اگر وہ بے گناہ نکلی تو۔ ۔ ۔

حیران ہوں کہ ہم خوف زدہ بھیڑوں بکریوں میں یہ سرکش خاتون کیسے پیدا ہوگی۔ ہم گھر بیٹھے ڈرے اور سہمے ہوئے ہیں اور وہ سر عام اس نظام کو چیلنج کر رہی ہوتی ہے۔ ہم لفظ لکھتے ہزار بار سوچتے ہیں مگر وہ بے باک ہو کر جلسہ گاہ میں سچ بول دیتی ہے۔ ہم مصلحت کا شکار ہوتے ہیں مگر وہ کسی سے نہیں ڈرتی۔ وہ بہادر بھی ہے سرکش بھی اور بے باک بھی۔ اس میں حوصلہ بھی ہے ہمت بھی اور اس کو ذہن رسا بھی میسر ہے۔ یہ خاتون امید بھی ہے امنگ بھی۔ اس کے بدترین مخالف بھی اس کی دلیری کی تعریف کرتے ہیں۔ سب جماعتیں اسی سے حوصلہ پکڑتی ہیں۔ اسی سے سبق سیکھتی ہیں۔ اس کے مخالفین کو اس کے حوصلے سے ڈر لگتا ہے اس کی سچائی پر طیش آتا ہے مگر تمام تر مصائب کے باوجود یہ اپنی زبان کی پکی ہیں اور اپنے بیانیے پہ چٹان کی طرح ڈٹی ہوئی ہیں۔

Read more

خان صاحب سے کچھ بھی بعید نہیں- ناقابل اشاعت کالم

سچ پوچھیے تو عمران خان کی سب سے بڑی خوبی اب تک یہی رہی ہے کہ وہ بات اس جذبے، استدالال اور تیقن سے کرتے ہیں کہ یقین کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا۔ لوگوں کو یہ لگتا ہے کہ یہ وہ بات ہے جو ان کے دل کی بات تھی۔ اس پر عمل پیرا نہ ہوئے تو اس قوم کا کیا بنے گا؟ یہ الگ بات کہ کچھ عرصے کے بعد خان صاحب اسی بات کے برعکس بیان دے رہے ہوتے ہیں۔ لیکن مجال ہے جو استدلال، جذبے اور تیقن میں کوئی فرق پڑتا ہو۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خان صاحب کے چاہنے والے ایک نئے حوصلے سے تازہ بیان پر نہ صرف یقین رکھتے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی اس کی نصحیت کرتے ہیں۔

Read more

مسئلہ کشمیر۔ نہ بساط نہ اختیار ۔ ناقابل اشاعت کالم

اس بات کو تسلیم کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ کشمیر کے مسئلے کا پر امن تصفیہ ہی خطے میں ترقی کی ضمانت ہے۔ قریبا ستر برس سے یہ مسئلہ اس خطے کی سلامتی کے لئے آتش فشاں بنا ہوا ہے۔ اسی انسانی المیے کی وجہ سے دونوں نیوکلیئر پاورز ہر وقت جنگ کے دھانے پر کھڑی رہتی ہیں۔ اسی قضیے کی وجہ سے دونوں ممالک میں ترقی کی بہت سی راہیں مسدود ہو چکی ہیں۔ اسی تنازعے کی وجہ سے تعلیم صحت اور سماجی ترقی ان دوممالک میں مفقود ہے۔

Read more

عمران خان کا دورۂ امریکہ

اس وقت ملک میں ہر طرف وزیراعظم عمران خان کے دورۂ امریکہ کی بات ہو رہی ہے۔ اس کی کامیابی کو ورلڈ کپ جیسی لازوال کامیابی تصور کیا جا رہا ہے۔ ٹرمپ اور عمران خان کی میٹنگ میں جو ہوا سو ہوا لیکن امریکہ میں عمران خان کے جلسے نے لوگوں کے دلوں کو گرما دیا۔ قریباً دس ہزار سمندر پار پاکستانیوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر عمران خان کے ساتھ سلیفی بنانے کی کوشش میں تھا۔ بار بار عمران خان زندہ باد کے نعرے لگ رہے تھے۔

Read more

میں اپنی والدہ کو کبھی سچ نہیں بتا سکا

میری والدہ کا پھر مجھے فون آیا ہے۔ فون کی بابت بتانے سے پہلے ضروری ہے کہ میں اپنی والدہ کا تعارف کروا دوں۔ میری والدہ کی عمر 84 برس ہے۔ 60 کی دہائی میں بہت کم ایسی خواتین تھیں جنہوں نے ڈبل ایم اے کیا۔ امی نے پہلے فارسی اور پھر اردو ادب میں ایم اے کیا۔ اس کے بعد وہ فارسی کی پروفیسر ہو گئیں۔ فلسفہ مولانا روم، سعدی کی حکایتیں، غالب کا فارسی کلام، اقبال شناسی ہم

Read more

پیچھے ہٹتی اپوزیشن اور ”قوم کا وسیع تر مفاد“

اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس مولانا فضل الرحمٰن کی قیادت میں منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس کے اختتام پر جو اعلامیہ جاری کیا گیا اس سے کچھ لوگ مایوس بھی ہوئے۔ لوگوں کو اس کانفرنس سے توقعات تھیں کہ اس کے نتیجے میں ان پر آنے والی افتاد سے کسی طرح نجات ملے گی مگر آل پارٹیز کانفرنس کے اعلامیے میں حکومت پر تنقید تو بہت کڑی کی گئی مگر عملی اقدامات کی طرف کم ہی اشارے ملے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ہر جماعت کے سربراہ نے حکومت کی بری کارکردگی پر دل کھول کر تنقید کی۔

Read more

ایک پاؤ دہی اور دھنیے کی گڈی

پھر ہوا وہی جو کہ ہمارے ہاں عموماً بڑے مفکرین اور دانشوران کرام کے ساتھ ہوتا ہے۔ یعنی جیسے ہی نیم خوابی کے عالم میں ایک انقلاب پیش منظر ہوتا ہے، جیسے ہی عالمی امن قائم ہونے لگتا ہے، جیسے ہی تمام دنیا کے غریبوں کو ان کے حقوق ملنے لگتے ہیں اسی لمحے ایسے تمام کاہل دانشوروں اور مفکرین کو ان کی بیگمات خواب غفلت سے جگا دیتی ہیں۔ صرف جگا دینا ہوتا تو چلو اس پر صبر بھی

