ادب میں موجود امتیاز اور جنسی تشدد کی زبان

زباں ایسا آئینہ ہوا کرتی ہے جس کے تحت دنیا کو دیکھا، سمجھا اور پرکھا جاتا ہے۔ اس سے ناصرف انساں اور معاشرت کا ادراک کیا جاتا ہے ساتھ ہی میں زباں ہی انسانی جذبات کے اظہار کا اہم جزو ثابت ہوتی ہے۔ ربط کی ابتدا کا مرکز ہی ادب اور زباں ٹھہرتے ہیں۔ زباں کی مدد سے ہی ہمارے درمیاں موجود اشیا، رشتوں، افراد، ضروریات اور جذبات کو شناخت ملتی ہے۔ مختصراً، یہ انسان کی تخلیق کردہ روابط کا

Read more

قبر میں گلاب کے گجرے پروتی لڑکی اور حقیقی زیادتی

ایک دفعہ کا ذکر ہے، ایک صاحب نظر حضرت کا گزر کسی قبرستان سے ہوا۔ قبرستاں کا خوف گوشے گوشے میں طاری تھا، موت کی ایسی ویرانی تھی کہ اشجار سے پرندے تلک اڑ چکے تھے۔ اطمینان نوچ دینے والے سکوت کے باوجود حضرت کی آنکھوں نے دل چسپ و عجیب منظر دیکھا۔ شہر خموشاں کی ہولناکی میں بھی کچھ حیران کن دل فریبی موجود تھی۔ صاحب حضرت فرماتے ہیں کہ ایک قبر چاک تھی، جس میں ایک نوجوان لڑکی

Read more

فیمنسٹ، کمیونسٹ کہیں کی

ہائے اللٰہ! میری ایک بچی ہے کمیونسٹ کہیں کی۔ جی صحیح سنا ہے آپ کی سماعتوں نے کمیونسٹ ہوگئی ہے۔ ایسی ایسی سخت اور موٹی انقلابی باتیں کرتی کہ پرہیز گار بندہ کانوں کو ہاتھ لگائے۔ صرف کمیونسٹ ہی نہیں، حقوق نسواں پر بھی خوب پر پرزے نکل آئے ہیں۔ غضب خدا کا ناجانے کہاں سے ایسی باتیں سیکھ سیکھ کر آ رہی ہے، ہم نے تو ایسی تربیت کی نہ کبھی حرام کا لقمہ کھلایا، پتا نہیں کن گناہوں

Read more

ثقافتی تخصیص اور پاکستان کے زمینی حقائق

یہ لان والے بھی نا، کبھی کوئی موسم نہیں گزرتا جب چھری تلے نہ آئیں۔ شروع شروع میں تو لوگوں کو ان کے کپڑوں کے نقش و نگار ناگوار گزرے کہ ایسے دیدہ زیب کپڑے بہو بیٹیاں پہنیں گی تو بے پردگی ہوگی۔ پھر یہ معاملہ ٹھنڈا پڑا تو لان والوں کی تشہیر کے انداز کو تنقید کے نشتروں نے چھلنی کرنا شروع کیا۔ شاہراہوں، چوکوں کے آسماں کو چھوتے دیو ہیکل بل بورڈز پر چسپاں ماڈل بہن بیٹیوں کی تصاویر موضوع بحث بنی، ناز و اندام دکھلاتی ماڈلز کی تصاویر سے سینوں پر سانپ رینگنے لگے۔ یہ رسوائی وقت کی بدلتی رتوں کی گرد میں دبنے لگی تو لان کی سستے داموں فروخت کی ویڈیوز زیر بحث آ گئیں۔ طنز و مزاح سے لے کر بدتمیزی تک کا سفر خوش اسلوبی سے طے ہوا۔ کچھ عرصے سے تو ہماری سماعتوں سے قصے ہی عجب ٹکرا رہے ہیں۔ آخر یہ لان والوں کو ہو کیا گیا ہے؟

Read more

زہرہ کی معصومیت کی معراج اور ظلم کی انتہا

زہرہ شاہ، جس کی عمر ڈاکٹر کے مطابق اٹھ نہیں چھ برس تھی شدید جسمانی تشدد کے باعث زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دنیا سے چلی گئی۔ راولپنڈی کے نہایت پوش علاقے کے ایک گھر کی ملازمہ زہرہ نے نوجوان جوڑے کے قیمتی طوطے آزاد کر دیے تھے، قید میں رہنے والا ہی آزادی کی قدر جانتا ہے۔ ہزاروں کا نقصان کرنے کی پاداش میں چھ سالہ بچی پر میاں بیوی نے تشدد کیا اور رات گئے اسپتال چھوڑ

Read more

میرے گاؤں میں ایسی عورتوں کو عزت دار شوہر مار دیا کرتے ہیں

سنبل، شادی شدہ، چار بچوں کی ماں اور ایک مزدور کی بیوی تھی۔ سنہ 2017 اگست میں دن دہاڑے لاپتہ ہونے والی سنبل کا کہیں کوئی سراغ نہیں مل رہا تھا۔ جب ہی اس کے شوہر نے تھانے میں شکایت درج کرانے کی جسارت کر ڈالی۔ سنبل کے شوہر کو اس بات پر یقین تھا کہ اس کی بیوی کے ساتھ ضرور کچھ برا ہوا ہے جس نے انصاف کی حسرت لئے تھانے کی راہ لی تھی۔ تھانے میں کام پر مامور افراد بھی تو ہم جیسے ہی لوگ ہوا کرتے ہیں۔ جیسے معاشرے میں موجود انسان گم ہو جانے والی عورت کو اپنی تنگ نظری سے جانچتے پھرتے ہیں، وہی ستم ظریفی سنبل کی گمشدگی کے بعد اس کے گھر والوں کے ساتھ روا رکھی گئی۔

