بندیا رانا: ایک ذہین، باشعور اور بہادر خواجہ سرا جس نے ہار نہیں مانی


میں سندھ کے مختلف خواجہ سراؤں کا انٹرویو لینے گئی وہاں میں نے ان سے یہ نہیں پوچھا کہ آپ لوگوں کو کیا کیا مسائل درپیش ہیں، بلکہ میں نے ان کے مسائل سے آگہی کی خاطر ان کے ساتھ باہر جانا شروع کیا میں نے یہ مشاہدہ کیا کہ سندھ کے لوگ خواجہ سراؤں سے بہت اچھا سلوک کرتے ہیں۔ بعد ازاں جب ہم بلوچستان میں گئے تو وہاں ہمیں طرح کا تجربہ ہوا۔ لیکن وہ سندھ سے زیادہ مختلف تھاوہاں کسی گھر میں جب جاتے تھے تو اگر اس گھر میں کوئی جوان لڑکے موجود ہوتے تو وہ ہمارے احترام میں گھر سے باہر چلے جاتے تھے یہی نہیں بلکہ بڑے بوڑھے لوگ بھی ہمارے سروں پر پیار سے ہاتھ رکھنے کے بعد گھروں سے باہر نکل جاتے تھے۔

وہاں کے لوگ خود بہت غریب تھے، مفلسی کی زندگی گزار رہے تھے ان کے پاس روپیہ پیسا تو تھا ہی نہیں لیکن اس کے باوجود وہ لوگ ہمارے قدموں میں دوپٹے اور کپڑے ڈال رہے تھے۔ ان کے علاقوں میں کوئی اسپتال نہیں تھا، کوئی میڈیکل اسٹور نہیں تھا کہ جہاں سے وہ سر درد کی گولی ہی خرید سکتے یہاں تک کہ پرچون کی کوئی دکان تک موجود نہیں تھی۔ وہاں کی خواتین کو اپنے حقوق کا بھی علم نہیں تھا۔ ان کی حالت زار دیکھ کر مجھے احساس ہوا کہ ہم سے زیادہ تو یہ لوگ مظلوم ہیں۔

پھر جب میں وہاں سے واپس آئی تو میں نے ان لوگوں کے حقوق اور ان کی حالت سدھارنے کے لیے یہاں ویف میں ایک میٹنگ کی اور میں نے سوچا کہ ان کے لیے کچھ کرنا چاہیے۔ اس کے بعد میں نے فری میڈیکل کیمپس لگانے شروع کردیے۔ اپنے ادارے کی رجسٹریشن کروائی اور کسی کے ساتھ دفتر جوائن کیا جوا س زمانے میں پچیس ہزار سیلری لیتا تھا۔ جو ایریا رجسٹرڈ تھا اس ایریا کے خواجہ سراؤں کے ایچ آئی وی ٹیسٹ ہوتے تھے۔ میں نے ان کے ساتھ کام سیکھا وہ اس زمانے میں وہ مجھے تین ہزار روپے مہینہ دیتے تھے کنوینس کے لیے۔

وہ خود پچیس ہزار روپے مہینے کے لیتے تھے اور ان کے سارے کیمپس میں لگواتی تھی۔ میں یہ کیمپس میں اس سوچ کے زیر اثر لگواتی تھی کہ کم از کم میرے خواجہ سرا ایچ آئی وی کے مریض ہونے سے تو بچیں گے۔ ان کو حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کے لیے ضروری معلومات تو مل جائیں گی۔ اکثر اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کسی خواجہ سرا کوسرعام سڑکوں پر ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جاتا ہے یا کسی خواجہ سرا کو زبردستی اپنی گاڑی میں بٹھا کر کسی نا معلوم مقام پر لے جا کر چار چار پانچ پانچ افراد اسے سیکس کا نشانہ بناتے ہیں۔ اور اس کے ساتھ زور زبردستی سے کام لیتے ہیں کہ ایسی حالت میں ہم ان کی قانونی اور اخلاقی مدد کرتے ہیں۔

س: اچھا سینٹ میں جو بل پیش کیا گیا ہے اس کے بارے میں ہمیں کچھ بتائیں۔

ج: دیکھیں 2009 ء میں سپریم کورٹ کا فیصلہ منظر عام پر آیا اس اہم کارنامے پر ہم سپریم کورٹ اور چیف جسٹس صاحب کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے یہ احکامات جاری کیے گئے کہ خواجہ سراؤں کی مجموعی آبادی یعنی کل تعداد معلوم کی جائے۔ خواجہ سراؤں کے لیے وراثت میں حصہ مقرر کرنے کے احکامات جاری کیے گئے، فیصلے کے بعد ہم نے چیف جسٹس صاحب سے درخواست کی کہ سر ہمارے پاس تو قومی شناختی کارڈ تک نہیں ہیں آپ وراثت میں حصے کی بات کررہے ہیں۔