Read more

نواز شریف کی ڈیل؟

اگرچہ میڈیا میں ہر چوتھے دن ایک غلغلہ مچ جاتا ہے کہ نواز شریف نے ڈیل کر لی۔ اس کارِ نیک کو آپ تک پہنچانے میں بہت سے تجزیہ کار، اینکر اور صحافی شامل ہیں۔ کوئی کہتا ہے نواز شریف لندن جا رہے ہیں اور اب کبھی واپس نہیں آئیں گے، کوئی شنوائی سناتا ہے کہ ڈیل کے تحت مریم نواز کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی لگانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ کوئی یہ خوشخبری لے کر آتا ہے

Read more

کیونکہ ضمیر زندہ ہے

معروف فکاہیہ شاعر سید ضمیر جعفری کی زندگی کا سب سے بڑا المیہ یہ تھا کہ ان کی سنجیدہ شاعری بھی کمال کی تھی مگر اسے کبھی قبولیت عام نصیب نہیں ہوئی۔ ایسا بھی ہوا کہ استاد نے مشاعرے میں سنجیدہ غزل سے آغاز کیا اور لوگ ہنس، ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گئے۔ ضمیر بظاہر اس بات پر بدگمان نہیں ہوتے تھے بس سادگی سے کہہ دیتے کہ ”بھئی جو قبول ہو گیا وہ ٹھیک ہے“۔ لیکن دل ہی دل میں اس بات سے خوفزدہ بھی تھے شاید اسی وجہ سے انہوں نے اپنی سنجیدہ شاعری کی کتاب کا نام ہی ”سنجیدہ کلام“ رکھ دیا کہ مبادا لوگ اس پر بھی ٹھٹھے مارتے پھریں۔ اب اسے شومئی قسمت ہی کہہ سکتے ہیں کہ اس کتاب کو کوئی بھی نہیں جانتا، نہ ہی ضمیر جعفری کے فن اور شخصیت پر تحقیق کرنے والوں نے سنجدہ شاعری کی اس باکمال کتاب کا اپنے مقالوں میں کہیں تذکرہ کیا۔ لیکن اگر اب آپ کو کہیں سے یہ کتاب دستیاب ہو جائے تو ضمیر کا اک نیا رخ دیکھنا آپ کو نصیب ہو گا۔

Read more

یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے

پاکستان میں گزشتہ ماہ برٹش امریکن ٹوبیکو کے ریجنل ڈائریکٹر اور پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے مابین باہمی ملاقات کے حوالے سے خبریں سنی گئیں۔ اِس ملاقات کے حوالے سے یہ بھی سنا گیا کہ پاکستان میں ٹوبیکو سیکٹر کی جانب سے اِس ریجنل ڈائریکٹر نے عمران خان کو دیامیر بھاشا، مہمند ڈیم فنڈ کے حوالے سے پچاس لاکھ روپے کا چیک بھی عطیہ کیا۔ اِس حوالے سے اِس ملاقات اور چیک دینے کی مختلف تصاویر مقامی پرنٹ میڈیا

Read more

بند گلی سے نکلنے کا راستہ

وقت بہت تیزی سے گزر رہا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت کو آئے اب قریباً نو ماہ ہو چکے۔ اب حکومت وقت کے پاس ماضی کی حکومتوں کی ناکامیوں کی داستان سنانے کی سہولت ختم ہو تی جا رہی ہے۔ کرپشن کے مسلسل بلاثبوت بیانیے کی گردان سے اب عوام بور ہوتے جا رہے ہیں۔ اربوں، کھربوں کے غبن کی افسانوی داستانیں اب یکسانیت کا شکار ہو چکیں۔ سیاسی انتقام اب لوگوں کو کھلنے لگا ہے۔ لوگ اب اس بیانیے

Read more

بند گلی سے نکلنے کا راستہ

وقت بہت تیزی سے گزر رہا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت کو آئے اب قریباً نو ماہ ہو چکے۔ اب حکومت وقت کے پاس ماضی کی حکومتوں کی ناکامیوں کی داستان سنانے کی سہولت ختم ہو تی جا رہی ہے۔ کرپشن کے مسلسل بلاثبوت بیانیے کی گردان سے اب عوام بور ہوتے جا رہے ہیں۔ اربوں، کھربوں کے غبن کی افسانوی داستانیں اب یکسانیت کا شکار ہو چکیں۔ سیاسی انتقام اب لوگوں کو کھلنے لگا ہے۔ لوگ اب اس بیانیے کے سوا کچھ چاہتے ہیں۔ کچھ فلاح کا پیغام، کچھ روزمرہ کی سہولت عوام کا تقاضا ہو رہی ہے۔

لیکن حکومت وقت کے پاس ماضی کی حکومتوں کو کوسنے کے سوا کچھ بھی نہیں۔ تبدیلی کے جو سہانے خواب دکھائے گئے تھے لوگوں کی آنکھیں ان کی تعبیر کے انتظار میں ترس گئی ہیں۔ لوگ اپنی تقدیر کے تبدیل ہونے کے منتظر ہیں مگر یہاں تماشا یہ ہے کہ کئی برس گزر گئے ہیں تقدیر تو کیا تقریر نہیں تبدیل ہوئی۔ ایک ہی بات ہے جو کسی رٹے رٹائے طوطے کی طرح ہر وزیر، مشیر کی زبان پر ہے۔ ایک ہی بیانیہ ہے جو بغیر کسی ثبوت، بنا کسی دلیل کے ہر عوامی خطاب میں دہرا دیا جاتا ہے۔

Read more

صدارتی نظام کی کیا ضرورت ہے؟

جس وقت یہ کالم تحریر کیا جا رہا ہے اُس وقت ٹی وی پر کابینہ میں رد وبدل کی خبریں پوری شدومد کے ساتھ چل رہی ہیں، اکھاڑ پچھاڑ کا سلسلہ پوری تندہی کے ساتھ جاری ہے، ردوبدل اپنے عروج پر ہے، اگر یہ بات تسلیم بھی کر لی جائے کہ وزیر خزانہ اسد عمر کی معزولی کی وجہ انکی کارکردگی تھی تو کیا اِس استعفے سے ملکی معیشت بہتر ہو سکتی ہے؟ کیا روپے کی قدر میں کمی، اسٹاک

Read more

ناقابلِ اشاعت کالم: تبدیلی ریورس گئیر میں

حکومت نا اہلی اور ناکردہ کاری کی جس معراج پر پہنچ چکی ہے اس کا بیان الفاظ میں ممکن نظر نہیں آتا۔ المیہ یہ نہیں ہے کہ حکومت کی اس ابتر حالت کا لوگوں کو اندیشہ نہیں تھا۔ المیہ تو یہ ہے کہ وہ سارے زرخیز دماغ جو گذشتہ پانچ سال تک تبدیلی کا سنہرا خواب بیچتے رہے وہی اب اس خواب کی بھیانک تعبیر قوم کو دکھانے پر مامور ہو گئے ہیں۔ ایسے معصوم بن گئے ہیں کہ جیسے شریک جرم ہی نہیں تھے۔ جو اشخاص ٹی وی سکرینوں پر تبدیلی کے خوش رنگ سونامی کی داستان سناتے تھے اب اسی سونامی کی تباہی کی کہانی سنانے میں بھی وہی رطب اللسان ہیں۔

