’’خدائی مخلوق‘‘…اور اُس گھر میں جمائما کیسے رہتی تھی

یہ ان دنوں کے قصے ہیں جب عمران خان کا شوکت خانم ہسپتال زیر تعمیر تھا اور وہ دنیا بھر میں فنڈ ریزنگ ڈنر اور کانسرٹ کر رہا تھا۔ یہ حقیقت ہے کہ ایسے ڈنر بھی ہوئے جن میں خواتین نے اپنے زیور اتار کر عمران خان کی جانب اچھال دیے۔ اس مہم میں نہ صرف مشہور راک سنگر مائک جیگر شامل تھا بلکہ نصرت فتح علی خان نے بھی اپنی گائیکی اس کے لیے وقف کر دی۔ انہی زمانوںمیں

Read more

صبح کی نشریات میں مہمان، عمران خان

دو ایسے مواقع ہوتے ہیں، جب ہمارے کالم نگار کھل کھیلتے ہیں، جوبن پر آ جاتے ہیں۔ ایک جب کوئی نامور ادیب یا کوئی اور مشہور ہستی دنیا سے رخصت ہوتی ہے تب چند آہیں بھرنے کے بعد آنکھ میں نہ آئی ہوئی نمی پونچھ کر یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ ادیب تو ان کا عزیز ترین دوست تھا، وہ ان فرضی ملاقاتوں کی یادیں تازہ کرتے ہوئے غم گین ہوتے ہیں۔ ہر ملاقات کے مکالمے ان کو منہ

Read more

آج الیکشن ہے

جیسے مجید امجد نے کہا تھا کہ برف گرتی ہے، ساز بجتے ہیں، شہر میونخ میں آج کرسمس ہے تو ان اثر انگیز مصرعوں کا ستیا ناس کرنا ہو تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ دل دھڑکتے ہیں، ڈھول بجتے ہیں، شہر لاہور میں آج الیکشن ہے۔ صرف لاہور میں ہی نہیں ملک پاکستان میں آج الیکشن ہے۔ ابتدائے عشق میں ہم ساری رات جاگے، اللہ جانے کیا ہوگا آگے، مولا جانے کیا ہوگا آگے، ہم نہیں جانتے کہ کیا

Read more

’’سامنے ڈھیر ہیں ٹوٹے ہوئے پیمانوں کے‘‘

ہم کھنڈروں کے درمیان جو اونچے نیچے راستے تھے ان سے اتر کر ایک مختصر ویرانے میں اترے جہاں جھاڑ جھنکار کی اوٹ میں کچھ قدیم قبروں کے آثار تھے گڑھے تھے اور وہ مختصر سا ٹیلہ تھا جس کی جانب ہمارا گائیڈ ہم سیاح بھیڑوں کو ایک گڈریے کی مانند ہانکتا لے جاتا تھا ۔  واقعی وہاں جو کچا ٹیلہ تھا اس کی مٹی میں سے جگہ جگہ کل کے ٹوٹ چکے گوبلٹس یا شراب کے جاموں کی ٹھیکریاں

Read more

وادی سندھ کی تہذیب‘ نہیں! ہڑپہ کی تہذیب

تو بات موہنجو داڑو کے کھنڈروں میں سے برآمد ہونیوالے ’’گرینڈ پریسٹ‘‘ کے کھمبے کی ہو رہی تھی جس نے اپنے شانوں پر سندھی اجرک اوڑھ رکھی ہے۔ اجرک اور سندھی ٹوپی سندھ کی ثقافت اور قدیم رہن سہن کی ترجمان ہیں اور میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ میں نے آج تک کوئی ایسا شخص نہیں دیکھا جس نے سندھی ٹوپی پہنی ہو اور وہ اچھا لگا ہو۔ سر پچکا ہوا سا لگتا ہے اور اس کے باوجود سندھی اپنی

