بانٹنے والا ہی اپن کا بھگوان ہے

کل بھی کراچی میں زمین اسی طرح تپ رہی تھی جیسے آج تپ رہی ہے۔ کل بھی میں اسی زیرِ تعمیر موڑ سے گزرا جہاں آتی جاتی گاڑیوں کے ٹائروں کی دھول آج بھی اس دو ڈھائی سال کی بچی کے منہ پر پینٹ کی طرح جمی ہوئی تھی جس کی ماں مسلسل ہاتھ پھیلائے کھڑی تھی۔

جیسے اس زیرِ تعمیر موڑ پر ایک عرصے سے پڑے پتھر، مسلسل اٹھتی گرد، ٹوٹے فٹ پاتھ کا کنارہ پڑے ہیں۔ بالکل ویسے ہی یہ بچی اور اس کی ماں اس منظر کا حصہ ہیں۔ اگر یہ انسان ہوتے تو اسی جگہ نیم ایستادہ نہ رہنے دیے جاتے۔

Read more

ایک منتخب جمہوری معزول دہشت گرد کی موت

اگر جدید مصر کی تاریخ کے پہلے منتخب معزول صدر محمد مرسی کی موت طبعی ہے تو جنرل ریٹائرڈ و حاضر سروس ریفرینڈمی صدر عبدالفتح السسی کی حکومت کو اقوامِ متحدہ سمیت عالمی تنظیموں اور ترک صدر رجب طیب اردوان کے اس تحقیقاتی مطالبے سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے کہ جیل میں سابق صدر کو کس معیار کی طبی سہولتیں میسر تھیں اور انھیں کون کون سے امراض لاحق تھے کہ وہ اچانک عدالت کے پنجرہ نما کٹہرے میں پٹ سے گر پڑے اور جھٹ سے مر گئے اور گرنے کے بیس منٹ بعد بھی انھیں جیل کے اسپتال روانہ نہیں کیا گیا البتہ جیل کے مردہ خانے میں انھیں نہلایا ضرور گیا۔

Read more

قاتل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہم!

مچھر ضرور مارنے چاہئیں کیونکہ ان سے ملیریا اور گندگی پھیلتی ہے لیکن جن جوہڑوں اور نالیوں میں مچھر پیدا ہوتے ہیں وہ چند ہی دنوں میں مچھروں کی ایک نئی کھیپ تیار کردیتے ہیں اور ہم پھر انھیں مارنے پر لگ جاتے ہیں۔ جوہڑ اور نالیاں جوں کی توں رہتی ہیں۔ بالکل ایسے جیسے کنوئیں کو پاک کرنے کے لیے چالیس ڈول پانی نکال لیا جائے مگر کتا نہ نکالا جائے تو فائدہ؟

Read more

امریکی حیلہ سازی: یہ کہانی نئی تو نہیں

اگلے چند روز میں خلیج میں کیا ہونے والا ہے اور کیا نہیں۔ یہ تو ایران، خلیجی ریاستیں اور امریکا جانیں۔ البتہ پچھلے سوا سو برس کی تین امریکی کہانیاں مجھ سے سن لیجیے۔

انیسویں صدی کے آخری عشرے میں اسپین اپنی آخری جنوبی امریکی نوآبادی کیوبا پر قبضہ برقرار رکھنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہا تھا۔ ریاستہائے متحدہ امریکا پورے براعظم کا بلا شرکتِ غیرے نیا آقا بننا چاہتا تھا۔ لہذا صدر ولیم کونلے نے کیوبائی مزاحمت کار قوم پرستوں سے برسرِپیکار اسپین پر دباؤ بڑھانے کے لیے امریکی بحریہ کا جنگی کروزر یو ایس ایس مین کیوبا کے دارالحکومت ہوانا کے قریب کھلے سمندر میں لنگر انداز کر دیا۔ تین ہفتے بعد پندرہ فروری اٹھارہ سو اٹھانوے کو یو ایس ایس مین خوفناک دھماکے سے دو ٹکڑے ہو کر غرق ہو گیا۔ عملے کے دو سو ساٹھ افراد ہلاک ہوگئے۔ صرف اٹھارہ زندہ بچ پائے۔

Read more

میں نے اپنا ہی ہاتھ تھام لیا

اگر پہلے برس میں ہی یہ حال ہو گیا ہے کہ چھوڑوں گا نہیں ماروں گا چن چن کے، پانچ ہزار لٹکا دو تو سب ٹھیک ہو جائے گا، زرد صحافت کا علاج گالی گھونسہ اور تلوار۔ تو سوچیے کہ اگلے چار برس کس طرح یہ حکومت اور پرجا گزار پائے گی؟ اگر حکماِ عظام ہی شغلِ بے نظام اپنا لیں گے تو گلی محلوں کے تلنگے کہاں جائیں گے۔

اب تو یہ تمیز کرنا بھی دشوار تر ہوتا جا رہا ہے کہ یہ کوئی سنجیدہ تھیٹر ہے، کامیڈی ہے، بلیک کامیڈی کہ ٹریجڈی۔

Read more

گریش کرناڈ کی کہانی

چھ جون کو لاہور میں ڈاکٹر انور سجاد کا چوراسی برس کی عمر میں انتقال ہوا۔ دس جون کو بنگلور میں بھارت کے مہان ڈرامہ نگار، شاعر، ڈائریکٹر، اداکار اور منتظم گریش کرناڈ کا اکیاسی برس کی عمر میں انتقال ہو گیا۔ بہت سے پاکستانی قارئین کو یہ سمجھانا مشکل ہے کہ گریش کرناڈ تھیٹر، ٹی وی، فلم اور ادب کی کتنی قدآور شخصیت تھے۔ ان کی موت پر آبائی ریاست کرناٹک میں تین دن کا سرکاری سوگ منایا گیا۔

Read more

نئی نسل بھی اتنی ہی بےوقوف ہے

ہر زمانہ اپنے مسائل اور بیانیہ اسلوب ساتھ لاتا ہے۔ اس لیے زمانی موازنہ ہی بے وقوفی ہے نئی نسل سے ربط نہ رکھنے کا ایک فائدہ یہ ہے کہ مجھ جیسوں کا خودساختہ خول برقرار رہتا ہے اور میں ماضی کے عصا سے ٹیک لگائے کمر پر ہاتھ دھرے کہہ سکتا ہوں کہ میاں ہم نے جو زمانہ گزار لیا وہ آج کے لمڈوں لپاڑوں کو کہاں نصیب۔ پڑھائی لکھائی ہوتی تھی ہمارے زمانے میں۔اب تو تعلیم کے نام

Read more

غلاموں کو غصہ کیوں آتا ہے؟

حالیہ بھارتی لوک سبھا انتخابات میں نریندر مودی اور راہول گاندھی سے لے کر نچلے لیول تک کے امیدواروں اور نیتاؤں نے جلسوں میں ایک دوسرے کے بارے میں جو کھلی زبان استعمال کی اسے سنا تو جا سکتا ہے مگر لکھا نہیں جا سکتا کیونکہ لکھنے پر فحاشی کا مقدمہ پکا پکا بن سکتا ہے۔ پاکستان میں بھی پچھلے چار پانچ برس سے ایک دوسرے کے خلاف جو زبان استعمال کی جا رہی ہے اس کے لئے نیچ کا

Read more

الطاف حسین: ایک پپی اِدھر ایک پپی اُدھر

کیا زمانہ تھا جب الطاف حسین کو پہلی بار منی لانڈرنگ کے شبہ میں سکاٹ لینڈ یارڈ کے دفتر میں سوال و جواب کے لئے طلب کیا گیا تو ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کو باقاعدہ فوری بیان جاری کرنا پڑا کہ یہ معمول کی کارروائی ہے۔ فکر کی کوئی بات نہیں۔ شہری اپنا کاروبار جاری رکھیں۔یہ اعلان اس لئے کرنا پڑا کہ چوتھائی صدی سے سندھ کے شہری علاقوں کے لوگ عادی ہو چکے تھے کہ ایک کونسلر یا سیکٹر انچارج یا رکنِ صوبائی اسمبلی کی گرفتاری کی بھی خبر آئے تو موٹر سائیکل سوار لڑکوں کی آمد کا انتظار کئے بغیر دوکانوں کے شٹر گرا کے تالا لگا دیں۔

Read more

چونا منڈی کا لڑکا (حصہ دوم)

انیس سو چھتر تک ذوالفقار علی بھٹو ان تمام لوگوں سے ایک ایک کر کے کٹ چکے تھے جن کے خوابوں کی پالکی پر بیٹھ کر وہ اقتدار کے حجلہِ عروسی میں چار برس پہلے داخل ہوئے تھے۔ اسی آخری دور میں ڈاکٹر انور سجاد پارٹی کی تنظیمِ نو کے لیے لاہور پیپلز پارٹی کے رابطہ کار سیکریٹری بنائے گئے۔ ان کی اسلم گورداسپوری جیسے آدرشی سے سب سے زیادہ چھنتی تھی۔ پھر مارچ انیس سو ستتر کا الیکشن آ گیا اور پھر پانچ جولائی کو مارشل لا لگ گیا۔ پاکستان کی پہلی اور آخری سوشلسٹ حکومت لپٹ گئی۔ کج شہر دے لوگ وی ظالم سن کج ساہنوں مرن دا شوق وی سی۔

ڈاکٹر انور سجاد بھی ضیا کے ابتدائی دور میں تین بار پونے دو برس کی مجموعی مدت کے لیے جیل گئے۔ ان پر ٹی وی کے دروازے ہی بند ہوگئے۔

Read more

پیشِ خدمت ہے راگ بجٹ میں تازہ ٹھمری

دو روز بعد (گیارہ جون) عمران حکومت اپنا پہلا سالانہ قومی بجٹ پیش کرنے جا رہی ہے۔ گذشتہ بجٹ مسلم لیگ ن حکومت نے پیش کیا تھا۔ مگر عمران حکومت نے اس بجٹ میں پچھلے ایک برس کے دوران دو اضافی منی بجٹ بھی سی دئیے۔ نئے بجٹ میں اہتمام رکھا جائے گا کہ محصولاتی آمدنی میں اضافے، توازنِ ادائیگی میں بہتری اور بجٹ خسارے کو کم کرنے کی بابت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف ) سے

Read more

چونا منڈی کا لڑکا (حصہ اول)۔

تقسیم سے پہلے لاہور میں دو طبیبوں کی دھاک تھی۔ دونوں کنگ ایڈورڈز کے گریجویٹ تھے۔ ان میں سے ایک ڈاکٹر دلاور علی شاہ تھے جو اندرونِ شہر چونا منڈی میں کلینک کرتے تھے۔ ان کے ہاں انیس سو پینتیس میں انور سجاد کی ولادت ہوئی۔ ڈ اکٹر دلاور چونکہ صوفی منش تھے لہذا کشادہ دل تھے۔ انور کو یاد ہے کہ ان کے گھر میں اکثر اجتماعِ ضدین رہتا تھا۔

ایک رشتے کے ماموں کٹر کیمونسٹ تھے اور ایک خالو جو نویں محرم کو امام بارگاہ سے ذوالجناح نکالتے تھے۔ دونوں سے انسان دوست ابا کی مذہبی و نظریاتی بحثیں رہتی تھیں۔ تینوں اپنے اپنے نقطہِ ہائے نظر پر اڑے رہتے مگر ایک دوسرے کے بغیر رہ بھی نہیں سکتے تھے۔ تو گویا ننھے انور سجاد کی غیر شعوری مذہبی و سیکولر تعلیم و تربیت ایسے بوقلموں نظریاتی ماحول میں ہو رہی تھی ( بقول انتظار حسین انور سجاد محلے کی مسجد میں اٹھارہ برس کی عمر تک اذان دیتے بھی پائے جاتے۔ یعنی آؤ فلاح کی طرف ) ۔

Read more

کیا صور پھونکا جا چکا ہے ؟

انسانی نفسیات بھی کیا عجوبہ ہے۔اگر میں کہوں کہ پاکستان میں ہر سال پانچ لاکھ بچے پیٹ کی قابلِ علاج بیماریوں میں مبتلا ہو کر ہماری انفرادی و اجتماعی ، سماجی و ریاستی لاپرواہی کے سبب مر جاتے ہیں تو ننانوے فیصد امکان ہے کہ آپ کے کان پر جوں تک نہ رینگے اور آپ کا دل اسے شائد این جی او کلچر کا مالیخولیا سمجھ کر غور کرنے سے پہلے ہی مسترد کردے اور دماغ میں لال بتی روشن ہوجائے کہ توجہ حاصل کرنے کے لیے ایک اور سستا جھوٹ۔

