کیا نومبر میں سیاسی بھونچال آئے گا؟

ملکی سیاست میں حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ مثبت رپورٹنگ کی قدغن ختم ہو گئی ہے۔ حکومت کی نااہلی پر وہ بھی زبان دراز ہو گئے ہیں، جو حکومت کے قیام کا باعث تھے۔ معیشت زبوں حالی کا نقشہ پیش کر رہی ہے اور اس میں بہتری کے کوئی امکان نظر نہیں آر ہے۔…

Read more

امجد اسلام امجد کی پچھترویں سالگرہ

ایک صاحب دانش نے کہا کہ ”یہ کہنا درست نہیں کہ امجد اسلام امجد کے ڈرامے جب ٹی وی پر چلتے تھے تو سڑکیں ویران ہو جاتی تھیں بلکہ یہ کہنا زیادہ مباح ہو گا کہ امجد اسلام امجد کے ڈرامے جب ٹی وی پر چلتے تھے اس وقت گھر آباد ہو جاتے تھے“۔ ایک صاحب امجد اسلام امجد کی ہمہ جہت شخصیت کو مدں ظر رکھ کر کچھ اس طرح گویا ہوئے کہ ”امجد اسلام امجد دراصل دو امجدوں میں پھنسا ہوا اسلام ہے“ کچھ دوستوں نے امجد کی غزل کی تازگی پر بات کی اور کچھ ان کی نظم کی رعنائی پر گفتگو کرتے رہے۔ لیکن ان کی شخصیت کے دو اہم پہلو یعنی ”خوش خوارکی اور خوش مزاجی“ پر بات کم ہوئی۔

Read more

مریم نواز، دیا سلائی اور موجودہ حکومت کا انہدام

انگریزی چینلوں کی ڈاکومنٹریز میں کسی بھی عمارت کو گرانے کے دو طریقے دکھائے جاتے ہیں۔ ایک طریقہ تو یہ ہے کہ امتداد زمانہ کے سبب عمارت دہائیوں میں بوسیدگی کی اس انتہا پر پہنچ جاتی ہے کہ رفتہ رفتہ انہدام اس کا مقدر بن جاتا ہے۔ ہر اینٹ، مٹی ہو جاتی ہے اور ہر بنیاد میں ریت در آتی ہے۔ ہر دراڑ، شگاف بن جاتی ہے اور ہر دیوار برسوں لرزنے کے بعد دھڑام سے گر جاتی ہے۔ دوسرا طریقہ زیادہ موثر اور برق رفتار ہے۔

Read more

بیگم کلثوم نواز کی آخری خواہش اور میاں نواز شریف کا عزم

آج سے ٹھیک ایک برس پہلے بیگم کلثوم نواز کا لندن کے ہارلے سٹریٹ کیلنک میں انتقال ہو گیا۔ انتقال کے وقت کلثوم نواز وینٹی لیٹر پر تھیں اور دل کے عارضے کے علاوہ کینسر بھی ان کے جسم میں پھیل چکا تھا۔ گذشتہ کئی دنوں سے کلثوم نواز، نواز شریف اور مریم نواز سے بات کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ وہ اس بات پر بہت حیران ہوتیں اور شکوہ کرتیں کہ ”باؤ جی جہاں بھی ہوں رات کو مجھے کال ضرور کیا کرتے تھے اب ایسی کون سی مصروفیت آن پڑی ہے“۔ لندن میں مقیم بچوں نے ان سے یہ بات چھپا کر رکھی تھی کہ نواز شریف اور مریم نواز اس وقت جیل میں ناکردہ گناہوں میں قید ہیں۔

Read more

اگر وہ بے گناہ نکلی تو۔ ۔ ۔

حیران ہوں کہ ہم خوف زدہ بھیڑوں بکریوں میں یہ سرکش خاتون کیسے پیدا ہوگی۔ ہم گھر بیٹھے ڈرے اور سہمے ہوئے ہیں اور وہ سر عام اس نظام کو چیلنج کر رہی ہوتی ہے۔ ہم لفظ لکھتے ہزار بار سوچتے ہیں مگر وہ بے باک ہو کر جلسہ گاہ میں سچ بول دیتی ہے۔ ہم مصلحت کا شکار ہوتے ہیں مگر وہ کسی سے نہیں ڈرتی۔ وہ بہادر بھی ہے سرکش بھی اور بے باک بھی۔ اس میں حوصلہ بھی ہے ہمت بھی اور اس کو ذہن رسا بھی میسر ہے۔ یہ خاتون امید بھی ہے امنگ بھی۔ اس کے بدترین مخالف بھی اس کی دلیری کی تعریف کرتے ہیں۔ سب جماعتیں اسی سے حوصلہ پکڑتی ہیں۔ اسی سے سبق سیکھتی ہیں۔ اس کے مخالفین کو اس کے حوصلے سے ڈر لگتا ہے اس کی سچائی پر طیش آتا ہے مگر تمام تر مصائب کے باوجود یہ اپنی زبان کی پکی ہیں اور اپنے بیانیے پہ چٹان کی طرح ڈٹی ہوئی ہیں۔

