بندیا رانا: ایک ذہین، باشعور اور بہادر خواجہ سرا جس نے ہار نہیں مانی
ہم آپ کو چھوڑیں گے نہیں، آپ کو قتل کردیں گے۔ اللہ کا شکر ہے کہ میں اس قاتلانہ حملے میں بال بال بچ گئی۔ مجھے امریکہ اور نیپال آنے کی آفرز ہوئیں جس کے جواب میں، میں نے ان سے کہا کہ مجھے یہ بتا دو کہ کیا آپ کے ملک میں موت نہیں آتی ہے؟ اگر آپ کے ملک میں موت نہیں آتی ہے تو پھر تو میں آپ کے ملک میں شوق سے آجاتی ہوں۔ جو رات میں نے قبر میں گزارنی ہے وہ میں زمین پر گزار ہی نہیں سکتی۔ جب تک میری موت نہیں آتی میں یہ لڑائی لڑوں گی۔
س: آپ نے میری کتاب تیسری جنس پر اعتراض کیا تھا اس کی کیا وجہ تھی؟
ج: ہم نے اس لیے اعتراض کیا تھا کیونکہ ہم اپنی ہر بات کھل کر عام لوگوں کے سامنے اپنی زبان سے نہیں کر سکتے۔ کہ جب ہم لوگ بدھائی پر جاتے ہیں۔ تو ہم لوگ بولتے ہیں ”اڑیل ٹھکروں والے“ جس کا مطلب ہے کہ ”یہ لوگ زیادہ پیسوں والے ہیں“ ۔ ”نہیں نہیں کڑے کڑاج“ جس کا مطلب ہے کہ ”ان سے اتنے پیسے نہیں بلکہ اتنے لینا“ اگر کوئی غریب ہوتو ہم لو گ کہتے ہیں ”کڑے کڑاج ہیں بھئی یہ ہانو ٹھکروں والا ہے“ یا جیسے ہم فارسی میں دوست کو گریہ بولتے ہیں۔
دراصل بات یہ ہے کہ ہم لوگوں نے مختلف زبانوں کو ملا کر ایک الگ زبان بنائی تھی اور یہ زبان ہم لوگ دوسروں سے اپنی باتوں کو پوشیدہ رکھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ لیکن آپ نے ہماری اس زبان کو دوسروں کے سامنے بالکل اوپن کرکے رکھ دیا ہے اب جب کبھی ہم لوگ باہر جاتے ہیں تو کبھی کوئی شخص ہمیں دیکھ کر آواز لگاتا ہے کہ ”بڑی چیسی ہے، بھئی بڑی چیسی ہے“ ۔ اس کے علاوہ اور بھی کئی ایسی باتیں ہیں جو میں اس وقت نہیں کرنا چاہ رہی۔
س: خواجہ سرا جن لوگوں سے عضو خاص کا آپریشن کرواتے ہو مستند نہیں ہوتے جس سے ان کی زندگی کو بھی خطرہ ہوگا دوسری بات یہ کہ اسے معاشرے میں اچھی نظروں سے نہیں دیکھا جاتا آپ کی رائے کیا ہے؟
ج: دیکھیں میری بات سنیں، میرا جسم میری ملکیت ہے۔ اگر میرے ہاتھ میں چھ انگلیاں ہیں اور مجھے اپنی ایک انگلی پسند نہیں آرہی ہے تو میں اپنی ایک انگلی کٹواؤں گی، ۔ اس پر کسی دوسرے شخص کو کیا اعتراض ہوسکتا ہے؟ ریاست کو کیا تکلیف ہونی چاہیے۔ آج کل جدید ٹیکنالوجی کا دور ہے، ریزر آچکا ہے جس کی مدد سے بال کٹوالیے جاتے ہیں اور ہر طرح کی تبدیلی کروانا ممکن ہوچکا ہے۔ آج اگر مرد خواجہ سرا آپریشن سے کچھ کروا رہے ہیں تو ہماری فلم انڈسٹری میں ہیروئنیں کیا کچھ نہیں کروارہی ہیں۔
پچاس سالہ بوڑھی فیش ایبل بن کر سولہ سال کی لگ رہی ہوتی ہے۔ دیکھیں پہلے تویہ بہت بڑا جرم سمجھا جاتا تھا، اور کسی قسم کی سرجری کروانے پر پابندی عائد تھی۔ پہلے کا دور جاہلیت کا دور تھا۔ لیکن آج کل تو اس کام کے لیے ڈاکٹر اور اسپتال مہیا ہیں، مگر وہ بھی یہ کام چھپ کر کرتے ہیں۔ مگر اس سلسلے میں ہم نے قانون سازی میں اس بات کو بھی شامل کروایا ہے کہ میرے جسم پر میری ملکیت تسلیم کی جانی چاہیے کیونکہ مجھے اللہ تعالیٰ نے تخلیق کیا ہے۔
میرا خیال یہ ہے کہ کسی اور کو ہمارے اپنے معاملات پر کوئی اعتراض کرنا جائز نہیں ہے۔ آج کل تو پچاس ساٹھ یا ستر ہزار روپے میں آپ یہ آپریشن باآسانی کرواکر اپنے جسم کی جو چاہے چیز تبدیل کروا سکتے ہیں۔ آپ لاکھ دو لاکھ تین لاکھ روپے خرچ کریں تو آپ ایک حسین و جمیل عورت بن سکتے ہیں۔ آج کل تو آسانی ہی آسانی ہے۔ آپ لوگ ہم لوگوں پر تو انگلی اٹھاتے ہیں لیکن یہ بھی دیکھیں کہ آج کل کے لڑکے کیا کچھ نہیں کررہے ہیں، اپنے بال بنوا رہے ہیں، بھنویں بنوا رہے ہیں۔
لڑکیوں کی طرح لمبے لمبے بال رکھ رہے ہیں اور لڑکیوں ہی کی طرح کی ڈریسنگ کررہے ہیں۔ لیکن ان لڑکوں پر اعتراض اٹھانے والا کوئی نہیں ہے۔ کوئی جاکر ان سے تو پوچھے کہ آپ تو اچھے بھلے مرد ہو پھر آپ نے اپنی مونچھیں کیوں کٹوائی ہوئی ہیں، بھنویں کیوں بنوائی ہوئی ہیں، لمبے لمبے بال کیوں رکھے ہوئے ہیں؟ جواب میں کہا جاتا ہے کہ بھئی ان کی مرضی ہے وہ جیسا چاہے فیشن کرسکتے ہیں۔ ہم ان پر کیسے اعتراض کرسکتے ہیں۔
س: کیا پیدائشی خواجہ سرا بھی ہوتے ہیں؟
ج: بھائی میری بات سنیں، بے شمار ایسے مرد ہوتے ہیں جن کی مردانہ طاقت بہت کمزور ہوتی ہے تو کیا اس کا یہ مطلب یہ ہوا کہ وہ خواجہ سرا ہیں؟ نہیں وہ خواجہ سرا نہیں ہوتے، وہ خود کو مرد کہلوا رہے ہوتے ہیں۔ اسی طرح بے شمار عورتیں بچے پیدا کرنے سے قاصر ہوتی ہیں تو کیا وہ خواجہ سرا ہوتی ہیں؟ نہیں وہ خواجہ سرا نہیں ہوتی ہیں، وہ خود کو عورتیں کہلوا رہی ہوتی ہیں۔ بالکل اسی طرح ہم خواجہ سراؤں کے اندر بھی رب کائنات نے جو روح ڈال دی ہے ہم اسی روح کے مطابق عمل کررہی ہوتی ہیں۔ آپ لوگ ہم سے اس سلسلے میں کیوں لڑتے ہو۔ ہماری تو روح ہی ایسی ہے ہم اپنی روح کیسے بدلیں۔



Akhtar baluch ne hamesha ki taran apne qarien ko aik anoke mozo ka intkjab Kia hy bindia Rana or in ke kabile se wabasta
logo ki Zindagi ko apne parne waloun ke samne kholi ketab ki taran khol ke samne Rakh Diya hy weldone Akhtar baluch
بہت ذبردست کاوش ہے سر، یہ ہمارے معاشرے کے وہ پسے ہوئے طبقات ہیں جن کو عام طور پر حکومت، میڈیا اور عوام تینوں ہی عرصہ دراز سے نظر انداز کرتے چلے آرہے ہیں، امید ہے کہ اس انٹرویو کی بدولت عوام کو آگہی ہوگی کہ خواجہ سرا بھی ہمارے معاشرے میں دیگر افراد کی طرح ہر شعبہ ذندگی میں اپنا موثر کردار ادا کر رہے ہیں.
نرک
آج اختر بلوچ بھائی کا انٹرویو جو انہوں نے "بندیا رانا” سے لیا پڑھنے کا اتفاق ہوا۔
یہ ہمارے معاشرے کا وہ تکلیف دہ پہلو ہے جس میں اللہ کی بنائی ہوئی وہ مخلوق جو زمانے کے ظلم و ستم اٹھا رہی ہے، جن کو ہر کوئی ناپسندیدہ سمجھتا ہے، کوئی ان سے بات کرنا پسند نہیں کرتا، یہ ہمارے معاشرے میں موجود تیسری جنس کا تذکرہ ہے، ان کا رہن سہن، ان کے مسائل، طور طریقے وغیرہ۔
یہ اختر بلوچ کا کمال ہے جو معاشرے میں بکھرے ہوئے مختلف طبقات کی زندگیوں کے دکھی گوشوں کو سامنے لاتے ہیں۔
آج سے چند برس قبل ہم نے ایک خاتون نسیم انجم کو آرٹس کونسل میں دیکھا جو اپنا طبع شدہ ناول "نرک” اہل علم و ادب کو دے رہی تھیں، ان کا موضوع بھی تیسری جنس پر تھا۔ ہمارے خیال میں اس سے پہلے اس موضوع پر کوئی ناول نہیں لکھا گیا، ہم کو بھی یہ ناول مل گیا، اس میں کردار و واقعات اور ان پر گزرنے والے حالات کا احاطہ بہت اچھے طریقے سے کیا گیا ہے، اہل علم و ادب نے اس ناول کو کافی سراہا تھا۔
آج پھر سے اختر بلوچ کا یہ انٹرویو پڑھا تو اس طبقے کے ساتھ ہونے والے ظلم اور زیادتیوں کا اندازہ ہوا۔
اب حکومت نے ان کی بہتری کے اقدامات کئے ہیں جس میں شناختی کارڈ کا اجرا، تعلیم یافتہ امیدوار کے لئے نوکریاں وغیرہ شامل ہے۔
پہلے وقتوں میں تو یہ ناچ گا کر اپنے اخراجات پورے کرلیا کرتے تھے، لیکن بدلتے حالات کے بعد اب یہ سگنلز پر بھیک مانگ رہے ہوتے ہیں، بہتر ہے کہ کچھ دے دینا چاہیئے، ہم کو تو ایک چھوٹا سا واقعہ یاد آرہا ہے جب ہم اپنی بیگم کے ساتھ کہیں جارہے تھے سگنل پر گاڑی رکی تو یہ آئے اور بڑے مزے سے کہا ارے وحید مراد کچھ دیتے تو جاؤ، ہم نے پیسے تو دے دیئے لیکن ہماری بیگم بہت محظوظ ہوئیں اس بات پر۔