Read more

یہ صحت کا نہیں ریاست کا انہدام ہے

حالانکہ عید کے موقع پر کچھ اچھا اور میٹھا لکھنا بنتا ہے لیکن جب کوئی خبر دل اور دماغ کو کڑوا زہر بنا دے تو پھر اچھے کا خیال و ارادہ پرلے درجے کی منافقت لگتا ہے۔ جیسے یہی خبر کہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال ساہیوال میں ہفتے اور اتوار کے درمیان نرسری وارڈ میں آٹھ نومولود بچوں کی موت ہو گئی۔ورثا کہتے ہیں کہ وارڈ کا ایئرکنڈیشنڈ بند ہوگیا تھا۔عملہ اسے درست کرانے کے بجائے تسلیاں دیتا رہا کہ

Read more

یا اللہ یا رسول خان صاحب بے قصور

انگریزی کا محاورہ ہے ” بارکنگ اپ دی رانگ ٹری "۔یعنی غلط درخت پر بھونکنا۔اس کا پس منظر یہ ہے کہ کتا کسی شکار کا تعاقب کرتا ہے اور شکار تیزی سے ایک درخت پر چڑھ کر دوسرے پر چھلانگ مارتے ہوئے یہ جا وہ جا۔ مگر کتا پہلے درخت کے نیچے ہی کھڑا بھونکتا رہتا ہے ۔بہت دیر بعد احساس ہوتا ہے کہ شکار تو کب کا کہیں سے کہیں نکل لیا اور درخت بے قصور ہے۔

اب ذرا غور فرمائیے کہ ہم سب روزانہ کتنی بار یہ حرکت بذاتِ خود فرماتے ہیں۔ پھل یا سبزی مہنگے ملیں تو گالیاں ٹھیلے والے کو پڑتی ہیں حالانکہ وہ غریب تو خود اپنا سامان منڈی کے کسی ذخیرہ اندوز آڑھتی سے مہنگے داموں خرید کر لایا ہے اور اپنا منافع رکھ کے آپ کو فروخت کر رہا ہے۔

Read more

بہتری کے مغالطے سے فی الحال نکل آئیں

دو روز قبل نریندر مودی نے دوسری بار وزارتِ عظمی کا حلف اٹھا لیا۔ راشٹر پتی بھون کے لان میں بالی وڈ کے ستاروں سمیت جن چار ہزار مہمانوں نے شرکت کی ان میں دو ہزار چودہ کی حلف برداری کے برعکس سارک سربراہانِ مملکت و حکومت کو مدعو نہیں کیا گیا۔اس کے بجائے خلیجِ بنگال منصوبہ برائے اقتصادی و کثیر جہتی تکنیکی تعاون ( بمسٹیک ) کی سات رکنی تنظیم کے نمایندوں کو بطور خصوصی مہمان دعوت دی گئی۔نیز

Read more

ادریس صاحب جا چکے ہیں

اگر کسی پچھتر سالہ شخص کے ستاون برس صحافت میں گذرے ہوں تو اس کے سوا کیا کہا جائے کہ وہ پیدا ہی صحافت کے لئے ہوا تھا۔ سنہ باسٹھ میں ایوب خان سے دو ہزار انیس میں عمران خان تک قسم ہا قسم کے گیارہ ادوار میں اپنی صحافت جینے والے ادریس بختیار ۔ چونکہ وہ چھ عشرے پہلے اس پروفیشن میں آئے لہذا صحافت کو صحافت سمجھتے رہنے کی ضد کے ہی تادمِ مرگ اسیر رہے اور بمشکل

Read more

رمضان اور عوام کی ریاستِ مدینہ

ماہِ رمضان اختتامی عشرے میں داخل ہو گیا ہے۔ہر برس کی طرح اس بار بھی دو پاکستان دیکھنے کو ملے۔ایک وہ  جس میں خشک اجناس ، سبزیوں اور پھلوں کے آڑھتیوں اور ذخیرہ اندوزوں نے بچت بازار ، سستا بازار اور قیمتوں پر کنٹرول کے سرکاری ہدایت ناموں کو اڑا کے پھینک دیا۔ دوسرا پاکستان وہ جس نے افطار و سحری کے دوران اپنا دل کھول کے اسے دسترخوان میں بدل دیا۔ حکومت تو جب ریاستِ مدینہ کی جھلک دکھائے

Read more

چیئرمین نیب اور آڈیو وڈیو کی تیرتی لاش

گذشتہ ہفتے اچانک ایک پاکستانی چینل ( ٹی وی ون ) پر چیرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال اور ایک خاتون کے درمیان حساس و طرح دار گفتگو کا ایک آڈیو اور وڈیو کلپ نشر ہوا اور پھر اچانک اس سے لاتعلقی اختیار کر کے چینل نے معذرت کر لی۔ مگر سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں کو بہرحال مصالحہ ہاتھ آ گیا۔ رسیلے مواد کی میمز بننی شروع ہوئیں، انکوائری کے مطالبے ہونے لگے، چیرمین نیب کے استعفی کا مطالبہ سامنے آ گیا۔

Read more

یقین کیجیے بھارت واقعی بدل گیا ہے

سینتالیس کی تقسیم اور انیس سو ستتر میں ایمرجنسی کے ردِعمل میں اندراگاندھی کی ہار کے بعد سے بھارت کی تہتر برس کی تاریخ میں دو ہزار انیس تیسرے سب سے بڑے اہم موڑ کی حیثیت سے یاد رکھا جائے گا۔اور اب بھارت جو موڑ مڑا ہے وہ کتنا لمبا ہے۔ہم میں سے کوئی نہیں جانتا۔ دو ہزار انیس میں بھارت سیکولر ازم کی سیاست کو خیرباد کہہ کر مکمل طور پر اکثریتی مذہبی طبقے کی قوم پرست جمہوری آمریت

Read more

فوری انصاف کی ایک بغدادی کہانی

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ شہر بغداد میں ایک شیخ اور اس کا مرید ساتھ ساتھ رہتے تھے۔ ایک بار انھوں نے کسی دوسرے ملک کی طرف سفر کیا۔ راستے میں ایک شہر آیا اور انھوں نے سفر کی تھکن اتارنے کے لیے ایک رات کے پڑاؤ کا فیصلہ کیا۔ شدید بھوک ستا رہی تھی۔ مگر دونوں یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ وہاں کھانے پینے کی اشیا سمیت ہر شے ایک درہم فی سیر یا فی عدد کے حساب سے بک رہی ہیں۔ اس قدر سستائی دیکھ کر مرید کی رال ٹپکنے لگی اور شیخ سے عرض کی کہ حضور اس شہر میں اپنے قیام کی مدت بڑھا لیجے تاکہ ہم کچھ دن یہاں کی نعمتوں سے لطف اندوز ہو سکیں۔

Read more

کیا ایران امریکا جنگ ناگزیر ہے؟

جانے دیجیے یہ بحث کہ ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ایرانی جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے بارے میں چار برس پہلے امریکا کی طرف سے جس اوباما نے مشترکہ عالمی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔اسی امریکا کے ٹرمپ کو آخر اس معاہدے میں ایسے کیا کیڑے نظر آنے لگے جو باقی ضمانتیوں ( فرانس، برطانیہ، جرمنی، روس، چین ) کو اب تک دکھائی نہیں دے رہے۔ اس بحث کا وقت بھی گذر گیا کہ قصور وار امریکا ہے

Read more

تہتر برس سے امید کی زمین میں ڈرلنگ کرنے والی قوم

والد مرحوم کہتے تھے ’بیٹا کوئی اچانک آکر تم سے کہے کہ وسعت میاں کتا تمہارا کان لے گیا ہے تو کتے کے پیچھے بھاگنے سے پہلے اپنے کان ہاتھ لگا کے چیک ضرور کر لو‘۔کل بروز ہفتہ اٹھارہ مئی وزیرِ اعظم عمران خان نے پشاور میں شوکت خانم ہسپتال کے لیے فنڈ جمع کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ’آج آپ نے دو نفل ضرور پڑھنے ہیں۔ کیونکہ کراچی کے قریب سمندر میں گیس کا کنواں کھودا جا رہا ہے۔ ایک ہفتے میں پتہ چل جائے گا۔ ہو سکتا ہے اتنا بڑا زخیرہ مل جائے کہ اگلے پچاس سال تک گیس باہر سے منگوانے کی ضرورت نہ پڑے‘۔

Read more

کیا لاڑکانہ واقعی ایڈز کیپیٹل ہے ؟

کوئی بھی مسئلہ دو طرح سے حل ہو سکتا ہے۔پہلا طریقہ یہ ہے کہ اسے حل کر دیا جائے ، دوسرا یہ ہے کہ اسے مسئلہ ہی نہ سمجھا جائے۔جیسے اکتوبر دو ہزار سولہ میں کسی غیر ذمے دار اخبار میں نہیں بلکہ جرنل آف پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن میں شائع ہوا کہ لاڑکانہ کے چانڈکا میڈیکل کمپلیکس میں گردے کے ڈائلیسس کے چھپن مریض ایچ آئی وی پازیٹو ( ایڈز کے وائرس میں مبتلا ) پائے گئے۔ان میں سے

Read more

ایمنسٹی کی الف، ب ت

یونانی اصطلاح ’ایمنیژیا‘ کا مطلب ہے بھول جانا۔ ’ایمنیژیا‘ سے نکلی ’ایمنسٹی‘، جو 16ویں صدی سے انگریزی اصطلاحات کا حصہ بن گئی۔ عام طور پر ایمنسٹی (مشروط عام معافی) اور پارڈن (معافی) کے تحت ملنے والی معافی کو خلط ملط کر دیا جاتا ہے۔ دونوں میں بنیادی فرق یہ ہے کہ ایمنسٹی کا استعمال سزا سے پہلے ہوتا ہے اور پارڈن سزا سنائے جانے کے بعد مل سکتی ہے۔ پارڈن کا اختیار عام طور سے بادشاہ یا سربراہِ مملکت کو حاصل

Read more

ایک دیکھا بھالا المیہ

جب آپ تازہ ہوا کے لیے کھڑکی کھولتے ہیں تو کچھ مکھیاں بھی اندر گھس آتی ہیں ( ڈینگ ژاؤ پنگ )۔ جب دو ریاستوں کے درمیان معاشی تعاون کی کھڑکی کھولتی ہے تو شہریوں کی آہر جاہر بھی شروع ہوتی ہے اور اس آمدورفتی ہجوم کی آڑ میں جرائم پیشہ عناصر اور مافیائیں بھی اپنا کاروبار اور بین الریاستی تعاون پھیلاتی ہیں۔ان پر نظر رکھنے اور اپنے شہریوں کے مفادات ، جان و مال ، عزت و آبرو کے

Read more

بچوں کو پارلیمنٹ سے دور رکھیں

گذشتہ ہفتے بلوچستان اسمبلی کی ایک رکن ماہ جبین شیران اپنی گود میں بچہ لے آئیں۔ کچھ ارکانِ اسمبلی نے ایوان میں ایک غیر رکن یعنی بچے کی موجودگی پر اعتراض کیا چنانچہ قانون کے مطابق ماہ جبین کو اجلاس چھوڑنا پڑ گیا۔ماہ جبین نے بعد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس لیے بچے کو ساتھ لے آئیں کیونکہ وہ فوری طور پر اسے کہیں نہیں چھوڑ سکتی تھیں اور کام پر توجہ کے لیے ضروری تھا کہ بچہ ان کے ساتھ رہے۔

Read more

آئی ایم ایف اور ہیروئنچی

اس وقت سیاسی مچھلی بازار میں وہ آپا دھاپی ہے کہ کچھ پلے نہیں پڑ رہا کون کیا آواز لگا رہا ہے ، کیا بیچ رہا ہے ، خرید رہا ہے ، کس بھاؤ اور کیوں؟ آئی ایم ایف (انٹرنیشنل مونیٹری فنڈ) سے قرضہ بھی چاہیے اور آئی ایم ایف سے ڈرا اور ڈرایا بھی جا رہا ہے۔گنتی کی جائے تو سن اسی کے بعد سے یہ تیرہواں آئی ایم ایف پروگرام ہے۔ ضیا تا عمران ہر حکومت نے اس

Read more

یہاں رنگین ایکسرے کی سہولت میسر ہے

جب نواز شریف چھ ہفتے کی طبی ضمانت پر رہا  ہوئے تب سے یہ سوال سرکاری و میڈیائی سطح پر اٹھایا جا رہا ہے کہ آخر میاں صاحب لندن میں علاج کروانے پر کیوں مصر  ہیں۔کیا پاکستان میں ایسا کوئی جدید طبی مرکز نہیں جہاں میاں صاحب کا تسلی بخش علاج ہو سکے؟ تہتر برس میں کیا ایک بھی ایسی علاج گاہ کوئی بھی حکومت نہ بنا پائی جس کے ہوتے  باہر جانے کا نہ سوچنا پڑے۔ آخر جب میاں

Read more

صحافیو! سچ کو جھوٹ میں مت ملاؤ

تین مئی کو عالمی یومِ صحافت پاکستان میں بھی منایا گیا۔ صحافی انجمنوں نے اپنے تئیں کچھ اجتماعات کیے اور سرکار نے پاکستان کے سب سے پرانے انگریزی اخبار اور اس کے ذیلی ٹی وی چینل کے لئے اپنے اشتہارات روک کر یومِ صحافت منایا۔ نیز وزیرِ اعظم عمران خان نے یومِ صحافت پر ’ان کے لیے جو جھوٹی خبریں پھیلاتے ہیں‘ سورہِ بقرہ کی یہ آیت ٹویٹ کی ’اور سچ کو جھوٹ میں نہ ملاؤ اور نہ ہی اس

Read more

ڈی جی صاحب نے مزید کیا کہا؟

چھ دن پہلے (انتیس اپریل) فوج کے شعبہِ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے لگ بھگ ڈیڑھ گھنٹے کی میڈیا بریفنگ میں فوج کے نقطہ ِ نظر سے معروضی حالات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا نے حسبِ توقع پشتون تحفظ موومنٹ کے مصالحے پر پورا فوکس کیا اور ڈی جی صاحب نے دیگر موضوعات پر جو اہم باتیں کیں ان کا سرسری تذکرہ کیا۔ چنانچہ میرا جی چاہا کہ ڈی جی صاحب کی ان

Read more

کیا یہ واقعی سنگین مسئلہ ہے؟

کم عمر لڑکیوں کی تعلیم کے حق میں عالمی سطح پر مہم چلانے والی پاکستانی نوجوان خاتون ملالہ یوسف زئی کے بارے میں آپ کا جو بھی نظریہ ہو مگر حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں اٹھارہ برس سے کم عمر کی زیادہ تر بچیوں کے مسائل اس دنیا کے ذمہ دار افراد کے لئے سنجیدگی سے قابلِ توجہ ہیں کیونکہ انہی بچیوں نے آگے چل کے ماں بننا ہے اور انہی ماؤں نے اگلی نسلوں کی تربیت کرنا

Read more

اہلِ لنکا نے ہی لنکا ڈھا دی

انگریزی محاورہ ہے کہ لڑائی کے بعد جو مکا یاد آئے اسے اپنے منہ پر مار لیں۔ تین برس پہلے آل سیلون جمیعت العلما نے متعلقہ سرکاری محکموں کو خبردار کیا کہ کچھ انتہا پسند مسلمان نوجوانوں کو شدت پسندی کی جانب راغب کر رہے ہیں۔ بالخصوص ظہران ہاشم نامی ایک شخص سوشل میڈیااور بطورِ خاص یوٹیوب چینل کے ذریعے زہریلا پروپیگنڈہ کر رہا ہے۔ مگر متعلقہ سرکاری محکموں نے جمعیت کی اس وارننگ کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ گزشتہ

Read more

میرا بچہ اپاہج ہوتا ہے تو ہو جائے

پولیو کے قطروں میں حرام جانوروں کے اجزا شامل ہیں، یہ امتِ مسلمہ کو بانجھ بنانے کی مغربی، یہودی، ہندو سازش ہے۔ ثبوت یہ ہے کہ جو لوگ اپنے بچوں کو یہ قطرے نہیں پلوانا چاہتے ان پر دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ قید اور جرمانے کی دھمکی دی جاتی ہے۔ کیوں اتنے پولیو ورکرز کی موت کے باوجود حکومت بچوں کو یہ قطرے پلوانے پر مصر ہے؟ اس کا مطلب ہے دال میں یقیناً کچھ کالا ہے۔ لہذا اگر میرا

Read more

گلاب جامن اور سانولی لڑکیاں

خشونت سنگھ سے ملاقات؟ کیا پاگل ہوگئے ہو؟ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا؟ ہم یہاں دلی میں رہتے ہوئے ان سے نہیں مل سکتے تو آپ کیسے مل پائیں گے؟

آج کل وہ اپنی پوتی کے قبضے میں ہیں جس نے 94 سالہ سردار جی ( مئی 2009 ) پر مارشل لا لگا رکھا ہے۔ اس عمر میں بچارے سردار جی کو چوبیس گھنٹے کی لیفٹ رائٹ کروا رکھی ہے۔

’بابا یہ کھاؤ گے وہ نہیں۔ وہسکی دو پیگ سے زیادہ نہیں۔ ملاقاتی صرف ایک دفعہ۔ وہ بھی شام سات سے آٹھ بجے تک بس۔ چیخ کے بات نہیں کرنی۔ غصے میں نہیں آنا۔ کھل کے قہقہہ نہیں لگانا ورنہ اچھو (کھانسی کا دورہ) آ جائے گا۔ مٹھائی صرف چکھنی ہے کھانی نہیں۔ لکھنے کے اوقات یہ ہیں اور پڑھنے کے یہ اور چہل قدمی کا یہ وقت ہے‘ وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔

غرض بی بی سی دہلی بیورو کے ہندی اور اردو سروس کے دوستوں اور دوستنیوں نے میری حوصلہ شکنی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ صرف ایک امید دلائی گئی کہ اگر پوتی کے بجائے سردار جی نے فون اٹھا لیا جو کہ تقریباً ناممکنات میں سے ہے تب شاید ملاقات ہوسکے۔۔۔ مجھے ذرا دیر کے لیے لگا کہ میرے یہ سب دوست ہی دراصل خشونت سنگھ کی پوتی ہیں۔

Read more

بے شک انسان خسارے میں ہے

کل ( بائیس اپریل) عالمی یومِ ارض منایا گیا۔ ماحولیاتی تباہی کے دہانے پر کھڑے دنیا کے دس سب سے متاثر ممالک میں شامل پاکستان میں بھی کیا یہ دن سرکاری و غیر سرکاری سطح پر منایا گیا؟ شائد ہاں، شائد نہیں۔ آگاہ فرما کے ثوابِ دارین حاصل کریں۔ ہم کرہِ ارض کے وسائل تو لاکھوں برس سے استعمال کر رہے ہیں مگر ان وسائل کا ضرورت کے بجائے زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کے لیے استعمال ابھی دو سو

Read more

صورِ اسرافیل کی آخری جانچ پڑتال

گذری رات جشنِ نزولِ قرآن کی شبِ بارات تھی اور آج مسیحوں کا مقدس ایسٹر سنڈے ہے۔ ایسی رات اور ایسے دن کے اتصال پر ایک تیسرے بودھ مذہب کی اکثریتی ریاست سری لنکا سے خبر آئی ہے کہ دارلحکومت کولمبو، باتی کلووا اور نیگومبو میں آٹھ بم دھماکے ہوئے ۔ عبادت گزاروں سے بھرے تین گرجا گھر اور مسافروں سے بھرے چار اعلی ہوٹل نشانہ بنے ۔ اب تک دو سو سے زائد انسانوں کے مرنے اور چار سو

Read more

بیٹھیں تو مشکل، اتریں تو مشکل

شاید آپ کو بھی یاد ہو جب گزشتہ برس عام انتخابات سے چند ماہ قبل تحریکِ انصاف کی چھت پر پھیلے دانے دنکے کو دیکھ کر الیکٹ ایبلز پرندے دھڑا دھڑ اترنے لگے۔ کوئی پرندہ آ آ آ کرنے والے عمران خان کے کندھوں پر، کوئی ہاتھوں پر، کوئی سر پے اور کوئی قدموں میں بیٹھ گیا اور آس پاس کی چھتوں پر کھڑے آزمودہ پرندے بازوں کے ہاتھوں میں ترغیبی باجرا دھرے کا دھرا رہ گیا۔

کسی نے خان صاحب سے پوچھا آپ تو الیکٹ ایبلز اور پرانے چہروں سے اس قوم کو نجات دلا کر ایک تازہ دم قیادت کی مدد سے نیا پاکستان بنانا چاہ رہے تھے یہ کیا ہو رہا ہے؟ تس پر خان نے بہت بے بسی کے ساتھ جو کہا اس کا لبِ لباب یہ تھا کہ میں فرشتے کہاں سے لاؤں، نئے لوگ کہاں سے لاؤں۔ مگر آپ فکر نہ کریں میری قیادت انھی پرانوں کو نئے ڈسپلن میں رکھتے ہوئے اپنے وعدوں اور پروگرام کو عملی جامہ پہنائے گی۔ بس حوصلہ نہیں ہارنا، مایوس نہیں ہونا۔ حاسدوں کے نزدیک الیکٹ ایبلز کا اس طرح پارٹی کی چھت پر اترنا عمران کے خوابوں کی پہلی ہار تھی مگر عشاق کے نزدیک یہ ایک بیدار مغز آدرشی کپتان کی حقیقت پسندانہ حکمتِ عملی تھی۔

سب سے بڑا چیلنج معیشت ہی تھا۔ انتخابات سے پہلے خان صاحب اور ان کی ٹیم کا خیال تھا کہ اگر تمام مقتدر ادارے باہم دست و گریباں ہونے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے بجائے منتخب حکومت کے پیچھے کھڑے ہوں تو معیشت کو سیدھا کرنا مسئلہ نہیں ہوگا۔

Read more

جلیانوالہ باغ اور پہلوان کی ریوڑی

پہلی عالمی جنگ میں لگ بھگ تیرہ لاکھ ہندوستانی فوجی سلطنتِ برطانیہ عظمیٰ کی سربلندی کے لیے یورپ، افریقہ اور مشرقِ وسطی کے محاذوں پر لڑے۔ تقریباً ایک لاکھ زخمی اور پچھتر ہزار جاں بحق ہوئے۔ محاذ سے لوٹنے والے بہت سے فوجی انفلوئنزا کا وائرس ساتھ لائے۔ اس وائرس نے انیس سو اٹھارہ اور انیس کے دوران لگ بھگ مزید ساڑھے چار لاکھ ہندوستانی ہلاک کر دیے۔ ہندوستان نے نہ صرف انگریز بہادر کی عظمت اور ناک کے لیے

Read more

اب پاکستانی کیا کریں؟

بلوچستان کے وزیرِ داخلہ اور سوشل میڈیا پر بہت سے لوگوں کی اس بات میں دم ہے کہ جو لوگ دہشت گردی کا شکار ہوتے ہیں انھیں شیعہ، سنی، ہزارہ، بلوچ، پشتون کے بجائے پاکستانی کہا جائے۔ مگر پھر انھیں کیا کہا جائے جو دہشت گرد ہیں؟چلیے مان لیا کہ کوئٹہ میں 20 پاکستانی شہید اور 48 زخمی ہوئے اور اب تک جو پچاس، ساٹھ، ستر ہزار پاکستانی دہشت گردی کا نشانہ بنے ان کی بھلے کوئی بھی قومیت، نسل، عقیدہ، رنگ یا علاقہ ہو مگر وہ سب پاکستانی ہیں۔

Read more

ریاست کا شاندار کرتا اور پولیس

دو روز قبل سندھ پولیس نے کمیونٹی پولیسنگ اور پولیس امیج کے موضوع پر کراچی میں ایک بڑی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ اس میں پولیس کے حاضر و ریٹائرڈ اعلیٰ افسروں، بیورو کریٹس، ایک غیر ملکی سفارتکار اور سول سوسائٹی کے نمایندوں نے ڈجیٹل پریزنٹیشنز کے ذریعے پولیس، مسائل، کارکردگی اور حل کے بارے میں اپنے مشاہدات و تجربات و خواہشات کی روشنی میں تجاویز دیں۔

بیشتر تجاویز، شکوے شکایات اور آخر میں ایک روشن مستقبل کی تصویر کشی کم و بیش وہی تھی جو ہم سب پچھلے تہتر برس میں رپورٹوں، اجلاسوں، کمیشنوں، اصلاحات کی باتوں اور ایک بار پھر پرعزم ہونے کی شکل میں دیکھتے آ رہے ہیں۔

اگر اس ورکشاپ کی کوئی اچھی اور صحت مند بات تھی تو وہ یہ کہ پہلی بار ایسا لگا کہ پولیس اسٹیبلشمنٹ اپنے بارے میں کچھ کہنا اور سننا چاہتی ہے اور ایسی اصلاحات، بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی اور ادارتی خود مختاری چاہتی ہے جس کا فیصلہ اس کے ہاتھ میں نہیں اور بطور ایک لازمی سروس وہ کھل کے اس کا مطالبہ بھی نہیں کر سکتی مگر ریٹائرڈ افسروں، بیورو کریٹس اور سول سوسائٹی کے توسط سے وہ تبدیلی کی یہ خواہش اوپر تک پہنچانا چاہتی ہے۔

Read more

پیار سے ڈر لگتا ہے صاحب

نواز شریف تو یوں اداکاری کر رہا ہے جیسے پاناما گیٹ ہوا ہی نہیں۔ اس بھولی صورت کے پیچھے ایک مہابلی بیٹھا ہے جس کو سوائے ظلِ الہی کا اقبال بلند رہے کے سوا کچھ سنائی نہیں دیتا۔ بھائی جتنی اونچی دکان اتنا پھیکا پکوان۔

اور عمران خان؟ شروع میں کچھ امیدیں تھیں مگر اب تو لگتا ہے کہ اس کا ویژن بھی گینڈے جیسا ہے۔ ادھر ادھر دیکھے بغیر کھروں سے چنگاریاں نکالتے ہوئے ناک کی سیدھ میں بھاگ پڑنا۔ سامنے بھلے دیوار ہی کیوں نہ ہو۔ خان صاحب کو کوئی بھی شیدا کان میں کہہ دے کہ آپ کے کان کتا لے گیا تو وہ کان چیک کیے بغیر پیچھے دوڑ پڑتے ہیں۔ ویسے بہت اچھے آدمی ہیں۔

اور بلاول؟ ارے صاحب کیا بتائیں۔ یہ بچہ تو نانا اور اماں کی سیاسی مجاوری کے ریڑھے پر بٹھا دیا گیا ہے۔ اس ریڑھے کو باپ اور پھوپھی کھینچے پھر رہے ہیں۔ بھٹو کے نام پر بابا۔ جو دے اس کا بھی بھلا، نہ دے اس کا بھی بھلا۔ کوئی نیا آئیڈیا نہیں، نعرہ نہیں، پروگرام نہیں۔ بس بڑھکیں لگوا لو اور وہ بھی کسی اور کی رٹائی ہوئی۔

Read more

اسکیپ گوٹ کی جے ہو

روایت ہے کہ جب بنی اسرائیل مصریوں کی غلامی سے نجات پا کر بحیرہِ قلزم کے پار پہنچے اور چالیس برس تک وادی سینا کے بنجرعلاقے میں پھرنے کے بعد انھیں یروشلم کی سلطنت ملی تو پھر وہ غفلتوں اور بے اعتدالیوں میں مبتلا ہوتے چلے گئے۔

مگر ضمیر کے کچوکوں سے بچنے کی راہ یہ نکالی گئی کہ ہر برس یومِ کپور ( یومِ نجات ) کے موقع پر راہبِ اعظم پوری امت کے گناہ رنگ برنگی علامتی دھجیوں کی شکل میں ایک بکری کے سینگوں سے منڈھ کر بکری کو ویرانے کی طرف ہنکال دیتا۔ تب سے لغت میں ایک اصطلاح داخل ہوئی اسکیپ گوٹ۔ یعنی ایسی بکری جس کے سر ہم اپنی تمام غلطیاں، بے اعتدالیاں اور نا اہلیاں منڈھ سکیں۔ یہ اصطلاح بنی اسرائیلیوں کا ایسا تحفہ ہے جسے دنیا بھر کے سیاستداں، حکمراں، بازی گر اور قول و فعل کے متضادی نسل در نسل تا قیامت استعمال کرتے رہیں گے۔

کیسی ستم ظریفی ہے کہ جن یہودیوں نے دنیا کو اسکیپ گوٹ کا تصور دیا۔ انھی کی اگلی نسلوں کو یورپ میں ہٹلر کے دور تک اسکیپ گوٹ بنا کے رکھا گیا اور پھر ان یہودیوں نے فلسطینوں کو اسکیپ گوٹ بنا لیا۔ اور اب تو فلسطینی اسکیپ گوٹ کے درجے سے بھی نیچے آ گئے ہیں۔

Read more

پاکستانی معیشت کا عرشہ اور کیبن

ویسے تو مہنگائی کے اعتبار سے ہر رمضان ہی پاکستانی روزہ داروں پر بھاری ہوتا ہے مگر یہ رمضان کچھ زیادہ ہی بھاری ہو سکتا ہے۔ ایک ماہ پہلے ہی پھلوں سبزیوں اور خشک راشن کی قیمت میں اوسطاً تیس سے چالیس فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ رمضان میں اسے دگنا فرض کر لیں اور پھر دیکھیں کہ صبر و ضبط اور تزکیہِ نفس کے کون کون سے نئے پہلو آزماتے ہیں۔ ہر برس مہنگائی میں اضافے کے لیے نئے

Read more

پاکستان کے دو سنگین ترین مسئلے

ڈھائی سو روپے کے کیبل پر آنے والے بھانت بھانت کے چینلوں پر ٹاک شو دیکھ دیکھ کر، بیس روپے کا اخبار پڑھ کے، فیس بک اور ٹویٹر پر سیاستدانوں کو برا بھلا کہہ کر، ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر ملکی حالات پر کڑھتے ہوئے اور پھر سو روپے کا پٹرول موٹر سائیکل میں ڈلوا کر مہنگائی کو گالیاں دیتے ہوئے آپ خود کو بہت بڑا بقراط سمجھتے ہیں نا؟ تو پھر بتائیے کہ اس وقت پاکستان کا سب سے

Read more

اقدار مشرقی و مغربی نہیں ہوتیں

مجھ کند ذہن کو جو چند چیزیں شاید کبھی سمجھ میں نہ آسکیں ان میں بچپن سے اب تک گھر سے ریاست تک گونجنے والا یہ جملہ بھی ہے ’’یہ بات ہماری روایات و رواج و مشرقی اقدار کے خلاف ہے ’’ یا‘‘ دشمن قوتیں چاہتی ہیں کہ ہمیں اپنی اقدار سے محروم کر کے اپنی ہی طرح بے غیرت بنا دیں ہم یہ نہیں ہونے دیں گے ’’۔ کبھی کبھی یہ جملہ یوں ہو جاتا ہے کہ فلاں فلاں

Read more

اقدار مشرقی و مغربی نہیں ہوتیں

مجھ کند ذہن کو جو چند چیزیں شاید کبھی سمجھ میں نہ آسکیں ان میں بچپن سے اب تک گھر سے ریاست تک گونجنے والا یہ جملہ بھی ہے ’’یہ بات ہماری روایات و رواج و مشرقی اقدار کے خلاف ہے ’’ یا‘‘ دشمن قوتیں چاہتی ہیں کہ ہمیں اپنی اقدار سے محروم کر کے اپنی ہی طرح بے غیرت بنا دیں ہم یہ نہیں ہونے دیں گے ’’۔ کبھی کبھی یہ جملہ یوں ہو جاتا ہے کہ فلاں فلاں

Read more

فلسطینی درجہ سوم کے شہری بھی نہیں

ہم اپنے ہی مسائل میں اس قدر الجھے ہوئے ہیں کہ کنوئیں سے باہر کیا ہو رہا ہے یہ جاننے کی نہ تو فرصت ہے نہ ہی کوئی خاص دلچسپی۔پچھلے ڈیڑھ ہفتے سے دنیا کی توجہ نیوزی لینڈ میں ہونے والے قتلِ عام کی جانب ہے۔اس عدم توجہی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مشرقِ وسطی میں امریکا اور اسرائیل نے مل کر ایک اور بڑی واردات کر ڈالی ہے۔مغربی میڈیا تو بوجوہ اس واردات پر بہت زیادہ توجہ نہیں دے پا

Read more

دنیا کی سب سے خطرناک عورت

یہ 38 برس کی عورت ہم سب کے لیے مسلسل سنگین نظریاتی اور اخلاقی پیچیدگیاں پیدا کر رہی ہے۔ اسے روکنے کی اشد ضرورت ہے۔ یہ ملحد و بے باک عورت بے دین و بے لگام مغربی تہذیب کے بارے میں ہمارے اندازوں کو گذشتہ نو دن سے لگاتار کچوکے لگا رہی ہے۔ یہ عورت اس قدر روادارانہ و انسان نواز حرکتوں پر اتر آئی ہے کہ شک ہونے لگا ہے کہ کہیں یہ ڈرامہ تو نہیں؟ کون جانے مہربانی

Read more

دراصل عالمی یومِ خواتین ہی فحاشی ہے

آٹھ مارچ کو پاکستان کے کئی شہروں میں عورتوں کے عالمی دن کے موقعے پر ریلیاں نکالی گئیں۔ میں بہت کم کسی ریلی میں جاتا ہوں مگر کراچی میں فرئیر ہال کے سبزہ زار پر ہونے والے جلسے میں یوں شریک ہونا پڑا کیونکہ ’’ذرا ہٹ کے ’’ کے لیے عورت مارچ میں کیا ہوتا ہے کے موضوع پر پروگرام کرنا تھا۔ وہاں جو اسٹیج بنایا گیا اس پر عورتوں کا ایک گروپ ایک ہی رنگ کے لباس میں ترانے

Read more

ہٹلر باہر نہیں میرے اندر ہے

اسٹیریو ٹائپنگ کے ویسے تو ڈکشنری میں کئی مطالب ہیں مگر انسانی تعلقات کے پس منظر میں اس کا مطلب ہے کسی بھی رنگ، نسل، مذہب، قوم، طبقے اور علاقے کو من حیث المجموعی بلا تحقیق منفی انداز میں دیکھنا اور دکھانا اور پھر ان پر آنکھیں بند کر کے یقین کر لینا اور اسے حق الیقین جان کے آگے بڑھانا۔

کرائسٹ چرچ کے دہشت گردانہ قتلِ عام کا حوالہ دیتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا کہ یہ سانحہ اسٹیریو ٹائپنگ کا نتیجہ ہے۔ اس کے سبب اسلامک فوبیا پھیل رہا ہے۔ مجموعی کردار کشی اور پروپیگنڈے کے منفی اور پرتشدد نتائج نکل رہے ہیں۔

Read more

آخر کتنے مسلمان، ہندو، یہودی، کرسچن حیوان ہیں؟

پہلی ڈھارس اور جرات وزیرِ اعظم جاسنڈا آرڈرن کی طرف سے آئی۔ واردات کے چند منٹ بعد انہوں نے میڈیا کے سامنے بھرائی آواز میں کہا ’اس دھشت گردی کا شکار وہ تارکینِ وطن ہیں جنہوں نے نیوزی لینڈ کو اپنا گھر بنایا۔ہاں یہ ان کا گھر ہے اور وہ ہمارا حصہ ہیں۔جس شخص نے اس بدترین جرم کا ارتکاب کیا وہ ہم میں سے نہیں۔آج کا دن ہماری تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے۔ یہ حملہ اس لئے ہوا کہ ہم یک رنگی کے بجائے نسلی و سماجی رنگا رنگی پر یقین رکھتے ہیں۔براہ کرم حملہ آور کی پرتشدد وڈیوز اور اس کے تحریری جواز کو آگے نہ بڑھائیں ۔تاکہ اس پرتشدد سوچ کو آکسیجن نہ مل سکے۔‘اس سانحے میں سے پہلا ہیرو میاں نعیم رشید ابھرا جو دوسرے نمازیوں کو بچانے کے لئے حملہ آور باڈی بلڈر برینٹن ٹارانٹ سے لپٹ گیا۔ نعیم رشید اور ان کا بیٹا طلحہ کرائسٹ چرچ کے شہیدوں میں شامل ہیں۔

Read more

نیوزی لینڈ میں قتلِ عام

پچاس نمازیوں کا قتلِ عام جن جن ممالک میں ممکن ہے۔ کل تک ان میں نیوزی لینڈ بہرحال شامل نہیں تھا۔ نیوزی لینڈ کی پچاس لاکھ آبادی میں ایشیائی تارکینِ وطن کی تعداد آج بھی بارہ فیصد سے زائد نہیں اور ان میں بھی مسلمان محض ایک اعشاریہ دو فیصد ہیں۔

کئی تبصرے باز فوراً یہ نکتہ نکالنے میں لگ گئے ہیں کہ اگر قاتل ایک سفید فام آسٹریلین ہونے کے بجائے عرب یا جنوبی ایشیائی نژاد نیوزی لینڈر یا آسٹریلین ہوتا اور مسجد کے بجائے کسی چرچ میں قتلِ عام ہوتا تو اس وقت آک لینڈ سے یورپی یونین کے ہیڈ کوارٹر برسلز تک اور برسلز سے اقوامِ متحدہ کے ہیڈ کوارٹر نیویارک تک ایک سفارتی و میڈیائی صفِ ماتم بچھ چکی ہوتی اور اس سانحے کو نیوزی لینڈ کا نائن الیون قرار دیتے ہوئے بہت سے ممالک اپنے امیگریشن قوانین کو مزید سخت کرنے کے لیے بیٹھ چکے ہوتے اور لندن سے سڈنی تک انتہائی دائیں بازو کے قوم پرست اور نیو نازی چیخ چیخ کر گلا بٹھا چکے ہوتے کہ یہ کسی ایک قاتل کا فعل نہیں بلکہ اس کے پیچھے پورا ایک نظریہ اور عدم برداشت کے خمیر سے گندھی مذہبی سوچ ہے وغیرہ وغیرہ۔

Read more

جو گن نہیں گائیں گے مارے جائیں گے

بات صرف حب الوطنی تک رہے تو بہت اچھا ہے ۔مگر بات کم بخت رہتی نہیں ہے۔ حب الوطنی کے بے ضرر بیج سے جو کونپل پھوٹتی ہے وہ بڑھتے بڑھتے قوم پرستی میں بدل جاتی ہے اور پھر یہ قوم پرستی جنونیت کے گھنے درخت کی شکل اختیار کر لیتی ہے کہ جس کی عدم برداشتی چھایا تلے اور آس پاس کوئی اعتدالی و عقلی پودا پنپ نہیں پاتا۔اور پھر اس جنونیت کی شادی نظریاتی تنگ نظری سے ہو جاتی ہے اور اس شادی سے جنگ کا آتشیں دیوتا جنم لیتا ہے جو سارا جنگل اور چرند پرند درند بھسم کردیتا ہے اور پھر اس راکھ سے زندگی دوبارہ جنم لیتی ہے اور کچھ عرصے بعد پھر یہی زندگی اپنے فطری تساہل کے سبب اغوا ہو کر پھر اسی گھن چکر میں پھنستی چلی جاتی ہے کہ جس میں پھنس کر وہ بھسم ہوئی تھی۔

Read more

لسانی احساسِ برتری یا احساسِ کمتری؟

سمجھ میں نہیں آتا کہ خوف کس بات کا ہے؟ اگر علاقائی زبانیں اتنی ترقی یافتہ ہیں کہ وہ اپنا ادب اور میڈیا پیدا کر رہی ہیں تو پھر انھیں قومی زبان کا درجہ کیوں نہیں ملنا چاہیے۔ جب بھی اس طرح کی کوشش ہوتی ہے تو ملکی بقا خطرے میں پڑنی شروع ہو جاتی ہیں اور پاکستانیت اور اس کا تشخص لرزنے لگتا ہے۔ یہ بات بہت آرام سے نظرانداز کر دی جاتی ہے کہ پاکستان کسی بادشاہت کا نہیں بلکہ وفاق کا نام ہے اور اس وفاق نے پاکستان تشکیل دیا ہے نہ کہ پاکستان نے وفاق بنایا۔

بیشتر دنیا میں اب تسلیم کیا جا رہا ہے کہ بچے کو اپنی مادری زبان میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کا بنیادی حق ہے اور اگر مادری زبان اس قابل نہیں کہ اس میں تعلیم ہو سکے تو یہ ریاست کا فرض ہے کہ وہ اس زبان کو معدومی و پسماندگی سے بچاتے ہوئے ایک زندہ جدید زبان کے درجے تک لائے۔

Read more

اونٹ سوئی کے ناکے سے گذر سکتا ہے

چھ اکتوبر دو ہزار سولہ کو موقر پاکستانی انگریزی اخبار ڈان میں سرل المیڈا کی سٹوری شائع ہوئی۔ جس میں دو اکتوبر کے اس اعلیٰ سطحی اجلاس کی روداد بیان کی گئی تھی جس کی صدارت وزیرِ اعظم نواز شریف نے کی تھی۔ اجلاس میں چند وفاقی وزیر و مشیر، سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری، پنجاب کے وزیرِ اعلی شہباز شریف اور ڈی جی آئی ایس آئی رضوان اختر نے شرکت کی۔رپورٹ کے مطابق سیکرٹری خارجہ نے بریفنگ دی کہ پاکستان تیزی سے سفارتی تنہائی کا شکار ہو رہا ہے۔ اہم دارلحکومتوں میں پاکستان کے موقف کو غیر سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی مطالبات ہیں کہ مولانا مسعود اظہر، جیشِ محمد، لشکرِ طیبہ، حافظ سعید اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف اقدامات کئے جائیں۔ چین نے اگرچہ مولانا مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دینے کے معاملے میں اقوامِ متحدہ میں ٹیکنیکل ہولڈ لگا رکھا ہے مگر چین اس کے پیچھے کی منطق جاننا چاہتا ہے۔جیسے ہی یہ رپورٹ شائع ہوئی اسلام آباد کے مقتدر ایوانوں میں سراسمیگی پھیل گئی۔ کس نے اندر کی باتیں لیک کی ہیں اس کا پتہ چلایا جائے؟ ایک ہی دن میں وزیرِ اعظم ہاؤس، وزارتِ اطلاعات اور چیف منسٹر ہاؤس لاہور سے بیک وقت پانچ تردیدیں سامنے آئیں۔ ڈان کی رپورٹ من گھڑت اور بے بنیاد ہے۔ ایک تحقیقی کمیٹی بنا دی گئی جس میں حساس اداروں کی بھی نمائندگی تھی۔ تین سویلینز یعنی پرنسپل انفارمیشن سیکرٹری راؤ تحسین، وزیرِ اطلاعات پرویز رشید، مشیر خارجہ طارق فاطمی سے استعفے لے لیے گئے۔ نامہ نگار سرل المیڈا کے ملک چھوڑنے پر پابندی لگا دی گئی

Read more

اوہ آئی سی

اپریل چھ سو سینتیس عیسوی کے ایک دن ابو عبیدہ بن جراح کے طویل محاصرے سے تنگ آ کر بازنطینی یروشلم کے عمائدین نے شہر کے دروازے اس شرط پے کھولنا منظور کیا کہ خلیفہ عمرؓ بن خطاب کے سامنے ہتھیار ڈالیں گے۔ چنانچہ خلیفہِ راشد مدینہ سے یروشلم پہنچے اور شہر میں یوں داخل ہوئے کہ اونٹ کے کجاوے پر خادم تھا اور خلیفہِ ثانی مہار پکڑے چل رہے تھے۔ ظہر کا وقت ہوا تو پادری سوفرونیئس نے خلیفہ

Read more

لال محمد بھٹو کے بیٹے کی موت

یکم مارچ سے پہلے میں نہیں مانتا تھا کہ مٹی بھی انسانی شخصیت و کردار پر اثرانداز ہوتی ہے مگر چار روز پہلے ایک خبر سننے کے بعد میرا خیال بدل گیا ہے۔مٹی انسانوں پر طرح طرح سے اپنی چھاپ چھوڑتی ہے۔ مثلاً سندھ کے سات دروازوں والے شہر شکارپور کو لے لیں۔کلہوڑوں کے سر کا تاج اور سترویں سے انیسویں صدی تک وسطی ایشیا کا تجارتی دروازہ کہلانے والا خطے کا سب سے بڑا کاروباری مرکز۔یہاں کے ہندو بھائی

Read more

جذباتی سفارت کاری مضرِ صحت ہے

انڈین وزیرِ خارجہ سشما سوراج کو بالاکوٹ پر حملے کے بعد نہیں بلکہ اس سے کئی دن پہلے میزبان متحدہ عرب امارات نے اسلامی کانفرنس کے چھیالیسویں وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کی دعوت دی تھی۔ مگر یہ دعوت چھبیس فروری کو بالا کوٹ پر حملے کے بعد ہی پاکستانی پارلیمنٹ میں زیرِ بحث آئی اور ایک رکنِ قومی اسمبلی ایاز صادق نے تجویز دی کہ پاکستان کو اسلامی کانفرنس کے اجلاس کا بائیکاٹ کر دینا چاہیے۔ حالانکہ عین اسی

Read more

سیٹ بیلٹ باندھ لیجیے

یہ سمجھنا راکٹ سائنس نہیں کہ اگر جمہوری اقدار کا سیاسی و عمومی سطح پر شعور ایک خاص حد تک بلند نہ ہو اور کثیر الصوت و وسیع المشرب سماج کی وکیل سیاسی قوتیں تساہل کی عادی ہونے لگیں تو پھر جمہوریت دشمن فسطائیت اور طالع آزمائی اسی جمہوری دروازے سے اندر داخل ہو کر چٹخنی چڑھا دیتی ہے اور وہ اونٹ بن جاتی ہے جسے باہر نکالنے کی کوشش میں خیمہ اکھڑ جاتا ہے ۔ ہٹلر بھی انتخابات جیت

Read more

تبھی تو ہم یہینچ کھڑے ہیں

ہم اوپر تلے کے بھائی بہن تھے اور گھر میں ایک بکری تھی۔ جیسا کہ ہوتا ہے، جب بھی ہم بچوں میں جھگڑا ہو جاتا تو چونکہ کسی کو کسی پر ہاتھ اٹھانے کی اجازت نہیں تھی لہٰذا یا تو دیوار پر مکہ مار کے غصہ نکالا جاتا یا پھر غریب بکری کو جھاڑو سے پیٹ دیا جاتا۔ یہ لطیفہ بھی پہلی بار والد صاحب سے ہی سنا تھا کہ تقسیم کے غیر یقینی زمانے میں ٹرانزسٹر ٹیکنالوجی نہیں تھی۔

Read more

ساڑھے نو ارب روپے کا کیا کریں؟

میں سادہ لوح نہیں بلکہ لالچی ہوں، لہذا کوئی بھی ڈبل شاہ میرے پیسے دوگنے کرنے کا جھانسہ دے سکتا ہے۔ میں بے وقوف نہیں بلکہ طفلانہ متجسس ہوں، لہٰذا کوئی بھی اچھی ڈگڈگی بجانے والا مجھے اپنے پیچھے لگا کے کہیں بھی عین جنگل میں چھوڑ کے چمپت ہو سکتا ہے۔ مگر میں خود کو پھر تسلی دے لیتا ہوں کہ کوئی اور مسیحا آئے گا اور سارے دلدر لے جائے گا

Read more

خبر بری اور بڑی ہونی چاہیے

جس طرح ان دنوں دھلائی پوڈر بیچنے والے بتا رہے ہیں کہ داغ تو اچھے ہوتے ہیں اسی طرح ضروری نہیں کہ بری خبر ہمیشہ بری ہی ہو وہ اچھی بھی تو ہو سکتی ہے۔ بلکہ خبر جتنی بڑی اور بری ہو اتنی ہی اچھی۔ ایک بڑی اور بری خبر کا کمبل اصل خبروں اور مسائل کو ایسے ڈھانپتا ہے جیسے مرغی چوزوں کو۔

اب پلوامہ کے خود کش حملے میں چوالیس بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کو ہی لے لیں۔ دونوں ممالک کے لیے یہ کس قدر مفید ہے۔ میڈیا کے تو خیر وارے نیارے ہیں ہی مگر بھارت میں لوک سبھا چناؤ میں حصہ لینے والی جماعتوں کو پلوامہ کی شکل میں گویا ووٹ چھاپ مشین مل گئی۔ کوئی جماعت اس خبر کا فٹ بال بنا رہی ہے تو کوئی لٹھ بنا کے دوسرے کے پیچھے بھاگ رہی ہے۔

Read more

تو پھر وہاں کیا لینے گئے؟

اگر پاکستانیوں کی اکثریت کے اس رونے پر یقین کر لیا جائے کہ کسی حکومت نے عوام کے لیے آج تک کچھ نہیں کیا۔ اس ملک میں ہر شے زوال پذیر ہے۔ کوئی اچھی خبر نہیں۔ ہر طرف کرپشن، لوٹ مار، لاقانونیت، بے روزگاری، سماجی گھٹن، انصاف کی عدم فراہمی، صحت و تعلیم کے بنیادی مسائل ہیں۔ ہر تیسرا آدمی کہتا ہے کہ اس کا بس چلے تو وہ کل کے بجائے آج شام ہی یہ ملک چھوڑ دے اور اپنے خاندان کو بھی ساتھ لے جائے۔ اگر پوچھا جائے کہ بھائی کچھ اچھی چیزیں بھی تو ہوں گی اس ملک میں جن کے سبب یہ اب تک چل رہا ہے تو وہ ایک لمبی سوچ میں پڑ جاتا ہے اور پھر ایک عمومی سا جواب دیتا ہے ”ہمیں تو کوئی خاص اچھائی نظر نہیں آتی۔ آپ کو آتی ہے تو آپ بتا دیں“

اگر پوچھا جائے کہ بھائی تم بھی اس ملک کے شہری ہو۔ تمہارے خیال میں اس ملک کو رہنے کے قابل کیسے بنایا جا سکتا ہے تو پھر اس طرح کے حل پیش کرتا ہے۔ دراصل ہم اسلام کو بھول گئے ہیں جب تک ہم اسلامی تعلیمات پر عمل نہیں کریں گے تب تک کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ جب کہا جائے کہ یورپ تو اسلامی تعلیمات سے منکر ہے، چین اور جاپان بھی منکر ہیں تو وہاں کے لوگ کس سبب ترقی کی دوڑ میں ہم سے کم ازکم سو برس آگے ہیں۔ اس پر وہ گھور کے دیکھتا ہے اور یہ پوچھ کر آگے بڑھ جاتا ہے کہ کیا آپ مسلمان ہیں؟ لگتا تو نہیں۔ ۔ ۔

Read more

اس وقت سر ہلانا ہی عقل مندی ہے

جب تک یہ کالم آپ کی نگاہ میں آئے گا۔تنبو قناتیں بینڈ باجہ لپٹ چکے ہوں گے اور انتظار ہو گا کہ کب اکیس ارب ڈالر مالیت کی سرمایہ کارانہ مفاہمتی یادداشتیں (میمورنڈم آف انڈر اسٹینڈنگ۔ایم او یو)باقاعدہ معاہدے کا عملی جامہ پہنتی ہیں۔ یہ وضاحت یوں ضروری ہے کہ ایم او یو منگنی کی طرح ہوتا ہے۔جب ایم او یو باقاعدہ معاہدے کی شکل اختیار کر لے، تب اسے اقتصادی، سماجی یا سیاسی نکاح کہا جا سکتا ہے۔مثلاً نوے

Read more

اپنے تھپڑ اور گالی سے ڈرو ورنہ ۔۔ ۔

نہتا اور بے بس انسان جب نتائج کے خوف سے آزاد ہو جائے تو ایٹم بم سے زیادہ خطرناک ہے۔ تین چار مثالیں تو میں پچھلے دس برس کی ہی دے سکتا ہوں۔

تیونس کے قصبے سدی بوزید میں سترہ دسمبر دو ہزار دس کو کسی پولیس والے نے پھل فروش محمد بوعزیزی سے رشوت مانگی، بوعزیزی نے انکار کر دیا، پولیس والے نے اسے تھپڑ مارے، مرے ہوئے باپ کی گالی دی اور ٹھیلہ ضبط کر کے چالان کاٹ دیا۔ بوعزیزی نے بلدیہ کے دفتر میں شکائیت کے لیے کسی افسر سے ملنے کی کوشش کی۔ نہیں ملنے دیا گیا۔ بوعزیزی نے اسی دفتر کے سامنے خود کو آگ لگا لی۔

Read more

وہ یوں بھی تھا امیر، وہ یوں بھی غریب تھا

جتنی کہانیاں امیر لوگ اپنے بارے میں مشہور کرتے ہیں۔ ان سے دس گنا کہانیاں غریب لوگ ان امیروں کے بارے میں مشہور کر دیتے ہیں۔ جیسے یہی افسانہ کہ بل گیٹس اگر سڑک پر جا رہا ہو اور اس کے بٹوے سے سو ڈالر کا نوٹ گر جائے تو وہ شاید اسے یونہی پڑا رہنے دے اور آگے بڑھ جائے۔ کیونکہ جتنی دیر میں وہ جھک کر یہ نوٹ اٹھا کے سیدھا ہوگا اتنی دیر میں اس کے اکاؤنٹ

Read more

شادی کامیاب یا ناکام کیوں ہوتی ہے؟

شادیاں کیوں ہوتی ہیں، کیوں کامیاب ہوتی ہیں، کیونکہ زندہ لاش ہوجاتی ہیں، کیوں ٹوٹ جاتی ہیں؟ غرض جتنی شادیاں اتنی باتیں۔
یارب غمِ عشق کیا بلا ہے
ہر شخص کا تجربہ نیا ہے

چلیے عام آدمی کی شادی یا ناشادی کے تو کئی جواز گھڑے جاسکتے ہیں مگر مشہور، خوشحال، لاکھوں لوگوں کے دلوں کی دھڑکن رول ماڈلز کی شادیاں کیوں ناکام یا مردہ ہوجاتی ہیں۔ جو دیوار کے پیچھے دیکھنے کی صلاحیت کے دعوے دار ہوتے ہیں وہ ذاتی زندگی کے شیشے کے آرپار دیکھنے میں بسا اوقات کیوں ناکام ہو جاتے ہیں۔

Read more

فواد چوہدری، ہسپانوی مہم جو اور ریڈ انڈینز

پہلی عالمی جنگ چار برس اور دوسری عالمی جنگ چھ برس جاری رہی، جنگِ کوریا کا دورانیہ تین برس سے بھی کم ہے۔ ویتنام میں امریکا دس برس رہا۔ امریکا عراق میں نو برس برسرِ پیکار رہا۔ سوویت فوجیں افغانستان میں نو برس رہیں۔

افغانستان کے تجربے سے پہلے روسی فوجیں کبھی بیرونِ ملک اتنے طویل عرصے حالتِ جنگ میں نہیں رہیں۔ مگر سترہویں صدی کے یورپ میں تیس سالہ جنگ کے بعد پچھلے تین سو بہتر برس میں اگر کوئی سب سے طویل جنگ دیکھنے میں آئی ہے تو وہ افغانستان میں طالبان اور امریکا کی لڑائی ہے اور یہ میچ بھی لاکھوں وکٹیں اڑنے کے باوجود بظاہر ڈرا نظر آرہا ہے۔

ہر جنگ میں جب دھرتی اور اس کے عناصر کو بلاجواز پامال کیا جاتا ہے تو جلد یا بدیر وہ اپنے لٹنے کا خونی بدلہ ضرور لیتی ہے۔ آپ جب بھی فطرت کے ساتھ غیرفطری انداز میں پیش آئیں گے تو ردِعمل کم ازکم دگنا ہی ہو گا اور دیر تلک دور تلک قسط وار ہوگا۔

Read more

عمیر، منیبہ اور ہادیہ کیا کریں گے ؟

(عمیر، منیبہ اور ہادیہ کیا کریں گے ؟)
وسعت اللہ خان

جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے روبرو محمد عمیر ولد محمد خلیل کا تحریری بیان کچھ یوں ہے کہ انیس جنوری کو میں، ماں نبیلہ ، پاپا خلیل ، بڑی بہن اریبہ اور دو چھوٹی بہنیں منیبہ اور ہادیہ صبح تقریباً آٹھ بجے سفید آلٹو گاڑی میں نکلے جسے ہمارے ہمسائے انکل ذیشان چلا رہے تھے۔

جب ہماری گاڑی ساہیوال قادر آباد کے قریب پہنچی تو پیچھے سے اچانک کسی نے ہماری گاڑی پر فائرنگ کی اور گاڑی فٹ پاتھ سے ٹکرا کے رک گئی۔ پولیس کے دو ڈالے تیزی سے گاڑی کے پاس آ کر رکے ۔ان میں سے چند نقاب پوش پولیس اہلکاروں نے فوری فائرنگ کر کے انکل ذیشان کو مار دیا۔

پھر فائرنگ رکی اور ایک پولیس اہلکار نے کسی کو فون ملا کر بات کرنا شروع کردی ۔ اتنے میں پاپا نے انہیں کہا ہمیں نہ مارو ، ہمیں معاف کر دو ، ہم سے پیسے لے لو ، تلاشی لے لو ہمیں مت مارو ۔فون پر بات کرنے والے پولیس اہلکار نے فون بند کرنے کے بعد اپنے ساتھیوں کو اشارہ کیا ۔انہوں نے دوبارہ گاڑی پر گولیاں چلانا شروع کر دیں۔

میرے پاپا خلیل، ماما نبیلہ، بڑی بہن اریبہ موقع پر جاں بحق ہو گئے ۔ میری ٹانگ اور منیبہ کے ہاتھ پر گولی لگی ۔ پاپا نے مرنے سے پہلے منیبہ اور ماما نے مجھے اور ہادیہ کو ایک دم سیٹ کے نیچے اپنے پاؤں میں لٹا لیا اور خود ہمارے اوپر آ گئیں ۔یوں ہماری جان بچ گئی ۔

Read more

پردہ داری ہی پردہ داری ہے

ممبئی کے ایک قانون دان جوڑے کے ستائیس سالہ صاحبزادے رافیل سیموئل نے مرضی کے بغیر اپنی پیدائش پر والدین کے خلاف ہرجانے کا دعویٰ دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس پر مجھے دو ہزار گیارہ میں ریلیز ہونے والی پاکستانی فلم بول یاد آ گئی جس میں باپ کو قتل کرنے والی لڑکی آخری بیان دیتی ہے ’’میں نے اپنے باپ سے اپنی پیدائش کا بدلہ لیا۔ میرے باپ نے آٹھ بچے پیدا نہیں کیے بلکہ آٹھ بچے

Read more

فاطمہ جناح، بے نظیر اور اب پریانکا کی کردار کشی

حالانکہ پاکستان میں قائدِ اعظم محمد علی جناح کے بعد جس شخصیت کی سب سے زیادہ عزت ہے وہ ہیں جناح صاحب کی چھوٹی بہن محترمہ فاطمہ جناح۔ مگر محترمہ نے جب انیس سو چونسٹھ میں فوجی ڈکٹیٹر ایوب خان کو چیلنج کرتے ہوئے صدارتی انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا تو فاطمہ جناح راتوں رات غدار، بھارتی ایجنٹ اور امریکی پٹھو ہو گئیں۔ اخبارات میں محترمہ کی کردار کشی کے لیے بڑے بڑے اشتہار چھاپے گئے، ان کے سیاسی لطیفے گھڑے گئے۔

ایوب خان کا سارا لبرل ازم دھرے کا دھرا رہ گیا اور انھیں سرکاری مساجد کے اماموں سے فتویٰ لینا پڑ گیا کہ عورت چونکہ امامت نہیں کر سکتی اس لیے عورت حکمران بھی نہیں بن سکتی، اس لیے فاطمہ جناح کا ایوب خان کے مقابلے میں انتخاب لڑنا ہی حرام ہے۔ جس نے ووٹ دیا اس کا نکاح ٹوٹ جائے گا۔ وہ تو شکر ہوا کہ بہت سی مذہبی جماعتیں اور جید علماء فاطمہ جناح کے انتخابی کیمپ میں شامل تھے ورنہ تو محترمہ کو ہرانے کے چکر میں جانے کتنوں کے نکاح ٹوٹتے۔

Read more

عیدی امین کسی کو یاد نہیں آ رہا

جب برطانیہ سے آزادی کے بعد یوگنڈا کے پہلے صدر ملٹن اوبوتے کا جھکاؤ سوویت یونین کی جانب ہونے لگا تو مغربی طاقتوں کی بلا واسطہ رضامندی کے ساتھ یوگنڈا کی مسلح افواج کے سربراہ عیدی امین نے جنوری انیس سو اکہتر میں اس وقت اوبوتے کا تختہ الٹ دیا جب وہ دولتِ مشترکہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے سنگاپور میں تھے۔

اگست انیس سو بہتر میں صدر امین نے غیر ملکیوں کو ملک بدر کرنے کی پالیسی کا اعلان کیا۔ اور سب سے زیادہ نزلہ نوآبادیاتی دور سے یوگنڈا میں آباد اسی ہزار ایشیائیوں (گجراتیوں ) پر گرا۔ صرف یہ اجازت ملی کہ غیر ملکی ڈاکٹر، وکلا اور اساتذہ معینہ مدت کے لیے قیام کر سکتے ہیں۔ باقیوں کو نوے دن کے اندر ملک چھوڑنا تھا بصورتِ دیگر منقولہ و غیر منقولہ املاک کی ضبطی کے ساتھ بے دخلی کا مڑدہ سنایا گیا۔

Read more

اسٹیبلشمنٹ تو سب کی دوست ہے ۔

اگر آپ تعصب ، بدزنی اور شکوک کے دبیز عدسے اتار کر ریاستی اسٹیبلشمنٹ کا مطالعہ کریں تب آپ کو اندازہ ہوگا کہ اسٹیبلشمنٹ کسی کے بھی ارمانوں اور آدرشوں کو دبانا یا کچلنا نہیں چاہتی بلکہ اپنے مخصوص انداز میں ہر اس فرد ، گروہ یا تنظیم کی مدد کرتی ہے جس کے اہداف بظاہر ریاستی اہداف سے مختلف ہی کیوں نہ ہوں۔

مثلاً شیخ مجیب الرحمان ہرگز کامیاب نہ ہو سکتے اگر اسٹیبلشمنٹ انہیں اگرتلہ سازش کیس میں گرفتار کر کے راتوں رات ان کے سیاسی شئیرز کے بھاؤ آسمان پر نہ چڑھا دیتی۔ اس کے بعد اگر اسٹیبلشمنٹ انتخابی نتائج کی روشنی میں شیخ صاحب کو اقتدار منتقل کر دیتی تو خاصا امکان تھا کہ اپنی آمرانہ طبیعت کے ہاتھوں ایک آدھ برس میں ہی شیخ صاحب اتنے نا مقبول ہو جاتے کہ ان کے زوال پر خود بنگالی بھی ٹسوے نہ بہاتے۔

Read more

ایرانی انقلاب چالیس برس کا ہو گیا

اب سے ٹھیک چالیس برس اور ایک دن پہلے ائیر فرانس کی فلائٹ تہران کے مہر آباد ائیرپورٹ پر اتری۔ مگر اترنے سے پہلے اسے فضا میں کئی چکر لگانے پڑے کیونکہ نیچے مجمع اتنا زیادہ تھا کہ ائیرپورٹ حکام کو خدشہ تھا کہ کہیں لاکھوں جذباتی بے قابو ہو کر جنگلے تہس نہس کرتے ہوئے رن وے پر نہ آجائیں۔  اس پرواز میں سے جو جو افراد اترے ان میں سے آج کوئی بھی اس دنیا میں نہیں مگر

Read more

چلو نیا مسئلہ ایجاد کر لیں

صرف میں ہی کیا دسویں درجے کے کسی بھی ہم جماعت کو اچھے خاصے اشعار ازبر ہوتے ہوئے بھی میر صاحب کا یہ شعر اٹک جاتا تھا۔ مگس کو باغ میں جانے نہ دیجو کہ ناحق خون پروانے کا ہوگا اردو کے استاد صید رسول ضیا نے پھر یوں سمجھایا۔ ’’ مگس شہد کی مکھی کو کہتے ہیں۔وہ باغ میں جا کے پھولوں سے رس چوستی ہے۔کچھ رس موم میں بدل جاتا ہے جس سے چھتہ بنایا جاتا ہے اور

Read more

اصلی اور فلمی بادشاہت

برس ہا برس سے حسرت ہے کہ مرنے سے پہلے کاش وہ ریاست بھی دیکھنا نصیب ہو جائے کہ جس کے بارے میں ہم پڑھتے اور سنتے آئے ہیں کہ اس میں کوئی آئین بھی ہوتا ہے۔ اس آئین کے تحت ادارے بنتے اور اپنے اپنے دائروں میں چلتے ہیں۔ یہ دائرے اتنے گہرے اور واضح ہوتے ہیں کہ نابینا شخص کو بھی دکھائی دے جائیں۔ یہی ادارے یکجا ہو کر ریاستی اختیار اور رٹ جنم دیتے ہیں۔ باہمی احترام

Read more

پھٹ پڑے وہ سونا کہ جس سے ٹوٹیں کان

وزیرِ خزانہ اسد عمر نے تئیس جنوری کو جو دوسرا منی بجٹ پیش کیا اس میں تاجروں، صنعت کاروں ، سرمایہ کاروں اور اسٹاک بروکرز کے لیے خاصی مراعات کا اعلان کیا گیا ہے۔ مقصد یہ بتایا گیا ہے کہ سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہو ، معیشت کا پہیہ رواں ہو ، نیا روزگار پیدا ہو، ملک قرضوں کے گھن چکر سے نکل کر پاؤں پر کھڑا ہو اور غربت جھٹک کر اگلے دس برس میں متوسط ترقی یافتہ

Read more

جب ماں ہی بیگانہ ہو جائے!

بادشاہت کا ادارہ کم ازکم سات ہزار برس پرانا ہے، پیشوائی کا ادارہ بھی لگ بھگ اتنا ہی پرانا ہے مگر بالغ رائے دہی یعنی ”ون مین ون ووٹ“ کا عملی اطلاق زیادہ سے زیادہ دو سو برس پرانا ہے۔ جمہوریت کے جتنے بھی نقصانات گنوا دیں مگر ایک فائدہ ضرور ہے۔

مری گری جمہوریت میں بھی ایک ریوالونگ ڈور ہوتا ہے جس کے ذریعے عوامی توقعات پر پورے نہ اترنے والے شخص کو پرامن طریقے سے باہر نکالا جا سکتا ہے یا توقعات پر پورے اترنے والے کو دوبارہ اندر آنے کا موقع مل جاتا ہے۔ بادشاہت اور پیشوائی میں ریوالونگ ڈور نہیں ہوتا لہذا تبدیلی بغیر خون بہائے مشکل ہی سے ہو پاتی ہے۔

Read more

عزت کرانی ہے تو سچ بولنا سیکھیں

سوشل میڈیا پر کئی وڈیوز گھوم رہی ہیں۔ان میں سے ایک وڈیو ایک بس میں بیٹھے کسی مسافر کی بھی ہے۔یہ بس دیگر گاڑیوں کے ساتھ شاہراہ پر رکی ہوئی ہے کیونکہ تقریباً  ڈیڑھ دو سو گز آگے ایک مسلح کارروائی جاری ہے۔وڈیو میں منظر یہ ہے کہ ایک سفید کار کے برابر میں پولیس کی وین جیسی گاڑی رکی ہوئی ہے۔ کئی مسلح وردی پوش متحرک ہیں۔سفید گاڑی میں سے ایک بچے کو وین میں منتقل کیا جا رہا

Read more

سچ کا انکاؤنٹر تو بہت پہلے ہو چکا

ساہیوال ٹول پلازہ پر والد، والدہ، بچی اور گاڑی ڈرائیو کرنے والے والد کے دوست کو تو پنجاب کے انسدادِ دہشت گردی کے ماہرین نے دہشت گرد قرار دے کر مار دیا سو مار دیا۔ اس کے ذمہ داروں کو مثالی سزا ملے نہ ملے یہ سب اب اس خاندان کے لیے بےمعنی ہے جو پلک جھپکتے میں آدھا رہ گیا۔

اگر حکومتِ پنجاب اور وفاقی حکومت میں واقعی اس سانحے کے تعلق سے رمق برابر بھی سنجیدگی باقی ہے تو اس دس سالہ بچے اور اس کی دو بہنوں کی پولیس اور میڈیا سے ہی حفاظت کر لے جو زندہ بچ جانے والے سب سے اہم عینی شاہد ہیں۔

ان جعلی مقابلوں سے بھی کہیں المناک یہ پہلو ہے کہ پشیمانی تو گئی بھاڑ میں، قاتل خود کو بچانے کے لیے جھوٹ کی ہر حد پھلانگ جاتے ہیں۔ تب اندازہ ہوتا ہے کہ پیشہ ورانہ تربیت اور وردی کی حرمت ایک خوبصورت لفظی فریب کے سوا کیا ہے؟

Read more

انکل چریا ہیں

یہ ملک کبھی بھی امیر نہیں تھا، ترقی کی رفتار بھی مسلسل اور ٹھوس نہیں تھی۔ غریب اتنا ہی غریب تھا جتنا آج ہے بلکہ کچھ زیادہ ہی غریب تھا۔ مگر جس کے پاس جتنا تھا اس میں مست تھا۔ اسے لگتا تھا کہ ریاست کم وسائل کے باوجود اس کا خیال رکھنے کی اپنی سی کوشش کر رہی ہے۔

ایسا نہیں کہ لوگ چالیس برس پہلے تک مایوسی کا شکار نہیں ہوتے تھے لیکن اجتماعی مایوسی ویسی نہ تھی جیسی اب ہے۔ وجہ بہت سادہ تھی۔ مہنگائی چھلانگیں نہیں مارتی تھی بلکہ ایک ایک قدم بڑھتی تھی۔ تنخواہیں اور آمدنیاں کم تھیں مگر یہ سوچ کے سکون مل جاتا تھا کہ ہم اکیلے تو نہیں پڑوسی کی بھی اتنی ہی اوقات ہے۔ گلی اور محلے کی سطح پر ایک دوسرے کی خبر رکھنے سے کسی حد تک چھوٹی چھوٹی محرومیوں کا ازالہ ہو جاتا تھا۔ اور اس کا بڑا مظاہرہ کسی کی شادی یا موت کے وقت محلے کی سطح پر بے ساختہ تعاون کی مختلف شکلوں میں ہوتا تھا۔

Read more

منٹو سینے پر مونگ دلنے والی چکی ہے

تینتالیس سالہ سعادت حسن منٹو کا انتقال چونسٹھ برس پہلے اٹھارہ جنوری انیس سو پچپن کو ہوا۔دو ہزار پانچ میں منٹو کی پچاسویں برسی کے موقعے پر حکومتِ پاکستان نے پہلی بار پانچ روپے مالیت کا منٹو یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔دو ہزار بارہ میں منٹو کا صد سالہ جشن بھارت میں غیر سرکاری اور پاکستان میں سرکاری طور پر منایا گیا اور اس موقع پر بعد از مرگ ستارہِ امتیاز سے نوازا گیا۔ دو ہزار پندرہ میں سرمد کھوسٹ

Read more

جسٹس صاحب کا عدالتی ترکہ

پاکستان کے 25ویں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار دو برس اور 17 دن پورے کرنے کے بعد ریٹائر ہونے والے ہیں۔اگلے 11 برس میں جنوری 2030تک آٹھ معزز چیف ججوں میں سے صرف دو ایسے ہوں گے جن کی مدتِ عہدہ دو برس سے کچھ زائد رہے گی۔

اس ملک میں جسٹس محمد منیر چھ برس، اے آر کارنیلیئس آٹھ برس، حمود الرحمان سات برس اور جسٹس محمد حلیم ساڑھے آٹھ برس تک چیف جسٹس رہے۔مگر ان کے نام عام آدمی سے زیادہ قانون دانوں اور محققوں کو یاد ہیں۔کیونکہ افتخار محمد چوہدری سے پہلے تک عدالتِ عظمی کی جانب سے مفادِ عامہ کے نام پر ازخود نوٹس لینے کی روایت خال خال ہی تھی۔عدالت کا ڈیکورم اورجج کا رکھ رکھاؤ لگ بھگ وہی کلاسیکی انداز کا تھا جو نوآبادیاتی دور سے چلا آ رہا تھا یعنی جج نہیں ان کے فیصلے بولتے ہیں۔

Read more

پیمرا اور لچر پاکستانی ڈرامہ

پانچ روز قبل (آٹھ جنوری) پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی(پیمرا) نے ٹی وی چینلز کو متنازع اور غیر اخلاقی موضوعات پر مبنی ڈراموں کی نشریات فوری طور پر روکنے کی تفصیلی ہدایات جاری کرتے ہوئے اپنے پریس ریلیز میں کہا کہ ٹی وی ڈرامے بتدریج اپنا معیار کھوتے جا رہے ہیں اور سماجی و روایتی طرز ِ زندگی کے برعکس مواد نشر کر رہے ہیں۔ متنازعہ و غیر اخلاقی معاملات و موضوعات پر ڈراموں کی عکس بندی معمول بن گیا ہے۔مزید

Read more

کیسی انوکھی بات رے !

جتنی کہانیاں امیر لوگ اپنے بارے میں مشہور کرتے ہیں۔ان سے دس گنا کہانیاں غریب لوگ ان امیروں کے بارے میں مشہور کر دیتے ہیں۔جیسے یہی افسانہ کہ بل گیٹس اگر سڑک پر جا رہا ہو اور اس کے بٹوے سے سو ڈالر کا نوٹ گر جائے تو وہ شائد اسے یونہی پڑا رہنے دے اور آگے بڑھ جائے۔کیونکہ جتنی دیر میں وہ جھک کر یہ نوٹ اٹھا کے سیدھا ہوگا اتنی دیر میں اس کے اکاؤنٹ میں مزید پانچ

Read more

انقلاب آٹوز کے عظیم مستری

اگر آپ بضد ہیں کہ قالین پر برسوں سے جمع ہونے والی گرد کو دھلوا کر اسے پھر سے بچھانے، کلر زدہ دیواروں کے گرتے پلستر کو پورا کھرچنے کے بجائے جگہ جگہ سے جھانکنے والی اینٹوں پر سیمنٹ کا پھاہا رکھ دینے، گلابی دیواروں پر ہلکے سبز رنگ کا پینٹ کردینے، پرانے صوفے کا یہاں وہاں سے دبا فوم بدل کر نیا استر چڑھا دینے اور ڈائننگ ٹیبل کو جنوبی دیوار سے ہٹا کر شمالی کی جانب کھسکا دینے، گلدان کو ٹی وی سے اٹھا کر کارنس پر رکھ دینے اور کتابوں پر پڑی گرد پر کپڑا مار دینے سے ڈرائنگ روم میں انقلاب آجائے گا تو یہ بالکل ایسا ہے کہ میں دس لاکھ روپے کی برانڈڈ گھڑی خریدنے کی حسرت میں مرا جارہا ہوں لیکن اوقات نا ہونے کے سبب دو ہزار روپے والی ہو بہو نقل کلائی پر باندھ کر دیکھنے والوں کی تعریفی، حیرتی و حسرتی نگاہیں چار دن کے لئے خرید لوں۔

انقلاب کا تو مطلب ہے پرانا قالین اٹھا کر پھینک دیا جائے اور نیا قالین بچھ جائے اور پھر کمرے میں جو جو بھی اشیاء تازہ قالین کی کلر سکیم کے مطابق نہیں انہیں کباڑی کے حوالے کردیا جائے یا گھر کے تہہ خانے میں قفل بند کردیا جائے اور پھر نئی اشیاء سجائی جائیں۔ سیکنڈ ہینڈ نہیں۔ نئی۔ بالکل نئی۔ جدید۔