وراثت میں حصہ تو تب ملے گا جب ہم لوگوں کے پاس قومی شناختی کارڈ ہوں گے۔ مزید یہ کہ نادرا والوں نے ایک ایشو کھڑا کردیا کہ خواجہ سراؤں کے میڈیکل چیک اپ کے بعد ہی ان کا آئی ڈی کارڈ ایشو ہوگا۔ ہم نے اس کے خلاف کراچی پریس کلب کے باہر مظاہرہ کیا۔ پھر ہم نے سندھ ہائی کورٹ میں اس کے خلاف پٹیشن دائر کی جس پر ہمارے حق میں فیصلہ آیا اس طرح یہ لٹکتی ہوئی تلوار ہمارے سروں پر سے ہٹی۔

اسلم خاکی صاحب ہمارے وکیل تھے۔ ہم انھیں ای میل کرکے کہتے تھے کہ سر یہ مسئلہ ہے اور اس مسئلے کے سلسلے میں یہ بات ہونی چاہیے یہ موقف اختیار کرنا چاہیے۔ اس کے بعد ہمارے حق میں اچھے فیصلے آنا شروع ہوگئے ہم نے ان فیصلوں کاکراچی پریس کلب کے باہر خیر مقد م بھی کیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہماری مشہوری تو کافی ہوگئی کہ ہم نے خواجہ سراؤں کے لیے ہیلتھ فری، تعلیم فری کا نعرہ بلند کیا۔

لیکن 2009 ء کے فیصلے دھرے کے دھرے ہی رہ گئے۔ ایک وقت ایسا آیاکہ ہمیں احساس ہوا کہ ہماری جدوجہد کا کوئی بھی نتیجہ برآمد نہیں ہورہا ہے اور نہ ہی ہمارے حق میں آنے والے فیصلوں پر عمل در آمد ہو رہا ہے۔ ہم نے طے کیا کہ اسلام آباد جا کر سینیٹرز سے ملاقات کریں گے۔ ا س وقت سینیٹ کے چیئر مین پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے منتخب کردہ جناب رضا ربانی صاحب تھے۔ میں نے وہاں پہنچ کر رضا ربانی صاحب سے ملنے پر اصرار شروع کردیا۔

میرے اس بے لچک موقف پر سب سینیٹرز تشویش میں مبتلا ہوگئے کہ یہ خواجہ سرا لوگ تو یہاں سے جانے کا نام ہی نہیں لے رہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ہم کو یہ دھمکی بھی دے رہے ہیں کہ ہم سینیٹ سے باہر جاکر میڈیا کے نمائندوں کو بلا کر ایک پریس کانفرنس بھی منعقد کریں گے۔ جس میں یہ موقف اختیار کیاجائے گا کہ خواجہ سراؤں کو سینیٹ میں بلواکر بھی ان کی بات نہیں سنی جا رہی۔ عوام کے منتخب نمائندے سرگوشیوں میں ایک دوسرے کو میرے متعلق بتانے لگے کہ سندھ سے آئی ہوئی ساڑھی میں ملبوس بندیا رانا واپس جانے کے لیے تیار ہی نہیں ہے۔ آپس میں صلاح مشورے کے بعد ان میں سے ایک نے ہم سے کہا کہ آپ ناراض نہ ہوں، ہم آپ کی خاطر جناب رضا ربانی صاحب سے چند منٹس کی ملاقات کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن جناب رضا ربانی صاحب سے آپ لوگ بات نہ کیجئے گا۔ کے پی کے سے منتخب سینیٹرز جو آپ لوگوں کے مسائل کو سمجھتے ہیں وہ ان سے بات کریں گے۔

خیرجناب رضا ربانی صاحب میٹنگ روم میں آئے انھوں نے کہا کہ میرے پاس صرف پانچ منٹ کا وقت ہے۔ کے پی کے سینیٹرز نے ہمارے مسائل اور حقوق کے سلسلے میں ان سے بات چیت شروع کی اور جناب رضا ربانی صاحب کو یہ بتانے کی کوشش کی کہ ہم خواجہ سرا بھی اس پاکستان کے باعزت شہری ہیں، پاکستان کی عوام کی طرح ہم لوگوں کے بھی ریاست کے ذمے کچھ حقوق ہیں۔ ہم خواجہ سراؤں کے ساتھ ایک خاتون وکیل بھی موجود تھیں۔ انھوں نے جناب رضا ربانی صاحب سے ڈرتے ہوئے ایک منٹ بات کرنے کی اجازت چاہی۔