”تمھاری بیوی اپنے آشنا کے ساتھ بھاگ گئی ہوگی“ کا روایتی چورن سنبل کے شوہر کے حضور بھی بیچ دیا گیا۔ سنبل کا شوہر غریب ضرور تھا مگر بے حس نہیں تھا۔ اس کو ایمان کی حد تک یقین تھا کہ اس کی بیوی بے وفا نہیں تھی، اس کو اور گودوں میں کھیلتے بچوں کو چھوڑ کر کہیں نہیں جا سکتی تھی۔ یہی یقیں دلانے کی امید لئے تھانے کا رخ کر بیٹھتا تھا۔ بچوں کی ماں کو بازیاب کرانے کے اخراجات بھی ریاست کی بجائے اسی کو اٹھانا پڑے، آخر کو قانون اور انصاف سے نا آشنا نظام میں تھانے والوں کی روٹی ٹکر بھی تو ان کا بنیادی حق ٹھہرا جس کا بوجھ غریب کی پھٹی ہوئی جیب پر ہی گرتا ہے۔

Read more

پی کے 8303 کی ہونہار نیلم برکت علی

جمعۃ الوداع کی روز گرنے والے پی آئی اے کی پرواز پی کے 8303 میں ہواباز اور کپتان سجاد گل سمیت ستانوے روشن چراغ گل ہو گئے۔ ہر متاثرہ شخص اپنی زندگی میں چمکتا دمکتا ستارہ تھا۔ اپنے خاندان کے باغ کا گل تھا، جن کے دم سے بہار بھی بہار تھی اور خزاں بھی دل کش معلوم ہوتی تھی۔ افسوس کہ ان سب گلوں میں نامکمل رنگ بھرے گئے تھے، جن کی زندگیوں کے الاؤ بیچ آسماں کے بجھنے تھے سو زندگی کی اوطاق پر جلتی سب روشنیاں مدھم ہوگئیں جو دوبارہ کبھی روشن نہ کی جائیں گی۔

Read more

کشمیر میں عید

عید کی صبح واٹس ایپ کے ایک پیغام سے ہوئی۔ عید پر پیغامات کی بھرمار سے واسطہ تو سب کو ہی پڑتا ہوگا مگر یہ پیغام منفرد تھا۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع بارہ مولا سے آیا یہ پیغام اس محبت اور خلوص کی عکاسی کر رہا تھا جو بنا کسی غرض اور حصول کے وفاؤں کی ڈوری ٹوٹنے نہیں دیتا۔ میں اس تحریر کو کشمیریوں سے روایتی اور بے سود اظہار ہمدردی اور یکجہتی کے طور پر قطعی ثابت کرنے کی خواہش نہیں رکھتی مگر ان بے غرض ناتوں کی حرمت ضرور منوانا چاہتی ہوں۔

Read more

مجاہدین، روسی ہیلی کاپٹر، جنت کی حور اور لال شربت

ہمارے اسکول میں ناظرے کے استاد ہوا کرتے تھے ہم بچوں کے خاندانی مسالک پر اچھے تمسخرانہ انداز میں گفتگو فرما دیا کرتے۔ جماعت ہشتم میں ایک روز انہوں نے ہمیں یہ قصہ بیان فرمایا تھا جو ہو بہو ان کے الفاظ میں لکھنے کی ادنی سی جسارت کر رہی ہوں۔ آپ بھی ملاحظہ فرمائیں اور منطق کا لازم و ملزوم استعمال کرتے ہوئے فیصلہ کریں۔ وہ کہتے ہیں کہ مانسہرہ میں ان کے ایک استاد ہوا کرتے تھے، دین کی تعلیم بھی انہوں نے انہی سے حاصل کی۔

Read more

پلید اور پاک لڑکیاں

سنہ 2017 میں جی سی یو کی ایک سوسائٹی نے لاریب نامی تقریب کا اہتمام کروایا تھا۔ جی سی یو نے اس تقریب سے سرکاری طور پر غیر وابستگی کا اعلان بھی کیا تھا۔ اس غیر وابستگی کو میں ہر گز نہیں سراہ رہی کیونکہ جیسے دوسرے لوگوں کو کام کرنے کی اجازت ہوا کرتی ہے تو ان کو بھی ہونا چاہیے۔ آزادی رائے کی اصل خوبصورتی بھی یہی ہے۔ چند لوگوں کی رائے میں اس تقریب کا تعلق کچھ

Read more

ننھی انیکا جو تین تعصبات کا نشانہ بنی

انیکا، مجھے اس کا پورا نام تو یاد نہیں مگر مجھے اس کا چہرہ اور نین نقش سب یاد ہیں۔ لمبی سی، گندمی رنگت والی، بہت سیاہ اور گھنے بال۔ اب جبکہ میں اس کے بارے میں لکھ رہی ہوں تو اس سے ملنے، بات کرنے کی شدید خواہش سی بیدار ہوگئی ہے۔ دل کو رنجیدہ کر دینے والی یاد سی آ گئی ہے اس کی۔ اس کو آخری بار کب دیکھا تھا یہ بھی اب ٹھیک سے یاد نہیں رہا مگر میرا دل اچانک سے پسیج سا گیا ہے۔ خدا جانے وہ اب کیسی ہوگی۔ خدا کرے سلامت ہو، بھلے حالوں میں ہو۔

Read more