اس ساری صورت حال میں بس ایک غربت میں پسے ہوئے عوام ہیں جو ایک دوجے کا حیرانی اور پشیمانی سے منہ تک رہے ہیں۔ اس لئے کہ خیر کی کوئی خبر، امید کی کوئی کرن اب ان کو نظر نہیں آ رہی۔ حالات ایسی تیزی سے بگڑ رہے ہیں کہ اس تنزلی کے راستے میں اب کوئی شئے حائل نہیں ہو رہی۔ بسا اوقات تو یہ لگتا ہے کہ اس تباہی کی رفتار جان بوجھ کر تیز کی جارہی ہے۔ مہمیز لگائی جا رہی ہے۔ حکومت خود اپنے آپ سے انتقام لے رہی ہے اور عوام کو اس تبدیلی کا مزہ چکھا رہی ہے جس کے نعرے گذشتہ پانچ سال کنٹینروں، ٹی شوز اور جلسوں میں لگائے گئے تھے۔

Read more

یک جہتی مارچ کیوں نہیں ہو رہا ؟

انتخابات سے پہلے عمران خان نے کرپشن کا جو بیانیہ عوام کے سامنے رکھا وہ بہت حدتک کامیاب رہا لیکن یہ گولی سب کو ہضم نہیں ہوئی۔ بہت سے لوگ اِس بیانیے سے اختلاف کرتے ہیں۔ بہت سے لوگ انتخابات میں بے ضابطگیوں کے خلاف آواز بلند کرنا چاہتے ہیں، بہت سے لوگ نواز شریف کے بیانیے یعنی ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کیلئےآواز بلند کرنا چاہتے ہیں مگر ان کی آواز کو سننے کے لئے اب مین اسٹریم میڈیا پر

Read more

الیکشن کمیشن اور خواتین کا عالمی دن

خواتین کے عالمی دن پر جہاں سارے ملک میں تقریبات کا سلسلہ جاری تھا وہاں ایک تقریب کا د عوت نامہ ہمیں بھی موصول ہو گیا۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل نگہت صدیقی جو ایک نہایت محنتی اورذمہ دار آفیسر ہیں ان کا فرمانا تھا کہ اس موقع پر ایک سیمینار الیکشن کمیشن میں ہونا قرار پایا ہے اور اس میں آپ کی شمولیت لازم ہے۔ سیمینار کے موقع پر الیکشن کمیشن کا ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ صحافی، سول سوسائٹی کے نمائندے، خواجہ سراؤں کی تنظیموں کے سرگرم ارکان، معذور افراد کی تنظیمیں، ڈی اے آئی تعبیرکی انتظامیہ، معروف صحافی، نادرا کے نمائندے، غیر ملکی مندوب، خواتین کے حقوق کی جنگ لڑنے والی پرعزم خواتین وہاں موجود تھیں۔

سیمینار کی صدارت چیف الیکشن کمشنر سردار محمد رضا خان نے کی، سیکرٹری الیکشن کمیشن اور الیکشن کمیشن کے معزز ممبران بھی اس موقع پر موجود تھے۔ نیشنل کمیشن آن اسٹیٹس آف وویمن کی سیکرٹری ثمینہ حسن نے ایک پریزینٹیشن میں اپنے مطالبات پیش کیے ۔ اپنی گفتگو میں انہوں نے ان تجاویز کا بھی ذکر کیا جن کی مدد سے خواتین کی الیکشن کے عمل میں شرکت کو بہتر اور فعال بنایا جا سکتا ہے۔ پاکستان کی نصف آبادی الیکشن کے حقوق کے حوالے سے جن مشکلات سے دوچار ہے اس کے حوالے سے یہ سیمینار خصوصی حیثیت کا حامل تھا

Read more

خلیجی شہزادہ آ گیا میدان میں

یہ قصہ خلیج کی ریاستوں میں سے ایک چھوٹی ریاست کے عیاش شہزادے کا ہے۔ اس عیاش شہزادے کے من میں جانے کیا سمائی کہ اس نے پاکستان آنے کی ٹھان لی۔ پاکستان کا قصد ایک دوست ملک سے باہمی تعلقات کے فروغ کی خاطر بالکل نہیں ہوا۔ دراصل شہزادے نے سن رکھا تھا کہ پاکستان ایک غریب ملک ہے۔ یہاں کی بیشتر آبادی دو وقت کی روٹی کو ترستی ہے۔ پینے کا صاف پانی عوام کو میسر نہیں۔ صحت کی سہولیات اور کھیل کے میدان تک موجود نہیں۔

شہزادے کی آمد کی وجہ نہ حکومتی نظام میں بہتری تھی، نہ غریب عوام کی فلاح کا کوئی ارداہ تھا۔ دراصل شہزادہ امیر ریاستوں میں سے ایک چھوٹی ریاست کا شہزادہ تھا اور اپنے ارد گرد بے شمار امیر لوگوں میں رہ کر وہ کچھ احساس کمتری میں مبتلا ہو گیا تھا۔ وہ خلیج کے لوگوں کو اپنی دولت سے مرعوب نہیں کرسکتا تھا اس لئے اس نے ایک غریب ملک کے سفر کی ٹھانی۔ ایسا ملک جہاں کے لوگ اس کی جاہ و حشمت سے خوب مرعوب ہوں، اس کے قصیدے گائیں، اس کے کے نام کے نعرے لگائیں کہ ”شہزادہ آ گیا میدان میں۔ ہے جمالو“

Read more

جمہوریت بہترین انتظام ہے

ایک زمانے میں آصف زرداری بڑے دھڑلے سے کہا کرتے تھے کہہ جمہوریت بہترین انتقام ہے۔ اسی زمانے میں بزرگ یہ فرماتے تھے کہ بری جمہوریت کا علاج مزید جمہوریت میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ الیکشن سے پہلے ہمیں بھی بہت شوق تھا کہ اس ملک میں خوب جمہوریت پنپے۔ عوام کے ووٹ کو توقیر ملے۔ سول بالادستی کا نعرہ بلند ہو۔ دو جمہوری ادوار جیسے تیسے گذر گئے ہیں اب تیسرا دور آئے گا اور پھر راج کرے گی خلق