اور ٹوٹے پھوٹے لفظوں سے کچھ کہنے کی ناکام کوشش کی۔ میں نے اس خاتون وکیل کو روک دیا اور بولی کہ آپ رکیں۔ ہم خواجہ سراؤں پر جو بیتی ہے اس کی داستان میں سناؤں گی۔ ایک صاحب نے آواز لگائی کہ وقت ختم ہوچکا ہے لیکن جناب رضا ربانی صاحب نے کہا کہ نہیں بات ختم ہونے دو۔ رضا ربانی صاحب نے ہمیں اپنے موقف کو پیش کرنے کے لیے تقریباً پچیس منٹ یعنی آدھا گھنٹا دیا۔ انھوں نے ہماری خاطر اپنی ضروری میٹنگ بھی کینسل کر دی جس پر میں ان کی بہت شکر گزار ہوئی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6 7 8

3 thoughts on “بندیا رانا: ایک ذہین، باشعور اور بہادر خواجہ سرا جس نے ہار نہیں مانی

  • 14/05/2020 at 9:37 شام
    Permalink

    Akhtar baluch ne hamesha ki taran apne qarien ko aik anoke mozo ka intkjab Kia hy bindia Rana or in ke kabile se wabasta
    logo ki Zindagi ko apne parne waloun ke samne kholi ketab ki taran khol ke samne Rakh Diya hy weldone Akhtar baluch

  • 14/05/2020 at 9:46 شام
    Permalink

    بہت ذبردست کاوش ہے سر، یہ ہمارے معاشرے کے وہ پسے ہوئے طبقات ہیں جن کو عام طور پر حکومت، میڈیا اور عوام تینوں ہی عرصہ دراز سے نظر انداز کرتے چلے آرہے ہیں، امید ہے کہ اس انٹرویو کی بدولت عوام کو آگہی ہوگی کہ خواجہ سرا بھی ہمارے معاشرے میں دیگر افراد کی طرح ہر شعبہ ذندگی میں اپنا موثر کردار ادا کر رہے ہیں.

  • 16/05/2020 at 1:29 شام
    Permalink

    نرک

    آج اختر بلوچ بھائی کا انٹرویو جو انہوں نے "بندیا رانا” سے لیا پڑھنے کا اتفاق ہوا۔

    یہ ہمارے معاشرے کا وہ تکلیف دہ پہلو ہے جس میں اللہ کی بنائی ہوئی وہ مخلوق جو زمانے کے ظلم و ستم اٹھا رہی ہے، جن کو ہر کوئی ناپسندیدہ سمجھتا ہے، کوئی ان سے بات کرنا پسند نہیں کرتا، یہ ہمارے معاشرے میں موجود تیسری جنس کا تذکرہ ہے، ان کا رہن سہن، ان کے مسائل، طور طریقے وغیرہ۔

    یہ اختر بلوچ کا کمال ہے جو معاشرے میں بکھرے ہوئے مختلف طبقات کی زندگیوں کے دکھی گوشوں کو سامنے لاتے ہیں۔

    آج سے چند برس قبل ہم نے ایک خاتون نسیم انجم کو آرٹس کونسل میں دیکھا جو اپنا طبع شدہ ناول "نرک” اہل علم و ادب کو دے رہی تھیں، ان کا موضوع بھی تیسری جنس پر تھا۔ ہمارے خیال میں اس سے پہلے اس موضوع پر کوئی ناول نہیں لکھا گیا، ہم کو بھی یہ ناول مل گیا، اس میں کردار و واقعات اور ان پر گزرنے والے حالات کا احاطہ بہت اچھے طریقے سے کیا گیا ہے، اہل علم و ادب نے اس ناول کو کافی سراہا تھا۔

    آج پھر سے اختر بلوچ کا یہ انٹرویو پڑھا تو اس طبقے کے ساتھ ہونے والے ظلم اور زیادتیوں کا اندازہ ہوا۔

    اب حکومت نے ان کی بہتری کے اقدامات کئے ہیں جس میں شناختی کارڈ کا اجرا، تعلیم یافتہ امیدوار کے لئے نوکریاں وغیرہ شامل ہے۔

    پہلے وقتوں میں تو یہ ناچ گا کر اپنے اخراجات پورے کرلیا کرتے تھے، لیکن بدلتے حالات کے بعد اب یہ سگنلز پر بھیک مانگ رہے ہوتے ہیں، بہتر ہے کہ کچھ دے دینا چاہیئے، ہم کو تو ایک چھوٹا سا واقعہ یاد آرہا ہے جب ہم اپنی بیگم کے ساتھ کہیں جارہے تھے سگنل پر گاڑی رکی تو یہ آئے اور بڑے مزے سے کہا ارے وحید مراد کچھ دیتے تو جاؤ، ہم نے پیسے تو دے دیئے لیکن ہماری بیگم بہت محظوظ ہوئیں اس بات پر۔

Comments are closed.