چل دل اک اور عشق کریں
دور آوارگی میں اک نظم لکھی تھی، ”چل دل اک اور عشق کریں“۔ دوست کو نظم پڑھائی۔ اس نے پڑھ کر کہا، ”اچھی ہے، چل پھر کر لیتے ہیں، عشق۔ بتا اب کیا کرنا ہے آگے؟“ اسے حوصلہ دیا کہ آرام سے بیٹھ، بندہ اب گل بات بھی نہ کرے!؟ مجھے اپنی آواز کا بڑا ٹھیک سے پتا ہے۔ بندہ بشر ہوں اس لیے پھر بھی گنگناتا رہتا ہوں۔ احتیاط بس اتنی کرتا ہوں، کہ گانے کا آدھا مصرع ہی،
Read more




