اگر وہ بے گناہ نکلی تو۔ ۔ ۔
حیران ہوں کہ ہم خوف زدہ بھیڑوں بکریوں میں یہ سرکش خاتون کیسے پیدا ہوگی۔ ہم گھر بیٹھے ڈرے اور سہمے ہوئے ہیں اور وہ سر عام اس نظام کو چیلنج کر رہی ہوتی ہے۔ ہم لفظ لکھتے ہزار بار سوچتے ہیں مگر وہ بے باک ہو کر جلسہ گاہ میں سچ بول دیتی ہے۔ ہم مصلحت کا شکار ہوتے ہیں مگر وہ کسی سے نہیں ڈرتی۔ وہ بہادر بھی ہے سرکش بھی اور بے باک بھی۔ اس میں حوصلہ بھی ہے ہمت بھی اور اس کو ذہن رسا بھی میسر ہے۔ یہ خاتون امید بھی ہے امنگ بھی۔ اس کے بدترین مخالف بھی اس کی دلیری کی تعریف کرتے ہیں۔ سب جماعتیں اسی سے حوصلہ پکڑتی ہیں۔ اسی سے سبق سیکھتی ہیں۔ اس کے مخالفین کو اس کے حوصلے سے ڈر لگتا ہے اس کی سچائی پر طیش آتا ہے مگر تمام تر مصائب کے باوجود یہ اپنی زبان کی پکی ہیں اور اپنے بیانیے پہ چٹان کی طرح ڈٹی ہوئی ہیں۔
Read more