Read more

گارڈن آف پاکستان…پتوکی

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آپ کسی بہشت کی قربت میں زندگی کرتے ہیں اور آپ کو اس کی موجودگی کی خبر ہی نہیں ہوتی۔ یوں مجھے بھی پتوکی کی خبر ہی نہ تھی کہ وہاں کم از کم پاکستان بھر میں پودوں، درختوں، پھولوں، جھاڑیوں، شجروں کی ہریاول ہیں۔ ہریاول کی ایک ایسی بہشت سرسبز ہے جس کا آخری کنارا دکھائی ہی نہیں دیتا۔ سڑک کے دونوں کناروں پر میلوں تک نرسریوں اور گل بوٹوں کی قطاریں ہیں۔ پتوکی

Read more

’’ہمارا قومی جانور…بھینس یا گدھا‘‘

ہم اپنے بزرگوں کی شان میں گستاخی کئے بغیر کیا کہہ سکتے ہیں جنہوں نے چکور کو ہمارا قومی پرندہ قرار دیا۔ چنبیلی کو قومی پھول اور مارخور کو قومی جانور وغیرہ ڈیکلیئر کر دیا اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے وہ قابل احترام قدرے بزرگ نہ اپنے پرندوں کو جانتے تھے نہ پھولوں سے آگاہ تھے اور جانوروں سے اتنے آگاہ تھے کہ چڑیا گھر کے جانوروں کو بھی بمشکل پہچانتے تھے۔ حرام ہے جو وہ شیر

Read more

کتابوں سے باتیں کرنا اچھا لگتا ہے

میں نے ایک گزشتہ کالم میں ان مختلف واویلوں کا تذکرہ کیا تھا جو پاکستانی قوم کرتی رہتی ہے اور میں ان میں سے ایک نہائت اہم اور مسلسل کئے جانے والا واویلا بھول گیا۔ یعنی ادب پر جمود طاری ہو گیا ہے اور کتاب پڑھنے کا کلچر ختم ہو گیا۔ جہاں تک ادب پر جمود طاری ہونے وا ویلا ہے تو یہ صرف وہ نقاد حضرات کرتے رہتے ہیں جو ماضی میں حنوط ہو چکے ہیں۔ جیسے خوراک کے

Read more

’’بغداد کا فرینکن سٹائن اور لاشوں کو نہلانے والے‘‘

میں تذکرہ کر رہا تھا ان مسلمان ناول نگاروں کا جو میری نظر میں مارکیز‘ سراماگو اور میلان کُندیرا کے نہ صرف ہم پلہ ہیں بلکہ اسماعیل قدارے البانیہ کا ان پر بھی سبقت رکھتا ہے۔ میرا گھرانہ کچھ ترکی ترکی سا ہے یعنی میرے بڑے بیٹے کا نام سلجوق ہے اور بڑے پوتے کا نام ترک ناول نگار یاشار کمال کے نام پر یاشار ہے ۔ سلجوق جن زمانوں میں نیشنل کالج آف آرٹس میں آر کی ٹیکچر کا

Read more

جوہڑ میں ڈوب چکی لڑکی اور کیکر کی شاخوں میں چھپی فاختائیں

بہر طور نہ میں اور میرے جاننے والے اور خاص طور پر میرے پڑھنے والے کبھی کبھی حتمی طور پر یہ فیصلہ کر سکے کہ میں ’’سونے کی چڑیا‘‘ ہوں یا ایک عدد’’پت پینڈو‘‘ کہ میری تحریروں میں بھی میری حیات عکس ہوتی ہے۔ اوائل جوانی اور وہ بھی پچاس کی دہائی میں انگلستان اور یورپ میں گزارے‘ واپس لوٹا تو اچھا خاصا کاٹھا انگریز یا برائون صاحب ہو چکا تھا یہاں تک کہ دیسی خوراک ہضم نہ ہوتی تھی

