجازت مل گئی کہ وہ ضرورت پڑنے پر کمپنی کو بھی وقت دے گا۔ احمد حسن نے اس کی حامی بھر لی۔ پھر اس نے ان چاروں انتہائی کامیاب پاکستانیوں سے رابطہ کیا تو سب نے اس کے ساتھ وعدہ کیا کہ وہ اس کی شادی میں شرکت کے لئے پاکستان آئیں گے اور وہیں بیٹھ کر آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے۔

احمد حسن نے گھر والوں کو اپنے پروگرام کی خبر دی اور پاکستان آ گیا۔ سب بہت خوش ہوئے اور اس کے لئے لڑکی کی تلاش شروع ہو گئی۔ اتفاق سے اسے خاندان میں ہی ایک لڑکی پسند آ گئی اور لڑکی نے بھی اسے پسند کر لیا۔

شادی کی تیاریاں شروع ہو گئیں اور اس نے اپنے ان چاروں پاکستانی دوستوں کو پروگرام سے آگاہ کر دیا جو ابھی تک غیر ممالک میں مقیم تھے۔ شادی پر وہ سب دوست اپنے بیوی بچوں کے ساتھ شریک ہوئے۔ شادی انتہائی دھوم دھام سے ہوئی اور شادی کے بعد اپنے پروگرام کے مطابق یہ پانچوں دوست مل بیٹھے تاکہ کوئی پروگرام ترتیب دیں۔

کئی دن کی لگاتار سوچ بچار کے بعد احمد حسن کی ایک تجویز سب کو پسند آ گئی، اور طے کیا گیا کہ پانچوں دوست مل کر پارٹنر شپ پر ایک کنسٹرکشن کمپنی کھولیں۔ اس طرح ان سب کے لئے باہر کے ممالک سے خاطر خواہ سرمایہ پاکستان منتقل کرنا بھی آسان ہو جائے گا۔ سب سے پہلے پراجیکٹ کے طور پر کسی بڑے شہر کے قریب مزدوروں، ہنرمندوں اور کاریگروں کے لئے ایک رہائشی کالونی بنانا طے پایا۔

اگلے کچھ دنوں میں ہی ”فرینڈز کنسٹرکشن کمپنی“ کے نام سے ایک کمپنی رجسٹر کرا لی گئی۔ پانچوں دوست اس کے حصہ دار بن گئے۔ کمپنی کو چلانے کے لئے ڈائریکٹرز کا ایک بورڈ تشکیل دے کر احمد حسن کو اس کا سربراہ بنا دیا گیا۔ باقی چاروں نے اپنے اپنے نمائندے دے دیے۔ یوں احمد حسن کی سربراہی میں، احمد حسن سمیت پانچ ممبران کے بورڈ نے کام کا آغاز کر دیا۔ احمد حسن کے علاوہ باقی چاروں ممبر کمپنی کے تنخواہ دار ملازم بھی تھے۔

پہلے مرحلے پر شہر میں ایک شاندار دفتر حاصل کیا گیا۔ بینکوں میں اکاؤنٹس کھولے گئے اور بیرونی ممالک سے رقوم ٹرانسفر ہونا شروع ہو گئیں۔ احمد حسن کے چاروں دوست اور اب پارٹنرز اپنے اپنے کام کے ملکوں میں واپس چلے گئے۔ البتہ وہ ای میلز اور ویڈیو کالز پر رابطے میں تھے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2 3 4 5

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *