خواتین پر بڑھتا ہوا تشدد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

8 مارچ عالمی یوم خواتین، یہ وہ دن ہے جب پوری دنیا خواتین کے حقوق پر مل کر بات کرتی ہے ہر سال کی طرح اس سال بھی پاکستان میں یہ دن منایا جارہا ہے۔ اس دن کی اہمیت کے بارے میں لکھنے بیٹھی ہوں تو احساس ہوا ہے کہ اہمیت تو ضرورت کی بنیاد پر طے کی جاتی ہے۔ جہاں یہ طے ہے کہ ہر اہم چیز ضروری نہیں ہوتی وہیں پر یہ بھی کافی حد تک طے ہے کہ آخر کار ضروری چیزیں ہی زندگی میں اہمیت اختیار کرتی ہیں اور خواتین کے حقوق کے دن منانا اہم ہے یا ضروری یہ تو مجھے حتمی طور پر معلوم نہیں مگر یہ طے ہے کہ خواتین کے حقوق پر پورا سال کام کرنا انتہائی ضروری ہے۔

پولیس کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پچھلے کچھ سالوں کے دوران تقریباً پچاس ہزار سے زائد خواتین تشدد کا شکار ہوئی ہیں۔ ان کی تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ جنوری 2011 سے جون 2017 تک کل 51241 خواتین تشدد کا شکار ہوئیں۔ ان کی تعداد 2011 میں 8418 رہی۔ جب کہ 2012 میں تعداد بڑھ کر 8845 ہوگئی۔ 2013 میں تعداد کچھ کم ہو کر 7573 ہوئی تو 2014 میں مزید کم ہوتے ہوئے 6741 ہوگئی۔ 2015 میں کمی کا یہ رجحان برقرار رہا اور تشدد سے متاثرہ خواتین کی تعداد 6527 ہوگئی۔ مگر افسوس ہے کہ 2016 میں یہ تعداد 2011 والی سطح کے قریب پہنچتے ہوئے 8031 ہوگئی۔ جب کہ پولیس کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2017 کے صرف پہلے چھ ماہ میں 4066 خواتین تشدد کا شکار ہوئیں جو کہ اسی انداز سے بڑھتی رہی ہوئی ہوئیں تو سال آخر میں 8000 سے زائد میں بات پہنچ گئی ہوگی کیوں کہ Punjab Gender Parity Report 2017 کے مطابق صرف پنجاب میں تشدد کا شکار خواتین کی تعداد 7313 تھی۔

تشدد کی اقسام پر غور کریں تو سب سے زیادہ 17448 واقعات جنسی تشدد کے ہیں اور زیادہ تر خواتین رشتہ داروں اور تعلق داروں کے ہاتھوں تشدد کا شکار ہوئیں۔ افسوس کی بات ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں جنسی تشدد کی یہ اعداد و شمار ”اسلام“ ”جمہوریت“ اور ”پاکستان“ جیسے تینوں الفاظ اور احساسات کی توہین ہے۔ کام کرنے والی جگہوں پر تشدد کا شکار ہونے والی خوتین کی تعداد 1011 تھی جو کہ اوپر دیے گئے اعداد و شمار سے الگ ہے۔

گھر جسے دنیا میں ایک محفوظ مقام سمجھا جاتا ہے اور جس کے بارے میں یہ خیال بلکہ یقین کیا جاتا ہے کہ یہاں انسان کی جان، مال اور عزت محفوظ رہتی ہے بلکہ یہ بھی تسلی رہتی ہے کہ یہاں پر آپ کی ذاتیات پر حملہ نہیں ہوگا اوپر لکھے گئے عرصہ کے دوران 15461 خواتین گھریلو تشدد کا شکار ہوئیں اور تشدد کرنے والوں میں شوہر کے علاوہ باپ، بھائی، بیٹا، دیور اور جیٹھ وغیرہ بھی شامل ہیں۔

اسی عرصہ میں 198 خواتین کو جلایا گیا۔ جن میں سے 163 خواتین تیزاب گردی کا شکار ہوئیں۔ وہ عزت دار معاشرہ جو عورت کو عزت کے نام پر قتل کردیتا ہے اسی عزت کا سودا کرتے ہوئے ونی میں پچاس عورتوں کو بھی دشمن کے حوالے کردے تو عزت کا تصور بہت مبہم اور دنیا کی نظروں میں باعث تضحیک بن جاتا ہے۔

خواتین کے خلاف تشدد کے دیگر واقعات میں 14579 خواتین تشدد کا شکار ہوئیں۔ جن میں کم عمری کی شادی، زبردستی کی شادی، نفسیاتی تشدد، خواتین کی اندرون و بیرون ملک سمگلنگ اور دیگر بہت سی قسم کے تشدد شامل ہیں۔

دل دہلا دینے والے یہ واقعات صرف سرکاری اعداد و شمار کو ظاہر کرتے ہیں وہ بھی جو واقعات پولیس کو رپورٹ کیے گئے۔ حقیقت میں بلامبالغہ دو گنا ہوسکتے ہیں۔ اگر تشدد کی اقسام میں معاشرتی، معاشی، مذہبی، تعلیمی، سیاسی اور ثقافتی نا انصافیاں بھی شامل کرلی جائیں تو ایسے واقعات کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوجاتا ہے۔ پاکستان میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف 3 فیصد بچیاں سکول جاتی ہیں جب کہ باقی 64 فی صد تعلیم کے حق سے محروم ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کب یہ صورت حال بدلے گی؟ جواب یہ ہے کہ جب ہم اپنی سوچ کے ساتھ سوچ کے معیار بدلیں گے۔ اپنے گھر کی خواتین کو بھی وہی حقوق دیں گے جو گھر کے مردوں کو میسر ہیں۔ اپنے گھر کی خواتین کی عزت اور گھر سے باہر کی خاتون کی عزت کو ایک جیسی وقعت دیں گے۔ وسائل اور ذمہ داریوں کی منصفانہ تقسیم کریں گے۔ قانون بنانے کے ساتھ ساتھ عملدرآمد پر بھی توجہ دیں گے۔ اس سب سے بڑھ کر تشدد پر قابو پانے کے لئے ضروری ہے کہ خواتین کو قوانین کی آگاہی دی جائے اور ان میں اس سوچ کو اجاگر کیا جائے کہ تشدد ذاتی یا گھریلو معاملہ نہیں اور یہ ایک معاشرتی برائی ہے۔ اس کی روک تھام کے لئے تشدد کے خلاف آواز اٹھا کر کرکے عملی طور پر انہیں اپنا کردار کرنا ہوگا۔ دن Fashion نہیں Passion کے مطابق منائے جانے چاہئیں۔ جب ہم تشدد کو غلط کہنے کے ساتھ ساتھ غلط سمجھیں گے اور عملی طور پر اس کی روک تھام کے لئے منزل اور مقصد میں ہم آہنگی پیدا کریں گے تبھی منزل مقصود حاصل ہوگی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •