خون کے بلبلوں نے اس کی جان بچا لی

(آرمی پبلک سکول کے اس حوصلہ مند بچے کی کہانی جو چہرے پر چھے گولیاں کھا کر بھی زندہ رہنے کی جدوجہد کرتا رہا۔ ایک ہفتے بعد اس کی شناخت ہوئی اور اس کے گھر والوں کو بھی ایک نئی زندگی ملی۔ ولید کہتا ہے کہ پہلے اپنے لئے جیتا تھا اور حملے کے بعد اب دوسروں کے لئے جیتا ہے)۔

مردہ خانے میں جگہ کم پڑ جانے کی وجہ سے بچوں کی لاشیں برآمدے میں رکھی گئی تھیں۔
ہر لاش سفید چادر سے چھپائی گئی تھی۔ اس وقت آرمی پبلک سکول کے حملے میں مارے گئے تقریبا 80 بچوں کی لاشیں ایک قطار کی صورت میں پڑی تھیں۔

Read more

کیا ہمارے بچے اب 16 دسمبروں سے محفوظ ہیں

یہ ڈھاکہ اور پشاور والے 16 دسمبر کے قومی سانحے ہمیں کیوں دیکھنے پڑے؟ یہ بہت اہم سوال ہے جو ہم نے مکمل سنجیدگی اور خلوص کے ساتھ اپنے آپ سے شاید ہی کبھی پوچھا ہو۔ ارباب اختیار نے ہمیشہ ہی بیرونی ہاتھ کا بہانہ استعمال کیا اور اپنے اندر کبھی نہیں جھانکا۔ جو پاکستان اور پاکستانی بچوں کی حفاظت کے ذمہ دار تھے وہ اتنی اخلاقی جرات کا مظاہرہ ہی نہ کر سکے کہ اپنی غلطی تسلیم کر پاتے،

Read more

کمیشن سازی ماحولیات کے لیے نقصان دہ ہے!

سولہ دسمبر انیس سو اکہتر کا سقوطِ ڈھاکہ ہو کہ 16 دسمبر دو ہزار چودہ کا آرمی پبلک سکول قتلِ عام، دونوں پر تحقیقاتی کمیشن بنے۔ ایک کی رپورٹ 47 برس ہو چکے مگر باضابطہ طور پر ریاست پاکستان کی طرف سے منظرِ عام پر نہیں آئی۔ دوسرے سانحے کی رپورٹ سنا ہے مرتب ہو رہی ہے۔ حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کے بارے میں بھی وعدہ کیا گیا تھا کہ قوم کو اس سے آگاہ کیا جائے گا تاکہ ذمہ

Read more

اب میں ہوں اور ماتم یک شہر آرزو

میں ایک قلم کار ہوں۔ میں جو محسوس کرتا ہوں وہ لکھ دیتا ہوں۔ لکھنے والا حساس ہوتا ہے۔ وہ ایک عام انسان کی نسبت کسی بھی واقعے کو گہرائی میں دیکھتا اور سوچتا ہے۔ یہ حساسیت بعض اوقات عذاب بن جاتی ہے۔

میں نے جب لکھنا شروع کیا تھا تو محسوس کیا تھا کہ لوگ عموماً دکھی ہیں۔ ہمارے ملک میں گذشتہ کچھ عرصہ سے دکھوں نے راستہ بنا لیا ہے اور جب جی چاہے منہ اٹھا کر چلے آتے ہیں۔ چناچہ میری کوشش ہوتی ہے کہ ہلکی پھلکی تحریر لکھوں۔ لوگ میری تحریر پڑھ کر مسکرائیں اور بجائے ذہن پر بوجھ محسوس کرنے کے لطف محسوس کریں۔ میں بھی مگر اسی ملک میں رہتا ہوں۔ اس ملک کے دکھ میرے بھی دکھ ہیں۔ میں ان دکھوں کو فصیلِ جاں میں چھپائے رکھتا ہوں۔ مگر ہر سال سولہ دسمبر کو ایک عظیم دکھ میری تمام دفاعی فصیلیں عبورکرکے جارحانہ انداز میں باہر نکل آتاہے اور اک حشر اٹھا دیتا ہے۔

Read more

سانحہ پشاور کو ہم نہیں بھولیں گے

دو سال قبل ہونے وا لے سانحہ پشاور کو بھولنا تو نا ممکن ہے، جب بھی دسمبر کی صبحیں سورج سجائیں گی، اس قیامت کے منا ظر یاد آئیں گے۔ ننھے شہدا کے والدین اپنے خوابوں کی کرچیوں کی چبھن محسوس کریں گے تو آنکھیں بھر آئیں گی۔ پلکوں پہ ٹھہرے آنسوؤں کا بوجھ جب پورے سال میں نہیں اترے گا تو دسمبر کی سولہ تاریخ آئے گی، ایک دفعہ آنکھیں ہلکی پڑیں گی۔ وہ سوچیں گے اور کچھ ایسے

Read more

شہید بچے کی پاگل ماں

سنا تھا وقت کسی کے لیے نہیں رکتا۔ کوئی مرے یا جیے اس کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ گھڑی کی سوئیاں بھی اپنی رفتار سے چلتی رہتی ہیں۔ کیلنڈر پر لکھے ماہ و سال بھی اپنے اپنے مقررہ وقت پر آتے جاتے رہتے ہیں۔ لیکن جس گھر میں تم رہتے تھے وہاں سولہ دسمبر کے بعد سے وقت رک گیا ہے۔ وہاں گھڑی کی سوئیاں چلنا بھول گئی ہیں۔ غم اور اداسی کی گھنی چھاؤں اس گھر کی دیواروں پر بیٹھی ہمیں ڈراتی رہتی ہے جہاں کبھی صرف خوشی کا اجالا تھا، جہاں آنگن میں ہنسی کی دھوپ ناچتی تھی۔

تمہاری یادیں ہمیں جینے نہیں دیتیں یا یوں کہہ لو کہ ہم جینا ہی نہیں چاہتے۔ میں باپ ہوں اس لیے مجھے ہمت کرنا پڑتی ہے۔ پر تمہاری ماں کا ذہنی توازن دن بہ دن بگڑتا چلا جا رہا ہے۔ لوگوں کا خیال تھا کہ وقت آہستہ آہستہ اس کے دکھوں کا درماں بن جائے گا اور اس کے رستے ہوئے زخم بھر جائیں گے۔ وقت گذرتے گذرتے دو سال کا عرصہ گذر چکا ہے پر اس کا حال بد سے بدتر ہوتا جا رہا ہے۔

Read more

سانحہ آرمی پبلک اسکول۔۔۔ اتنے سال بعد بھی معاملہ جوں کا توں

سانحہ آرمی پبلک اسکول کو دو برس بیت گئے۔ مجھے یاد ہے کہ اس دن 12 بجے خبر آئی کہ پشاور میں آرمی پبلک اسکول میں دہشت گرد گھس گئے ہیں پھر اپ ڈیٹس آتی رہیں۔ کئی گھنٹے گزرنے کے بعد مرنے والوں کی تعداد معلوم ہوئی تو پتہ چلا کہ 132 بچوں اور اساتذہ کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔

یہ ایک بہت بڑا سانحہ تھا، اسی دن کی بات ہے کہ میں اپنی بیٹی کو اسکول لینے جا رہی تھی اور نہ جانے کس ادھیڑ بن میں تھی کہ لڑکھڑا کر سڑک پر گر گئی۔ اس وقت مجھے احساس ہوا کہ میری بیٹی تو اپنے اسکول میں محفوظ ہے لیکن ان والدین کا کیا حال ہوا ہوگا جب انہیں معلوم ہوا ہوگا کہ جس اسکول میں ان کا لخت جگر پڑھنے گیا ہے وہاں دہشت گرد گھس گئے ہیں اور قتل عام کر رہے ہیں۔

وہ ماں جس کا اکلوتا بیٹا اس سے صبح صبح فرمائش کر کے گیا ہوگا کہ امی جی آج بھنڈی کھاؤں گا، بہت دن سے آپ نے نہیں پکائی یا پھر امی آپ مجھے آج آلو کے پراٹھے پکا دیجیے گا مجھے بہت پسند ہیں۔

Read more

غم یہ ہے کہ سولہ دسمبر لوٹ لوٹ کر آتا رہے گا

سندھ اسمبلی نے سب سے پہلے پاکستان کے حق میں قرارداد پیش کی تھی۔ سندھی وڈیروں کو جلدی تھی سندھ کے کاروباری ہندو سے جان چھڑانے کی۔ سندھی ہندو جو کاروباری ساکھ رکھتا ہے۔ جس کے سندھی وڈیرے مقروض تھے۔ ان کو بھگانے کی جلدی تھی۔ سندھی ہندو تو چلے گئے۔ ان کی جگہ آنے والے نئے سندھیوں کے ساتھ سندھی اب امن چین سے رہ رہے ہیں۔ نئے سندھیوں کے قائد الطاف حسین سے تو پرانے سندھیوں کی محبت بے مثال ہے۔

پنجاب میں پاکستان کہانی سناتے ہوئے لاکھوں جانوں کی قربانی کا ذکر ساتھ ضرور ہوتا ہے۔ ان لاکھوں جانوں میں کچھ جانیں تو ان مسلمان فوجیوں کی تھیں جو دس دس بیس بیس روپوں کے لئے انگریزوں کی لڑائیاں لڑتے رہے۔ باقی جانیں وہ تھیں جو تبادلہ آبادی کے دوران لوٹ مار مارا ماری چھینا جھپٹی میں کام آئیں۔ پنجاب میں کسی پرانے بابے یا بوڑھی خاتون سے ملیں اور اس سے کہانی سنیں تو وہ ایک خاص لفظ وہ آزادی کے سال کو یاد کرتے ہوئے بولتے ہیں۔ جدوں اجاڑے پئے سی یعنی جب لوگ اجڑ گئے تھے برباد ہوئے تھے۔

Read more

عصر کا وقت اور رقص بسمل

عصر کی ایک اذان کربلا میں ہوئی، ایک اکہتر میں ہوئی ہو گی، ایک ابھی دو برس پہلے بھی ہوئی تھی جب مرنے والے ہر بچے کے ماں باپ بھائی بہن جان چکے تھے کہ سارا گھر لے گیا گھر چھوڑ کے جانے والا اور ایک اذان آج ہو رہی ہے۔ آج جمعہ ہے اور جمعہ مبارک کے پیغامات سے موبائل اٹا پڑا ہے۔ انسان خسارے میں ہے!