Read more

میڈیا کا مطلب ہے، لوگوں کو بیوقوف بنانا

میں اپنی تحریروں میں اقرار کرتا رہتا ہوں کہ میں زندگی بھر نہ کبھی مکمل گائوں کا ہوا اور نہ کبھی پورا شہری ہوا، بس درمیانی کیفیت میں مبتلا رہا۔ جب ایک برس نارمل سکول گکھڑ منڈی میں پہاڑے یاد کرتا رہا تو میرے بہتر لباس کی وجہ سے میری شامت آتی رہتی۔ امی مجھے ایک بچہ اچکن پہناتیں جیب میں رومال اڑستیں۔ استری شدہ شلوار قمیض اور بوٹ لشکتے ہوئے پالش شدہ اور کبھی کبھار ڈیکوریشن کے لیے ابا

Read more

ایک واویلا کرنے والی قوم

عین ممکن ہے کہ آپ واقعی منتظر ہوں کہ پاکستانی قوم کے مجموعی رویے اور نفسیات کے بارے میں جو کتاب شاید میں نہیں لکھوں گا لیکن میرے زرخیز ذہن نے اس کا عنوان مجھے سجھا دیا ہے یعنی ’’واویلا کرنے والی قوم‘‘ تو اس کے مختلف ابواب میں میں کون کون سے واویلے درج کروں گا یاد رہے کہ میں ہندوستانی اور بعد ازاں برطانوی مصنف نراد سی چودھری کی کتاب ’’کانٹینٹ آف سرکے‘‘ (The Continent of Circe) کی

Read more

مُنی بدنام ہوئی ڈارلنگ تیرے لیے

اگر کوئی مجھ سے فرمائش کرے کہ آپ پاکستانیوں کی مجموعی نفسیات، رہن سہن کے رویوں اور روزمرہ کی گفتار کے بارے میں کوئی تحقیقی کتاب لکھیں تو مجھے چنداں دشواری نہ ہوگی بلکہ ماشاء اللہ ایسا زرخیز ذہن پایا ہے کہ اس میں تخلیق کے جتنے بیج بوتا ہوں، ان میں سے کم ہی پھوٹتے ہیں اور جو پھوٹ کر بوٹے بن جاتے ہیں ان میں سے بیشتر کھلنے سے پیشتر مر جھا جاتے ہیں، یعنی حسرت ہی حسرت

Read more

شورش کاشمیری کی ’’اس بازار میں‘‘ اور اقبال کی امیر بائی

یہ اُں دنوں کا قصہ ہے جب ایام جہالت اور نوعمری کے بخار میں مجھے مشہور لوگوں کے آٹو گراف حاصل کرنے کا خبط ہو گیا۔ اور میرا معیار صرف شہرت اور بدنامی تھے۔ میری آٹو گراف بک ایک ایسا اصطبل تھی جس میں مشہور شاعر، ادیب کرکٹ کے کھلاڑی، فلمی اداکار، مفکر، عالم دین، مسخرے اور صحافی سب کے سب ساتھ ساتھ بندھے ہوئے تھے۔ پرنس علی خان اور ہالی وڈ کی اداکارہ ایوا گارڈنر کے ہمراہ مولانا مودودی

Read more

زرد چینی شہزادیوں کی لاہور میں بہار

کیا ان دنوں اہل لاہور میں سے کسی نے غور کیا ہے۔ آس پاس نگاہ کی ہے کہ ہر سو ایک زرد قیامت آئی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان پر بھی عمل نہیں کرتے کہ غور کرو‘ فلاں شے میں تمہارے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔ نہ جی اہل لاہور اور غور ۔ توبہ ۔ توبہ اپنے بارے میں خود ہی المشہور کر رکھا ہے کہ ہم زندہ دلان ہیں‘ ہاں اگر غور کرتے ہیں تو نہاری‘ سری پائے

Read more

مسز ایڈگر سنو بھی کلربلائنڈ تھی

اطالوی ناول نگار البرتو موراویا نے ’’دیوار کے دورُخ‘‘ کتاب کے انٹرویو میں سرمایہ داری نظام کی جس طور ایک سادہ مثال دے کر تعریف کی ہے وہ آپ کو حیران کردیتی ہے، نہ اس نے اقتصادی حوالے دیئے اور نہ ہی اس نے مارکس کی ’’داس کیپٹل‘‘ میں سے کوئی فلسفہ پیش کیا۔ ویسے آپ مجھے جاہل قرار دینے میں حق بجانب ہوں گے اگر میں اپنی دانشوری کو دائو پر لگا کر یہ اقرار کروں کہ میں کبھی

Read more

بن ماں کے بوڑھے روزہ خور کے اعترافات

کہاں وہ دن تھے کہ ہم بھی اکثر روزے رکھا کرتے تھے اور کہاں یہ دن کہ مدت ہوئی ہے روزے کو مہماں کئے ہوئے۔ حسرت سے ان لوگوں کو دیکھتے ہیں جو دو بجے دوپہر کے بعد’’ٹچ می ناٹ‘‘ ہو جاتے ہیں یعنی چُھونا نہ‘ چُھونا نہ۔ روزہ لگنا شروع ہو گیا ہے اور ہم اس لیے بھی ان لوگوں کو حسرت سے دیکھتے ہیں کہ یہ وہ خوش نصیب ہیں جو آج افطاری میں دودھ سوڈا پئیں گے

Read more

سبیکا شیخ: تجھے کس پھول کا کفن ہم دیں

ایک روایت ہے کہ کچی آنکھوں سے جنازے دیکھنا اچھا نہیں اور میری بجھتی ہوئی اسی برس کے منظروں‘ محبتوں اور دکھوں کو دیکھنے والی آنکھیں تو بہت ہی کچی ہیں۔ میں رونے سے‘ آنسو بہانے سے اجتناب کرتا ہوں کہ ہر آنسو کے ساتھ میری آنکھوں کے دھاگے ادھڑتے جاتے ہیں اور مجھے آنسوئوں کے پار کچھ نظر نہیں آتا اور اگر وہ بچوں کے جنازے ہوں تو گویا وہ میری آنکھوں سے نکل رہے ہوتے ہیں۔ مجھے مر

Read more

چاند نے ایک خنجر ہوائوں پر منتظر رکھ دیا ہے

آپ جانتے ہی ہوں گے کہ میں دیگر لوگوں کی نسبت کچھ ابنارمل سا ہوں۔ میرا ذہن بھٹکتا رہتا ہے۔ ممکنات اور تصورات کے ویرانوں میں بھٹکتا رہتا ہے۔ میں اپنی حیات میں اورخاص طور پر اپنے ادب میں بہت کم سیدھے راستے پر چلا کہ میری جستجو مجھے ان راستوں میں پڑتی گلیوں میں جھانکنے اور کچھ دیر ان کے اندر سفر کرنے پر مجبور کرتی رہی اور یوں میں نے بہت کچھ ایسا عجب دیکھا کہ بعد میں

Read more

لڑکی‘ قرطبہ چلی جائو‘ غرناطہ چلی جائو

اندلس میں‘ قرطبہ میں‘ مسجد قرطبہ میں‘ پاکستانی عمر رسیدہ سیاح خواتین اور ان میں کچھ کے ہاتھوں میں ’’اندلس میں اجنبی‘‘ جس کے ورق پلٹ پلٹ کر پڑھتی تھیں کہ اس تارڑ نے مسجد قرطبہ کے ستونوں کے بارے میں کیا لکھا ہے۔ جب ان میں سے ایک نے میری بیگم سے دریافت کیا جبکہ وہ نہ جانتی تھی کہ وہ میری بیگم ہے۔ پوچھا کہ کیا آپ نے تارڑ کی یہ کتاب پڑھی ہے تو میمونہ بیگم نے

Read more

الحمرا کی کہانیاں اور اندلس میں اجنبی

بے شک یہ میری پہلی کتاب پہلا سفر نامہ ’’نکلے تیری تلاش میں‘‘ تھا جس نے غیر متوقع طور پر‘ مجھے حیران اور بے یقین کرتے ہوئے میرے لیے ادب میں کامیابی کے سب دروازے کھول دیے۔ بیسٹ سیلر ہونے کے علاوہ جب آج سے تقریباً نصف صدی پیشتر یہ سفر نامہ ماسکو یونیورسٹی کی پروفیسر گالینا ڈشنکو نے یونیورسٹی کے اردو نصاب میں شامل کیا تو ادب کے وہ دروازے بھی کھل گئے جو کم کم ہی کھلتے تھے

Read more

نواز شریف ہندوئوں کے بھگوان ہو گئے

میں اپنے گزشتہ کالم ’’الحمرا کی کہانیاں اور اندلس میں اجنبی‘‘ کے تسلسل میں گارسیا لورکا کی شاعری کے حوالے سے کالم لکھ رہا تھا کہ اک سانحہ سا ہو گیا۔ ایک دھماکہ ہو گیا اور اس دھماکے نے پاکستان کی سلامتی اور عزت نفس کے درو دیوار ہلا کر رکھ دیے۔ میں نے سوچا کہ اندلس اور لورکا کی کہانی بعد میں بیان ہوتی رہے گی ذرا ادھر دھیان کر لوں کہ میرے بدن کے اندر بھی پاکستان کی

Read more

دیوار برلن اور غزہ کی دیوارِ گریہ

برلن کے ادبی ادارے لٹریری ورکسٹاٹ کے سیمینار میں ایک مہمان اعزاز کے طور پر میں اپنی تقریر کا آغاز کر چکا ہوں کہ خواتین و حضرات برلن میرے لیے نیا نہیں اور نہ ہی برلن کے لیے میں اجنبی ہوں۔ 1958ء میں سوویت یونین سے واپسی پر میں مشرقی جرمنی کی کمیونسٹ حکومت کا مہمان تھا تب برلن کو تقسیم کرنے والی کوئی دیوار نہ تھی۔ ہم مشرقی جرمنی سے ٹرین میں سوار ہوتے اور بلا روک ٹوک مغربی

Read more

برلن میں ایم جے اکبر سے ٹاکرا اور ندا فاضلی

جرمنی کی سرکاری ادبی تنظیم لٹریٹر ورک سٹاٹ کی خصوصی دعوت پر جب میں کینیڈا سے پرواز کرتا برلن پہنچا اور اپنی سکھ ہمشیرہ کے عطا کردہ لائٹر سے اپنا پہلا سگریٹ سلگایا، آس پاس نگاہ کی تو تقریباً ہر شخص کوٹ میں ملبوس، ہیٹ پہنے نہایت سنجیدہ شکلیں بنائے پھرتا ہے۔ یقینا ان کے خاندان میں کوئی فوتیدگی ہو گئی ہے اور سب ماتمی لباس میں اسے دفنانے کے لیے جا رہے ہیں۔ دراصل کینیڈا اور خصوصی طور پر

Read more

چھیتی نال چَک لو، ویر جی

وہ کیا ہے کہ دیواروں سے باتیں کرنا اچھا لگتا ہے۔ ہم بھی پاگل ہو جائیں گے ایسا لگتا ہے۔ اور مجھے بھی ان دنوں دیواروں کی باتیں کرنا اچھا لگتا ہے البتہ ایسا نہیں لگتا کہ ہم بھی پاگل ہو جائیں گے کہ ہم تو کب کے پاگل ہو چکے۔ ایک یونانی کہاوت میں کیا ہی سچائی ہے گویا آئندہ زمانوں کے حال بتاتی ہے اور کہاوت ہے کہ وہ جو اولمپس کی چوٹی پر مقیم متعدد خدا ہیں۔