Read more

پاکستان کا ہیرو۔ گل زمین خان

گل زمین خان سے میری ملاقات انیس سو چھیانوے میں، میری مرحومہ اہلیہ صائمہ عمار کے ساتھ ہوئی۔ صائمہ چونکہ خود بھی بینائی سے محروم تھیں اس لئے ہم نے مل کے نابینا افراد کے لئے ایک چھوٹا سا پروجیکٹ شروع کیا تھا جس میں نابینا افراد کے لئے صوتی کتب ریکارڈ کی جاتی تھیں۔ اس وقت حالات ایسے تھے کہ ریکارڈنگ کا کوئی اچھا سسٹم بھی موجود نہیں تھا، لکڑی کی ایک پیٹی پر ایک جہازی سائز ٹیپ ریکارڈر

Read more

مسترد شدہ کالم ۔ قصر انصاف کو منہ چڑانا بری بات ہے

میرے سامنے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک وڈیو بار بار چل رہی ہے۔ سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ کا انٹرویو ہے جو جیو چینل پر مدتوں پہلے چلا تھا۔ اس انٹرویو میں جسٹس ریٹائر نسیم حسن شاہ، ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے فیصلے کے متعلق گفتگو کر رہے ہیں۔ اپنے بیان میں فرماتے ہیں کہ مولوی مشتاق، بھٹو کے دشمن تھے انہیں اس بینچ میں نہیں بیٹھنا چاہیے تھا اور بھٹو کے وکیل نے ہمیں غصہ دلایا اور اس وقت کا ماحول ایسا تھا کہ میں نے بھی فیصلے سے اختلافی نوٹ نہیں لکھا حالانکہ اس فیصلے سے مجھے اختلاف تھا۔ اینکر نے سوال کیا کہ اگر بھٹو کو پھانسی نہ ہوتی تو کیا ملک کی تاریخ مختلف ہوتی؟ چیف جسٹس صاحب نے جواب دیا مجھے یہ نہیں پتہ کہ تاریخ مختلف ہوتی یا نہ مگر بھٹو کی جان ضرور بچ سکتی تھی۔

Read more

مستقبل کا لائحہ عمل – غیر سینسر شدہ مکمل کالم

کسی بھی ٹاک شو میں چلیں جائیں یا اس بحث کا نظارہ ٹی وی پر دیکھ لیں جو ہر روز شام سات بجے سے رات گئے تک چینلوں پر ہو رہی ہوتی ہے اس میں سوائے الزام تراشی کے کچھ نہیں ملتا۔ ہر کسی کو دوسرے سے شکوہ ہے۔ وہ سیاسی جماعتیں جو اپوزیشن میں ہیں ان کو حزب اقتدار سے شکوہ ہے۔ جو اقتدار میں ہیں ان کو اپوزیشن سے اختلاف ہے۔ اپوزیشن کی اپنی جماعتیں بھی جا بجا ایک دوسرے سے روٹھ کر بیٹھ جاتی ہیں۔ ماضی کے وہ قصے سرعام لے آتی ہیں جو اب قصہ پارینہ ہو چکے ہیں۔

جمہور کی قوتیں غیر جمہوری قوتوں پر الزام تراشی کرتی ہیں اور غیر جمہوری قوتیں عوام کے لیڈروں کی رعونت اور کرپشن کی رام کہانی سنانا شروع کر دیتی ہیں۔ اس ساری سعی لاحاصل سے کچھ نہیں حاصل ہو رہا۔ بحث برائے بحث سے ایک اور بحث کا آغاز تو ہو سکتا ہے مگر اس سے کسی نتیجے پر پہنچنا ناممکن ہے۔ نتیجے پر پہنچنے کے لئے تفکر کی ضرورت ہو تی ہے، سنجیدہ لائحہ عمل اختیار کرنا پڑتا ہے مگر اس کی فرصت کسی کے پاس نہیں ہے۔

Read more

عثمان بزدار: تماشے اور کرتب میں فرق ہوتا ہے – مسترد شدہ کالم

بہت سوچا۔ یقین مانیے بہت سوچا کہ آخر وہ کیا وجہ ہے کہ عثمان بزدار کو وزیر اعلی پنجاب کا منصب سونپا گیا ہے؟ کیا وجہ ہے کہ وزیر اعظم ہر جگہ ان کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملا رہے ہوتے ہیں؟ کیا وجہ ہے ہر میٹنگ میں عثمان بزدار کی مثالیں دی جا رہی ہوتی ہیں؟ کیا وجہ ہے کہ سوشل میڈیا پر بڑھ چڑھ کر عثمان بزدار کا دفاع کیا جا رہا ہوتا ہے؟ کیا وجہ ہے عثمان بزدار کے ساتھ صوفے پر بیٹھے دیہاتیوں کی تصویر سوشل میڈیا پر ٹویٹ کرنے کی ضرورت پڑی؟

کیا وجہ ہے کہ عثمان بزدار کو سیاست کا وسیم اکرم تعبیر کیا جا رہا ہے؟ سیاسی مبصرین اس بارے میں اپنی اپنی رائے رکھتے ہیں۔ کوئی اسے شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین کی لڑائی کا شاخسانہ بتاتا ہے۔ کوئی وزیر اعظم کے گھر سے ان کی سفارش کا پتا دیتا ہے۔ کوئی ان کے آبائی گھر میں بجلی نہ ہونے کو ان کی واحد قابلیت بتاتا ہے۔ اس تعیناتی کے معاملے پر ٹی وی پروگراموں میں تجزیہ کاروں اور میڈیا اینکروں نے عثمان بزدار کو بہت رگیدا۔

Read more

نیند کیوں رات بھر نہیں آتی

پھر یوں ہوا کہ آنکھوں سے نیند اچانک روٹھ گئی۔ بے خوابی کی حالت مسلسل رہنے لگی۔ ساری ساری رات چھت کو تکنا اور کڑیوں کو گننا معمول ہو گیا۔ اسی دوران فشارِ خون بھی بڑھ گیا۔ ہاتھوں میں رعشہ آنے لگا۔ قدم لرزنے لگے۔ سانسیں بے ترتیب ہونے لگیں۔ دل کی دھڑکنوں میں توازن ختم ہونے لگا۔ تبخیر معدہ کی شکایت بھی پیدا ہونے لگی۔ اچانک دل میں وسوسے سر اٹھانے لگتے۔ اگر کبھی آنکھ لگ جاتی تو کھٹکے

Read more

اگر نواز شریف کو پھر جیل ہو گئی تو؟ مسترد شدہ کالم

سپریم کورٹ میں نواز شریف کے خلاف دونوں ریفرنسز کا فیصلہ قریبا اڑتالیس گھنٹے کے بعد بتاریخ چوبیس دسمبر کو سنایا جائے گا۔ فیصلے کے بارے میں کوئی پیش گوئی مناسب نہیں لیکن حق اور مخالفت کے بارے میں رائے ضرور قائم کی جا سکتی ہے۔ دو ہی ممکن صورت حال ہیں۔ دونوں کے اپنے اپنے اپنے مضمرات اور ثمرات ہیں۔ اس وقت نواز شریف اور مسلم لیگ کو عوام کی ہمدردی حاصل ہے۔ عوام کا ایک بڑا طبقہ اس کارروائی کو سیاسی انتقام کی صورت میں دیکھتا ہے۔

Read more

یہ معاملہ ہے دل کا!

گزشتہ سال کے وسط کی بات ہے، خبر ملی کہ عامر جعفری بھائی کو ہارٹ اٹیک ہو گیا ہے۔ دکھ بھی ہوا اور حیرانی بھی۔ دکھ اس اس بات کا کہ ایسے بذلہ سنج نوجوان کو پینتالیس سال میں یہ مرض کیسے لاحق ہو گیا؟ اور حیرانی اس بات کی کہ ان کو یہ مرض آخر کیوں لاحق ہوا ہے۔ بدن ویسے ہی منحنی سا ہے۔ سگریٹ کی عادت چھو کر نہیں گزری، مشروبات کی فہرست بھی کبھی چائے، سکنجبین اور لسی سے آگے نہیں بڑھی تو آخر ایسا کیونکر ہو گیا۔

شاید اس مرض کا تعلق طرزِ زندگی سے ہوتا ہے۔ اس معاملے میں عامر بھائی مکمل طور پر خطا وار ہیں۔ ان کی زندگی ایک چھلاوے کی زندگی ہے۔ ابھی آپ کے پاس بیٹھے تعلیم کی زبوں حالی پر گفتگو ہو رہی تو ایک گھنٹے کے بعد کسی یونیورسٹی میں یکساں نظام تعلیم کے حق میں تقریر ہو رہی۔ اس سے فارغ ہو ئے تو ائر پورٹ روانہ ہو گئے۔ دبئی میں کوئی فنڈ ریزنگ ہو رہی ہے۔ سفر میں لیپ ٹاپ پر لندن میں متوقع ڈونرز سے ملاقات کی پریزنٹیشن تیار ہو رہی ہے۔

Read more

مریخ پر جانے والا پہلا پاکستانی کون ہو گا؟

یہ بات تو آپ سب کے علم میں ہے کہ وفاقی حکومت نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ خلائی پروگرام کے تحت پہلا پاکستانی آئندہ 4 سالوں کے اندر خلا میں بھیجا جائے گا۔ عزت ماب وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے پریس کانفرنس کے دوران اس بات کی تصدیق کی کہ تحریک انصاف کی حکومت نے پہلے پاکستانی خلا باز کو خلا میں بھیجنے کی منظوری دے دی۔ مگر بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی، مقامات آہ

Read more

ناقابل اشاعت کالم: میں لفافہ صحافی کیسے بنا

سیاست کی کوئی خاص سوجھ بوجھ بھی نہیں تھی پھر بھی لکھتا رہا۔ سیاسی کالم نگاری سے پہلا فرق تو یہ پڑا کبھی کبھار کسی وزیر باتدبیر یا سینیٹر کا فون آ جاتا تھا۔ جو کالم کی تعریف اس توقع سے کرتے تھے کہ اگلے کالم میں کہیں ان کا بھی ذکر اذکار ہو جائے۔ معاملات زندگی اسی طرح چلتے رہے کہ اچانک پانامہ کا قضیہ میڈیا میں اٹھا۔ اچانک کالم نگاروں اور تجزیہ کاروں کی باتیں اہم ہو گئیں۔ بعض اوقات تو یوں لگتا تھا جیسے ملک کے تمام لوگ انہی تجزیہ کاروں کے تجزیوں کے منتظر ہیں۔ ان کے ایک ایک لفظ سے ملک کی تاریخ بدل سکتی ہے۔ حکومتیں گر سکتی ہیں۔ ایوان لرز سکتے ہیں۔

انہی دنوں میں سے ایک مبارک دن دروازے پر گھنٹی بجی۔ میں ہاتھ میں دودھ کی دیگچی لئے دروازے کی طرف بڑھا۔ دروازے پر ایک سات فٹ کا لمبا تڑنگا سیاہ فام جوان کھڑا تھا۔ مجھے دیکھ کر اس نے بڑے ادب سے سلام کیا اور میرے کان میں کہا۔ ”میاں صاحب آ رہے ہیں“ ہمارے محلے میں ایک میاں صاحب رہتے ہیں جن کی نظر ہمیشہ محلہ کمیٹیوں اور بہو بیٹیوں پر رہتی ہے۔ میں یہ سمجھا کہ کہ میری کسی خطا کی سرزنش کے لئے محلے والے میاں صاحب آ رہے ہیں۔

ایسے میں کیا دیکھتا ہوں کہ ”وڈے میاں صاحب“ بڑی سی سنہری گاڑی میں تشریف لا رہے ہیں۔ میرے تو ہاتھ پاوں پھول گئے۔ کیسے خاطر مدارت کروں گا۔ دودھ والا ابھی تک آیا نہیں تھا چائے کیسے بنے گی؟ میاں صاحب نے اس صورت حال کو بھا نپ لیا۔ نہایت شفقت سے بولے ”چائے میں پی کر آیا ہوں“۔ کہنے لگے ”آپ کے کالم ملک کی سیاست کا رخ بدل دیتے ہیں۔ یہ پانامہ کے کیس پر پی ٹی آئی کے لونڈوں نے بہت شور مچایا ہوا ہے۔ ذرا اپنے کالم میں دھیان رکھیے گا“۔

Read more

ڈاکٹر امجد ثاقب گلیمرس نہیں ہیں!