اکہتر کے وقت ہم میں سے بیشتر پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ بنگلہ دیش بننے کا دکھ اس نسل کا دکھ نہیں ہے۔ جو ہونا تھا وہ ہو گیا۔ جس طرح خاک اڑائی گئی وہ بھی دیکھ لیا۔ جو قصوروار تھے انہیں بھی جان لیا، جو محض لاچار تھے انہیں بھی دیکھ لیا۔ سوال آج کا ہے، ویگنوں کی چھتوں پر لدی لاشیں باقاعدہ بات کرتی ہیں جنہیں وہ کان نہیں سن سکتے جو اکہتر سے پہلے بھی ایسی آوازوں کو بے وقت کی راگنی کہا کرتے تھے۔ لاشوں کے پروٹوکول دیکھنے والے لاشوں کی بے حرمتی بھلا نہیں سکتے۔ یہ سچ ہر زمانے میں بولا جاتا ہے لیکن تربیت یافتہ نصابی دماغ اسے نفرت کی آواز جان کر ایک دم اگنور کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے۔

Read more

سولہ دسمبر: جب وحشت زندہ ہوئی اور انسانیت قتل ہوئی

پرش پور، یعنی انسانوں کا شہر۔ سنسکرت میں پشاور کا نام یہی لکھا ہوا ہے۔ زرتشتیوں کی مقدس کتاب اوستا میں اسے وائکریتا، دنیا کی ساتویں سب سے خوبصورت جگہ کہا گیا تھا۔ وہ شہر جو اپنے دور عروج میں ایک ایسی سلطنت کا دارالحکومت ٹھہرا جو کہ ازبکستان، تاجکستان، کشمیر، پنجاب، اجین، دہلی، بہار، سندھ، اور بلوچستان کے علاقوں پر مشتمل تھی۔ ہزاروں سال پرانے اس شہر نے یوں تو بہت سے برے دن دیکھے کہ ہندوستان کا رخ کرنے والا ہر فاتح اسی راہ سے گزرتا تھا، لیکن اس کی تاریخ کا غمگین ترین دن سولہ دسمبر دو ہزار چودہ کا تھا۔ یہ وہ دن تھا جب پرش پور، ”انسانوں کے شہر“، سے انسانیت رخصت ہوئی اور راکشسوں کا اس پر راج ہوا۔ یہ ماتم وقت کی گھڑی تھی۔

تاریخ انسانی میں منگول اور تاتاری، ظلم و بربریت کی بے شمار داستانیں رقم کر گئے ہیں۔ لیکن کبھی انہوں نے بھی ایسا نہیں کیا کہ کسی شہر

Read more

شہید بچے کے نام اس کی ماں کا خط

میرے پیارے بیٹے

دو سال بیت گئے۔ ایک منہ زور ریلا ہے جو ہر صبح آتا ہے اور پچھلی رات باندھے گئے سارے بند بہا کر لے جاتا ہے۔ حوصلہ ہار جاتا ہے۔ ہمت ٹوٹ جاتی ہے۔ آنکھیں پہلے آنسوؤں سے بوجھل ہوتی ہیں پھر سیلاب کی طرح یہ آنسو بہتے چلے جاتے ہیں۔ اس روزانہ کے سیلاب نے مرے چہرے پر راستے بنا لیے ہیں۔ اب آئینہ دیکھتی ہوں تو اپنے آپ کو پہچان نہیں پاتی۔ ایک تباہی اور بربادی کی داستان ہے بس جو آئینے سے دیکھتی ہے مجھے۔

دو سال کا عرصہ کس طرح بیتا ہے۔ اس کا اندازہ کوئی کیسے لگا سکتا ہے۔ چار سفاک دہشت گردوں کی پھانسی میرے زخموں کا مداوا نہیں کر سکتی۔ میں نے ایک ایک لمحہ کس درد سے تکلیف سے اور کس کرب سے گذرا ہے، اس کو لفظوں میں بیاں کرنا ممکن نہیں۔ کس کس بات پر کلیجہ منہ کو آیا ہے یہ بتانا ممکن نہیں، آج بھی صبح سے جو تمہاری یادوں کا تانتا بندھتا ہے وھ کتنی اور رات کے خوابوں میں بھی رہ رہ کر مجھے ستائے گا، اس کا حساب بھی ممکن نہیں۔

Read more