Read more

چین کا طوطی اور ٹرمپ کا غسل خانہ

ان دنوں تو چاردانگ عالم میں بقول کسے چین کا طوطی بول رہا ہے اور صاحبو ایک نہیں چین کے تو سینکڑوں طوطی بول رہے ہیں۔ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی اتنے طوطی بول رہے ہیں۔ میرا طوطوں کے بارے میں علم قدرے محدود ہے لیکن پلیز کوئی صاحب طوطا علم مجھے آگاہ کر دے کہ کیا یہ والے طوطے جو ’’توتے‘‘ ہوتے ہیں، میاں مٹھو ہوتے ہیں تو کیا ان کی صنف مخالف طوطی کہلاتی ہے یا پھر

Read more

پھولوں والی پہاڑی اور کشمیر کی یادیں

میری ایک آبائی جائیداد ہے مقبوضہ کشمیر میں جو غصب کر لی ہے ہندوستان نے، کشمیریوں کے حقوق کی مانند۔ میرا اس پر دعویٰ ہے کہ وہ میرے ابا جی کے ہاتھوں تخلیق ہوئی تھی۔ وہ پھولوں کی ایک پہاڑی ہے۔ جموں شہر سے پرے جہاں سے ان زمانوں میں درہ بانہال کی چڑھائی شروع ہوتی تھی۔ اس کے آغاز میں ایک غیر معروف گاؤں پر اس پہاڑی کا گل رنگ سایہ ہے اور وہ مجھے ان دنوں بھی بلاتی

Read more

پاکستان زندہ باد پارٹی، روزنامہ92 نیوزکی سالگرہ

مجھے ایک انوکھی سالگرہ کی تقریب میں شامل ہونا ہے۔ میں جو پچھلے دو تین برس سے ایک راہب کیکڑے کی مانند ہوں جو اپنی چٹان کی کھوہ میں سے باہر نہیں آتا۔ سالگرہ کا جشن تو کیا کسی شادی پر جانے سے بھی گریز کرتا ہوں تو آج میں کیوں اس انوکھی سالگرہ میں شریک ہونے کے لیے مرا جاتا ہوں‘ شائد اس لیے کہ جس کی سالگرہ ہے اس نے ‘ میں پچھلے چالیس برس سے کالم لکھ

Read more

تھر کی ہندو لڑکیاں اور مسلمان گڈریے

مجھے بہت سے وسوسے تھے، کچھ وہم دل گیر ہوتے تھے کہ بالآخر جب ہم ننگر پار کر پہنچیں گے تو شب بسری کا بندوبست جانے کیسا ہو۔۔۔ شاید کوئی تھری گھاس کا جھونپڑا جسے سندھی میں ’’چونرو‘‘ کہا جاتا ہے۔ کوئی بد بو دار کمرہ اور شاید ٹائلٹ کے لیے صحرا میں جا بیٹھنا پڑے۔ اس قدیم جینی گھر میں کھوسہ صاحب نے اپنا ذاتی بیڈ روم میرے لیے مخصوص کر رکھا تھا جہاں کیسی کیسی گھریلو آسائشیں تھیں۔

Read more

کشمیر کہانی… اروندھتی رائے کی زبانی

ایک  بے پناہ تخلیقی قلم سے ایک بڑی ادیب کو خراج تحسین۔ اروندھتی رائے نے ”دے منسٹری آف اٹ موسٹ ہیپی نیس“ لکھ کر ہندوستان کی روح سے انصاف کیا ہے۔ جدید ہندوستان کا عطر پنڈت نہرو جیسے سیکولر، گاندھی جی جیسے امن پسند، قائد اعظم محمد علی جناح جیسے آزادی پسند، ابوالکلام آزاد جیسے بطل حریت اور ڈاکٹر ذاکر حسین جیسے متمدن عالم میں ظہور پذیر ہوئی۔ اروندھتی رائے ایسی ہی ہستیوں کا ہم عصر پرتو ہیں۔ مستنصر حسین

Read more