ڈاکٹر امجد ثاقب کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ گلیمرس نہیں ہیں۔ نہ تو وہ کوئی معروف کھلاڑی ہیں جس نے کھیل کے میدان میں کوئی کارنامہ انجام دیا ہو، نہ وہ کوئی گلوکار ہیں جس کی تان اور سُر کے ہزاروں متوالے ہوں، نہ وہ کوئی ایسے مقرر ہیں کہ حضرت عطاء اللہ شاہ بخاری کی یاد تازہ ہو جائے، نہ وہ کوئی ایسے فیشن آئیکون ہیں کہ جن کے لباس کی تراش خراش کی دنیا

Read more

میڈیا حکومت کو کام کرنے کی مہلت نہیں دے رہا

حیرت اس بات پر نہیں ہو رہی کہ موجودہ حکومت سے بہت فاش غلطیاں ہو رہی ہیں، حیرت تو اس بات پر ہے کہ وہ میڈیا جو پچھلے پانچ سال خان صاحب کی تعریفوں میں زمین آسمان ایک کر رہا تھا اب حکومت کو کام کرنے کی مہلت نہیں دے رہا۔ ساٹھ دن کسی بھی حکومت کی کارکردگی جانچنے کے لئے بہت ناکافی ہیں مگر بال کی کھال نکالی جا رہی ہے۔ ہر فیصلے کا تمسخر اڑایا جا رہا ہے۔ ہر وزیر کی تضحیک ہو رہی ہے۔ ہر ملک کے ساتھ معاملات کو نا اہلی پر محمول کیا جا رہا ہے۔ ڈالر کی قیمت سے اسٹاک مارکیٹ تک کا ملبہ سب نئی حکومت پر ڈالا جا رہا ہے۔

Read more

کس نام سے پکاروں؟

کہنے کو تو اردو زبان ہمیشہ سے تہذیب اور اخلاق کا استعارہ رہی ہے۔ کہنے کو تو یہ میر کی سہیلی اور مومن کی چہیتی رہی ہے۔ کہنے کو زبان اردو پر غالب کا سایہ فگن ہے، کہنے کو تو زبان اردو سودا کی میراث ہے۔ کہنے کو تو یہ منٹو کا اعزاز ہے، کہنےکو تو یہ فیض کا طرہ امتیاز ہے ، کہنے کو یہ فراز کا سہرا ہے، کہنے کو تو یہ جالب کی جاگیر ہے۔ لیکن اس

Read more

بکروں والی بیگم صاحبہ کی مہنگائی اور گردن کی بوٹیاں خریدنے والی اماں جی

مجھے گھر کا سودا سلف خریدنے کا بہت شوق ہے۔ یہ عادت مجھے اپنے والد صاحب سے پڑی ہے۔ وہ بچپن سے ہمیں بازار لے کر جاتے تھے۔ بازار جانا ایک بہت بڑی ایکٹوٹی ہوتی تھی۔ سبزی منڈی میں آلو ، پیاز ، ٹماٹر کے بھائو تائو کرنا، چن چن کر اچھی سبزی لانا۔ پھر گوشت کی دکان پر قصائی سے اپنی پسند کا گوشت لانا ۔ مرغی کے گوشت کی دکان سے اپنے سامنے مرغی ذبح کروانا۔ صاف گوشت

Read more

تحریک انصاف سے سیاسی بصیرت کا تقاضا

ملک اس طرح چل رہا ہے جس طرح آندھی چلتی ہے۔ ایسے لگتا ہے نہ کوئی گھر بچے کا نہ مکان ، نہ کوئی نظام بچے گا نہ ایوان۔ ہر طرف ایک "ہاپڑی” سی پڑی ہے۔ سب بگٹٹ بھاگ رہے ہیں۔ سمت کا تعین ابھی کسی کا مسئلہ نہیں ہے۔ کبھی اسلاف کی میراث عمارتیں بک رہی ہیں۔ کہیں بھینسوں کی فروخت سے قومی خزانے کو بھرا جا رہا ہے۔ کبھی بھارت کو سرعام دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ کبھی فرانس

Read more

کلثوم نواز کے بعد نواز شریف اور مریم کی جیل میں پہلی رات

جس وقت یہ کالم لکھا جا رہا ہے اس دن بیگم کلثوم نواز کے قل ہو چکے ہیں۔ پرسے کے لئے آنے والے جا چکے ہیں۔ نیب نے اعلی عدالت سے ضمانت منسوخ کروانے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ شنید یہ ہے کہ ایک دو دن میں ضمانت ہو جائے گی مگر یہ خبر ہم بہت بار سن چکے ہیں۔ اس وقت نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر ایک خصوصی طیارے میں لاہور سے روانہ ہو چکے ہیں۔ اڈیالہ

Read more

ہم زندہ قوم نہیں ہیں؟

سارا سال ہم یہ نعرے لگاتے نہیں تھکتے کہ ’’ ہم زندہ قوم ہیں‘‘۔ اس صراحت سے دروغ کو بیان کرتے ہیں کہ برسوں سے خود فریبی میں مبتلا رہتے ہیں۔ اس شدت سے ایک دوسرے کو اپنی زندگی اور تابندگی کا یقین دلاتے ہیں کہ خود فریبی کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ ہم نے خود کو زندہ کرنے کے لئےکیا کیا جتن کئے ہیں یہاں تک کہ خود کو زندہ کہنے کے لئے بارہا اپنے آپ کو مار دیا

Read more

کانسٹیبل عمران اور نواز شریف سے اڈیالہ جیل میں ملاقات

دوسرے ہفتے کی کاوش میں کامیابی نصیب ہوئی۔ پہلے ہفتے بغیر کسی کو کہے سنے اڈیالہ جیل پہنچنے کا تجربہ اتنا کامیاب نہیں رہا۔ چار گھنٹے دھوپ میں کھڑے رہنے کے بعد واپس جانا پڑا۔ اگلی جمعرات کے دن پھر ہمت پکڑی۔ اہم دوستوں کو فون کیا۔ کچھ عقل لڑائی کچھ سفارش کروائی اور اڈیالہ جیل میں داخلے کا اذن ملا۔ جو لوگ اس تجربے سے نہیں گزرے ان کو پتہ ہونا چاہیےیہ مرحلہ سہل نہیں ہے۔ اڈیالہ جیل کے

Read more

شیخ رشید کی شٹ اپ سے حنیف گل کی یو شٹ اپ تک

تحریک انصاف کی حکومت جس قدر تیزی سے قدرو منزلت کھو رہی اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ تین ہفتوں میں ہی ساری بات کھل کر سامنے آگئی ہے۔ کیا ہوا تھا؟ کیا ہو رہا ہے؟ اور کیا کرنے کا ارادہ ہے؟ سب واضح ہو کر سامنے آ رہا ہے۔ معاملات کا آغاز عمران خان کی قومی اسمبلی میں جلالی تقریر سے ہوا۔ کہا یہ گیا کہ عمران خان کو طیش آ گیا اور وزیر اعظم پاکستان نے وہ