Read more

آبادی کی سیاست

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے یونیسف کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ یکم جنوری دو ہزار انیس کو پاکستان میں پندرہ ہزار بچوں کی ولادت رجسٹر کی گئی۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ ملک جس کی آبادی پہلے ہی بائیس کروڑ کا ہندسہ چھو رہی ہے، ہر ماہ ساڑھے چار لاکھ اور سالانہ چون لاکھ کے حساب سے بڑھ رہی ہے۔ یعنی پاکستان کی آبادی میں سالانہ ناروے کی کل آبادی ( چون لاکھ )

Read more

صاحبانِ اقتدار کی گالمانہ گفتگو

رومی شہنشاہیت کے پاس کم از کم کولوسئیم کے ایرینا میں خونخوار جانوروں سے لڑنے والے غلام اور گلیڈی ایٹرز تھے تاکہ عوام کی توجہ فوری مسائل سے ہٹ کر ہفتوں تک جاری کھیل تماشوں میں لگی رہے، مگر ہمارے ہاں نہ تو کولوسئیم ہے، نہ گلیڈی ایٹرز۔ لے دے کے پارلیمانی ایرینا میں از قسم فواد چوہدری، شیخ رشید، فیصل واؤڈا، فیاض الحسن چوہان، مراد سعید، نعیم الحق وغیرہ ہیں۔ مسائل زدہ عوام آخر اور کے روز ان کی

Read more

بنگلا دیش کے اچھے اور کم اچھے پہلو

سینتالیس برس قبل جب مشرقی پاکستان بنگلا دیش بنا تو اس وقت اس کی تصویر ایک برباد و بے خانماں غربت کے مثالیے کے طور پر دکھائی جاتی تھی۔ آزادی کے بعد کے پہلے عشرے میں ملکی معیشت کا دار و مدار بھارتی صنعت کاروں یا بین الاقوامی خیرات پر تھا۔ کوئی شے دساور کو جاتی تھی تو ریکروٹنگ ایجنٹوں اور انسانی اسمگلروں کے ہتھے چڑھنے والے بے روزگار بنگلا دیشی یا خام پٹ سن۔ سیاست کا بھی یہی عالم تھا۔ شیخ

Read more

برہمن، سید اور جنرل اور جنرل اگر سید بھی ہو تو؟

پانچ جنوری 2014 کو اگر بھٹو ہوتے تو 86 برس کے ہوتے۔ لیکن یہ شاید میری خواہش ہے۔ کیونکہ آج تک پاکستان میں جتنے بھی گورنر جنرل یا صدر بنے ان میں سوائے فضل الہی چوہدری ( 82 سال) اور غلام اسحاق خان ( 91 سال ) کسی نے بھی 80 کا ہندسہ پار نہیں کیا جبکہ وزیرِ اعظم تو ایک بھی ایسا نہیں گزرا جس نے 80 واں برس دیکھا ہو۔

مگر بھٹو صاحب آج بطورِ خاص یوں یاد آئے کہ جب وہ کال کوٹھڑی میں تھے تو انھیں دانتوں کی شدید تکلیف ہوتی رہی۔ تاہم ضیا حکومت نے جیل کے ہسپتال میں ہی ان کا علاج جاری رکھا اور ان کے ذاتی ڈینٹسٹ ڈاکٹر ظفر نیازی کو کبھی زحمت نہیں دی جب کہ کمبائنڈ ملٹری ہسپتال بھی اڈیالہ سے ایک پتھر کی مار پہ تھا۔

واقعاتی شہادتوں کی بنیاد پر نواب محمد احمد خان کے قتل میں بھٹو صاحب شاید اس سے کم ملوث تھے جتنے پرویز مشرف اکبر بگٹی کے قتل یا جامعۂ حفصہ کی کارروائی میں ملوث بتائے جاتے ہیں۔ مگر بھٹو کی ضمانت نہیں ہوسکی اور مسعود محمود کی سلطانی گواہی نے بھٹو کو تختۂ دار تک لے جانے کا جواز بھی فراہم کردیا۔

لیکن جب سے اصلی گواہوں کے غائب یا منحرف ہونے کا فیشن ہوا ہے، کوئی کسی مقدمے میں سلطانی گواہ بننے کو بھی تیار نہیں۔ بلکہ گواہ کیا، فی زمانہ تو بہت سے وکیل تک کسی انفرادی، اجتماعی یا ادارتی دباؤ کی تاب نہیں لا سکتے اور اپنے وکالت نامے خود ہی منسوخ کر لیتے ہیں۔

Read more

اس سال اس پر بھی دھیان دے لیں

یہ بھی تو ممکن ہے کہ ہمیں اپنا بنیادی مسئلہ بخوبی معلوم ہو مگر حل نہ معلوم ہو۔یا حل بھی معلوم ہو لیکن اتنا تکلیف دہ اور مہنگا لگتا ہو کہ ہم جم کے علاج کرنے کے بجائے وقتی ریلیف کے لیے طرح طرح کے پین کلرز اس امید پر آزما رہے ہوں کہ کوئی مسیحا آئے گا اور سب ٹھیک کردے گا۔ فرض کر لیتے ہیں کہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ طے کرنا ہو کہ ہم کون

Read more

صرف محکمہ زراعت ہی سموگ ختم کر سکتا ہے

اس وقت پنجاب کو سموگ نے گھیر رکھا ہے۔ یہ سموگ بھارت اور پاکستان کی سرحد کے دونوں طرف چاول کی زیرِ کاشت زمین کو گندم کی بوائی کے لیے تیار کرنے کی خاطر دھان کے ڈنٹھلوں اور بھوسے کو آگ لگانے سے پیدا ہوتا ہے۔ ہر سال چیخ و پکار ہوتی ہے ۔ تدارک کے لیے متبادل طریقے اپنانے کی یقین دہانی کرائی جاتی ہے ۔ اگلے موسمِ سرما میں پھر کھیتوں میں وہی آگ، دھواں، پروازوں اور ٹرینوں

Read more

راؤ انوار ایک ضرورت کا نام ہے

کراچی پولیس کے سب سے معروف معطل ایس ایس پی راؤ انوار احمد خان کی جانب سے عدالت عظمی میں درخواست جمع کرائی گئی ہے کہ ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے خارج کرنے کا حکم دیا جائے تاکہ وہ عمرے کی ادائیگی اور اپنے بچوں کے ضروری خاندانی معاملات طے کرنے کے لیے بیرونِ ملک جا سکیں۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ کسی شخص کے خلاف محض ایف آئی آر کا درج ہونا یا مقدمے کا زیرِ

Read more

امریکا کا بڑھاپا اچھا گزرے گا

سوویت یونین کیوں ٹوٹا؟ اگر پاکستان کے مذہبی سیاسی و جہادی حلقوں کی دلیل تسلیم کر لی جائے تو ٹوٹنے کی وجہ افغانستان تھا۔ جہاں مجاہدین نے امریکا، سعودی عرب اور پاکستان کی قیادت میں سوویت یونین کی عسکری کمر توڑ کے سپرپاور والا دبدبہ خاک میں ملا دیا اور سوویت افواج کو دس برس بعد افغانستان سے خالی ہاتھ لوٹنا پڑا۔ اگر سوویت یونین ٹوٹنے کے بارے میں مغربی نظریہ سازوں کی بات مان لی جائے تو ٹوٹنے کی

Read more

کرپشن نہیں کشکول کے چھید بند کریں

سب سے پہلے ایوب خان نے چور بازاری اور پرمٹ باز سیاستدانوں کے احتساب کا فیصلہ کیا، پھر یحیی خان نے 313 نوکر شاہوں کو بدعنوانی و گھپلے کے الزام میں برطرف کر دیا۔ پھر اگلے چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر ذوالفقار علی بھٹو نے 1400 بیورو کریٹس کو نااہلی و نامعلوم کرپشن کے سبب چلتا کیا۔ پھر اگلے چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر ضیا الحق نے ‘پہلے احتساب پھر انتخاب’ کی تلوار سونت لی اور بھٹو حکومت کے خلاف اختیارات کے

Read more

کشمیری تو قابو میں نہیں آ رہے ؟

ستر برس میں پانچویں نسل ہے جسے نہیں معلوم کہ اپنی زندگی میں آزادی دیکھ پائے گی کہ چھٹی پیڑھی کو مایوسی کا پرامید چراغ سونپ کر چلی جائے گی۔یہ بات جتنی فلسطینیوں کے لیے سچ ہے اتنی ہی کشمیریوں کے لیے بھی۔ فلسطینیوں نے بے گھری دیکھی، قتلِ عام دیکھا، ہتھیاراٹھائے،انھیں یقین دلایا گیا کہ ہتھیار رکھ دو، اسرائیل کا حقِ وجود تسلیم کر لو،بات چیت کا راستہ اختیار کرو،ہم تمہاری ایک آزاد و خود مختار علیحدہ ریاست بنوا

Read more

کمیشن سازی ماحولیات کے لیے نقصان دہ ہے!

سولہ دسمبر انیس سو اکہتر کا سقوطِ ڈھاکہ ہو کہ 16 دسمبر دو ہزار چودہ کا آرمی پبلک سکول قتلِ عام، دونوں پر تحقیقاتی کمیشن بنے۔ ایک کی رپورٹ 47 برس ہو چکے مگر باضابطہ طور پر ریاست پاکستان کی طرف سے منظرِ عام پر نہیں آئی۔ دوسرے سانحے کی رپورٹ سنا ہے مرتب ہو رہی ہے۔ حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کے بارے میں بھی وعدہ کیا گیا تھا کہ قوم کو اس سے آگاہ کیا جائے گا تاکہ ذمہ

Read more

اسکول کی فیس اور سرزد بچے

سپریم کورٹ نے نجی اسکولوں کی فیس میں بیس فیصد کمی کرنے، موسمِ گرما کی تعطیلات میں وصول کی جانے والی فیس نصف واپس کرنے یا پھر ماہانہ فیسوں میں ایڈجسٹ کرنے، فیسوں میں سالانہ اوسطاً پانچ فیصد یا ریگولیٹری اتھارٹی کی آمادگی کی صورت میں زیادہ سے زیادہ آٹھ فیصد سالانہ اضافے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ نیز لگ بھگ اکیس معروف اسکولوں کے مالی معاملات کا فورنزک آڈٹ ایف آئی اے اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ذمے لگایا ہے۔

اس فیصلے سے شاید متوسط اور اعلی متوسط طبقے کے والدین کی وقتی تشفی تو ہو جائے لیکن دیگر شعبوں کی طرح نجی تعلیمی صنعت میں سرمایہ کاری کرنے والوں کے پاس اپنا خسارہ پورا کرنے کے بیسیوں راستے موجود ہیں۔

Read more

مترجم علم کا پٹواری ہے

اب سے بارہ برس پہلے مجھے پٹیالہ یونیورسٹی اور وہاں ترجمے کا کام دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ شعبے کے انچارج گردیو اروڑا صاحب سے گفتگو میں پہلی بار اندازہ ہوا کہ کسی تہذیب کا رسم الخط تبدیل ہونا بسا اوقات کتنا بڑا المیہ بن جاتا ہے۔ انچارج صاحب نے بتایا کہ نئی نسل چونکہ صرف گرمکھی سے واقف ہے لہذا وہ شاہ مکھی میں موجود پنجابی کے وسیع علمی خزانے سے محروم ہو چکی ہے۔

پاکستان سے پنجابی میں بہت سی کتابیں آتی ہیں مگر ان کو پڑھ کے گرمکھی میں منتقل کرنے کا کام صرف وہ تین چار بزرگ ہی کر سکتے ہیں جنہوں نے تقسیم سے پہلے عربی فارسی رسم الخط میں تعلیم حاصل کی۔ اب یہ انتظام کیا گیا کہ پٹیالہ یونیورسٹی سے جو بھی طالبِ علم پنجابی میں ایم فل یا ڈاکٹریٹ کرتا ہے اسے پہلے سال میں شاہ مکھی سیکھنا پڑتی ہے۔ تاکہ گلشنِ ترجمہ کا کاروبار آیندہ بھی چلتا رہے۔ شکر ہے بلھے شاہ اور وارث شاہ گورمکھی میں منتقل ہو گیا ورنہ ہماری نئی نسل اس سے بھی جاتی۔

مجھے اس وقت پراگ بھی یاد آ رہا ہے۔ جہاں چار مہینے قیام کے دوران احساس ہوا کہ ترجمے کا فن اور اس کی سرکاری سرپرستی کتنا بڑا قومی خدمت کا کام ہے۔ چیک ری پبلک کی آبادی لگ بھگ ایک کروڑ ہے اور دارلحکومت پراگ میں تین بڑے بک اسٹورز میں تازہ ترین عالمی فکشن اور نان فکشن بھرا پڑا ہے۔

Read more