Read more

خان صاحب سے کچھ بھی بعید نہیں- ناقابل اشاعت کالم

سچ پوچھیے تو عمران خان کی سب سے بڑی خوبی اب تک یہی رہی ہے کہ وہ بات اس جذبے، استدالال اور تیقن سے کرتے ہیں کہ یقین کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا۔ لوگوں کو یہ لگتا ہے کہ یہ وہ بات ہے جو ان کے دل کی بات تھی۔ اس پر عمل پیرا نہ ہوئے تو اس قوم کا کیا بنے گا؟ یہ الگ بات کہ کچھ عرصے کے بعد خان صاحب اسی بات کے برعکس بیان دے رہے ہوتے ہیں۔ لیکن مجال ہے جو استدلال، جذبے اور تیقن میں کوئی فرق پڑتا ہو۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خان صاحب کے چاہنے والے ایک نئے حوصلے سے تازہ بیان پر نہ صرف یقین رکھتے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی اس کی نصحیت کرتے ہیں۔

Read more

مسئلہ کشمیر۔ نہ بساط نہ اختیار ۔ ناقابل اشاعت کالم

اس بات کو تسلیم کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ کشمیر کے مسئلے کا پر امن تصفیہ ہی خطے میں ترقی کی ضمانت ہے۔ قریبا ستر برس سے یہ مسئلہ اس خطے کی سلامتی کے لئے آتش فشاں بنا ہوا ہے۔ اسی انسانی المیے کی وجہ سے دونوں نیوکلیئر پاورز ہر وقت جنگ کے دھانے پر کھڑی رہتی ہیں۔ اسی قضیے کی وجہ سے دونوں ممالک میں ترقی کی بہت سی راہیں مسدود ہو چکی ہیں۔ اسی تنازعے کی وجہ سے تعلیم صحت اور سماجی ترقی ان دوممالک میں مفقود ہے۔

Read more

عمران خان کا دورۂ امریکہ

اس وقت ملک میں ہر طرف وزیراعظم عمران خان کے دورۂ امریکہ کی بات ہو رہی ہے۔ اس کی کامیابی کو ورلڈ کپ جیسی لازوال کامیابی تصور کیا جا رہا ہے۔ ٹرمپ اور عمران خان کی میٹنگ میں جو ہوا سو ہوا لیکن امریکہ میں عمران خان کے جلسے نے لوگوں کے دلوں کو گرما دیا۔ قریباً دس ہزار سمندر پار پاکستانیوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر عمران خان کے ساتھ سلیفی بنانے کی کوشش میں تھا۔ بار بار عمران خان زندہ باد کے نعرے لگ رہے تھے۔

Read more

میں اپنی والدہ کو کبھی سچ نہیں بتا سکا

میری والدہ کا پھر مجھے فون آیا ہے۔ فون کی بابت بتانے سے پہلے ضروری ہے کہ میں اپنی والدہ کا تعارف کروا دوں۔ میری والدہ کی عمر 84 برس ہے۔ 60 کی دہائی میں بہت کم ایسی خواتین تھیں جنہوں نے ڈبل ایم اے کیا۔ امی نے پہلے فارسی اور پھر اردو ادب میں…

Read more

پیچھے ہٹتی اپوزیشن اور ”قوم کا وسیع تر مفاد“

اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس مولانا فضل الرحمٰن کی قیادت میں منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس کے اختتام پر جو اعلامیہ جاری کیا گیا اس سے کچھ لوگ مایوس بھی ہوئے۔ لوگوں کو اس کانفرنس سے توقعات تھیں کہ اس کے نتیجے میں ان پر آنے والی افتاد سے کسی طرح نجات ملے گی مگر آل پارٹیز کانفرنس کے اعلامیے میں حکومت پر تنقید تو بہت کڑی کی گئی مگر عملی اقدامات کی طرف کم ہی اشارے ملے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ہر جماعت کے سربراہ نے حکومت کی بری کارکردگی پر دل کھول کر تنقید کی۔

Read more