Read more

ٹوکن والا سیاسی پینٹ

ٹی وی پر ایک اشتہار اکثر چلتا ہے جس میں ٹوکن والے پینٹ کی چالبازیوں کی تشہیر کی گئی۔ ہے۔ بات اتنی ہے کہ بعض جعلی کمپنیوں نے ناقص پینٹ کو فروخت کرنے کے لئے ٹوکن والے پینٹ کے ڈبے مارکیٹ میں لانا شروع کیے۔ جس میں پینٹ بھی ناقص ہے اور پینٹ کے اجزائے ترکیبی بھی خالص نہیں۔ دیکھنے میں یہ پینٹ بھی مہنگے پینٹ کی طرح ہوتا ہے۔ ڈبے کا سائز بھی وہی اور پیکنگ بھی وہی۔ لیکن

Read more

عمران خان کو درپیش چیلنجز

انتخابات کے بعد اب نئی حکومت کا قیام چند ہی دنوں کی بات ہے۔ نئی حکومت اپنے قیام سے پہلے ہی مشکلات میں ہے۔ متوقع وزیر اعظم عمران خان کی نا اہلی کی تلوار اس کے سرپر ہر وقت لٹک رہی ہے۔ کبھی ووٹ کو کیمروں کی موجودگی میں کاسٹ کرنے کا مسئلہ سر اٹھا لیتا ہے۔ کبھی بنی گالا کی جائیداد کا قضیہ کوئی چھیڑ دیتا ہے۔ کبھی علیم خان کی دبئی میں جائیداد کی کہانی سامنے آ جاتی

Read more

میں کون ہوں؟

میں دیکھنا چاہتا ہوں مگر میری آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی ہے۔ میں سننا چاہتا ہوں مگر میرے کانوں میں سیسہ پگھلا کر ڈال دیا گیا ہے۔ میں بولنا چاہتا ہوں مگر میرے لب سی دیے گئے ہیں۔ میں خواب دیکھنا چاہتا ہوں تو نیند کوسوں دور بھاگ جاتی ہے۔ میں سونے کی کوشش کرتا ہوں تو ہڑبڑا کر اپنے ہی خوف سے اٹھ بیٹھتا ہوں۔ میں خو د سے بھِی خوفزدہ ہوں لیکن بہادری کا تمغہ چاہتا ہوں۔ میں

Read more

میرے گھر کی دیوار گر گئی ہے

آج کے کالم کا عنوان نہ کسی شاعرانہ تعلی کا نتیجہ ہے اور نہ ہی یہ کسی غزل کا ناموزوں مصرع ہے۔ یہ حقیقت حال ہے۔ قصہ کچھ یوں ہے پرسوں علی الصبح ساڑھے پانچ بجے کے قریب شدید بارش کی وجہ سے ہمارے کرائے کے گھر کی بیرونی دیوار دھڑام سے گر گئی۔ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ سوئے ہوئوں کی آنکھیں خوف سے کھل گئیں۔ گھر کی دیواروں سے عجیب سی "گڑ گڑ” کی آوازیں آنے لگیں۔

Read more

سیاست کے رنگ

اس بات میں کوئی باک نہیں ہے کہ نواز شریف کو سیاست میں کچھ اہم قوتیں ہی لے کر آئی تھیں۔ اس وقت مقابلہ پیپلز پارٹی سے تھا۔ کئی برسوں کی کشمکش کے باوجود جب پیپلز پارٹی ختم نہ ہو سکی اور بے نظیر کے آنے کا خطرہ ہر وقت حضرت ضیا الحق کے سر پر لٹکتا رہا تو نواز شریف کو اس خطرے کے مقابلے کے لئے تیار کیا گیا۔ جنرل جیلانی اور جنرل ضیاالحق کی ذاتی نگرانی میں

Read more

معذور افراد کا الیکشن

ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں لگ بھگ تیس لاکھ کے قریب معذور افراد ہیں۔ یہ تعداد بالکل بھی درست نہیں مانی جاسکتی اس لئے کہ درست اعداد و شمار کا ہمارے ہاں فقدان ہے۔ نہ تو مردم شماری میں ان لوگوں کو درست طریقے سے شمار کیا گیا، نہ نادرا کے پاس اٹھارہ سال سے کم عمر لوگوں کی معذوری کا درست ریکارڈ ہے اور نہ ڈبلیو ایچ او کی اس رپورٹ کو درست مانا جاسکتا ہے کہ جس

Read more

اور مشین سانس لیتی ہے

میرا ہمیشہ سے یہ اعتقاد رہا ہے محبت اس کائنات کا ازلی جذبہ ہے۔ اسی کو دوام حاصل ہے۔ نفرت نہایت عارضی فعل ہے۔ یہ لمحاتی کیفیت ہے۔ اس کو دوام حاصل نہیں۔ یہ انسانی سرشت سے لگا نہیں کھاتا۔ اس کو بہرحال ختم ہونا ہوتا ہے۔ جنگ و جدل ، مارپیٹ، گالی گلوچ انسانی افعال ضرور ہیں مگر یہ سب وقتی ہیں۔ انسان ان قابل نفرین جذبوں سے عظیم ہے۔ انسانوں کو محبت کے لئے تخلیق کیا گیا ہے۔

Read more

یوسفی: کون لفظوں کو سکھائے گا تبسم خیزیاں

پیدائش جے پور کی تھی، درس گاہ علی گڑھ یوینورسٹی رہی، تعلیم فلسفے کی حاصل کی، لگے ہاتھوں ایل ایل بی بھی کر لیا، پہلی ملازمت ڈپٹی کمشنری ٹھہری، روزگار بینکاری کے شعبے سے پایا، پاکستان کے چار بڑے بینکوں کے صدر رہے اور پھر بینکنگ کونسل کے چیئرمین بھی بنے، جثہ دھان پان سا، قد ساڑھے پانچ فٹ سے بھی نکلتا ہوا اور رنگت ایسی کہ کبھی خود پر فخر کی نوبت نہیں آئی۔ فارغ البال تھے لہذا منہ

Read more

انتخابات میں کون جیتے گا؟

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ نواز شریف سیاسی طور پر بہت خوش قسمت آدمی ہیں۔ گذشتہ پانچ سال کے اخبارات نکال کر دیکھ لیں۔ کون کون سا الزام ہے جو نواز شریف پر نہیں لگا۔ ایک سو چھبیس دن جاری رہنے والے دھرنے میں کون سی گالی ہے جو نواز شریف کو نہیں دی گئی۔ دھاندلی کے وہ الزام لگے جن کو وقت نے صرف وٹس ایپ کی افواہیں ثابت کیا۔ اربوں کھربوں کی کرپشن کا نعرہ لگا

Read more

ڈاکٹر سعید اختر اب آپ جا نہیں سکتے

آج کل میڈیا پر سیاسی خبروں کے علاوہ ایک عدالتی نوٹس کا بہت تذکرہ ہو رہا ہے۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ ” چیف جسٹس پاکستان نے پاکستان کڈنی لیور انسٹیٹیوٹ میں بھاری تنخواہوں کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے پی کے ایل آئی کے بجٹ اور بھرتی کیے گئے ڈاکٹرز اور عملے کی تفصیلات پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔عدالت نے پی کے ایل آئی اے میں ملازمین کے سروس اسٹرکچر کی تفصیلات بھی طلب کرلیں جب کہ چیف جسٹس

Read more

جلدی کرو بچو، بھوت آ جائے گا

منظور پشتین کی پشتون تحفظ موومنٹ کا ذکر آتے ہی کسی انجانے بھوت کے خوف سے سب خاموش ہو جاتے ہیں بچپن میں جب بوڑھی دادی اماں کہانی سناتے سناتے تھک جاتیں اور نٹ کھٹ بچے ‘پھر کیا ہوا؟’ کا سوال لے کر درپے رہتے تو دادی اماں آخری حربے کے طور پر کہا کرتیں ‘بچو اب جلدی سے سو جاؤ ورنہ بھوت آ جائے گا۔’ یہ دھمکی ہمیشہ کارگر ثابت ہوتی اور ایک انجانے خوف کے زیر اثر بچے

Read more

نواز شریف کی آزمائش ختم ہوئی، اب عمران خان کا امتحان ہے

دھرنوں سے ڈری ہوئی، آمریتوں کی ڈسی ہوئی ، میڈیا کے انقلابی اینکروں میں پھنسی ہوئی اور انجانے خدشوں میں پلی ہوئی جمہوریت کا ایک اور دور مکمل ہو گیا۔ اس ملک کی تاریخ میں یہ ایک اہم سنگ میل ہے۔ اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا۔ اس بات پر سارا پاکستان مبارکباد کا مستحق ہے۔ امید یہ رکھنی چاہیے کہ یہ سلسلہ اب چلا ہے تو رکے گا نہیں۔ کوئی بھاری پتھر اب جمہوریت کی راہ میں حائل

Read more

عمران خان کا 100 روزہ ترقیاتی منصوبہ

گزشتہ ہفتے تحریک انصاف نے پورے طمطراق سے حکومت میں آنے کے بعد اپنے سو روزہ انقلابی منصوبے کاا علان کیا۔ اس منصوبے کے بنیادی نکات میں طرز حکومت کی تبدیلی، معیشت کی بحالی،زرعی ترقی،پانی کا تحفظ، سماجی خدمات، غیرسیاسی بھرتیاں،سی پیک کو تحفظ دینا، چوری شدہ دولت واپس لانا،ایک کروڑ ملازمتیں،ایک ارب درخت، پچاس لاکھ گھر، صحت کے مسائل کا حل، قرضے نہ لینے کا عہد، سوا تین کروڑ سرکاری اسکولوں کے بچوں پر توجہ دینا، پچیس لاکھ مدارس

Read more

میاں صاحب کا مجوزہ کمیشن اور پاکستان کا ملکی مفاد

اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ نواز شریف کا لہجہ اور انداز سیاست تبدیل ہو رہا ہے۔ یہی میاں صاحب تھے جو نرم گوئی، بردباری اور معاملہ فہمی کے لئے مشہور تھے، اب ہر وقت اپنے بیانات سے آگ برسا رہے ہوتے ہیں۔ ان کے قریبی احباب بھی یہ بتاتے ہیں کہ نواز شریف جس قدر غصے میں آج کل ہیں، اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھے تھے۔ شاید اسی طیش کے عالم میں سرل المیڈا کو ایک

Read more

گالی اور گولی

گذشتہ ہفتے کے واقعات میں سب اہم واقعہ وزیر داخلہ جناب احسن اقبال پر قاتلانہ حملے کا رہا۔ اسطرح کے روح فرسا واقعات میں یہ پہلا واقعہ نہیں تھا۔ اس سے پہلے سابق وزیر خارجہ جناب خواجہ آصف کے چہرے پر بھی سیاہی پھینکی گئی۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے اوپر بھی جوتا اچھا لا گیا۔ جناب عمران خان پر بھی ایک جلسے میں جوتے سے وار کیا گیا۔ اس سے پہلے 2013 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی اور

Read more

تجربہ گاہ کے سائنسدان اور بوڑھا ملازم

ایک وسیع و عریض ہال میں بہت سے سائنسدان جمع تھے۔ ہال کے باہر سرخ لائٹ ہال میں ہونے والے تجربات کی اہمیت کو بیان کر رہی تھی۔ ہال میں موجود سائنسدانوں نے سفید لباس پہنے ہوئے تھے، جراثیم سے بچنے کے لیے سر پرشیشے کا ماسک پہنا ہوا تھا۔ ہاتھوں کو کسی انفکشن سے بچانے لیے کہنیوں تک سفید دستانے بھی چڑھائے ہوئے تھے۔ بات چیت کے لئے خود کار آلات لباس کے اندر موجود تھے۔ سارے ہال میں

Read more

عمر چیمہ کی خبر اور عدلیہ کا نوٹس

گزشتہ دنوں جنگ اور نیوز میں برادرم عمر چیمہ کی ایک خبر کا بہت تذکرہ رہا۔یہ خبر ایک نابینا وکیل جناب یوسف سلیم کے بارے میں تھی۔ جنہیں مجسٹریٹ /سول جج کے امتحان میں امتیازی نمبر حاصل کرنے کے باوجود انٹرویو میں فیل کر دیا گیا تھا۔ اس امتحان میں پورے پنجاب سے ساڑھے چھ ہزار وکلا نے داخلہ جمع کروایا ۔ تین ہزار چھ سو سے زائد نے امتحان دیا اور کل اکیس امیدوار کامیاب ہوئے۔ ان اکیس کامیاب

Read more

ترک عبدالباقی سے غیرت کے نام پر ہماری جنگ

گذشتہ کچھ دنوں سے قیام ترکی میں ہے۔ مقصد تو سیاحت تھا مگر ہر سیاح کی طرح ہر مقام پر ترکی اور پاکستان کا تقابل کرنا پڑا۔ اس تقابل کی بنیادی وجہ تاریخ، ثقافت، جغرافیہ نہیں بلکہ عبد الباقی نامی ایک ٹور گائیڈ ہے۔ جس نے ترکوں کی عظمت کے قصے سنا سنا کر ہمیں زچ کر دیا۔ ہمارے میزبانوں نے عبدالباقی کو ہمارے ساتھ ایسا نتھی کیا کہ وہ شہر شہر، قریہ قریہ لے کر ہمیں گھومتا ہی رہا۔

Read more